ہنگامہ ہے کیوں برپا؟؟

ایک فقیر شرابی مست ملنگ مولوی صاحب کی خدمت میں حاضر ہوا۔اور کہا مولوی بابا شراب پلوا۔مولوی بابا نے چند روپے دئے اور کہا جو چاہو سو کھاوءپیوء۔تم کو اختیار ہے وہ بولا مولوی بابا آپ کا نام سنا تھا لیکن آپ تو قید میں ہیں۔مولوی بابا نے فرمایا کہ کیا آپ قید میں نہیں ہیں؟


فقیر شرابی مست ملنگ بولا ۔۔ نہیں


 مولوی بابا نے فرمایا اگر کسی روش کے مقید نہیں ہو۔تو آج غسل کرو اور جبہ پہن اور عمامہ باندھ کر مسجد میں چلو اور نما ز پڑھو۔ ورنہ جیسے تم رندی کی قید میں مبتلا ہو۔اسی طرح ہم شریعت غرّا کی قید میں پابند ہیں۔تماری آزادی ایک خام خیال ہے یہ سن کر وہ رند مست ملنگ فقیر شرمندہ ہو ا اور معافی کا طلبگا ر ہوا


۔ اس دور کے آزاد منش شریعت غرّا کی قید سے بے زار جو اپنے آپ کو آزاد خیال ، روشن خیال یا لبرل ، سیکولر کہلوانا چاہتے ہیں۔ لیکن اس معاشرے ، اس ملک میں رہنا جن کی مجبوری ہے۔ مجبوری کوئی بھی ہوسکتی ہے۔ذریعہ معاش یہاں ہو سکتا ہے۔رشتہ داریاں ،یا پھر کسی نہ کسی طرح اس مقید معاشرے کی اقدار و ثقافت میں سے ذہنی و نفسیاتی طور پر نہ نکل سکنے کی ذہنی الجھن؟


 آزاد خیال ، روشن خیال، سیکولر ، لبرل سوچ رکھنے والا ایک بات کو اچھی طرح سمجھتا ہے کہ اس حیات مستعار کو دنیا میں گذارنے کیلئے سہاروں کی قطعی ضرورت ہے۔


 آزاد خیال ، روشن خیال، سیکولر ، لبرل کو جتنا پڑھتے یا سنتے ہیں مجھ کم فہم کو یہی سمجھ آتا ہے کہ یہ دنیا پرستی میں مادی وسائل و ذرائع کو ہی زندگی کا سہارا سمجھتے ہیں۔جب یہ سہارے ٹوٹتے اور ناکام ہوتے ہیں تو مایوس ہونے لگتے ہیں۔دنیا پرست اگر تعداد اور قوت میں بڑھ جائیں تو پوری قوم کو دنیا پرست بنا دیتے ہیں۔اگر ایک فرد دنیا پرست ہو اور مایوسی کا شکار ہو تو خود کشی کر ڈالتا ہے۔ اگر پوری قوم دنیا پرست ہو جائے اور جب یہ دنیا پرست قوم مایوسی کا شکار ہوتی ہے تو اس کی قوت عمل مفلوج ہو جاتی ہے۔


قومی طور پر ایک مردہ قوم ہو جاتی ہے۔اس کا جینا مرنا کھانا پینا شب وروز اپنے نہیں رہتے۔ایسی قوم دوسروں کیلئے جیتی ہے۔اور دوسرے جس طرح چاہتے  ہیں اس طرح جیتی ہے۔خالق نے جسے با اختیار مخلوق پیدا کیا ہے وہ بے اختیاری کی زندگی گذارتی ہے۔ بااختیار مخلوق ہونے کے باوجود دھرتی کے سینے پر اس کا کوئی رول نہیں ہوتا۔ اسلامی دنیا پر نظر ڈالتے ہیں تو کہیں نام نہادجمہوریت ،تو کہیں باد شاہت ، تو کہیں آمریت کے نام بااختیا ر مخلوق اس آزاد خیال ، روشن خیال، سیکولر ، لبرل عیار مخلوق کی غلامی کر رہی ہے۔ اس آزاد منش ،مادیت پرست ،سرمایہ دار،مخلوق نےیہ ماحول بنانے کیلئے برسوں کا وقت لگایا ہے۔


بشپ ٹیلی رنڈ کہتا ہے۔ کہ سرمایہ داروں کا قول ہے انسانی معاشرہ دو حصوں میں منقسم ہے۔ 


(1) بھیڑیں


(2) اون تراشنے والے


 ہمیشہ اون تراشنے والے گروہ میں شامل رہو۔


 کیا کسی قوم کیلئے سو سالہ عرصہ کم ہو تا ہے کسی نظام کو آزمانے کیلئے؟


خلافت کا خاتمہ انیس سو تئیس میں ہو گیا تھا۔ بے شک وہ خلافت بھی دھواں دھواں تھی اس کے بعد یہی نئے نئے نظام اسلامی دنیا میں رائج ہیں۔ اس کے باوجود یہ بے اختیاری کیسی؟


 اس بے اختیاری کا قصوروار بھی اسلام ہی ہے؟


 اگر یہ نئے نظام استعمالنے کے باوجود بھی اون تراشنے والے گروہ میں شامل نہ ہو سکے تو رند آزادی پسند مست ملنگ کی طرح معافی کے طلبگار ہو کر بااختیار دور کے نظام کی طرف واپس ہونے میں کیا امر مانع ہے؟


یہ آزاد خیال ، روشن خیال، سیکولر ، لبرل جب اپنی عیاش زندگی کو خطرے میں دیکھیں گے۔تو سینکڑوں کی تعداد میں سوٹ کیس اور سونے کے ذخائر بلین پاونڈز اور ڈالر کے غیر ملکی اکاونٹ لیکر اپنے نئے دیسوں کو نکل جائیں گے۔اور ہم نہ دنیا کے نہ دین کے نہ تین میں نہ تیرا میں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ والے راستوں پہ غیر ملکیوں کے ہاتھوں قتل ہو جانے والے اپنوں کا بے اختیاری میں نوحہ ہی پڑھتے رہیں گے۔

ہنگامہ ہے کیوں برپا؟؟ ہنگامہ ہے کیوں برپا؟؟ Reviewed by یاسر خوامخواہ جاپانی on 1:36 PM Rating: 5

13 تبصرے:

افتخار اجمل بھوپال کہا...

مجبورياں پاکستان ميں رہنے کی مندرجہ ذيل ہو سکتی ہيں
1 ۔ پاکستان سے پيار ۔ ايسے لوگ پاکستان يا اس کے باشندوں کو بُرا نہيں کہتے
2 ۔ پاکستان سے باہر جانے کا جواز موجود نہيں يعنی روزی کمانے کا ذريعہ نہيں ملے گا
3 ۔ پاکستان جيسی آزادی پاکستان سے باہر نہيں ملے گی يعنی يہاں ہر کام قانون کی بجائے اپنی مرضی سے کرتے ہيں پاکستان سے باہر ايسا کسی ملک ميں نہيں کر سکيں گے

افتخار اجمل بھوپال کہا...

ياسر صاحب
ميرے مندرجہ بالا تبصرے کے ساتھ ميری 2 دن پرانی تحرير کا ربط آيا ہے آج والی تحرير کا نہيں آيا ۔ اس کی کيا وجہ ہے ؟

یاسر عمران مرزا کہا...

کافی گوڑھی تحریر ہے، مجھے تو سمجھ نہیں لگی اس کی

سعد کہا...

ہنگامہ ہے کیوں برپا ٹھوڑی سی جو پی لی ہے
ڈاکہ تو نہیں مارا، چوری تو نہیں کی ہے

نا تجربہ کاری سے واعظ کی یہ باتیں ہیں
اس رنگ کو کیا جانے پوچھو تو کبھی پی ہے

اس مے سے نہیں مطلب، دل جس سے ہے بیگانہ
مقصود ہے اس مے سے دل ہی میں جو کھنچتی ہے

اے شوق وہی مے پی، اے ہوش ذرا سو جا
مہمانِ نظر اس دم اک برق تجلی ہے

واں دل میں کہ صدمے دو، یاں جی میں کہ سب سہہ لو
ان کا بھی عجب دل ہے، میرا بھی عجب جی ہے

ہر ذرہ چمکتا ہے انوارِ الٰہی سے
ہر سانس یہ کہتی ہے ہم ہیں تو خدا بھی ہے

سورج میں لگے دھبا، فطرت کے کرشمے ہیں
بت ہم کو کہیں کافر، اللہ کی مرضی ہے

(اکبر الہ آبادی)

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

جی میں دیکھتا ہوں۔

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

یاسر بھائی ایسا تو نہ کہیں۔۔۔۔۔۔
یہ جو ہنگامے ہورہے ہیں۔۔اس کی وجہ بیان فرمانے کی کوشش کی ہے۔ :P
یعنی تیونس ، مصر ، وغیرہ اور پاکستان میں میرے ہم جنس انسان نما کیڑے مکوڑوں
کا قتل وغیرہ

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

سعد جی میں نے گا کے آپ کا تبصرہ پڑھا ہے۔
زبردست :lol: :lol:

ڈاکٹر جواد احمد خان کہا...

ایک عجیب بات نہیں ہے کہ معاشرے میں لبرلز اور روایتی مسلمانوں کے درمیان تقسیم بہت واضح اور گہری ہو گئی ہے. ہر اشو پر یہ تقسیم بڑی صاف دکھائی دیتی ہے. ہم کوئی بھی بات کر لیں تان اسی تقسیم پر آکر ٹوٹتی ہے.ایک لحاظ سے یہ بہت خوش آئند بات بھی ہے کہ اس تباہ حال ملک میں لوگ ابھی تک بیرونی ایجنڈے کے آگے سر نگوں ہونے کے لئے تیار نہیں ہیں.
وہ تہذیب جو چار عالم میں فتح کے جھنڈے گاڑتی ہوئی چلی جا رہی ہے اس خطے میں ایک سخت وقت اور دقت کا سامنا کر رہی ہے.

جاوید گوندل ۔ بآرسیلونا ، اسپین کہا...

یاسر بھائی!

بہت خوب تحریر ہے اور خاصکر مولوی و رند کا مکالمہ۔
آپ نے موضوع کے ساتھ بھرپور انصاف کیا ہے۔ اللہ آپ کے زور قلم کو زیادہ کرے اور آپ کو جزائے خیر دے۔ آمین

جہاں تک پاکستان کے نام نہاد روش خیالوں اور خیالیوں، نام نہاد لبرل اور نام نہاد اسیکولر طبقے کا ذکر ہے یہ دراصل جس بات کا پروپگنڈہ اس زور سے کرتے ہیں اسی ازم کی مخالفت اپنے عمل سے کر رہے ہوتے ہیں۔ جب کہ دراصل یہ مادی مفاد پرست انتہاء پسند ہیں جو اپنی دنیاوی مفادات کے لئیے کسی بھی حد کو جانے کے لئیے تیار ملیں گے۔ ان کبھی اور کہیں بھی خریدا جاسکتا ہے۔

یہ کسی کے ساتھ بھی اپنی وفاداری عوضانے کے بدلے پیش کر دیتے ہیں۔ ان سے تو کتا اچھا جو راتب کی خاطر صرف ایک ہی مالک کا وفادار ہوتا ہے۔
بکاؤ مال۔

جاویداقبال کہا...

بہت خوب تحریر ہے اور خاصکر مولوی و رند کا مکالمہ۔
آپ نے موضوع کے ساتھ بھرپور انصاف کیا ہے۔ اللہ آپ کے زور قلم کو زیادہ کرے اور آپ کو جزائے خیر دے۔ آمین
دراصل ہم لوگوں نےہرچیزمیں اعتدال کوچھوڑدیاہےسوہرچیزکی زیادتی تونقصان کرتی ہےاوراسلام کوتوبس نام کےلئےاستعمال ضرورکرتےہیں لیکن اس پرعمل کرنےکی ہمت نہیں کرتےکہ لوگ ہم کومولوی نہ کہیں یاشدت پسندی کالیبل نہ لگ جائے۔

عمران اقبال کہا...

یاسر بھاےئ۔۔۔ واہ۔۔۔۔۔ تسی تے چھا گئے ھو۔۔۔ اور وہ بھی ٹھا کر کے۔۔۔

لیبرلزم۔۔۔ آزاد خیالی۔۔۔ روشن خیالی۔۔۔۔؟؟؟ یہ تو ایک نیا مذہب ایجاد کر دیا ہم خیالوں نے۔۔۔ درست فرمایا آپ نے۔۔۔ کہ یہی دور جدید کا نیا مذہب ہے اور اب تو اس کے ماننے والے بھی کثیر تعداد میں ملتے ہیں۔۔۔ ملک کے امیر ترین حضرت سے لے کر غریب تر "غریب"، اسی مذہب کے پیروکار ہیں۔۔۔

"روشن خیالی" کا پرچار کرنے والوں کے مطابق۔۔۔ "بھائی میں تو شراب پیتا ہوں۔۔۔ یہ میرا نہایت ذاتی معاملہ ہے۔۔۔ تجھے کیا۔۔۔ تو اپنا مذہب سنبھال۔۔۔ میں اپنا سنبھال لوں گا۔۔۔"۔۔۔ اور ہم روشن خیال ہو گئے۔۔۔ ہمارا نیا مذہب ہے۔۔۔ ہم نئی دنیا کے بچاری ہیں۔۔۔ ہمیں پیسہ چاہیے۔۔۔ ہمیں بڑا گھر چاہیے۔۔۔ ہمیں کرولا نہیں۔۔۔ لیکسس چاہیے۔۔۔ ہم مخلوط پارٹیاں بھی کریں گے۔۔۔ کیونکہ ہم روشن خیال اور ترقی پسند لوگ ہیں۔۔۔ جہنم میں جائے وہ سب جو ہمارا آبائی مذہب کہتا ہے۔۔۔ یہ تو دقیانوسی باتیں ہیں۔۔۔ ہمارا خدا وہ پیسہ ہے جو دوسرے کے پاس ہے۔۔۔ جب تک ہم اسے چھین نا لیں۔۔۔ ہمارا خدا ہمارے پاس کیسے آئے گا۔۔۔

Long Live our "NEW" religion... and that is liberalism...

ہم زندہ قوم ہیں۔۔۔ پائندہ قوم ہیں۔۔۔

ایم۔اے۔امین کہا...

مکالمہ خوب تھا، تحریر بھی اچھی ہے، اللہ ہمیں ہدایت دے کہ ہم عقل کو ٹھیک طور پر استعمال کر سکیں۔
جنابِ افتخار اجمل بھوپال کا تجزیہ درست ہے کہ پاکستان میں بسنے کی یہی 'مجبوریاں' ہیں۔

UncleTom کہا...

مولوی صاحب سے مکالمے کے بعد ایک شعر یاد آگیا جو ایک لمبا عرصہ تک میرے ایم ایس این پر رہا ہے ۔

پابندِ محبت کبھی آزاد نہیں ہے
اس قید کی اے دل کوی میعاد نہیں ہے

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.