زن آزاد

زن آزاد


جمہوریت اور عیسائیت نے معاشرے کو آزاد خیالی ، روشن خیالی، اظہار آزادی ، حقوق کیلئے آواز بلند کرنے کی آزادی دی۔۔۔۔۔ان ساری صفات نے مغربی معاشرے میں اور ہمارےمشرقی نام نہاد  روشن خیال طبقے میں بھی ایک نئی مخلوق پیدا کی اس نئی مخلوق کو ہم جیسے بنیاد پرست ۔۔ ٔ زن آزاد ٔ کہتے ہیں۔یہ زن آزاد بڑی ٹیڑھی مخلوق ہے۔کوئی مانے یا نہ مانے ہم تو اس مخلوق کو دیکھ کر مانتے ہیں۔کہ عورت مرد کی پسلی سے پیدا کی گئی تھی۔ یہ زن آزاد مزاج کی ٹیڑھی ہوتی ہے۔


ہم جیسے بنیاد پرست  اس آزاد زن کو دیکھ کر چیکیں مارتے ماتم کرتے دیدے پھاڑے کہتے ہیں۔۔


ہائے ہائے میری پسلی کا افلاس کتنا حیرت انگیز ہے!!!! ۔


عورت اور مرد کی مساوات کا تصور بے معنی ہے۔عورت اور مرد کے درمیان تو ازلی جنگ جاری ہے۔ صلح صرف فتح کے بعد ظہور میں آتی ہے۔جب ایک صنف دوسری صنف کو اپنا آقاتسلیم کر لیتی ہے تو جھگڑا ختم ہو جاتا ہے۔عورتوں کو مساوی حقوق دینا خطرناک ہے!!!۔


عورت یہ حقوق لیکر قانع نہیں ہوگی!!!۔


زنخا نما نام نہاد روشن خیال مرد کی عورت چنگھاڑتی دھاڑتی گلی کوچوں میں مردانہ صفات کا مظاہرہ کر رہی ہوتی ہے۔جس طرح زنخا نما نام نہاد روشن خیال مرد چھوٹوں کیلئے شفقت اور بڑوں کیلئے احترام کو بے معنی سمجھتا ہے اسی طرح  عفت و عصمت اس زن آزاد کیلئے بے معنی ہوتی ہے۔


اگر مرد واقعی مرد ہے توعورت اس کی متابعت پر قانع ہوجائے گی۔نام نہاد روشن خیالی معاشرے میں مردوں کی مردانگی کم ہوتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ عورتیں مردانہ صفات کا مظاہرہ کرتی ہیں۔جو شخص واقعی مرد ہوگا وہ عورت کی نسوانیت کو بہرحال قائم رکھے گا۔سب  سےاہم بات  عورت  کی تکمیل اور مسرت اس کی مادریت میں مخفی ہے۔عورت کی فطرت کا ہر جزو ایک چیستان ہے اور ہر چیستان کا ایک ہی جواز ہے۔


بچے  پیدا کرنا!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!۔


یعنی عورت اایک بچے پیدا کرنے والی مشین ہے۔ مردوں کی تربیت تو یوں ہونی چاھئے کہ میدان جنگ میں کٹتے رہیں،اور عورتوں کی تربیت تو ایسی ہونی چاھئے کہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔روبوٹ مشین کی طرح بچے پیدا کر کے جنگجو تیار کریں!!!!!!۔


 اس کے سوا ہر چیز بیکار اور بیہودہ ہے!!!!!!۔


 ویسے ایک بات کا میں بھی قائل ہوں کہ ٔ ایک مکمل عورت انسانیت کے نقطہ نظر سے مکمل مرد سے بلند ترین ہے اور نہایت قابل احترام اور قابل عزت ہے۔یہ مکمل عورت مرد سے  رتبہ میں اعلی اور بلند تر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔بہت کمیاب ہے۔


عورتوں سے نہایت شفقت و احترام سے پیش آنا چاھئے۔ جنت بھی تو عورت کے قدموں کے نیچے ہے نا۔


اختتام


بعض حضرات کو انتہاء پسندوں کی پوسٹ سےاپنی مرضی کے الٹے مطلب کی بات نکالنے کیلئے کافی محنت کرنی پڑتی ہے۔خدمت خلق فانڈیشن کے جذبے کے تحت یہ پوسٹ پیش کی جاتی ہے۔
زن آزاد زن آزاد Reviewed by یاسر خوامخواہ جاپانی on 7:30 AM Rating: 5

14 تبصرے:

جاوید گوندل ۔ بآرسیلونا ، اسپین کہا...

خدمت خلق فانڈیشن کے جذبے کے تحت یہ پوسٹ پیش کی جاتی ہے۔

یاسر بھائی !
امریکہ کے ریڈ انڈینز کے ہاں رواج تھا کہ جب وہ سمجھتے کہ بس اب حد ہوگئی ہے تو وہ زمین میں دفن جنگی کلہاڑا زمین سے باہر نکال لیتے تھے جس کا مظلب یہ ہوتا تھا کہ اب جو ہو سو ہو۔ بس اب جنگ ہے۔

تو آپ نے طبل جنگ بجا دیا ہے ۔ :) میری رائے میں آپکو نام نہاد روشن خیالاں تاریک باطناں کو اخلاقِ معاشرت سیکھنے کا ایک موقع اور دینا چاہئیے۔

افتخار اجمل بھوپال کہا...

پہلے کيا کم ہوتی ہے جو آپ نے گريباں چاک کر کے ننگا سينہ سامنے کر ديا ہے ؟
جس عورت نے عورت کا مطلب سمجھ ليا وہ بلنديوں پر پہنچ جاتی ہے اور جو مرد بننے کيلئے ميدان ميں اُترتی ہے وہ دکھی رہتی ہے کيونکہ جس طرح مرد عورت نہيں بن سکتا اسی طرح عورت مرد نہيں بن سکتی
1956ء ميں ايف ايس کا امتحان دے کر ميں لاہور گيا ۔ ايک صاحب سے مراسم تھے جو اُسی سال ڈاکٹر بنے تھے اور ميو ہسپتال ميں ہاؤس جاب کر رہے تھے ۔ ميں پہنچا تو کہنے لگے "ميری تو آج رات کی ڈيوٹی ہے ۔ تن اکيلے کمرے ميں کيا کرو گے ۔ ميرے ساتھ ہی ہسپتال چلو ۔ نيند آئی تو ميرے دفتر ہی ميں انسپيکشن ٹيبل پر سو جانا"۔ ميں چلا گيا اور اُس کے ساتھ سارے ہسپتال کا دورہ کر کے رات 10 بجے وہ مجھے اپنے دفتر ميں چھوڑ کر پھر وارڈ ميں چلا گيا ۔ ميں سو گيا ۔ رات بارہ ايک بجے ميری نيند کھلی تو ميرے دوست کی ايک ليڈی ڈاکٹر کے ساتھ بحث ہو رہی تھی ۔وہ کہہ رہی تھی کہ عورت اور مرد برابر ہوتے ہيں ۔ ميرا دوست کہہ رہا تھا اللہ نے دونوں کے حقوق برابر رکھے ہيں باقی کچھ برابر نہيں مگر وہ ماننے کو تيار نہ تھی ۔ ميں آنکھيں بند کئے اُن کی بحث سنتا رہا ۔ تنگ آ کر ميرے دوست نے ليڈی ڈاکٹر کو کہا "تم جسمانی طور پر مجھ سے زيادہ مضبوط ہو پھر بھی ميں تمہيں قابو کرتا ہوں ۔ تم اپنے آپ کو ميرے قبضے سے آزاد کرا لو گی تو ٹھيک ورنہ ميرا جو جی چاہے گا ميں تمہارے ساتھ کروں گا"۔ وہ بولی "يہ تو زيادتی ہے"۔ ميرا دوست بولا "بس ثابت ہو گيا کہ مرد اور عورت برابر نہيں ہيں ۔ اور سنو ۔ مرد کو اللہ نے عورت کا محافظ اسی لئے بنايا ہے کہ عورت کمزور ہے"

چوہدری کہا...

پاگل دا پتر :lol:

عمران اقبال کہا...

حضرت۔۔۔ کوئی مجھے یہ بتا دے۔۔۔ کہ ہم پر تیزابی بلاگ پر جو الزام لگ رہے ہیں کہ ہم بے حیائی کر رہے ہیں۔۔۔۔ یا خواتین کے بارے میں کھلے عام باتیں کر رہے ہیں۔۔۔ یہ سب گناہ ہم نے کہاں کئے ہیں؟؟؟

باقی۔۔۔ سر جی۔۔۔۔۔۔ دل چاہ رہا ہے۔۔۔ کہ یہ تحریر کاش آنٹی پڑھ لیں۔۔۔ تو سواد آ جائے گا۔۔۔ مجھے یقین ہے کہ دل و دماغ جلنے کی بد بو کراچی سے دبئی تک سونگھی جائے گی۔۔۔

وقاراعظم کہا...

اقتباس:: عورت اایک بچے پیدا کرنے والی مشین ہے۔ مردوں کی تربیت تو یوں ہونی چاھئے کہ میدان جنگ میں کٹتے رہیں۔۔۔۔

تبصرہ:: پیر صیب یہ لائن تو ماسٹر پیس ہے، بہت اعلی، حقائق سے پردہ اٹھاتی ایک چشم کشا تحریر۔۔۔ :mrgreen:
باقی ایک مکمل عورت کے بارے میں اپنا بھی یہی ماننا ہے کہ اس کا رتبہ مرد سے بلند تر ہے۔

ضیاء الحسن خان کہا...

یاسر بھیائی یہ :)

وقاراعظم کہا...

حضور یہ زنخا کی کچھ اور صفات بھی بیان کی جائیں۔ کیا زنخا زن آزاد بلاگز پر بھی اپنی زنّاری دیکھاتا ہے؟ اور کیا زنخوں کو جنگوں میں کٹنے کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے؟

ڈاکٹر جواد احمد خان کہا...

"بعض حضرات کو انتہاء پسندوں کی پوسٹ سےاپنی مرضی کے الٹے مطلب کی بات نکالنے کیلئے کافی محنت کرنی پڑتی ہے۔خدمت خلق فانڈیشن کے جذبے کے تحت یہ پوسٹ پیش کی جاتی ہے۔"

اگر آپ کا اشارہ اسی دماغی عدم توازن والے نمونے کی طرف ہے تو اسکا کوئی فائدہ نہیں. یہ نمونہ نہ ہی مزاح کو سمجھتا ہے اور نہ ہی طنز کو ...آپکی پوسٹ کے کچھ مخصوص حصّے وہ تانیہ رحمان صاحبہ کے بلاگ پر لگا چکا ہے اور ساتھہ ہی ساتھ جاوید گوندل صاحب کا تبصرہ بھی ....

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

وقار زنخوں کی پوری پوری بٹالین ہوتی تھی اور اب امریکی فوج میں انہیں شامل کرنے کی کھلی چھوٹ دی گئی ہے۔
یاد نہیں آرہا ۔۔۔کہاں پڑھا تھا۔۔کسی کے پاس زنخوں کی بڑئ جیدار فوج تھی

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

ہاہاہا۔۔۔۔ارے ڈاکٹر جواد ۔۔ محنت کش و جفا کش تو بنا ہی رہے ہیں اسے۔
کبھی نہ کبھی یہ ہمارا مشکور ہوگا۔۔۔نہ ہوا تو ٹینشن سے شوگر کا مریض اور گنجا تو ضرور ہوجائے گا۔
مریض ہوا تو بل تگڑا بنا دیجئے گا:D :D

ڈاکٹر جواد احمد خان کہا...

آفرین ہے آپکے تحمل ، برداشت اور بردباری پر ....اگر آپ کی جگہ میں ہوتا تو کب کا آؤٹ ہو چکا ہوتا..

انکل ٹام کہا...

اگر کوی اس سے بہیوش ہو گیا، یا مر گیا تو اس کی ذمہ داری کیا آپ لیں گے ؟؟؟ :mrgreen:

انکل ٹام کہا...

سر جی بڑا مزا آیا پڑھنے کا ۔

بدتمیز کہا...

پسلی کا افلاس
خدمت خلق فاونڈیشن

بہت اعلی میں بے ساختہ ہنس پڑا. بہت عمدہ

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.