نیٹ کی دنیا

گیارہ  مارچ کے زلزلے ،تسونامی ، اور ایٹمی پلانٹ  کےسانحہ کے بعد جاپانی انٹر نیٹ کی دنیا کافی متحرک ہے۔میڈیا میں جو کچھ بتایا جارہا ہوتا ہے اس کا تجزیہ اور کچھ لوگ جنہوں نے متاثرہ علاقوں سے انخلاء نہیں کیا تھا وہ مسلسل آئی فون کے ذریعہ اپنے نیٹ دوستوں کو روزانہ حالات سے آگاہی دے رہے ہیں۔


نیٹ کی دنیا میں مسلسل ایک ہی بات دہرائی جارہی ہے کہ حکومت اور میڈیا ایٹمی پلانٹ  اور تابکاری سے متعلقہ معلومات چھپا رہے ہیں۔ظاہر ہے حکومت نے افراتفری سے بچنا ہے۔سات صوبوں کی عوام کو سنبھالنا جاپان جیسے ترقی یافتہ ملک کے بس سے بھی باہر ہے۔


کئی بلاگ جس پر بلاگرز نے لاشوں کی تصاویر اور کچھ سخت قسم کی تحاریر لکھیں ۔وہ بلاگ  بلاک کرکے پرووائیڈر نے ڈیٹا مٹانے کے بعد بلاگز کو دوبارہ جاری کر دیا۔


چوبیس مارچ کو ٹوکیو میں پیلے ذرات کی بارش ہوئی جس سے عوام نے گھبرا کر حکومتی اداروں کو فون کرکے اس کے متعلق پوچھا تو حکومت نے کہا کہ یہ پولن ہے۔جو اس موسم میں عموماً ہوتی ہے۔اس سے  پہلےکبھی بھی ایسا پولن نازل نہیں ہوا تھا۔لیکن اس سال گاڑیوں اور گھروں کی کھڑکیوں پر جمع ہوئی جس سے لوگوں میں خوف و ہراس پیدا ہوا۔


لیکن یہ کیا تھا اس کے متعلق ابھی تک کوئی تفصیل جاری نہیں کی گئی۔کہا جاتا ہے کہ ایسی ہی بارش چرنوبل کے سانحہ کے بعد بھی ہوئی تھی۔ اور اس وقت بھی عوام کو پولن کا کہہ کر ٹرخا دیا گیا تھا۔اس کے متعلق جاپان ٹائم میں بھی لکھا گیا۔


جس کا لنک اور خبر مندرجہ ذیل ہے۔


☆Yellow Rain Falls In Tokyo? Pollen Excuse Exact Same As Chernobyl Yellow Rain Lie

http://theintelhub.com/2011/03/24/yellow-rain-falls-in-tokyo/

While the Japanese government continues to say that the yellow rain seen in Japan was simply “pollen,” many have been reminded of a very similar occurrence after the Chernobyl nuclear disaster.


اس وقت جو نیٹ پرجاپانی بلاگرز کے خیالات پڑھنے کو مل رہے ہیں وہ کچھ اس طرح ہیں کہ ہیں ملک میں ایمر جنسی حالت  ہےاور حکومت صوبائی اور شہری انتخابات کروا کر عوام کےذہن کو فکوشیما سے ہٹا رہی ہے۔سات اپریل کی رات کو متاثرہ علاقے میں ایک اور شدید زلزلہ آیا تھا۔ اور اس کے بعد ایٹمی پلانٹ کی حالت مزید خراب ہو جانے کا قیاس کیا جارہا ہے۔


یہ ایک وڈیو ہے جو سات اپریل کو جاپانی سرکاری ٹی وی نے زلزلے کے وقت لائیو پر نشر کردیا۔اس میں نظر آنے والی تیز دھماکہ خیز روشنی کے متعلق مختلف باتیں کی جارہی ہیں۔جو کافی دلچسپ ہیں لیکن میں نے بیستی خراب نہیں کرانی صرف اتنا لکھوں گا یہ دھماکہ خیز روشنی کیاہے اس کے متعلق کوئی بات حتمی طور پر نہیں کہی جاسکتی اور میڈیا اس کے متعلق خاموش ہے۔


اورسترہ جنوری انیس سو پچانوے کو کوبے میں آنے والے زلزلے کے وقت بھی ایسی ہی روشنی دکھائی دی گئی تھی۔ایک سائینس دان کی تحریر میں لکھا ملا تھا کہ یہ رگڑ سے پیدا ہونی والی توانائی کا اخراج ہے۔تحریر اتنی سائینسی تھی کہ پڑھتے ہوئے مجھے پسینے آگئے۔اس لئے میں صرف رگڑ سے توانائی کا اخراج لکھوں گا۔علم رکھنے والے حضرات وضاحت کرکے ہماری دعائیں وصول کریں۔ دونوں وڈیو میں تیز روشنی کا دھماکہ یا جھماکہ دیکھا جا سکتا ہے۔


یہ  سات اپریل کے زلزلے کی وڈیو ہے۔


 

اور یہ سترہ جنوری انیس سو پچانوے کی وڈیو۔



 

 چرنوبل کےحادثے کے متعلق نیٹ پر معلومات حاصل کر رہا تھا کہ ایک نہایت اچھی وڈیو انگلش میں ملی ہے لیکن میرے جیسے انگلش کم سمجھنے والے کو بھی نہایت آسانی سے سمجھ آرہی ہے ۔

اچھی معلومات ہیں۔پاکستان یا اسلامی دنیا اس وقت ایٹمی توانائی کیلئے دیوانی ہو رہی ہے۔متحدہ عرب امارات وغیرہ نے کوریا کو ایٹمی پاور پلانٹ بنانے کا ٹھیکا دے دیا ہے۔اس لئے ہم مسلمانوں کو کچھ نہ کچھ معلومات حاصل کرلینی چاھئے۔

چرنوبل کے حادثے سے متعلقہ معلوماتی وڈیو۔

نیٹ کی دنیا نیٹ کی دنیا Reviewed by یاسر خوامخواہ جاپانی on 10:24 PM Rating: 5

7 تبصرے:

جاوید گوندل ۔ بآرسیلونا ، اسپین کہا...

یاسر بھائی!
ویڈیوز سنسی خیز ضرور ہیں مگر ان میں کوئی شئے واضح نہیں۔ بہت ممکن ہے وہ کسی قسم کا باردو مواد ہو جو زلزلے کی وجہ سے کھل گیا ہو اور ہوا کی رگڑ سے جل گیا ہو۔ کیونکہ فاسفورس کو اپنی اصلی حالت میں پانی میں رکھنا پڑتا ہے۔ ورنہ وہ ہوا کی رگڑ سے بھی جل اٹھتا ہے۔ اور روشنی کی چمک کچھ ایسی ہی لگتی ہے۔ واللہ علم الصواب۔

جہاں تک معلومات اور ایٹمی ٹیکنالوجی کے حصول کا ذکر ہے۔ کہ ایٹمی تونائی وہ جن ہے کہ اگر اسے مناسب منتر سے قابو میں نہ رکھا جاسکے تو یہ اپنے مالک کی جان لے لیتا ہے۔ جہاں تک پاکستان میں اس بارے معلومات کا ذکر ہے تو پاکستان میں ایسے لوگ تیار ملتے ہیں جو کہ نہ صرف اس بارے مکمل معلومات اور خبر رکھتے ہیں بلکہ انکی معلومات دوسرے ممالک بھی شیئر کرتے ہیں۔ ڈاکٹر عبد القدیر کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں مگر انکے علاوہ پاکستان میں ریسرچر کی ایک بہت بڑی تعداد ہے جو اس ٹیکنالوجی کو نہ صرف دریافت کرنا جانتے ہیں بلکہ اسے قابو کرنے کا منتر بھی جانتے ہیں۔

اگر کسی وجہ سے جوہری جن اپنے منتر سے باغی ہوجائے تو اگر فوری دہماکہ نہ ہو اور پلوٹونیم اکسائیڈ بہت بڑی مقدار ہوا میں شامل نہ ہو تو انسانوں اور ہر قسم کی حیات کی فوری موت کا خدشہ بہت کم ہوتا ہے۔ اور تابکاری کی صورت میں فوری موت نہیں ہوتی مگر بلاآخر موت اور عام طور پہ دردناک موت انسان کا مقدر ہوتی ہے ورنہ کینسرز اور مختلف مسائل زندہ درگوہ کردیتے ہیں۔

یہ معلومات پاکستان سمیت دوسرے ممالک میں بھی عام ہیں مگر مسئلہ عام عوام کا ہے۔ جنہیں فوری طور پہ کچھ نہیں بتایا جاتا۔ کیونکہ حکومتوں کی اپنی مجبوریاں ہوتی ہیں اور اگر عام عوام کو باخبر کر دیا جائے تو بھگدڑ مچنے اور علاقے خالی ہونے اور عوام کا ایک جگہ سے دوسری جگہ اچانک منتقل ہونے سے اسقدر زیادہ نقصانات ہوتے ہیں جنہیں کوئی بھی حکومت خواہ وہ امریکہ اور جاپان کی طرح باوسائل اور امیر ہی کیوں نہ ہو افورڈ نہیں کر سکتی۔ اور پاکستان تو ایک بہت غریب اور کم وسائل کا مالک ملک ہے۔

معلوم انسانی تاریخ میں ہونے والے ایٹمی حادثات میں حکومتوں نے یہی رویہ اپنے عوام کے ساتھ رکھا ہے۔ خواہ وہ اٹھائیس مارچ انیس سو اناسی میں تھری مایل آئیس لینڈ پنسلوانیا میں ایٹمی ری ایکٹر ہونے والا جوہرہی حادثہ ہو یا چرنوبل ، یوکرائین اور فوکوشیما جاپان کے حادثات ہوں۔

خاور کھوکھر کہا...

میں اس وقت میاغی میں هی تھا
بہلے ویڈیو میں نظر انے والی بڑی بلڈنگ کی پچیسویں منزل پر تچا
لیکن
روشنی کا منبع عمارت کی دوسری طرف تچا س لیظ نظر نهں آیا
لیکن
دوسرے دن مقامی دوستوں سے ملاقات کرنی تھی
اس ملاقات میں مقامی لوگوں نے بتایا که
زلزله محسوس هونے سے پہلے
اسمان روشن هو گیا تھا
وجه کسی کو معلوم نهیں هے
باقی جی پولن کا معامله هے تو
یه
هر سال ایسی هی برستی هے
مجھے تو اس میں کوئی غیر معمولی بات نہیں لگتی

افتخار اجمل بھوپال کہا...

جس نے 7 اپريل والی وڈيو يو ٹيوب پر لگائی تھی اُس کا اکاؤنٹ بند کر ديا گيا ہے اسلئے وڈيو غائب ہو گئی ہے
زلزلے سے قبل يا اس کے دوران روشنی پيدا ہونے کا سبب زلزلہ کی وجہ سے جلنے والی زيرِ زمين گيس بھی ہو سکتی ہے اور انسان کے بنائے کسی کارخانے ميں دھماکہ بھی ہو سکتا ہے

پيلی بارش ۔ ميں اُس زمانہ ميں شايد ساتويں يا آٹھويں جماعت ميں پڑھتا تھا يعنی آج سے 60 سال قبل ۔ ہم جھنگی محلہ راولپنڈی ميں رہتے تھے ۔ ايک دن کچھ عجيب سی فضا بن گئی ۔ يہ سماں قائم ہوتے ہی تمام پرندے منٹوں ميں فضا سے غائب ہو گئے ۔ خاموشی ايسی کہ اپنی سانس کی آواز بھی سنائی دينے لگی ۔ بزرگوں نے نوافل پڑھنے اور اللہ سے معافی مانگتے رہنے کا مشورہ ديا ۔ پھر پوری طرح بارش تو نہ ہوئی مگر کہيں کہيں قطرہ گرتا اور وہاں پيلا نشان پڑ جاتا ۔ کئی دن تک لوگ اس سے پريشان رہے اور استغفار کرتے رہے

محمد سعد کہا...

بہت عرصہ پہلے ماہنامہ گلوبل سائنس میں پڑھا تھا کہ زلزلے کے دوران زیرِ زمین مقناطیسی چٹانوں کی ٹوٹ پھوٹ کی وجہ سے برقی مقناطیسی امواج خارج ہوتی ہیں جو اوپر ہوا کے ذرات سے ٹکرا کر رنگ برنگ روشنیوں کا سبب بنتی ہیں۔ چونکہ برقی مقناطیسی امواج کی رفتار (بہ الفاظ دیگر روشنی کی رفتار) زلزلے کے اثر سے کہیں زیادہ تیز ہوتی ہے چنانچہ اسے زلزلے کی پیشن گوئی کے لیے استعمال کرنے پر غور کیا جا رہا تھا۔ پیشن گوئی کے نظاموں میں اس کے اطلاق کی موجودہ صورتِ حال کیا ہے، یہ میں نہیں جانتا۔

اس کے علاوہ انسان کی بنائی ہوئی اشیاء کو زلزلے سے نقصان پہنچنے کی صورت میں ہونے والے دھماکوں کا ذکر آیا تو مجھے سب سے پہلے بجلی کے تاروں کے ٹکرانے یا ٹرانسفارمر کے فیوز اڑ جانے والے دھماکوں کا خیال آیا، کیونکہ گرمی کا موسم آ رہا ہے جس کا ہمارے ہاں مطلب ہوتا ہے روز جگہ جگہ بجلی کے ٹرانسفارمر کی آتش بازی۔ :D

اور ہاں، پہلے نمبر والی ویڈیو کا کچھ کریں۔ یہ تو کھاتہ ہی حذف ہوا پڑا ہے۔

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

ٹرانسفر وغیرہ یا بارود ،کیمیکل یا کسی فیکٹری یا پیٹرول پمپ وغیرہ میں آتش بازی ریکارڈ میں نہیں آئی۔
زمین دوز چٹانوں کے چٹخنے یا کچھ اور سے اس دھماکہ خیز روشنی کا اخراج خیال کیا جاسکتا ہے۔

محمد سعد کہا...

گلوبل سائنس کا وہ (مارچ 2006ء کا) شمارہ ڈھونڈ لیا۔ صفحہ نمبر 19 پر "برقی مقناطیسی مظاہر کے ذریعے زلزلوں کی پیش گوئی" کا مضمون ہے۔ "مقناطیسی چٹانوں" کا ذکر تو نہیں مل رہا۔ غالباً میری یادداشت کا قصور ہے۔ ایک چھوٹا سا اقتباس پیش کرتا ہوں۔
"زلزلے سے قبل، جب ان چٹانوں پر دباؤ پڑتا ہے، تو ان میں موجود قلموں کی شکل میں تبدیلی آنے لگتی ہے۔۔۔ اور بعض اوقات وہ ٹوٹ بھی جاتی ہیں۔ یاد رہے کہ ابھی زلزلہ نہیں آیا ہے بلکہ سطح زمین کے نیچے زلزلہ آنے کے آثار ہی پیدا ہوئے ہیں۔ اپنی عام حالت میں چٹانوں اور پتھروں کو حاجز (انسولیٹر) شمار کیا جاتا ہے۔ یعنی بجلی ان میں سے نہیں گزر سکتی۔ لیکن شدید دباؤ کے تحت ان کی قلمی ساخت میں تبدیلی اور ٹوٹ پھوٹ کی وجہ سے زیرِ زمین زبردست برقی رو پیدا ہوتی ہے، جو پہلے سطح زمین تک پہنچتی ہے، اور پھر ہوا میں منتقل ہو جاتی ہے۔" (صفحہ 20)۔
اگر بجلی نہ گئی تو مزید متعلقہ اقتباسات بھی پیش کروں گا۔

ڈاکٹر جواد احمد خان کہا...

بہت اعلیٰ ... روشنی اور دھماکوں کی سائنسی توجیحات تو سمجھ آتی ہیں. مجھے ڈر یہ ہے کہ یہ سب کچھ ھارپ کی کرشمہ سازی نا ہو . بہت سارے لوگ زلزلوں کو انسانی دماغ کی شیطانی کارستانی بتاتے ہیں. اس ضمن میں ناسا کا بلو بیم پراجیکٹ کا کئی بار حوالہ دیا گیا ہے. اللہ سب کو اپنی حفظ و امان میں رکھے.

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.