بڈھے

جب ہم چھوٹے ہوتے تھے تو جن، بھوت پریت ،بلاوں ، چڑیلوں کی کہانیاں سنتے تھے تو بڑا ڈر لگتا تھا۔پی ٹی وی پہ بچوں کیلئے ایک پروگرام آتا تھا الف لیلی اس میں جب جادوگر یا جادو گرنی کے ہاتھوں شہزادے کو بکرا بنا یا جاتا تھا تو میں بھاگ کر باہر چلا جاتا تھا۔جب کزن کہتے تھے کہ بکرا بن گیا ہے تو واپس آکر مزے سے باقی پروگرام دیکھتا تھا۔ رات کو باہر نکلنا تو میرے بس سے باہر ہوتا تھا۔


ہماری دادی اماں کو جب پتہ لگا کہ ہم بڑے ڈرپوک ہیں تو انہوں ایک دن ہمیں کہا کہ جادو ، جن ،بھوت،چڑیلوں سے بچنے کا سبق بتاتی ہوں وہ یاد کر لو تو بہت بہادر اور ہر خوفناک شے سے بچ جایا کرو گے اور جن بھوت کو مار بھگایا کرو گے۔ انہوں نے ہمیں چار قل اور سبحان اللہ ،الحمد اللہ ، اللہ اکبر رات کو سوتے وقت پڑھنے کا بتا دیا اور یاد بھی کروا دیا۔ اس کے بعد ہم بہادر ہوگئے ایسے بہادر ہوئے کہ آج تک کسی جن بھوت کو ہمارے پاس آنے کی ہمت نہ ہوئی۔


چڑیلوں سے بچنے کیلئے بوقت خوف یہی وظیفہ پڑ لیتے ہیں۔جس سےعموماً بچ ہی جاتے ہیں۔ لیکن چڑیلیں ماڈرن ہوتی جا رہی ہیں۔ دادی ماں کی محبت و شفقت ہمیں آج تک نہیں بھولتی۔ ہماری نانی ماں تو جیسے سب کی نانی ماں ہوتی ہیں۔ایسی ہی پیاری ہوتی تھیں۔ہر وقت مسکراتی اور ہتھے چڑھنے کی دیر کہ چمّیاں لینا شروع کر دیتی تھیں۔ چمّیاں لینے سے پہلے نسوار ڈالنا نہیں بھولتی تھیں۔ نانی ماں کھلانے کی بڑی شوقین ہوتی تھیں۔نانی ماں کی پراٹھے بہت زبر دست ہوتے تھے۔جنہیں ہم گرّیاں والے پراٹھے کہتے تھے۔ٹپکتے گھی میں پکے پراٹھے بہت ہی زبردست ہوتے تھے۔


نانی اماں بیٹھی پکا رہی ہوتی تھیں اور سب بچے کھاتے تھے۔پراٹھے پکاتے وقت نانی ماں کے چہرے پر بہت ہی پر شفیق اور خوش سے ممور مسکراہٹ ہوتی تھی۔ ایک دفعہ ہم نانی ماں کے ساتھ کراچی چلے گئے۔بارش ہوئی تو کراچی کی گلیاں سمندر بن گئیں۔ہم نانی ماں کے ساتھ گھر سے باہر نکلے ہمیں یاد نہیں کہ کیوں ایسے موسم میں باہر نکلے۔


بحرحال باہر نکلتے ہی ہم کراچی کے گٹر میں گر گئے۔ہمیں کراچی والوں کی طرح گٹر میں تیرنا تو آتا نہیں تھا اس لئے نانی ماں کی قمیض پکڑ کے لٹک گئے۔ نانی ماں نے چیخنا شروع کر دیا امارا بچی بچاو بچاو۔گٹر میں لٹکتے ہوئے ہم نے جان بچانے کی سوچنے کے بجائے سوچا ہم تو نانی ماں کے بچے ہیں۔آج بچی کیوں ہو گئے؟!!۔


 نانی ماں کو سانس کی تکلیف تھی لیکن نسوار لازمی منہ میں ڈالتی تھیں۔نسوار کھانے کے بعد تو بچوں پہ انہیں بے تحاشہ پیار آتا تھا۔بچوں کو نانی ماں سے تو بہت پیار تھا۔لیکن ان کی چمّیاں وصولنے کے بعد سب چپکے سے منہ دھوتے تھے۔ ایک دفعہ ہم نے نانی ماں سے کہا نانی ماں آپ کا ناک اتنا بڑا ہے۔آدھی دنیا کی آکسیجن تو آپ سونگھ جاتی ہوں گی۔نانی ماں بولیں بیٹا اللہ تجھے خوش رکھے تو نے جاپان سے دوائی لا کر دی ہے نا وہ بہت اچھی ہے۔ ہم نانی ماں کیلئے جاپان سے پیپر منٹ کا عرق لیکر گئے تھے کہ اس کے سونگھنے سے سانس کی تکلیف میں سکون آجاتا ہے۔نانی ماں اس پیپر منٹ کے عرق کو آکسیجن سمجھتی تھیں۔


 اسی طرح ایک بار ہم نے نانی ماں سے مذاق کیا کہ نانی ماں آپ کا ناک اتنا بڑا ہے چائے پیتے ہوئے پیالی میں ڈوبتا نہیں؟ نانی ماں نے پیالی اٹھائی ایک ہاتھ سے ناک کو اٹھا یا اور گھونٹ بھر کے پیالی رکھی اور مسکرا کو بولیں بیٹا ایسے پی لیتی ہوں۔ ہماری نانی ماں ہمیشہ ایک ہی نصیحت کرتی تھیں وہ بھی اپنے بڑے سے خوبصورت ناک کی طرف اشارہ کرکے جب تک اس میں سانس آ جا رہا ہے۔ نماز نہیں چھوڑنی روزہ نہیں چھوڑنا سب ٹھیک ہو جائے گا ، سب ٹھیک ہو جائے گا۔


 ہماری دادی ماں اور نانی ماں دونوں ایک ایک صدی اس دنیا میں گذارنے کے بعد دوسرے جہاں کو روانہ ہوئیں۔ سب کو خوب پیار دیا اور حسین یادیں دیں۔ ایسی دادی نانی پائی تھیں اس لئے یہاں جاپان میں عموماً بزرگ خواتین میں ان کی ہی شبیہہ نظر آتی ہے۔بزرگ خواتین دنیا کے کسی حصے کی بھی ہوں ویسی ہی پیاری لگتی ہیں جیسی نانی ، دادی ماں ہوتی ہیں۔


ٹوکیو میں ہمارا گھر اپار ٹمنٹ کی پانچویں منزل پر ہے۔اس اپارٹمنٹ کی چوتھی منزل پر ایک اسی بیاسی سالہ ضعیف خاتون رہتی تھیں۔ان کا بیٹا اور ایک بیٹی تھے۔سال میں ایک آدھ بار وہ اپنی ماں کو ملنے کیلئے آتے تھے۔یہاں جاپان کے بڑے شہروں میں بندہ کسی بزرگ کی دیکھ بھال کی غرض سے قریب جائے تو شک کیا جاتا ہے کہ شاید کسی جرم کا ارادہ ہے۔جیسے رقم یا جائداد وغیرہ لوٹ لینا وغیرہ۔


 ہم بھی جب آتے جاتے ملاقات ہو جائے تو سلام دعا کرلیتے تھے۔ایک دفعہ ہم ٹوکیو دو ماہ بعد گئے تو کچھ بد بو سی محسوس ہوئی تو ہمیں کچھ شک ہوا اور ہم نے پولیس کو فون کر دیا۔پولیس آئی اور ہمیں بعد میں علم ہوا کہ وہ خاتونہ ڈیڑھ ماہ پہلے بستر پر سوتے ہوئے گذر گیئں ہیں۔ ایسے کیس ہوتے رہتے ہیں۔ ہمیں کچھ تھوڑا بہت احساس جرم ہوا لیکن جلد ہی بھول گئے۔


یہاں کے بزرگ زیادہ تر بوڑھا گھر میں ہوتے ہیں اور سال میں ایک دو بار بچے ملاقات کیلئے چلے جاتے ہیں۔سب ہی ایسے نہیں ہیں اپنے والدین کی خدمت کرنے کا احساس جاپانیوں میں بھی ھے۔اور بعض کو والدین کی خدمت کرتے دیکھ ایک احترام کا احساس دل میں پیدا ہوتا ہے اور ان سے محبت محسوس ہوتی ہے۔ بزرگ گھر میں ہوں تو بچوں کیلئے نہایت حسین یادیں چھوڑ جاتے ہیں۔اور بچے لاشعوری طور پر بڑوں کا احترام کرنا سیکھ جاتے ہیں۔جیسے بزرگ بچوں سے محبت و شفقت سے پیش آتے ہیں۔بچوں میں لا شعوری طور پر رحمدلی کا جذبہ پیدا ہو جاتا ہے۔ خواتین کا دن  یابزرگوں کا دن سال میں ایک دفعہ منانے کے بجائے اگر تین سو پینسٹھ دن ان سب سے احترام و محبت سے پیش آیا جائے تو اگلی نسل کو کچھ حاصل ہی ہو گا۔جو معاشرے کیلئے اچھائیاں پیدا کرنے کا باعث ہو گا۔ہماری انگریجی میڈیم تعلیم نے رنگ برنگے دن منانے تو سکھا دئے لیکن ہمارا اصل ہمارے ذہنوں سے مٹاتا جارہا ہے۔


ابھی کچھ بچت ہے۔یہ نہ ہو اماں جی کے دن ہم لوگ بھی بڈھا گھر جائیں اور پھر سال بعد یا اگر درمیان میں اماں جی گذر گئیں تو نانی ماں دادی ماں کی کہانیاں الف لیلی داستانیں ہو جائیں۔ 

بڈھے بڈھے Reviewed by یاسر خوامخواہ جاپانی on 1:00 PM Rating: 5

14 تبصرے:

ڈاکٹر جواد احمد خان کہا...

بہت اعلیٰ ...نانیاں دادیاں سب کی ایک جیسی ہی ہوتی ہیں ...میں نے اپنی نانی کو تو نہیں دیکھا مگر دادی کے ساتھ بچپن گزارا ہے. ایک تہذیب دیکھی ہے انکے یہاں بلکہ یوں کہئے کہ ایک پرانا وقت دیکھا ہے. انکے یہاں ہر چیز الگ تھی زبان سے لیکر چیزوں اور مہینوں کے نام ....ایک بار میں اپنی دادی کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہنے لگیں کہ اب کی بار "بارہ وفات " پر پورے محلے کو "گللتی" ( میٹھے چاول میوہ جات کے ساتھ ) کھلاؤں گی. میں پوچھ دادی یہ بارہ وفات کیا ہوتا ہے ..کہنے لگیں بیٹا یہ ربیع الاول کو کہتے ہیں ...بڑے پیر اور بارہ وفات مہینوں کے نام تھے. ہر طرح کی بیماری کے نسخے انھیں یاد تھے ..ڈاکٹرز سے تو خدا واسطے کا بیر تھا . ایک دن گرمی زیادہ پڑی. پورے جسم پر دانے نکل آئے ...گرمی سے پریشن ہوکر پوچھا دادی ! اس گرمی کا کیا علاج ہے ؟ کہا پانی میں ستو گھول کر "کپڑچھن" کرلو ....میں نے کہا دادی یہ کپڑ چھن کیا ہوتا ہے ؟ کہا کہ ململ سے جو پانی چھا نا جاتا ہے اسے کپڑ چھن کہتے ہیں ... پوری پوری کہانی ایک خاص لے میں گا کر سناتی تھیں ..نمونہ ملاحظہ ہو :
بھان متی متی
بھیل سنگھساڑ
پیپل پتے جھاڑ
باندی پدوڑی
بیوی نگوڑی.....
عجیب طرح کے اور ہی لوگ تھے وہ

عمران اقبال کہا...

یاسر بھائی۔۔۔ اب تک کی آپ کی سب سے بہترین تحریر ہے یھ۔۔۔ بہت ہی خوبصورت۔۔۔ بہت انہماک سے پڑھی۔۔۔ بلکہ یہ کہنا زیادہ بہتر ہوگا کہ آپ نے پڑھائی۔۔۔ بہت عمدہ۔۔۔
آج کل کے مادی دور میں والدین کی خدمت کرنا بھی ایک جہاد سے کم نہیں رہ گیا۔۔۔ ہر انسان کی اپنی خواہشات زیادہ پریارٹی لے گئیں ہیں۔۔۔ بزرگوں کے لیے تو کجا، اپنے ہم عمروں کے لیے وقت نکلنا بہت مشکل ہو گیا ہے۔۔۔ بہرحال بزرگوں اور خصوصا والدین کی خدمت تو فرض ہے اور ثواب کا کام ہے۔۔۔
لیکن کیا آپ کو ایسا نہیں لگتا۔۔۔ کہ آج کی نسل کو مادیت پرستی بھی پچھلی نسل کی دین ہے۔۔۔ ہمیں "مادیت پرستی" کی اہمیت کس نے سکھائی ہے۔۔۔ ہمیں روپے پیسے کی دوڑ میں کس نے لگایا ہے۔۔۔؟ میں پچھلی نسل کو صرف یہی الزام دیتا ہوں کہ آج کی نسل کی تربیت میں وہ یہاں چونک گئے اور اخلاقیات سے زیادہ پیسے کی اہمیت ہمارے دل و دماغ میں ڈال گئے۔۔۔
بے شک میرے اس خیال سے بہت سے لوگوں کو اعتراض ہو گا۔۔۔ چاروں انگلیاں ایک جیسی نہیں ہوتی۔۔۔لیکن مجھے جو نظر آ رہا ہے اور جو میں محسوس کر رہا ہوں، وہی لکھ دیا۔۔۔
فی امان اللھ۔۔۔۔

افتخار اجمل بھوپال کہا...

ميں نے نانی تو ديکھی نہيں ۔ ميرا مطلب ہے کہ ميں بہت چھوٹا تھا جب وہ فوت ہو گئيں ۔ دادی البتہ ياد ہيں وہ بھی ميرے بچپن ہی ميں فوت ہو گئيں ۔ وہ خاموش طبيعت تھيں ۔اشارے سے مجھے پاس بلا کر دو پيسے دے ديتيں ۔ دادا 1955ء ميں فوت ہوئے ۔ ميں ابھی بہت چھوٹا تھا تو مجھے سودا خريدنے ساتھ ليجايا کرتے تھے اور دوپہر اور رات کے کھانے کے بعد وہ مجھے اپنی زندگی کے واقعات سنايا کرتے تھے کہ تجارت کرتے وہ کس کس مُلک گئے اور وہاں کيا کيا ديکھا ۔ والد صاحب کو کبھی کہانی سنانے کی فرصت نہ ملی ۔ والدہ قرآن شريف ميں سے واقعات مجھے سنايا کرتی تھيں کيونکہ اُنہيں عربی زبان پر عبور حاصل تھا

افتخار اجمل بھوپال کہا...

ضروری بات رہ گئی ۔ ميرے متعلق کہا جاتا ہے کہ ميں بچپن ميں اندھيرا جن بھوت ڈائن چڑيل کسی سے نہ ڈرتا تھا ۔ اسلئے جسے ڈر لگتا ہو وہ مجھے ساتھ ليجايا کرتا تھا ۔ ذرا غور کيجئے چھ سات سالہ لڑکا بڑی خواتين کا رکھوالا بن کر جاتا تھا

fikrepakistan کہا...

یاسر بھائی مزہ آگیا اتنی اچھی تحریر پڑھہ کے، ہمارے یہ بزرگ یہ ہماری جنت ہیں، بہت اچھی تحریر ہے ماضی میں لے گئی آپکی تحریر۔

محمد سعید پالن پوری کہا...

واو :mrgreen:
میلہ لوٹ لیا جی آج تو آپنے، تحریر کی دو خاص بات، ایک تو آخر تک باندھے رکھا دوسرے لوگوں کو ماضی میں لے گئی،سوئے اتفاق سے نہ نانی کو دیکھ سکا اور نہ دادی کو اس لئے یادیں ہیں ہی نہیں کہ ان کو شیئر کروں،بقول ڈاکٹر صاحب کے کہ نانیاں اور دادیاں سب کی ایک سی ہوتی ہیں تو ہم نے آپ کی نانی اور دادی کو اپنی نانی اور دادی سمجھا اور پوسٹ کا مزا لیا

وسیم بیگ کہا...

بھائی آپ نے کتنا خوب لکھا ہے کے میرے پاس لفظ نہیں ہے آپ کو داد دینے کے لیے ..آپ کی تحریر پڑھ کر اپنے بچپن کے دن یاد آ گے میں تو دادی کے پیار سے محروم ہی رہا ہوں کیوں کے میرے دنیا میں آنے سے پہلے ہی وہ اس جہاں سے روٹھ کر چلی گئی .الله پاک ان کو جنت میں جگہ دے آمین ہاں البتہ نانو کے پاس ہی اپنا بچپن گزرا اور وہ ہی میری زندگی کے سپ سے حسین دن تھے جو میں کبھی نہیں بھول سکتا .اب وہ بھی اس دنیا میں نہیں الله پاک ان کو بھی جنت میں جگہ دے . آمین

وقار اعظم کہا...

نانی اور دادی کی داستان خوب بیان کی ہیں. مزہ آگیا، ہماری بھی بڑی حسین یادیں ہیں نانی اور دادی کی، منفرد تہذیب، زبان اور اس کے بولنے کا انداز، جواد بھائی نے مہینوں ے نام کا ذکر کیا تو اس سے ہمیں ایک واقعہ یاد آگیا کہ ہماری نانی سارے اسلامی مہینوں کے نام بالکل مختلف انداز سے لیتیں جیسے بارا وفات، ترتیزی، خالی اور نہ جانے کیا کیا. ہماری ایک کزن ہیں انہیں نانی سے مہینوں کے نام سن سن کر یاد ہوگئے. ایک بار اسکول میں ٹیچر نے سوال کیا کہ اسلامی مہینوں کے نام کس کس کو یاد ہیں؟ یہ جھٹ سے کھڑی ہوگئیں اور سنانا شروع کردیا. بیچاری ٹیچر حیران و پریشان کہ یہ کیا سنارہی ہے. جب گھر آکر اس نے سارا واقعہ سنایا تو سب خوب محظوط ہوئے.....

امتیاز کہا...

شکر ہے جی آپ نے آخر کار بلاگستانی بخار سے تندرستی حاصل کی ۔۔
بہت اعلی تحریر ہے جناب ۔۔ آپ نے تو نانی یاد کرا دی :ڈ

حجاب کہا...

بہت خوبصورت تحریر ۔۔ مجھے بھی نانی اور دادی کی باتیں یاد آگئیں ۔۔۔ اللہ جنت نصیب کرے آمین ۔۔

UncleTom کہا...

نسوار بھری چمیاں ۔۔۔ واہ کیا بات ہے ۔

فرحت کیانی کہا...

السلام علیکم
خوبصورت رشتوں پر ایک بہت خوبصورت تحریر۔
والدین کے والدین کے ساتھ رشتہ بہت خاص ہوتا ہے۔ میں نے اپنے نانا جان کو اپنے ہوش میں دیکھا اور ابھی بھی ان کا شفیق چہرہ میری یاد میں محفوظ ہے۔ لیکن اس رشتے کی اصل خوبصورتی اب میں اپنے والدین کا میرے بھتیجے کے ساتھ پیار دیکھ کر محسوس کر سکتی ہوں۔ اور اس کو کوئی میچ نہیں :)
ویسے اب ہمارے ہاں بھی بزرگوں کو نظر انداز کرنے کا رواج شروع ہو چکا ہے۔ اولڈ ہومز نہ سہی لیکن بہت سی ایسی مثالیں دیکھنے کو مل جاتی ہیں جہاں بچے اپنی اپنی ترجیحات کو دیکھتے ہوئے والدین کو اکیلا چھوڑ جاتے ہیں :(

جاوید گوندل ۔ بآرسیلونا ، اسپین کہا...

یاسر بھائی! سب خریت؟ اپنی خریت سے آگاہ کریں۔ آپ نے بتایا کہ آپ فلیٹ میں رہتے ہیں ۔ اللہ آپ کو آپکے اہل خانہ اور تمام لوگوں کو اپنی حفط و امان میں رکھے۔

خیریت کی اطلاع بلاگ پہ لگا دیں۔

ڈاکٹر جواد احمد خان کہا...

امید اور دعا ہے کہ آپ خیریت سے ہونگے.
اگر اگلی پوسٹ سونامی کے بارے مین ہو جاءے تو کیا ہی اچھا ہو..مع تصاویر اور وڈیو..

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.