پاکستانی قوم کھپّے

ہم نے بچپن میں شاید ایک دو بار کرکٹ کھیلا ہو۔آپ کہنا چاھئیں گے کہ کرکٹ کھیلی جاتی ہے کھیلا نہیں جاتا۔ لیکن ہم گلی ڈنڈا بھی کھیلتے تھے۔کھیلتی نہیں تھی ۔ دوڑ لگانے کا شوق تھا۔یا ڈنٹ بیٹھکیں لگا لیتا تھا۔زیادہ تر مویشیوں کی دیکھ بھال ہی ہمارا کھیل ہوتا تھا۔


اس دفعہ ورلڈ کپ بوجہ اپنی فرصت کے دیکھنا شروع کیا تو کافی پھنس گئے۔ہم تو کیا ہماری بیگم نے بھی ہم سے کرکٹ کے اصول و ضوابط پوچھ پوچھ کر دیکھنا شروع کردیا۔یہ علیحدہ بات ہے کہ ہم کتنے یہ اصول و ضوابط جانتے ہیں۔۔نیوزی لینڈ سے ہارنے پر ہماری بیگم صاحبہ کا موڈ سخت خراب تھا۔


لیکن ویسٹ انڈیز سے جیتنے پر موڈ ٹھیک ہو گیا تھا۔کل انڈیا سے ہتھ پنجہ تھا ہم بھی دشمنی میں  خم ٹھونک کر تیار ہوگئے تھے۔کل صبح سے شام تک کئی بار دانت پیس کر بڑبڑائے انڈیا کی تو ایسی کی تیسی۔


نماز جب بھی وقت ملتا ہے مسجد میں ہی جا کر پڑھتے ہیں۔لیکن کل کام فٹا فٹ نبٹائے اور صرف عشاء کیلئے مسجد میں گئے۔تبلیغی جماعت کی مہمان آئے ہوئے تھے۔ان سے کہا آج لیکچر وغیرہ نہیں چلنے کا۔!!!۔


کل دگنا سن لیں گے۔حاضرین نے بھی ہماری ہاں میں ہاں ملائی اور ہماری بات پر واہ واہ کی۔ایک دو نے نعرے بھی لگائے یاسر بھائی کھپّے!!!۔


میچ شروع ہوا تو۔۔۔۔۔۔۔چوکوں نے ہمارے پیسنے نکال دئے۔۔۔جس سے ہمارا سارا جوش ٹھنڈا پڑ گیا۔لیکن فیس بک پر بقول ڈفر بھائی کے کہ ڈفر بھائی کے پیٹ میں گڑبڑ تو ہو رہی ہے لیکن وہ امید سے ہیں۔نتیجہ ہوا کچھ نہیں!!!! ڈفر بھائی کی امید پیٹ کی گڑبڑ کی گیس تھی۔۔ہونا کیا تھا جی۔۔نہ کاکا نہ کاکی!!نہ ڈفرا نہ ڈفری!!۔


ہمارے ساتھ کچھ اس طرح ہوا کہ رات ایک گھنٹہ دیر سے سونے کی وجہ سے فجر کیلئے نہ اٹھ سکے۔عموماً بیگم اٹھا دیتی ہیں۔لیکن وہ بھی موڈ خراب ہونے کی وجہ سے سوتی رہ گئیں۔آنکھ کھلنے پر ہم  نےغیرت برگئیڈ کا ممبر ہونے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے بیگم سے غصے میں کہا نماز توضائع کروادی اب ذرا فٹ فٹا ناشتہ بنا خانہ خرابے۔!!۔


ناشتہ کیا ملنا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔دکان سے بلیک کافی خریدی اور دو کیلے پھانکنے پڑے اور دوپہر کا کھانا بھی گھر سے باہر ہی کھانا پڑا!!۔باقی آپ سمجھدار ہو جی۔۔۔۔۔شام تک کچھ منتاں ترّلے تو کرنے ہی پڑیں گے۔  


میچ دیکھتے ہوئے بعض اوقات نیٹ ٹی وی کی نشریات پھنس پھنس کے آنا شروع ہو جاتی ہیں۔ایسے وقت ہم بے چینی سے دوسرے چینلز پر کلک کر رہے تھے کہ آج ٹی وی کی خبر پر نظر پڑی کہ کراچی میں ہوائی فائیرنگ سے ستائیس زخمی اور فلاں فلاں اسپتال میں طبّی امداد کیلئے لیجائے گئے۔دوسرے علاقےوالوں نے تو آسمان پر ہوائی بوسے اور پھول نچھاور کئے ہوں گے۔


ہوائی فائرنگ ظاہرہے ہما ری باغیرت قوم نے ازلی دشمن سے مقابلے میں جوش پیدا کرنے کیلئے کی تھی۔لیکن کیا کریں ان امریکی اور یہودیوں کی بنائی گولیوں کا کہ بوجہ سازش غداری کرکے اپنے ہی بندوں کے گلے پڑ گئیں۔


اگر کل کا میچ پاکستان جیت جاتا تو جو ہونا تھا وہ تو نظر آہی رہا تھا۔ڈھیلی پینٹوں سے آدھی جھانکتی تشریف کے ساتھ خیبر خواہی سے لیکر بھائی کے ساحل کراچی تک سب کنجروں نے بھنگڑے ڈالنے تھے۔اور اس کے علاوہ جو کرنا چاھتے تھے وہ تو انہوں نے کیا ہی ہے۔بس مزا نہیں آیا۔


مزا اور بھی آتا اگر پاکستان یہ میچ جیت جاتا پنجاب کے شہنشاہ اعظم مسٹر گنجا نے کھلاڑیوں کو ایک ایک مربعہ زمین دینی تھی ابا حضور کی جاگیر سے۔اور انعام میں پورے پاکستانی قوم کو ہمارے آقا امریکہ بہادر دیتے کچھ ایسا انعام جو نیچے کی تصویر میں ہے۔


نیا انعام ایک دو دن میں دے دیا جائے گا۔ابھی اس تصویر سے دل خوش کریں۔


پاکستانی قوم کھپے۔


پاکستانی قوم کھپّے پاکستانی قوم کھپّے Reviewed by یاسر خوامخواہ جاپانی on 2:10 PM Rating: 5

9 تبصرے:

افتخار اجمل بھوپال کہا...

يہ کھپّے سندھی والا ہے يا پنجابی والا ؟

خرم ابن شبیر کہا...

لو جی اب یہاں بھی کھپے

جاوید گوندل ۔ بآرسیلونا ، اسپین کہا...

یاسر بھائی نہ دل جلایا کریں۔ ہماری قوم نے بوٹی پی رکھی ہے۔ نعصوم بچوں سے لیکر مذھبی رہنماؤں تک کوئی محفوظ نہیں۔ بس پاکستان کھپے۔ والوں کی موجیں ہیں۔مولانا فضل الرحمٰن پہ چوبیس گھنٹوں میں دو حملے اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کے حملے کرنے کروانے والوں کو اس بات کا ٹھیک ٹھیک علم تھا کہ وہ کب اور کہاں کہاں سے کس وقت گذریں گے۔ اس کے علاوہ بھی بہت سی باتیں ہیں، مولانا موصوف کا سیاسی کیرئیر ہمارے سامنے ہۓ اور نہ یم ہم انہیں کوئی نائت قابل سیاستدان سمجھنے پہ تیار ہیں۔ مگر وہ پاکستانی سیاستدان ہیں اور ایک ظبقے کی رہنماء بھی ہیں۔ اسلئیے ان کی سیاست اور مذھبی رہنمائی سے سو اختلاف سہی مگر اسطرح چوبیس گھنٹوں میں مکمل منصوبہ بندی کے ساتھ دو بڑے حملے پاکستان کے سارے نظام کو تہہ و بالا کرنے کا پیش خیمہ ہے۔ ماسوائے چند ایک مذھبی رہنماؤں کے اور ایم کیو ایم کے رہنماء الطاف حسین کے اخباری اطلاعات کے مطابق حکومت میں سے کسی نی ابھی تک اس حملے کی مذمت نہیں کی۔یہ حالات اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ پاکستان میں کئی ریمنڈ ڈیوس ابھی تک دندناتے پھرتے ہیں۔ جن کے پاس وسائل اطلاعات اور روپے کی کمی نہیں اور پاکستان میں پاکستان کھپے والوں کے وزیر ڈاخلہ کو تنخواہ کوئی اور دیتا ہے۔

کیا ہماری قوم جاگے گی؟ اگر پاکستان میں قوم کی ہر ضرورت پوری ہو رہی ہوتی تو کہا جاسکتا تھا کہ انھیں اپی بہتر زندگی سے دلچسپی ہے اور وہ کوئی احتجاج ریکارڈ کروانے میں دلچسپی نہیں رکھتے۔ ڈرون حملوں میں شہید ہونے والے پاکستانی بچوں اور شہریوں پہ باقی قوم کو غیرت آنی چاہئیے۔ اور اپنی حکومت سے کم از کم ایک پر امن ملک گیر احتجاج تو کرنا چاہئیے ، یہاں تو یہ عالم ہے بلی سے بچنے والے کبوتر کی طرح آنکھیں بند کر رکھی ہیں۔ کیا ہم اجتماعی خود کشی کی طرف بڑھ رہے ہیں؟

ڈاکٹر جواد احمد خان کہا...

جب پاکستان کی بےغیرت آرمی خود ہی ڈرون حملوں کی اجازت دے،اپنے اڈے فراہم کرے اور اپنی تنخواہوں میں اضافے کے لیے ڈرون کو لڑاکا طیاروں سے مار گرانے کی دھمکیاں دیتی رہے تو شکواہ کس سے کریں...
پاکستانی قوم مردار کھانے والی قوم ہے...زیادہ عرصہ نہیں چل سکے گی ..

UncleTom کہا...

دل زخم زخم ہے لوگو، کوی ہے جسے دکھائیں
کوی ہمسفر نہیں ہے غمِ جاں کسے سنائیں
آج میرا دل ویسے ہی عنقیہ آنٹی کے بکواسی اور بی بیسے کمنٹ کی وجہ سے ڈوبا ہوا ہے آپ نے اور تروڑ مڑوڑ دیا

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

انکل ٹوم ۔بھائی کچھ لوگ لکھتے ہی دوسروں کو تکلیف دینے کیلئے ہیں۔۔۔آنٹی تو پھر تیزابی ہے۔کیوں ٹینشن لیتے ہیں بھائی۔
میں نے جب یہ تصاویر دیکھئیں تو دل دھک گیا۔کہ میرے بھتیجوں سے ان بچوں کی شکل بہت زیادہ ملتی ہے۔۔۔۔
اس لئے کچھ ایسی پوسٹ لکھ ماری دل دکھانے کی معذرت چاہتا ہوں۔۔کہ اپنا دل بھی دکھی ہو گیا دھمال ڈالتی پاکستانی قوم کو دیکھ کر۔۔۔۔ :(

ڈاکٹر جواد احمد خان کہا...

انکل ٹام !!!
بات کی وضاحت نہیں ھوئی. مزید آسانی کے لیے لنک فراہم کیا جائے.

عمران اقبال کہا...

برا نا مانیے گا۔۔۔ لیکن میں پہلے بھی کئی بار کہہ چکا ہوں کہ من حیث القوم ہم بے حسی، بے غیرتی اور کمینے پن کی گہرائیوں پر پہنچ چکے ہیں۔۔۔ ہم میلے موجوں میں مصروف ہیں اور دنیا ہمیں مستقل چار رہی ہے۔۔۔ ہم یونہی مرتے رہیں گے اور زلیل ہوتے جائیں گے۔۔۔ نا صرف دنیا میں بلکہ قبر اور آخرت میں بھی ہم ذلیل ہی ہونگے۔۔۔ تا وقتیکہ اللہ اپنا رحم نا کر دے ہم پر۔۔۔

پکی پکی پاکستانی کہا...

انکل جی آپ کی آخری تصویر نے تو میرا دل ہی ہلا دیا...
ہائے اتنا ظلم ان معصوم جانوں پہ... :oops: :cry:
کرکٹ ورکٹ سب بھول گیا..

میں نے اوپر دیکھا آپ سب لوگ اتنے دکھی اور مایوس ہو رہے ہیں پاکستان کے لیے... یہ ہی آپ کی حب الوطنی کا ثبوت ہے..
مگر مجھے یقین ہے کہ پاکستان کے حالات بدلیں گے.. ہم سب مل کر بدلیں گے..ان شاءاللہ
ہمارے حکمران پاکستان کے دشمن ہیں، اور دشمنوں سے بھلائی کی کیا توقع کرنا.. افسوس کہ ہم پر بزدل لوگ حکمرانی کر رہے ہیں..
مگر وہ وقت ضرور آئے گا جب مطلوموں کو انصاف ملے گا..
ضرورت یہ ہے کہ پہلے خود اپنی ذات سے تبدیلی لائیں اور پھر آگے پہتری کے دیے جلاتے جائیں.. :-)

پاکستان زندہ باد

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.