وچکارلے

سلمان تاثیر کے بعد شہباز بھٹی بھی مارے گئے۔


کیوں؟



ان دونوں کے قتل پر پاکستانی عوام کے کتنے فیصد غمگین ہوئے ہوں گے؟
شہباز بھٹی کا تو ہمیں بھی کچھ تھوڑا سا افسوس ہے۔
یہ تھوڑا سا افسوس سمجھ لیں ایک رائی کے برابر ہوگا۔
اتنا کم افسوس ہونے کی وجہ قطعاً ان کا غیر مسلم ہونا نہیں ہے۔
یہ جو تھوڑا بہت افسوس ہو رہا ہے ان کے غیر مسلم ہونے پر ہی ہو رہا ہے۔
مسلمانوں کی اکثریت والے ملک میں غیر مسلموں کی حفاظت ہر مسلمان کو کرنی چاھئے۔
مسلمان ہوتے تو یہ بھی نہ ہوتا، جیسے سلمان تاثیر کی موت پر ہم نے کہا تھا۔
خس کم جہاں پاک۔
ہم اپنے نظریات و عقائد چھپانے والے نہیں ہیں اور نہ ہی اپنا نام و مقام چھپانے کی منافقت کرتے ہیں۔
جو ہیں جیسے ہیں۔سامنے ہیں۔
ہم ٹوٹے پھوٹے ہی سہی لیکن مسلمان ہیں۔ہمیں اپنے اللہ اور رسولﷺ سے محبت ہے۔
دین کا ٹھیکہ دار ہونے کا شاید طعنہ ملے لیکن یہ ٹھیکہ جاپانی یا چینی غیر مسلم کمپنیوں کو تو دینے سے رہے۔
اس لئے مسلمان ہونے کے ناطے یہ ٹھیکہ ہم ہی سنبھال لیتے ہیں۔
ہمیں اپنے ملک سے محبت ہے۔ شدید خواہش ہے ،کہ پاکستان میں قانون کی حکمرانی ہو۔عوام عدم تحفظ کا شکار نہ ہوں۔
ہمارے بزرگ،  ہماری عورتیں ، ہمارے بچے ، امن وامان اور پر سکون زندگی گذاریں۔
ان عوام میں غیر مسلم بھی محفوظ زندگی گذاریں۔اور غیر مسلم بھی فخر سے کہہ سکیں کہ وہ پاکستانی ہیں۔ 
میں تشدد کے سخت خلاف ہوں۔کسی بھی فرد کو اسلام کے نام پر قانون اپنے ہاتھوں میں لینے کا کوئی حق نہیں ہے۔
یہ قانون نامی شے اگر پاکستان میں ہے اور یہ قانون  تمام انسانوں کے جان و مال کی حفاظت کرتا ہو۔
تو کوئی شکوہ نہیں،لیکن پاکستان میں تو جس کی لاٹھی اس کی بھینس والا معاملہ ہے۔
 مقتولوں جیسے لیڈر حضرات عوام کا مزاج سمجھے بغیر عوام کی ذہنی سطح سمجھے بغیر اپنی علمیت اور طاقت کے تکبّر میں عوام کی دل آزاری کریں گے تو انجام کچھ ایسا ہی ہوگا۔
غیر ممالک میں غیر مسلم مسلمانوں کی دل آزاری کرتے ہیں تو ان جیسے روشن خیالوں کا موقف بڑا ‘ وچکارلا ‘  ہوتا ہے۔
غریب و پسماندہ مسلمانوں کے نا حق مارے جانے پر بھی یہ لوگ ‘ وچکارلا ‘ موقف نکال لیتے ہیں۔
ناحق مارے جانے والے قبائلی علاقوں اور افغانستان و عراق و کشمیر و فلسطین  میں فرینڈلی فائرنگ میں مارے جانے والوں کی بات کر رہا ہوں۔
ریمنڈ ڈیوس نے جو مار دئے وہ نہ مارتا تو ویسے بھی اپنے وقت پر مارے ہی جاتے۔
ان وچکارلے لوگوں کے پاس جب قوت و اختیار ہوتا ہے تو پاکستان میں قانون کی سر بلندی کیلئے کو ئی خاص کو شش نہیں کرتے۔
بلکہ قانون کو اپنی لونڈی بنا کر بلے بلے کرتے ہیں۔
اگر پاکستان میں قانون کا بول بالا ہو گیا تو سب سے زیادہ تکلیف انہیں ہی ہو گی۔
 ایسے لوگ عوام کی دل آزاری کرکے ھٹ دھرمی بھی کریں گے تو ان کے مردار ہونے پر ہم نوحہ کیوں لکھیں؟
خصماں نوں کھاو تے سانوں کی
کچھ لوگوں کو شکایت تھی کہ یہ انتہا پسند ان ‘  وچکارلے ‘  لوگوں کے قتل پر دو آنسو بھی نہیں بھا رہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہم نے سوچا کسر ہی نکال دیں۔
:mrgreen:  :mrgreen:
وچکارلے وچکارلے Reviewed by یاسر خوامخواہ جاپانی on 10:39 PM Rating: 5

8 تبصرے:

حجاب کہا...

میں آپ کے ساتھ ہوں ۔۔۔

عمران اقبال کہا...

جناب یہ وچکارلے لوگ عام طور پر “کھسرے“ کہلائے جاتے ہیں۔۔۔ اور ان کا کوئی دین ایمان تو ہوتا نہیں۔۔۔ بس دوسری جنس کو طعنے دینا مشغلہ ہے ان کا۔۔۔ انہیں صرف ایک چیز سے محبت ہے اور وہ ہے پیسہ۔۔۔ اب زیادہ پیسہ تو آج کل ظاہر ہے “روشن خیالوں“ کے پاس ہی پایا جاتا ہے تو انہوں نے دور دور سے ہی “روشن خیالی“ کا بگلہ پال لیا اور “انتہا پسند، ہائے ہائے“ کے نعرے لگا کر دل بہلاتے رہے۔۔۔

ابھی ایک بیان دے کر ہٹا ہوں ایک اور بلاگ پر، عنوان ملتا جلتا ہے تو یہاں بھی وہی پیسٹ کر رہا ہوں۔۔۔


Saturday، 05 March 2011 بوقت 3:58 AM اقتباس» عبداللہ نے لکھا: جواد اگر تم نے اپنی آنکھیں بند کی ہوئی ہیں تو الگ بات ہے ورنہ ظلم کو ظلم سب کہتے بھی ہیں اور سمجھتے بھی ہیں،
.عمران اقبال نے لکھا:
ظلم کو ظلم کہنے اور سمجھنے والو، کبھی لکھ بھی دو اس ظلم کے بارے میں۔۔۔ سلمان تاثیر مر گیا تو موم بتیاں جلا کر اسے خراج تحسین پیش کر دیا۔۔۔ پھر اب حضرت شہباز بھٹی صاحب بھی “شہید” ہو گئے تو ان کو بھی عمدہ الفاظ میں‌یاد کر کے قاتلوں کی مذمت کر رہے ہو۔۔۔ کرنی بھی چاہیے، اچھی بات ہے۔۔۔ لیکن پھر انہیں کیوں بھول جاتے ہو جو روزانہ کی اوقات میں بلاوجہ “دہشت گرد” کا ٹھپہ لگوا کر ڈرون حملوں میں مارے جاتے ہیں۔۔۔ وہ نظر نہیں‌آ رہے کیا۔۔۔ ان پر بھی کچھ لکھوا دو۔۔ بڑی مہربانی ہو گی۔۔۔ یا صرف امراٰء کے قتل کی ہی مذمت ہونی چاہیے آپ کے نزدیک۔۔۔ کیونکہ چھوٹے لوگ تو “روشن خیالی” میں کہیں فٹ ہی نہیں ہوتے۔۔۔

جاوید گوندل ۔ بآرسیلونا ، اسپین کہا...

ویسے ایک بات ہے پاکستان میں جس جس نے نام نہاد روشن خیال نے مشرف کی سنت پہ عمل کیا اسکی پہلے “چڑ” اسلام سے ہوئی ۔ چونکہ پاکستان میں ابھی تک کسی تاریک دل نام نہاد روشن خیال کو اسلام پہ تنقید کرنے کی جرائت نہیں ہوئی اسلئیے یہ صبح شام مولوی فضل اللہ ہی کیا “مولوی مولوی ” کی گردان کر کے اپنے آپ کو اُچا سے سُچا روشن خیال ثابت کرنے میں لگے ہیں۔
مشرف کی سنت میں اپنے آپ کو نام نہاد روشن خیالی کا تڑکہ لگانے کے لئیے اسلام ، پاکستان کے خلاف تیزابیت پھیلانی اولیں فرض سمجھتے ہیں۔ کہ شاید اس طرح مغرب و امریکہ انہیں اڈاپٹ کر لے اور انکے مادی فوائد کے وارے نیارے ہوجائیں، کہ اور کوئی جوہر قابل ان کے پاس نہیں کہ جس کہ بنیاد پہ کوئی انھیں ویزا کی بھیک دے دے آجا کر کر ان کے پاس غداری ایک ایسا وصف بچ جاتا ہے جسے یہ کئیش کروانے کے لئیے ننگ قوم مشرف کی سنت میں ہر حد سے گزرنا فرض سمجھتے ہیں کہ شاید کسی کی نظر عنائت پڑجائے اور میر جفری ادا پہ چند سکے نچھاور کر لے۔ اپنی کسی ریمینڈ ڈیوس نامی دستے میں “تیزابی” عہدہ بخش دے۔ صبح شام پاکستان کے خلاف اسقدر محنت محض” ۔۔ ارے بابا۔۔ ایک ویزے کا سوال ہے”
یہ نہیں جانتے کہ کہ امریکہ نے مشرف کو اسکئیے اڈاپٹ کر لیا اور انگلینڈ کہ وہ بہت بڑے تماشے کا ایک مکروہ کردار تھا جبکہ یہ “چھوٹی چھوٹی تیزابی ادائیں” دیکھ کر وہ تمسخر اڑا دیتا ہے۔ مگر جن کا “کاں چٹا ہے” انکو کون سمجھائے کہ پاکستان کے خلاف انٹر نیٹ پہ کام کرنا یونہی ہے جیسے بحر ہند کو ایک گلاس سے خالی کرنے کوشش کرنا۔ کہ ابھی پاکستان میں انٹر نیٹ پہ اردو پڑھنے یا تو بہت کم ہیں یا خالص “مولوی” جن پہ”تیزابی غداری” کی کوششیں الٹا اثر کرتی ہیں۔ مگر انکا تو کاں چٹا ہے۔ اسمیں انکا قصور نہیں انھیں بھی سوائے انٹر نیٹ کے کوئی ذریعئیہ میسر نہیں جہاں سے یہ اپنے آقائے جہاں پناہ امریکا کو اپنی وفادای اور ننگ قوم مشرف کی نام نہاد روشن خیالی کی سنت کا واسطہ دے سکیں۔ اور کچھ آتا بھی تو نہیں نا۔
نوٹ۔: سند رہے کہ بارسنگھا و شاگرد عزیزی کی گواہی بھی کام نہیں آتی۔

عمران اقبال بھائی صاحب کی طرح یہ تبصرہ یہاں پوسٹ کیا تھا۔
http://mawra.urdutech.com/2011/03/02/books/comment-page-1/#comment-2028

وقار اعظم کہا...

واہ جی واہ پیر صیب، قسم سے ماشااللہ اور جزاک اللہ کرنے کو دل چاہ رہا ہے اور میں کرونگا بھی، بھلے عبداللہ بن ابی بریگیڈ کو بُرا لگے، سانوں کی؟؟؟ :wink:
سلمان تاثیر اگلے جہاں سدھارے، شہباز بھٹی مارا جائے، یا کوئی اور حکمران طبقے سے تعلق رکھنے والا فرد عبداللہ بن ابی بریگیڈ کی آنکھوں سے آنسو رواں ہوجاتے ہیں. اور لگتے ہیں ملاّ کو مطعون کرنے تاکہ آقاؤں سے وفاداردی کا حق ادا کیا جاسکے.
لیکن یہ ایک اور منظر ہے، میرے وطن کے گلی کوچوں میں روزانہ درجنوں پاکستانی مارے جاتے ہیں، کبھی ڈرون حملوں میں، کبھی ٹارگٹ کلنگ میں، کبھی بم دھماکوں میں اور کبھی کسی فوجی آپریشن میں لیکن ان کا کوئی پرسان حال نہیں، ان کے مارے جانے پر کبھی ان کی آنکھیں پر نم نہیں ہوتیں.
فیض فرما گئے ہیں کہ:
ہم مظلوموں کے پاؤں تلے جب دھرتی دھڑ دھڑ دھڑکے گی
اور اہل حکم کے سر اوپر جب بجلی کڑ کڑ کڑکے گی.....
تو جب ان حکمراں طبقے کے سروں پر بجلی کڑکتی ہے اور ان میں سے کوئی واصل جہنم ہوتا ہے تو افسوس کیساجناب، زیر لب یہی کہتے ہیں کہ خس کم جہاں پاک...

ڈاکٹر جواد احمد خان کہا...

بہت اعلیٰ یاسر بھائی،
خوب ترجمانی کی ہے آپ نے ہم" انتہا پسند دہشت گردوں" کی

دانیال دانش کہا...

وچکارلہ کچھ نہیں ہوتا یہ تو بندہ سجھے یا کھبے نظریات پر ہوتا ہے ۔پھر بھی اگر کوئی وچکارلہ یعنی ریلو کٹا ہے تو اس کا انجام یہی ہونا چاہئیے۔

جعفر کہا...

ایتھے رکھ

UncleTom کہا...

میں تو یہ سمجھتا ہوں کہ یہ قتل بھی ان لوگوں نے خودی اپنے بکرے کی قربانی دی ہے ، لوگوں کی توجہ ان مسائل سے ہٹانے کے لیے ۔۔۔ ہاں جی وہی مسائل ۔ اور تاریک خیالیوں کہ ساتھ ایک مسلہ یہ ہے کہ بیچاروں کے پاس مواد بہت کم ہوتا ہے اب سی این این ، بی بی سی اور فاکس نیوز میں بھلا بتاو کتنی معلومات ہونگی ؟؟؟ اسی لیے آپ نے دیکھا ہو گا کہ تاریک خیالیوں نے عافیہ پر کچھ نہیں لکھا کیونکہ مواد ہی کم ملتا ہے نہ ایسے نیوز ایجنسیوں سے ۔۔۔

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.