پاور پلانٹ

جاپان کا تیسرا ایٹمی پاور پلانٹ بھی دھماکے سے پھٹ گیا۔تینوں پلانٹز کی تباہی کے بعد حکومت جاپان حقیقت چھپا رہی ہے۔میڈیا حکومتی کنٹرول میں ہے۔اینکرز نہایت مشکل سے اپنی زبان بند کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔لیکن چند جاپانی بلاگر اور ایسے صحافی جو چرنوبل کے ایٹمی پاور پلانٹ کی تباہی کے بعد وہاں جاچکے ہیں ان حضرات کے بلاگ پر حقیقت کچھ اور  بیان کی جارہی ہے۔خاص کر سائینسدان بلاگر اپنا تجزیہ جس طرح لکھ رہے ہیں۔اس کے مطابق صورتحال نہایت خطرناک ہے۔


ان تمام حضرات کے مطابق صوبہ فکو شیماکی صورتحال  نہایت خطرناک ہے۔صوبہ فکو شیما میں ٹوٹل ایٹمی پاور پلانٹ دس بتائے جارہے ہیں۔سیندائی شہر جو میاگی صوبہ میں واقع ہوا ہے وہاں پر بھی پلانٹ موجود ہیں۔سیندائی کے پلانٹ سے بھی ایٹمی شعاعوں کا اخراج ریکارڈ کیا گیا ھے۔


آئی اے ای اے نے جاپان کی حکومت سے خطرے کے اندازاہ لگانے کیلئے ڈیٹا مانگا لیکن جاپان کی حکومت نے انکار کر دیا ہے۔ حکومت معلومات چھپا رہی ہے اور تقریباً سارے ایٹمی پلانٹ کو خطرہ ہے۔مجبوراً کچھ معلومات آوٹ کی جارہی ہیں۔یہ بلاگ لکھ ہی رہا تھا کہ ایک اور پلانٹ کی توڑ پھوڑ کی خبر بھی ٹی وی پر نشر کی جارہی ہے۔ میڈیا میں جو افرادی نقصانات بتائے جارہے ہیں وہ نہایت کم ہیں حقیقتاً چالیس سے پچاس ہزار اموات ہو چکی ہیں۔


 بحرحال میں کچھ لینک دے رہا ہوں۔


پاکستانی حضرات جن کی بیویاں جاپانی ہیں اور جو صوبہ فکو شیما میں یا اس کے آس پاس کے علاقوں میں رہتے ہیں ان سے گذارش ہے اگر خود نہیں پڑھ سکتے تو بیو یوں اور بچوں سے پڑھوا لیں۔ اور خطرے کا احساس کریں۔ یا اپنے جاننے والوں کو خبردار کریں۔ بعد میں رونے سے احتیاط کرنا اچھا ہوتا ہے۔ 








پاور پلانٹ پاور پلانٹ Reviewed by یاسر خوامخواہ جاپانی on 3:56 PM Rating: 5

12 تبصرے:

جاوید گوندل ۔ بآرسیلونا ، اسپین کہا...

یاسر بھائی!
سچی بات تو یہ ہے کہ پہلے دہماکے کے بعد سے ہی ان علاقوں میں رہمے والے پاکستانیوں کو وہ علاقہ چھوڑ دینا چاہئیے تھا۔ جب تک حالات کی مکمل تصویر سامنے نہیں آتی انہیں کچھ ھفتے پاکستان اپنے گھر آرام سے چلے جانا چاہئیے۔ اگر انتہائی ناگزیز مجبوریوں کی وجہ سے یوں کرنا ناممکن نا ہو تو ان علاقوں سے دور ہوجانا چاہئیے۔ جوہری سوجھ بوھج رکھنے والے سبھی ممالک نے پہلے دن سے اپنی اپنی ایمرجنسی جوہری سیکورٹی نامی کمیٹیوں کے لگاتار اجالس بٹھا رکھے ہیں جو کسی بھی ناگہانی کی صورت میں اپنے ممالک اور عوام کی جوہری تابکاری سے بچاؤ کے لئیے اقدام کریں گے۔ فضائئ جوہری آلودگی کی صورت میں یعنی ہوا میں شامل ہونے سے تابکاری کے اثرات کہاں اور کس طرف ہونگے اس بارے پیشگی طور پہ کہنا ممکن نہیں لیکن اگر تابکاری اخراج وسیع پیمانے پہ ہوتا ہے تو اس سے نہ صرف جاپان بلکہ دوسرے بہت سے ممالک متاثر ہونے کا امکان ہے۔

جوہری جن اگر ایک دفعہ بے قابو ہوجائے تو انتہائی نقصان دہ ثابت ہوتا ہے۔ایندھن کے لئیے استعمال ہونے والے یورینیم وغیرہ کی حدت اگر ایک بڑھ جائے تو اسے سنبھالنا تقریبا ناممکن ہوجاتا ہے۔ کیونکہ اسکی حدت کے سامنے ری ایکٹرز میں احتیاطی ڈھانچے عمومی طور پہ غیر موثر ثابت ہوتے ہیں۔سوویت یونین کے دور میں یوکرائین میں پھٹنے والا چرنوبل نامی ری ایکٹر اسکی ایک مثال ہے۔

افتخار اجمل بھوپال کہا...

اللہ اپنا کرم کرے ۔ مسلمانوں کو چاہيئے کہ احتياطی تدابير کريں ۔ حديث ہے کہ ايک صحابی رسول اللہ صلی اللہ عليہ و سلم کے پاس آئے تو آپ نے پوچھا "اُونٹ کہاں چھوڑا" ۔
صحابی نے جواب ديا "اللہ کے آسرے پر"۔
رسول اللہ صلی اللہ عليہ و سلم نے فرمايا "جاؤ ۔ پہلے اُونٹ کو باندھ دو اور پھر اللہ کے آسرے پر چھوڑو"
حفاظتی تدابير اور اقدامات کرنے کے ساتھ ساتھ اور بعد ميں مندرجہ ذيل ورد کريں
اَسْتَغْفِرُاللہَ رَبیْ مِنْ کُلِّ زَنْبِ وَ اَتُوْبُ اِلَيہ
لَا اِلہَ اِلَّا اَنْتَ سُبحَانَکَ اِنی کُنْتُ مِنَ الَظَالِمِين

حجاب کہا...

:( :( :( :( :( :( :( :( :(

جعفر کہا...

دعا ہی کرسکتےہیں
اور وہ کررہے ہیں
یہاں آکے ساری سائنس اور ترقی جواب دے جاتی ہے
اللہ اپنا رحم کرے۔۔
اللہ اپنا رحم کرے۔۔۔

عامر کہا...

اللہ آپ سب کو اپنی حفاظت میں سلامت و شاداں رکھے! آمین!
@جاوید گوندل صاحب!
آپ کا مشورہ(منطقی) لگتا تو ٹھیک ہے پر اسلامی تعلیمات سے مطابقت نہیں رکھتا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے کسی آفت کے بالکل درمیان اس علاقے سے نکنے سے اور بھاگنے سے منع کیا ہے،(حدیث پاک کا عام فہم مفہوم یہی ہے، اگر میں غلط ہوں تو کوئی با علم صاحب تصیح ضرور فرمائیں، شکریہ) لہذا جاپان میں مقیم لوگوں کو پاکستان یا کسی اور ملک ہرگز نہیں جانا چاہیئے اور وہاں کے لوگوں کے ساتھ ہی اس مشکل کو جھیلنا چاہیئے، اس مصیبت کی گھڑی میں ان کا ساتھ دینا چاہیئے[اللہ ان سب کو اس مشکل سے نکالے اور ان کو اپنے حفظ و امان میں رکھے]۔ بہت معیوب لگتا ہے کہ جب حالات اچھے تھے تو وہاں رہیں اور اگر کوئی گڑبڑ ہو تو بھاگ چلو!!![جارج فلٹن کو ہی دیکھ لیں۔ حالات اچھے نظر آئے تو پاکستان زندہ باد اور جب حالات خراب تو پاکستان کو طلاق دے کر بھاگ لیے!!]

جاوید گوندل ۔ بآرسیلونا ، اسپین کہا...

محترم عامر صاحب!
بہتر ہوتا آپ نبی آخری الزماں اللہ کے آخری نبی رسول صلی اللہ علیہ و سلم کی کسی ایسی حدیث کے بارے میں کسی عالم سے پتہ کروا کر اسکے پس منظر میں سمجھنے کی کوشش کرتے۔ اور اسکے بعد بھی اگر آپ مناسب سمجھتے تو اسے یہاں بھی بیان کرتے۔ سیاق سباق سے ہٹ کر یوں ایسے سوال داغنے کا پس منظر بھی آپ بیان فرما دیتے۔

اللہ تعالیٰ ہم سب کو دین کو درست سمجھنے اور اس پہ خلوص نیت سے عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

ویسے جاپان میں مقیم پاکستان جاپان کو اپنا دوسرا ملک سمجھتے ہیں۔۔۔۔۔اللہ تبارک تعالی نے اس ملک کے ذریعے ہم سب کو بہت نوازا۔۔۔۔۔۔۔بیوی بچوں کو محفوظ مقام پر ضرور بھیجنا چاھتے ہیں۔لیکن خود اس ملک میں ہی رہنا چاھتے ہیں۔ابھی تک اس ملک سے حاصل کیا ہے اب اس ملک کو کچھ دینے کی باری ہے۔

ڈاکٹر افتخار راجہ کہا...

یاسر آپ کی تحریر متاثر کن ہے، حقیقت تو یہی ہے کہ ادھر یورپین میڈیا بھی دوسرے سے تیسے پلانٹ ہی تو پہنچا ہے۔
اگر ایسی ہی صورت حال ہے تو میں ہر اس فرد کو مشورہ دوں گا کہ وہ خطرہ کے مقامات سے دور رہے۔
اللہ سب کو آپنی امان میں رکھے

عامر کہا...

محترم جاوید صاحب!
آپ میری بات نہیں سمجھے، مجھے آپ کے اس مشورہ سے اختلاف تھا کہ وہاں مقیم پاکستانیوں کو وہاں سے نکل جانا چاھیے! جیسے کہ یاسر صاحب نے خود کہا کہ وہ وہاں رہ کر ہی اس ملک اور قوم کے لیے کچھ کرنا چاہتے ہیں۔
دعا کے لیے شکریہ!
حوالہ اس حدیث پاک کا دیا تھا؛
http:// saha-e-sittah.com/search.php?p=2&fnt=a&hno=2020027&bno=27&jno=10
میری عقل ناقص ہو سکتی ہے اور آپ مجھے سمجھا سکتے ہیں۔ جزاک اللہ!

جاوید گوندل ۔ بآرسیلونا ، اسپین کہا...

یاسر بھائی!
جاپان، ٹوکیو میں فرانس کے سفارت خانے اپنی ویب سائٹ پہ اپنے شہریوں کے لئیے یہ ہدایئت لگا رکھی تھی کہ رات سات سے آٹھ بجے شام جاپانی وقت کے مطابق تابکاری ہوا کے ساتھ پہنچے گی ۔ اور اپنے شہریوں کو ہدایت کر رکھی تھی کہ اپنے گھروں کو بند کر کے اسکے اندر رہیں۔ کھانے اور پانی کا وافر بندوبست رکھیں۔ نفسا نسی اور گھبراہٹ کا شکار نہ ہوں اور جاپانی حکام سے معلومات اور ھدایات کے لئیے رابطے میں رہیں۔لیکن ابھی میں نے ٹوکیو میں فرانسیسی سفارت خانے کی ویب سائٹ چیک کی ہے انہوں نے اپنے شہریوں کے لئیے جو پیغام لگا رکھا ہے اسکے مطابق ہواؤں کا رخ بدل گیا ہے یعنی فی الحال خطرہ نہیں۔ یہی ھدایت پاکستانی بھائیوں کی لئیے بھی مفید ہوسکتی ہیں۔

پتہ چلا ہے کہ فوکوشیما دونمبر میں دھماکہ ہوا ہے ۔ اسکی بیرونی عمارت محفوظ ہے مگر خیال یہ ہے کہ اسمیں یورونیم پگھلنا شروع ہوگیا ہے۔ چار نمبر زلزلہ سے پہلے اسمیں بجلی نہیں بنائی جارہی تھی مگر اسمیں وہ ایٹمی ایندھن جو استعمال کیا جا چکا تھا اسے پانی کے نیچے اسٹاک کیا جاتا تھا ۔ اسلئیے چار نمبر کی آگ کی وجہ سےچھت اڑ گئی ہے اور استعمال شدہ ایندھن چونکہ ویسے ہی تابکار ہوتا ہے اسلئیے چار نمبر میں آگ لگے ہونے سے اور عمارت کی چھت اڑ جانے سے اسمیں پانی نہیں بھرا جاسکتا۔ اور بہت ممکن ہے کہ زیادہ تابکاری وپیں سے ہوری ۔ جبکہ دونمبر سے بھی نیوٹرون کی کم مقدار خارج ہورہی ہے۔اور فوکوشیما کے ارد گرد تابکاری برداشت سے کئی گنا ہے ۔ انتہائی کم مقدار میں بھی تابکاری کا شکار ہونے سے موت سے لیکر جین کے ڈسٹرب ہونے سے کئی قسم کی بیماریاں مثلا قوت تولید یا خواتین اور مرد حضرات کے لئیے بچے پیدا نہ کرسکنا، کینسر ۔ خون سے سفید جسیموں کا کام ہوکر جسم کا دفاع کمزور یا ختم کر دینا ۔ یا بچوں کا معزور یا زائد اعضاء کے ساتھ پیدا ہونا وغیرہ ۔

یاد رہے کہ جوہری تابکاری کے اثرات انسانی جسم پہ کئی داہائیوں رہتے ہیں۔ زمین چرند پرند، نباتات، درخت پودے ، کھانے پینے کی اشیاء۔ تابکار زدہ جانوروں کا دودھ اور گوشت۔ فصلیں ، زمینیں جنگل بیابان ، پانی، الغرض جہاں جہاں تابکاری زرات پہنچتے ہیں وہاں صدیوں تک رہ کہ انسانی جان ، جانوروں، انکے دودھ گوشت ، اس زمین کی زرعی اور جنگلی اجناس الغرض ہر شئے اگر مخصوص طریقوں سے صاف نہ کی جائے تو مذکوہ بیان کی گئی اشیاء صدیوں تک تابکاری کے اثراے کے تحت انسانی جسم کے لئیے جان لیوا ثابت ہوتے ہیں۔

خطرے کی زد میں آنے والوں کو فوری طور پہ گھر میں بند ہوجانا چاہئیے ۔ تمام کھڑکیاں دروازے مکمل بند دئیے جانے چاہئیے۔ ھیٹر ۔ لکڑیوں کی آگ، ائر کنڈیشنر۔ پنکھے وغیرہ کو ہر صورت استعمال میں نہیں لانا چاہئیے۔ پہلے سے خریدا گیا بند پانی کی بوتلیں اور وافر کھانے پینے کی اشیاء گھر میں جمع کر لی جائیں۔ٹیلی فون انتہائی مجبوری کی حالت میں کریں تانکہ لائنز مصروف نہ ہوں۔ ٹیلی فون کی بجائے ریڈیو کے ذرہئے مقامی اتھاریٹیز کی ہدایات پہ عمل کیا جائے۔

جو لوگ اس دوران گھر سے باہر سے گھر پہنچے وہ اپنے جسم کے سارے کپڑے گھر سے باہر اتاریں ۔ سر کے بالوں کو اچھی طرح جھاڑیں۔ اگر تابکاری سے پاک پانی کی سہولت موجود ہو تو گھر سے کوئی دوسرا فرد ان پہ شاور کرے۔ جوتے ٹوپی دستانے ، چشمہ بھی کپڑوں کے زمرے میں آتے ہیں۔ یعنی باہر کی ہوا یا فضاء سے چھونے والی کوئی شئے گھر کے اندر لے کر جانے سے گریز کریں۔ اگر مقامی اتھارٹیز نے آیوڈین ٹیبلٹس بانٹی ہوں تو اسے استعمال کریں اور کسی صور میں گھراہٹ یا پریشانی نہ لیں ۔ اور مقامی اتھارٹیز سے رابطے میں رہے یعنی ان کی ہدایات ریڈیو وغیرہ سنتے رہیں۔

خاور بھائی نے بتایا تھا کہ وہ فوکو شیما سے محض دیڑھ سو کلومیٹر دور رہتے ہیں ۔ یہ فاصلہ سخت تابکاری اور اسطرف ہواؤں کے اس طرف کی صور ت میں انتہائی غیر محفوظ ہے۔خاور بھائی نے کسی دریا کے آر پار اُگے سرسوں کے ساگ کی وافر مقدار کا زکر کیا تھا۔ یاد رہے یا تو تابکاری ہوئیں پہنچنے سے قبل وہ ساگ پات یا سبزی اور پھل وغیرہ ذخیرہ کر لئیے جائیں تو درست ہے ورہ ایک دفعہ تابکاری مواد ہواؤں کے ذرئیے پہنچ جانے کے بعد تابکاری کی زد میں آنے والا ساگ اسکے کھیت پھل باگ سبزیاں ہر شئے تابکاری سے آلودہ ہوجاتی ہے اور اسکا اتنا نقصان بھی تابکاری کی زد میں انے جتنا اور ساگ یا سبزیاں کھانے کی صورت میں اس سے بھی بڑھ کر ہے۔

یہ ساری معلومات اس لئیے لکھ دی ہیں کہ اگر کوئی پاکستانی بھائی کسی وجہ سے آپ کے بلاگ تک پہنچین اور انھیں اس بارے علم نہ ہو تو وہ جان سکیں اور اگر خدا نہ خواستہ خطرے کے علاقے میں ہوں تو اپنی سی حفاظتی تدابیر کر سکیں۔

اللہ تعالٰی سب کو اپنی حفظ و امان میں رکھے ۔ آمین

جاوید گوندل ۔ بآرسیلونا ، اسپین کہا...

جاپان میں فرانس کے سفرات خانے نے ٹوکیو شہر کے لئیے لکھا تھا کہ رات سات سے آٹھ بجے شام جاپانی وقت کے مطابق تابکاری ہوا کے ٹوکیو پہنچے گی ۔

دنیا میں سب سے زیادہ ایٹمی ری ایکٹرز یعنی بجلی گھروں سے بجلی پیدا کرنے والے ممالک میں فرانس اور جاپان سر فہرست ہیں ۔ اسلئیے فرانسیسی اس بارے نہائت حساس معلومات رکھتے ہیں۔

جاوید گوندل ۔ بآرسیلونا ، اسپین کہا...

ایک اور پوائنٹ بھی ہے کہ اگر ایٹمی ری ایکٹرز کی عمارت تباہ نہیں ہوتی جسے وسیع پیمانے میں تابکاری اخراج کو روکنے کے لئیے جاپانی ری ایکٹرز میں اسٹیل اور سیمنت سے تعمیر کیا جاتا ہے تو ہر گزرنے والے دن کے ساتھ تابکاری کے اثرات اور خدشات ، تابکاری مواد کے ٹھنڈا ہونے سے کم ہوتے جائیں گے۔

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.