عدّم تحفظ

تقریباً سو سال پہلے جاپان کی عوام جب غربت سے تنگ آئی  ہوئی تھی  تو حکومت نے لاکھوں کی تعداد میں جاپانی عوام جہاز بھر بھر کر وسطی جنوبی امریکی ،برازیل وغیرہ بھیجے تھے۔یعنی محنت مزدوری کرو اور کھاو پیو جان بناو کیلئے۔دوسری جنگ عظیم کے بعد کی بعض وڈیو دیکھنے کو ملیں توان میں یہ حال تھا کہ جاپانی بچے کیا بڑے بھی امریکی فوجیوں کی گاڑیوں کے پیچھے بھاگتے تھے۔اور گیو می چاکلیٹ کی یک سطری انگریزی میں چاکلیٹ مانگتے تھے۔

بعض وڈیو میں یہ بھی دیکھنے میں آیا کہ کئی جگہ پر بورڈ لگے ہوئے ہیں اور والدین  نے لکھا ہوا ہے کہ بچی برائے فروخت اور اس کی عمر و دیگر کوائف لکھے ہوئے ہیں ۔ایک چھٹانک چاول یا دو آلووں کیلئے جسم فروشی کوئی بڑی بات نہ تھی۔دوسری جنگ عظیم کے بعد تباہ حال جاپان کی عوام  کن حالات سے گذری اس کے متعلق تھوڑی سی نیٹ سرفینگ کی جائے تو بہت سی معلومات مل سکتی ہیں۔

اس دفعہ کے زلزلے اور سونامی کے بعد زیادہ تر جو بات غیرملکی میڈیا میں دکھائی گئی۔ اور ہم لوگوں نے بھی دیکھی کہ جاپانی قوم نہایت صبر شکر سے اور نظم و تنظیم سے بغیر کسی افراتفری کے اتنے بھیانک اور مشکل حالات کا مقابلہ کر رہے ہیں۔

ہمارے پاکستان میں زلزلہ آیا اور پھر سیلاب بھی آیا۔اس میں عوام کو روتے پیٹتے دیکھا گیا۔چھینا جھپٹی مار کٹائی کے مناظر بھی دیکھنے کو ملے۔آسمانی آفات کے علاوہ جب آٹے چینی کا بحران آتا ہے تو ادائیگی کرکے اشیاء خریدنے کیلئے لائن میں لگتے ہیں اور ایک دوسرے کی دھنائی بھی کرتے ہیں۔اور پھر انتظامیہ کے ہاتھوں ڈنڈے بھی کھاتے ہیں۔اور موقع ملتے ہی ایک دوسرے کا حق بھی مارتے ہیں۔

ہمیں جاپان میں تیئس سال ہو گئے۔جاپانی عوام کا بھی اور پاکستان جب بھی گئے پاکستانی عوام کا نا چاہتے ہوئے بھی مشاہدہ کیا۔ہمیں تو ایک ہی بات سمجھ آئی کہ جاپانیوں کو معلوم ہے کہ یہ لاوارث نہیں ہیں۔تھوڑی دیر ہو جائے گی لیکن مدد ان تک ضرور پہونچے گی۔ان کا حق کوئی نہیں مارے گا۔

پاکستانیوں کو معلوم ہے کہ اگر شور شرابہ نہ کیا تو اوپر ہی اوپر سب کھا پی جائیں گے۔امداد نام کی ہر شے پوری کی پوری ہڑپ کر جائیں گے۔یعنی پاکستانی عوام اتنی باشعور ہے اور انہیں معلوم ہے کہ چھین کے نہ کھایا تو بھوکے مر جائیں گے۔اگر کفن کو نہ سنبھالا تو یہ بھی غائب ہو جائے گا۔

۔کسی جاپانی کتاب میں پڑھا تھا۔ہوسکتا ہے ہمارے مسلمانی نقطہ نظر سے  یہ غلط ہو۔کہ یتیم اور لاوارث لوگ بہت زیادہ حساس ہوتے ہیں۔ایسے لوگ یا تو بھیکاری بن جاتے ہیں یا دھوکہ باز قسم کے جھوٹے جرائم پیشہ یا پھر نہایت قابل و با صلاحیت ہرفن مولا قسم کے تخلیقی صلاحیتوں والے۔

جاپانی عوام کا صبر ہم عموماً سخت سردی میں یا سخت گرمی میں دیکھتے ہیں۔سردی میں ساموئی ساموئی کی چیکیں مارتے ہیں۔۔۔یعنی ہائے سردی وائے سردی۔

اور گرمی میں آتسوای آتسوای۔۔۔یعنی ہائے گرمی وائے گرمی۔گرمیوں میں دن رات میں چار چھے بیئر کے ڈبے اور سردیوں میں اسی حساب سے کوئی تیز قسم کی شراب کھینچ جاتے ہیں۔

جاپانیوں کے صبر و تحمل کی بات کی جائے تو اگر ٹرین یا بس پانچ منٹ لیٹ ہوجائے تو بس یا ٹرین کی انتظامیہ کی جان عذاب میں آجاتی ہے۔مجبوراً بے چارے احساس ذمہ داری سے اپنا کام کرتے ہیں۔ہمارے پاکستان میں وقت پر آجائے تو معلوم پڑتا ہے یہ تو دودن پہلے والی سواری تھی۔پی آئی اے والوں کے نخرے تو ہر دفعہ ہمیں اٹھانے پڑتے ہیں۔وہ بھی پیسے دے کر۔ثابت ہواپاکستانی صبر و تحمل میں جاپانیوں سے بہت اچھے ہیں۔

جاپانیوں کو ہماری انتظامیہ اور حکمران دے دئے جائیں اور پھر بھی اگر یہ ہمارے جیسا صبر شکر کر لیں تو ہم مان جائیں کہ یہ قوم ہم سے زیادہ صابر و شاکر ہے۔بات یہ ہے کہ جاپانی عوام عدّم تحظ کا شکار نہیں ہے۔اور پاکستانی قوم کا ہر بندہ عدّم تحفظ کا شکار ہے۔بے شک اگر حکمران بھی ہے تو اس کی بھی یہی حالت ہے۔حکمران اس لئے کہ اگر یہ حکمران عدّم تحفظ کاشکار نہ ہوں تو ایک سوٹ کیس ہی پاکستان میں کیوں رکھیں؟

یہ اس لئے صرف ایک سوٹ کیس پاکستان میں رکھتے ہیں ۔کہ جب بھی خطرہ ہو بھاگ لو!!۔ یہ پاکستان سے باہر رہ کر بیچارے سیاست کیوں کریں؟عوام اگر عوام سے ہی محفوظ نہیں ہے تو حکمران بے چارے اپنے جیسوں سے محفوظ نہیں ہیں۔

جب تک پاکستانیوں میں یتیم و لاوارث ہونے کا احساس یا عدّم تحفظ کا احساس رہے گا۔ناممکن ہے کہ پاکستانیوں میں نظم ضبط صبر و شکر وغیرہ قسم کی خصلتیں پیدا ہوں۔
عدّم تحفظ عدّم تحفظ Reviewed by یاسر خوامخواہ جاپانی on 6:48 PM Rating: 5

5 تبصرے:

ڈاکٹر جواد احمد خان کہا...

اب اس قوم میں احساس تحفظ کہاں سے آئے گا ؟ ساری نشانیاں زوال کی طرف اشارہ کر رہی ہیں ... ہر چیز چیخ چیخ کر بھاگ جانے کی تنبیہ کرتی نظر آتی ہے . اس قوم میں احساس تحفظ کہاں سے آئے گا؟

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

ڈاکٹر صاحب جیسے ایک مریض ٹوٹ پھوٹ کے بعد صحت یاب ہوتا ہے۔۔۔کچھ ایسی ہی امید کی جاسکتی ہے۔

افتخار اجمل بھوپال کہا...

ہماری قوم کی کافی تعداد کو نہ اللہ پر بھروسہ ہے اور نہ اپنے آپ پر ۔ اسلئے ان ميں بے صبری بہت زيادہ ہے ۔ جو جيز مہنگی ہو اسے کم خريدنے کی بجائے زيادہ جريدتے ہيں اور جو سستی ہو اسے خريدنا توہيں سمجھتے ہيں
پھر بھی اللہ پر بھروسہ کرنے والے بھی پاکستان ميں ہيں اور پاکستانی ہے ۔ ياد رہا تو ايک خاندان کی بيتی لکھوں گا اپنے بلاگ پر

جاوید گوندل ۔ بآرسیلونا ، اسپین کہا...

پاکستانیوں کو معلوم ہے کہ اگر شور شرابہ نہ کیا تو اوپر ہی اوپر سب کھا پی جائیں گے۔امداد نام کی ہر شے پوری کی پوری ہڑپ کر جائیں گے۔یعنی پاکستانی عوام اتنی باشعور ہے اور انہیں معلوم ہے کہ چھین کے نہ کھایا تو بھوکے مر جائیں گے۔اگر کفن کو نہ سنبھالا تو یہ بھی غائب ہو جائے گا.

واللہ آپ نے پاکستانی قوم کے اس مرض کی خوب تشخیص کی ہے۔ میں نے ہمیشہ اپنی قوم کے عام آدمی دفاع نہائت اہم لوگوں کے سامنے اسی صورتحال کو اجاگر کرتے ہوئے کیا ہے۔ کہ ہمارا عام آدمی اسطرح کا نہیں بلکہ اسے پتہ پے کہ اگر اس نے ھیل حجت نہیں کی تو نظام اس کچل ڈالے گا۔ حالیہ سیلاب میں کچھ ایسے غیرت مند لوگ جو ہاتھ پھیلانے اور آگے بڑھ کر چھینا جھپٹی میں حصہ لینے کو غلط سمجھتے تھے ان کے بارے انتظامیہ کو بھی پتہ ہوتا تھا مگر وہ بھوکوں سوئے حتٰی وہ اپنے یا بھوک سے بلکتے اپنے بچوں اور مستورات کے لئیے اس چھینا جھپٹی میں خوار ہوئے۔ پانی اتر گیا یا انکے جاننے والے ڈھونڈ تے انہیں لینے پہنچ گئے مگر وہ آج بھی وہ واقعات بیان کرتے ہوئے دکھ ، بے بسی اور شرم سے رو دیتے ہیں ۔

ڈاکٹر جواد احمد خان کہا...

بالکل صحیح کہا یہ چیز میں نے بھی دیکھی ہے کہ کوئی چیزبلاوجہ مہنگی کر دی جاتے تو اس کی ڈیمانڈ بڑھ جاتی ہے ...لوگ اس کا بیکٹ کرنے کی بجاے اسکو کسی بھی حالت میں خرید کر لاتے ہیں اور فخر سے سب کو بتاتے ہیں ...یہ اجتماعی پاگل پن ہے اور میں نہیں سمجھتا کہ یہ الله سبحانه تعالیٰ کی خاص رحمت کے بغیر ٹھیک ہو سکتی ہے ...بار بار آزماے ہوے لوگوں کو ہی انتخاب میں ووٹ دینا محض اس لئے کے وو ہماری برادری، قوم ، زبان یا صوبہ سے تعلق رکھتے ہیں اس پاگل پن کی واضح نشانی ہے ....

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.