خوفناک

آجکل جاپان کے ایٹمی پلانٹ سے تابکاری کے اخراج کے متعلق ہم جاپان میں کاروبار کرنے والے کچھ زیادہ ہی سوچ رہے ہیں۔ ہماری کمپنی جاپان سے پرانی گاڑیاں برآمد کرتی ہے۔ اس وقت جن جن ممالک میں ہم گاڑیاں بیچتے ہیں۔ان کے بندر گاہوں پر جاپان سے بر آمد کی جانے والی اشیاء میں تابکاری کی مقدار کو چیک کیا جارہا ہے۔اب جاپان سے برآمد کرنے سے پہلے ہی یہاں کی بندر گاہ پر چیکنگ کی جارہی ہے۔اگر صفر اعشاریہ تین کی مقدار کی تابکاری ملے تو گاڑی کو کینسل کر دیا جاتا ہے۔جسے ہم  مشین میں ڈال کر دھوتے ہیں اور دوبارہ برآمد کر دیتے ہیں۔


اس تابکاری کے متعلق جانکاری کیلئے نیٹ گردی کرتے ہوئے ذہن میں آیا کہ جیسے کوئلہ جلایا جاتا ہے تو اس کا دھواں نکلتا ہے۔تو لازمی بات ہے کہ ایٹمی پلانٹ میں جو ایندھن جلایا جاتا ہو گا۔اس کا فضلہ بھی ہوتا ہوگا۔یہ فضلہ کہاں جاتا ہے۔یہ سوچ کر نیٹ پر تلاش کیا تو۔۔۔۔۔نہایت ہی خوفناک قسم کی معلومات ملیں۔یعنی یہ فضلہ جو کہ نہایت خطرناک ہوتا ہے۔اسے تو کوڑے کرکٹ کی طرح پھینکا جا ہی نہیں سکتا۔اسے تو ابدی طور پر کسی محفوظ مقام پر رکھنا پڑتا ہے۔


بحرحال یہ تو ایک علیحدہ تفصیل ہوگی۔اور امید ہے کہ ہمارے محترم گوندل صاحب ایک تبصرہ میں اس پر  روشنی ڈال دیں گے۔یا ہم بعد میں  کسی جاپانی بلاگ کا ترجمعہ کرنے کی اپنے مفلس الفاظ میں کوشش کریں گے۔اس استعمال شدہ یورینیم کو پھینکنے سے متعلق تلاش کرتے ہوئے میں ایک جاپانی بلاگ پر پہونچا تو نہایت خوفناک تصاویر دیکھنے کو ملیں۔۔۔۔۔


عراق میں امریکہ نے استعمال شدہ یورینیم بم استعمال کئے۔جسے شاید انگلش میں


Depleted uranium ammunition


کہتے ہیں۔اس کے استعمال کے بعد جو بچے پیدا ہو رہے ہیں ان کی یہ تصاویر ہیں۔


ہماری دعاوں میں بھی اثر نہیں اور نا ہی بدعاوں میں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


صرف دو تصاویر یہاں لگا رہا ہوں۔۔۔باقی آپ اس بلاگ پر دیکھ سکتے ہیں


 

خوفناک خوفناک Reviewed by یاسر خوامخواہ جاپانی on 10:54 PM Rating: 5

11 تبصرے:

جاوید گوندل ۔ بآرسیلونا ، اسپین کہا...

ایک تبصرہ میں اس پر روشنی ڈال دیں گے.

یاسر بھائی!۔

آج بارسلونا فٹ بال کلب کا اسپین کنگ کپ کا فائنل میچ تھا۔ جو وہ باوجود اچھا کھیلنے کے ایک گول سے رئیل میڈریڈ سے ہار گیا ہے ۔ کافی عرصے سے اس مییچ کا ناتظار کیا جارہا تھا۔ اور میچ دیکھنے کی وجہ سے پہلے جواب دے نہیں سکا۔ اور اب رات یعنی صبح کے چار بج رہے ہیں۔ اگر موقع ملا تو کل ورنہ ویک ایند پہ اس پہ تفضیلی لکھ دونگا کیونکہ یہ ایک ہنگامی موضوع نہیں ہے۔

آپ جب تابکار شدہ گاڑیاں دھوتے ہیں تو وہ پانی کدہر جاتا ہے ؟ یہ اہم سوال ہے ۔ کیونکہ تابکاری مواد گاڑیوں سے نکل کر ایک جگہ جمع ہورہا ہے جس کی مقدار اور تعداد بڑھنے سے انسانی زندگی کو شدید خطرات پیش آسکتے ہیں۔ آپ سخت احتیاط کریں ۔

بہت سے لوگ اور تنظیمیں امریکہ پہ یہ الزام لاگاتی ہیں کہ فلوجہ عراق میں امریکہ نے استعمال شدہ یورینیم کے محدود پیمانے پہ تباہی پھیلانے والے ہتیار استعمال کئیے ہیں اور بہت سی غیر سرکاری تنظیمیں اس پہ امپارشل تحقیقات کا مطالبہ دہرا چکی ہیں اور ایک اندازے کے مطابق اسطرح کے پیدا ہونے والے بچوں کی تعداد ہزاروں میں ہے۔

ایٹمی بجلی گھروں اور دیگر دوسرے استعمال میں آنے والے ایندھن کے فضلے یا یا ہسپتالوں وغیرہ میں استعمال میں آنے والے تابکاری مواد سے فوری نجات پانے کا کوئی طریقہ نہیں دریافت ہوسکا۔

ایٹمی بجلی گھروں کے اندھن کے فضلے کو مختلف ممالک میں مختلف طریقوں سے محفوظ کیا جاتا ہے تانکہ مستقبل میں جب تک اس مسئلے کا کوئی حل نہیں نکلتا تب تک اسے اسٹور کیا جارہا ہے۔ کچھ ممالک اسے زیر زمین بہت گہرائی میں انجیکٹ کردیتے ہیں۔ ینی سطح زمین سے بہت گیرائی میں اسے اسٹور کردیا جاتا ہے۔ کچھ دوسرے ممالک میں اسے پہاڑوں کے اندر بڑی بڑی سنرگوں کے اندر محفوظ کرتے ہیں ۔ مغرب کے کچھ ممالک نے پچھلے کچھ سالوں قبل تک اسے ڈرموں میں محفوظ کر کے کھلے اور گہرے سمندر میں پھینکا ہے۔ جس پہ جوہری توانائی کے خلاف تنظیموں اور خاصکر گرین پیس نامی تنظیم نے سخت احجاج کیا تھا۔

اسٹیل کے بڑے بڑے کنٹینرزاور سیمنٹ کی دیواروں میں بھی محفوظ کرتے ہیں۔ اور اس سارے مرحلے کے باوجود اس بات سے معاملے کی سنجیدگی کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ جہاں اسطرح کا مواد اسٹور کیا جاتا ہے اسے عام طور پہ "ایٹمی قبرستان" کہا جاتا ہے۔جنہیں عمومی طور پہ آبادیوں سے دور کم آبادی والے علاقوں میں بنائے جاتے ہیں۔

جاپان میں جلد یا بدیر ایک نہائت سنگین مسئلہ سر اٹھانے والا ہے کہ جو جوہری ری ایکٹڑز ناکار ہو چکے ہیں انھین کیسے ٹھکانے لگایا جائے۔ ایسا کرنا بہت پیچیدہ ارو نہائت مہنگا ثابت ہوگا۔کیونکہ ناکارہ ایٹمی ری ایکٹرز کو سیف اسٹور کرنا نہائت پیچیدہ، صبر آزما اور مہنگا عمل ہے۔

افتخار اجمل بھوپال کہا...

جاويد گوندل صاحب نے مختصر الفاظ ميں ايک بہت بڑے خطرے کی نشاندہی کر دی ہے
امريکا ايٹمی فضلا غريب ملکوں ميں بھی دفن کر چکا ہے ۔ ڈيپلٹيڈ يورينيم ايمونيشن امريکہ نے عراق کے علاوہ افغانستان ميں بھی استعمال کيا تھا ۔ وہاں اپنے ہی ساتھيوں نے شور شرابا کر ديا تو زيادہ استعمال نہ ہوا ۔ کسی زمانہ ميں يہ فضلا امريکا نے جاپان کے قريب سمندر ميں بھی ڈمپ کيا تھا جس پر خاصہ شور مچا تھا ۔ امريکا اپنے آپ کو انسانيت کا علمبردار کہتا ہيں ليکن جتنا امريکا انسانيت کا دشمن ہے اتنا کوئی اور ملک نہيں ہو گا

سعد کہا...

انسانوں کی ان تباہ کاریوں سے انسان تو انسان اب گہرے سمندروں میں موجود مخلوقات تک محفوظ نہیں۔ اس انسانی گندگی کو زمین سے صاف کرنے کیلیے ایک اور طوفانِ نوح کی ضرورت ہے؟

حجاب کہا...

اللہ رحم کرے ۔۔۔۔

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

گوندل صاحب ہم گاڑی کو پیٹرول پمپ پر لگی گاڑی دھونے کی مشین میں ڈال کر دھو رہے ہیں۔اور یہ پانی۔۔۔۔۔جاپان کی سیوریج سسٹم میں بہہ جاتا ہے۔
واقعی یہ غیر ذمہ درانہ حرکت ہے۔لیکن تابکاری کی سطح صفر اعشاریہ تین سے لیکر صفر اعشاریہ پانچ مائیکرو سیورٹ ریکارڈ کی گئی تھی اور دھونے کے بعد یہ مقدار نہ ہونے کے برابر ہوگئی تھی۔۔۔اس کے علاوہ ہمارے پاس اور کوئی طریقہ نہیں ہے کہ ہم اپنے مال کی حفاظت اور صفائی کر سکیں۔
اوکشن وغیرہ کو فون کرکے ہم نے یہ ضرور کہا کہ متاثرہ علاقوں کی گاڑیاں بیچیں ہی نہیں یا اوکشن میں بیچنے سے پہلےتابکاری کی چیکنگ کی جائے۔
اس ہفتے ہمارے پاس تابکاری چیک کرنے والا آلہ آجائے گا۔لیکن اگر کوئی ایسی گاڑی احتیاط کے باوجود ہمارے پاس آ گئی تو اس کی صفائی کا ہمارے پاس مندرجہ بالا طریقے کے علاوہ کوئی حل نہیں ہے

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

اجمل صاحب بالکل بجا فرمایا آپ نے۔۔۔میں نے پہلی دفعہ نیٹ پر اس طرح کی معلوماتی پڑھیں تو نہایت حیرت ہوئی کہ انسان اپنی سہولت کیلئے کیسے اتنی غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کر رہا ہے۔

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

نہیں زوردار دھماکے کی ضرورت ہے۔۔۔۔۔ضرورت کیا ہو جائے گا

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

آمین

تحریم کہا...

ابھی ترقی کی ابتداء کررہے ہین تو یہ مسائل ہیں جب آگے بڑھیں گے تو کیا ہوگا جانے کیسی کیسی بیماریاں وجود مین آرہی ہیں اللہ آئندہ نسل پر رحم کرے


آمین

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

جاوید گوندل صاحب بہت بہت شکریہ

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

تحریم بلاگ پر تشریف آوری کا شکریہ

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.