مولوی

ہمارے ایک جاننے والے اعلی تعلیم یافتہ دوست ہیں۔جو بیچارے پاکستانی معاشرے اور ظالم سماج کے متعلق عموماً شکایت ہی کرتے رہتے ہیں۔بقول ان کے وہ  تو نہایت اعلی تعلیم یافتہ اورقابل و باصلاحیت ہیں۔لیکن پاکستان کے جاہل مولویوں کی وجہ سے پاکستان میں کامیاب نہ ہو سکے۔


انہوں نے ایک دفعہ ایک واقعہ سنایا کہ جس کا میں نے نہایت برا محسوس کیا کہ ایسا من گھڑت قصہ تیار کر کے سنانا ان جیسے بقول ان کے اعلی تعلیم یافتہ شخصیت کو نا زیب صاحب دیتا ہے اور نہ ہی زیباصاحبہ دیتا ہے۔


قصہ کچھ یوں ہے کہ کسی جگہ پر مسلمانوں کا  اجتماع تھا۔سب کھا پی کر فارغ ہوئے تو نماز کا وقت ہو گیا۔اب سب نماز پڑھانے کیلئے ایک دوسرے  کوکہنے لگے کہ اتنے میں کسی نے کہا کہ بغیر داڑھی والا امامت نہیں کروا سکتا۔سب نے کہنے والے کی بات کا اتفاق کیا!!!۔


توسب حاضرین نے ایک باریش صاحب کو پکڑا اور اسے کہا کہ چل نماز پڑھا!!۔


۔باریش صاحب جنہوں نے اسلامی لباس شلوار قمیض زیب تن کیا ہوا تھا اچانک اس پڑ جانے والی افتاد پر گھبرائے بھی سٹپٹائے بھی۔


جب لوگوں نے بہت تنگ کیا تو وہ صاحب بولے نماز تو پڑھا دوں لیکن میں تو سکھ ہوں!!!!۔


اب ان صاحب کا مقصد اگر صرف ہنسانا ہوتا توبات آئی گئی ہوجاتی لیکن مسئلہ یہ ہے کہ وہ صاحب عموماً مولویوں کو گالیاں دے رہے ہوتے ہیں۔موقع ملتے ہی مسلمانوں اور اسلام کا مذاق اڑانا ان کا کام ہوتا ہے۔کبھی داڑھی کا مذاق کبھی حدیث کی کتب کو غلط کہنا۔مولوی سے تو انہیں الرجی ہے۔مولوی سے ان کی دشمنی اس انتہا پر ہے کہ یہ صاحب نماز بھی مسجد میں نہیں پڑھتے۔مولوی کوئی بھی ہو چاھے اچھا یا برا بس ان کیلئے مولوی کا مولوی ہونا ہی کافی ہوتا ہے۔


اگر یہ صاحب مسلمان ہیں تو اس لطیفہ نما قصے کا سنانا سمجھ نہیں آتا۔اگر بغض مولوی میں یہ قصہ سنایا گیا ہے ۔تواس سے کہیں بھی مولوی کی تحقیر نہیں ہو رہی۔اگر وہاں پر کوئی مولوی ہوتا تو اسے امامت کیلئے کہنے کی ضرورت ہی نہیں پڑھتی وہ تو پہلے ہی مصلا سسنبھال لیتا۔اصلی مولوی تو نماز کیلئے  سب کوکھینچتا  جعلی اور دوکاندار مولوی تو ایسا موقع  کبھی جانے ہی نہ دیتا۔


تو جناب ہم نے تو ان صاحب سے یہی کہا کہ جناب ایسے موقعوں کیلئے باجماعت نماز پڑھ کر تیاری کر لینی چاھئے۔جب آپ جیسے اعلی تعلیم یافتہ روشن خیال کسی اجتماع میں جمع ہوتے ہیں تواول تو نماز کا خیال ہی نہ رکھتے ہوں گے اگرکوئی ذرا جوش میں نماز کا نعرہ مار دے تو مولوی کی تلاش شروع کر دیتے ہیں۔آپ کا یہ قصہ مولوی کی تحقیر نہیں مولوی کی ضرورت ثابت کر رہا ہے۔


باجماعت نماز سے لیکر نماز جنازہ تک کیلئے مولوی کو تلاش کیا جاتا ہے۔ختم قرآن کیلئے بھی مولوی مولوی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


تو پھر گالیاں بھی مولوی کو کیوں دی جاتی ہیں؟ہمیں تو ان صاحب نے کوئی جواب نہیں دیا۔ہم نے سوچا خود ہی سوچیں اور تحقیق کریں کہ آخر کچھ لوگ مولوی سے اتنا بغض کیوں رکھتے ہیں۔ہم نے بھی سوچا اور دوست و احباب سے بھی پوچھا کہ بعض لوگ مولوی سے آخراتنا بغض کیوں رکھتے ہیں۔


ہماری سمجھ میں جو کچھ آیا وہ اس طرح ہے کہ مولوی تین قسم کے ہوتے ہیں۔مولویوں کی اقسام اگر لکھنے پہ آئیں تو کافی لکھا جا سکتا ہے لیکن فی الحال ہم صرف تین اقسام جو ہمیں سمجھ آئیں انہیں پر ہی لکھیں گے۔


ایک قسم تو اصلی مولوی کی ہوتی ہے۔ جنہیں ہم علما کرام کے کہتے ہیں جو وارث انبیا ہوتے ہیں۔اور جن کیلئے ہمارے دل میں نہایت عزت ہے اور لازماً عقیدت بھی ہے۔


دوسری قسم امام مسجد ٹائپ مولوی صاحبان کی ہوتی ہے۔جو روٹی روزی کیلئے امامت کرتے ہیں۔اور ساتھ ساتھ میں مدارس وغیرہ کا نظام بھی سنبھالا ہوا ہوتا ہے۔اس ٹائپ کے مولوی حضرات میں اچھے برے سب شامل ہوتے ہیں۔اور انہی میں ہی علماکرام پائے جاتے ہیں۔جو دین اسلام کی بے لوثی سے خدمت کر رہے ہیں۔اور اسی ٹائپ میں مال بنانے والے بھی پائے جاتے ہیں۔علم تو ہے لیکن دنیا کیلئے دین فروشی کرنے والے ہیں۔


تیسری قسم میں تو اتنی اقسام کے مولوی ہیں کہ آپ کا دل کرے تو جسے چاہیں شامل کر لیں ۔جیسے فلاں تو ہے ہی مولوی۔!!!۔ٹیکسی ڈرائیور ۔دوکاندار مزدور کسی آفس کا افسر  یا کلرک یعنی کسی بھی باریش کو آپ مولوی کہہ سکتے ہیں۔


جیسے کہ اچھے برے لوگ ہر جگہ پائے جاتے ہیں اسی طرح ان مولویوں میں بھی اچھے برے پائے جاتے ہیں۔لیکن ہمیں پھر بھی بغض مولوی رکھنے والوں کی سمجھ نہ آئی تو مزید مطالعہ کیا ۔۔۔۔۔۔


جس سے ہمیں دو باتیں سمجھ آئیں۔کہ مولوی سے انتہائی بغض رکھنے والے دو قسم کے لوگ ہوتے ہیں۔ایک  برےمولوی کے متاثرین۔۔۔۔۔یعنی وہی عیسائی پادری کے متاثرین کی طرح کے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔آہو۔۔۔۔۔


دو  قادیانی ، پرویزی ،  قسم کے لوگ کہ جنہیں ان مولویوں ہی نے لگام لگا رکھی ہے۔ہم نے تو جتنے بھی انتہائی مولوی مخالف لوگ دیکھے آخر کار ان دو قسم  کے لوگ میں سے  ہی نکلے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔مزید لکھا تو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔آہو


اس کے علاوہ بھی اگر کوئی مخالف ہے تو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اخّئے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔تو کون؟۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔میں خوامخواہ!!!!۔

مولوی مولوی Reviewed by یاسر خوامخواہ جاپانی on 5:29 PM Rating: 5

26 تبصرے:

عمران اقبال کہا...

جس سے ہمیں دو باتیں سمجھ آئیں۔کہ مولوی سے انتہائی بغض رکھنے والے دو قسم کے لوگ ہوتے ہیں۔ایک برےمولوی کے متاثرین۔۔۔۔۔یعنی وہی عیسائی پادری کے متاثرین کی طرح کے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔آہو۔۔۔۔۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
ہا ہا ہا۔۔۔ یہ بھی مخالف حضرت بھی متاثرین میں سے ہی لگ رہے ہیں۔۔۔

آپ نے درست فرمایا یاسر بھائی۔۔۔ سب انتہاء پسند ایک جیسا سوچتے ہیں۔۔۔ مزہ آ گیا قسم سے۔۔۔ مولوی مخالف بریگیڈ کی اتنی زبردست مثال دی ہے آپ نے۔۔۔

یہی بات تو میں کب سے عرض کر رہا ہوں حضرت سے۔۔۔ کہ بھائی علماء کرام کی خدمات کو نظر انداز کیوں کرتے ہیں۔۔۔ ان کی صرف منفی باتوں کو ہی ابھارا جا رہا ہے۔۔۔ ہوتے ہیں اچھے پرے ہر جگہ۔۔۔ لیکن ملبہ من حیث القوم ہم سب پر آنا چاہیے۔۔۔ نا کہ صرف علما یا مولویوں پر۔۔۔ حد کرتے ہیں یار۔۔۔

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

عمران بھائی ۔۔۔جب میں نے ایک کلین شیو انتہا پسند بھائی سے پو چھا تو انہوں نے کہا کہ دوسرے مولوی مخالفین کا تو سب کو معلوم لیکن یاسر بھائی آپ کو اصلی مولوی مخالفین کا بتاتا ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔وہ تو ۔۔۔اس کے بعد انہوں مجھے یہ بتایا۔

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

محترم جاوید گوندل صاحب۔
آپ کا تبصرہ ۔۔۔۔۔ایک بہترین بلاگ پوسٹ ہوتی ہے۔آپ اتنی روانی سے موضوع سے انصاف کر جاتے ہیں۔۔کہ بندہ عش عش کر اٹھتا ہے۔
اپنی الفاظ کی مفلسی سے آپ کے تبصرے پر تبصرہ کرنا میرے بس سے باہر ہوتا ہے۔زبردست۔۔۔۔۔۔
:D

جعفر کہا...

قادیانی حضرات کی مولوی دشمنی اس لیے بھی زیادہ مضحکہ خیز ہے کہ اپنے مذہبی رہنماوں کی ایسے پیروی کرتے ہیں کہ بس کچھ نہ پچھ۔۔۔ جب بات ہماری آتی ہے تو ان پر لبرلزم اور روشن خیالی کا دورہ پڑجاتا ہے۔

وقاراعظم کہا...

پیر صیب مولوی کی اقسام اور مولوی سے بغض رکھنے والوں کی قسمیں خوب بیان کی ہیں اور اس پوسٹ کی شان نزول کا بھی اندازہ ہورہا ہے مجھے۔ ساتھ ہی جاوید گوندل صاحب کی ابزرویشن غضب کی ہیں خاص کر آخری پیراگراف۔۔۔۔

انکل ٹام کہا...

سنا ہے مولوی کے لفظ کو توہین کے طور پر سب سے پہلے قادیانیوں نے عام کیا تھا ، بہرحال یہ جو عیسائی پادری والا لطیفہ ہے مست ہے ، بارہ سنگھا اور پادری 8O باقی اپنے فکرِ پاکستان صاحب کو تو اتنے جواب دے دئے ہیں لیکن وہ اسی پر اڑے ہوے ہیں کہ مرغے کی ایک ہی ٹانگ ہے ۔

بلاامتیاز کہا...

خوامخواہ جی ۔۔
اپکی تحریر میں اتنی ڈیشوں کا استعمال ،
یہ بھی کسی مولبی کے ساتھ تعلقات کا شاخسانہ تو نہیں۔۔

عمران اقبال کہا...

جب میں جاوید صاحب کا تبصرہ پڑھ رہا تھا۔۔۔ تو میرے دماغ میں بھی یہی خیال آیا۔۔۔ کہ جاوید صاحب اپنا بلاگ کیوں نہیں لکھتے۔۔۔ ان کا یہ تبصرہ ایک بہترین بلاگ پوسٹ بن سکتا ہے۔۔۔

محمد سعید پالن پوری کہا...

تاریخ جنگ آزادی میں ایک کردار ہم نے مولانا محمد علی جوہر کا پڑھا تھا جو کہ دنیا بھر کے موضوعات کی جان کاریاں رکھتا تھا اور جس موضوع پہ بولتا تھا نہ صرف اس کا حق ادا کرتا تھا بلکہ دوسروں کے بولنے کے لئے کچھ نہیں چھوڑتا تھا، میں سوچا کرتا تھا کہ وہ کیسے ہونگے جاوید بھائی کو دیکھ کے مولانا قریب الی الفہم ہوگئے ہیں،بارک اللہ فی علمک و سنک و اھلک، واعطاک الفوزو النجاح فی کل المجالات،اللہ آپ کی طرح ہمیں بھی "محسود" بنائے (بیت اللہ والا نہیں)
یاسر بھائی آپ سے معذرت کہ میں نے موضوع سے ہٹ کر نجی گفتگو کرڈالی ،یہ جذبات میرے دل میں بہت دنوں سے تھے آج روک نہیں پایا اور میرے پاس انکی آی ڈی بھی نہیں ہے کہ میں ذاتی طور سے ان کو دعائیں دےدیتا،
اتنی اچھی پوسٹ لکھنے پر آپ کو بھی مبارک باد

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

استاذ جی کبھی کبھی انکا علاج معالجہ کرتے رہا کریں گے۔دورہ تو دورہ ہوتا ہے۔۔۔۔جن نکالنے والے مولبی صیب بھی ہیں ہمارے پاس :D

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

محترم جاوید گوندل صاحب کے تو ہم مرید ہیں۔۔۔۔ :D

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

انکل ٹام جی۔۔۔۔بس حسن نثار صاحب کھسکی رگ جگہ جگہ پھڑکتی رہتی ہے۔ :D

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

شاہ جی اور مولبی صیب ہی تو ہیں ہم عام بندوں کی رہنمائی کیلئے۔ :mrgreen:

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

عمران بھائی کوئی وجہ ہوگی۔۔۔۔۔میں تو اپنا بلاگ انہیں دینے کو تیار ہوں۔۔۔مستقبل کا سوچیں تو ان کی تحاریرآنی والی نسلوں کیلئے نہایت مفید ثابت ہوں گی۔
سب ان سے گذارش کرتے ہیں۔۔شاید مان جائیں۔

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

پالن پوری صاحب آئیں سب جاوید گوندل صاحب کی منت سماجت کرتے ہیں کہ اپنا بلاگ بنا لیں۔

بلاامتیاز کہا...

آہو جی ..
تواڈے ضمیر صاجب بھی تو شاہ جی ہی ہیں
:)

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

شاہ جی یہ ضمیر شاہ جی کون ہیں؟ میں تو انہیں بالکل نہیں جانتا :lol:

خالد حمید کہا...

مولوی ایک لقب ہے جو سند یافتہ عالم کو دیا جاتا ہے، اگر کوئی شخص اپنے آپ کو مولوی کہلاتا ہے تو اس سے سند طلب کی جاسکتی ہے بطور تصدیق. اگر اس کے پاس سند نہ ہو تو اسے مولوی کہنا غلط ہوگا.
اس کی مثال اس طرح سے ہے جیسے کوئی شخص میڈیکل تعلیم حاصل کرنے بعد ہی ڈاکٹر کے لقب کا حامل ہوگا، یاپھر کوئی شخص انجینئرنگ کی تعلیم حاصل کرنے بعد انجینئر کہلاتا ہے، اور جیسا کہ
ہم ان کمپوڈرز کو ڈاکٹر نہیں بلکہ عطائی ڈاکٹر کہتے ہیں جو گاؤں اور چھوٹے شہروں میں دکان کھول کر ڈاکٹر بنے عوام کی صحت سے کھیلتے ہیں. اسی طرح سے ہمیں ایک سند یافتہ عالم یعنی مولوی اور عطائی مولوی میں بھی فرق کرنا ہوگا.
اللہ ہم سب کے صغیرہ و کبیرہ گناہوں کو معاف فرمائے. آمین

انکل ٹام کہا...

اس میں مجھے بھی شامل کر لیجیے گا

ڈآکٹر جواد احمد خان کہا...

مجھے مکمل طور سے اتفاق ہے.
جاوید گوندل صاحب کو اپنا بلاگ بنا لینا چاہیے.

سعد کہا...

آپ بھی اندرونی طور پر مولوی ہی ہیں!!!۔

سعد کہا...

جناب آپ نے ابھی جو کہا اس کا خلاصہ بیان کریں!

جاوید گوندل ۔ بآرسیلونا ، اسپین کہا...

یاسر بھائی! وقار اعظم بھائی ۔ ڈاکٹر جواد احمد صاحب۔ انکل ٹام صاحب۔ محترم محمد سعید پالن پوری صاحب۔

سبھی محترمین و مکرمین کا دلی طور پہ ممنون ہوں کپ آپ سب نے میرے لکھے کچھ الفاظ کو پزیرائی بخشی۔ اتنی الفت کیا کہ مجھے اپنی تنگدامنی کا احساس ہونے لگا۔ جس کے لئیے میں آپ سب کا انتہائی ممنون ہوں۔ اللہ تعالٰی آپ سب کو جزائے خیر دے۔ آمین۔

محترم سعید پالن پوری صاحب سے عرض ہے کہ مولانا محمد علی جوہر رحمتہ اللہ علیہ ایک عظیم انسان اور حریت پسند تھے انیس سو انیس میں آپ تحریک خلافت کے بانی تھے۔ جنہوں نے غالبا انیس سو اکتیس میں لنڈن میں گول میز کانفرنس میں انگریزوں سے ہندؤستان کی آزادی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ورنہ وہ ایک غلام ملک میں کی بجائے یہیں مرنے کو ترجیج دیں گے اور آپ کو میری قبر ایک غلام ملک کی بجائے یہاں بنانی پڑے گی۔ وہ عظیم لوگ تھے اللہ نے ان کے کہے کی لاج رکھی اور مولانا محمد علی جوہر لنڈن میں فوت ہوئے اور انکی میت کو بیت المقدس میں دفنایا گیا۔ وہ ہنڈوستان کی تحریک آزادی کے ایک بلند پایا ہیرو تھے۔ رحمتہ اللہ علیہ ۔

آپ نے میرے حوالے سے انھیں قریب الفہم جانا بے شک یہ میرے لئیے ایک اعزاز ہونا چاہئیے ۔ لیکن یہ واضح ہو کہ میں ایک گنہگار انسان ایسے عطیم اور اعلٰی مرتبت لوگوں کی خاک پایہ کے برابر بھی نہیں۔

البتہ آپکی محبت اور شفقت کا میں دلی طور پہ ممنون ہوں۔

جاوید گوندل ۔ بآرسیلونا ، اسپین کہا...

محترم سعید پالن پوری صاحب سے عرض ہے کہ میرا ای۔ ایڈریس ذیل میں درج ہے۔ ویسے بھی اگر آُُپ میرے نام پہ کلک کریں تو اس پہ کھلنے والی ویب سائٹ پہ میرا ای۔مایل ایڈریس موجود ہے۔
ajnabihope@yahoo.com

انکل ٹام کہا...

میں آپکی بات سے مکمل طور پر متفق ہوں۔ یہاں تو کسی چرسی کی داڑھی ہو اسکو بھی مولوی کہنا شروع کر دیا جاتا ہے ۔ میری کلاس میں مسٹر براون ہیں اسکے بال کندوں تک مونچھیں تقریبا ہونٹوں کو بھی چھپا دیتی ہیں اور داڑھی مسلمانوں سے بھی لمبی ہے ۔ میں سوچ رہا تھا کہ یار دوست اسکو کب مولوی کہنا شروع کرتے ہیں ۔

انکل ٹام کہا...

تصحیح :کندھوں کی بجاے کندوں لکھا گیا۔

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.