چونے کا اثر

 



دس پندرہ سال پہلے تک جب گھر میں رنگ کرنا ہوتا تھا تو چونے اور کوچی کی ضرورت ہوتی تھی۔آجکل تو مٹی گارے کے مکان کو بھی برش سے ڈسٹمپر کیا جاتا ہے۔
چونا سفید رنگ کا تیزابی پتھر ہوتا ہے۔پانی ڈالیں تو جلنا شروع ہوجاتا ہے۔دھواں ہی دھواں ہوجاتا ہے۔چونے کے پتھر کو ڈرم میں ڈال کر لگانے کیلئے تیار کیا جاتا ہے۔جب ٹھنڈا ہو جائے تو کوچی سے در و دیوار کو چونا لگائیں یا پان کو یہ بندے کی مرضی ہوتی ہے۔بندے کو لگائیں گے تو کچھ تھوڑا تھوڑا مجرم ہو جانے کا خطرہ ہوتا ہے اس لئے احتیاط کرنی چاھئے۔ویسے اگر کسی  کا دل چاھئے تو چونا لگوا بھی سکتا ہے اور لگا بھی سکتا ہے یہ قطعی ذاتی معاملہ ہے۔ہمیں کچھ کہنے کا حق نہیں ہے
۔
عموماً دیکھنے میں آتا ہے کہ حیوان و چرند و پرند اپنے ہم جنس و ہمجولیوں کے ساتھ ہی گذر بسر کرتے ہیں۔شیر شیروں کے جتھے میں ہوتا ہے اور چڑیا اپنی ہمجولیوں کے ساتھ اڑتی پھرتی  ہیں۔
 
اسی طرح کاں جو ہے وہ کووّں کی ٹولیوں کے ساتھ ہی ہوتا ہے۔اگر کاں چونا کر نے یا لگانے کی تیاری کرتے ہوئے ڈرم میں گر جائے اور شور مچائے کاں کاں کاں۔
 
میں چٹّا ہوں ،میں چٹّا ہوں۔
 
ایسے کوّے کے قبیلے کے دوسرے کوّے اسے باوءلا ہی سمجھیں گے۔اور اس کے علاج معالجے کی فکر کریں گے۔کوشش کریں گے کہ اپنے ہم جنس کوّے کو سمجھائیں۔
مسئلہ اس وقت شروع ہوتا ہے۔جب اس چٹّے کوّے کو سمجھایا جاتا ہے۔کہ ایسا صرف چونے کے ڈرم میں گرنے کی وجہ سے ہوا ہے۔نہ کہ اے نادان کوّے تو پیدائشی چٹّا ہے۔
تو جناب یہ چونا لگا چٹّا کوّا مزید دھواں نکالنا شروع ہو جاتا ہے۔اور بگلہ مارکہ سیگریٹ کی ڈبی پر ایک ٹانگ پہ کھڑے بگلےکی طرح ایک ٹانگ اٹھا لیتا اور شور مچانا شروع ہوجاتا ہے
۔
کاں کاں کاں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔میں چٹّا بگلہ ہوں۔
 
 مزید پنگا اس وقت شروع ہوجاتا ہے جب کالے کلوٹے کوّوں کے دو چار پٹھے اس چونا لگے کاں سے چٹّا ہو نے کا گر سیکھنے کے چکر میں اس تخیّل کی اڑن طشتری کے سوار خوامخواہ چٹّے کاں کی حمایت میں کاں  کاں  کاں کرنا شروع ہو جاتے ہیں۔
۔
چونا لگا کاں مزید پھیلتا ہے اور ایک ٹانگ پر کھڑا ہو کر تکبّر سے ،  ۔۔۔۔۔کاں ، کاں ، کاں۔۔۔۔میں چٹّا بگلہ ہوں کا ورد کرنا شروع کر دیتا ہے۔
 
تو مان یا نہ مان ۔۔۔۔کاں ، کاں ، کاں۔۔۔۔میں تے بگلہ آں۔
 
مزید ما حول اس وقت خراب ہوتا ہے جب اس چونا لگے کوّے کے ہم جنس کالے کلوٹے کوّے اسے سمجھانے کی کوشش کرتے ہیں
۔
ہر طرف شور  کاں کاں کاں کاں کاں  کاں کاں کاں کاں کاں کاں کاں کاں کاں کاں
کاں کاں کاں کاں کاں
کالے کلوٹے کووّں کو ہم ایک ہی بات کہیں گے۔۔۔۔چونا لگے کوّے کو اس کے حال پر چھوڑ دیں۔
اور چونا لگے کوّے سے گذارش ہے کہ بگلے جیسی آواز بھی نکالے اور کاں کاں کاں کرنا چھوڑ دے
۔
یہ نہیں کر سکتا تو بارش کا انتظار کرے کہ بارش کے بعد کالا ہی نکلے گا۔۔چونے کے پتھر کا تیزابی اثر پانی میں بہہ کر صاف ہو جائے گا۔اور دھواں نکلنا ختم ہو جائے گا۔
 
ایک میرا پسندیدہ شعر چٹّے کاں کیلئے۔
کند جنس باہم جنس پرواز
کبوتر با کبوتر باز با باز
چونے کا اثر چونے کا اثر Reviewed by یاسر خوامخواہ جاپانی on 6:20 PM Rating: 5

22 تبصرے:

عمران اقبال کہا...

یاسر بھائی۔۔۔ اتنے پیار سے سب کچھ کہہ دیا۔۔۔ سانپ بھی مار دیا اور ڈنڈہ بھی نہیں ٹوٹنے دیا۔۔۔ واہ جی واہ۔۔۔ بارش کے آنے میں کتنا وقت رہ گیا ہے بھلا؟؟؟

مکی کہا...

بارش کے آنے کے وقت کا تو پتہ نہیں لیکن اس بلاگ کے کھلنے کے وقت کا مجھے اچھی طرح پتہ ہے.. :?

جعفر کہا...

کبھی وقت نہ ہوتو میرے بلاگ کی پرانی تحاریر کا مطالعہ، تمام ۔۔۔ گزیدوں کے لیے مفید ہوگا

جاوید گوندل ۔ بآرسیلونا ، اسپین کہا...

بہت خوب مگر ہنس کی چال چلنے کی کوشش میں یہ چٹے کوے اپنی چوکڑی بھی بھول جاتے ہیں۔ بہرحال آپکا کہنا زیاں جائے گا کہ وہ کسی سیانے نے کہا تھا مرد ناداں پہ کلام ۔۔ ۔ ۔ ۔ وغیری وغیرہ۔
ایک اور بات بھی ہے جو ان کالے چٹے کوؤں کی کاں کاں میں اضافہ کرتی ہے، کہ پاکستانی عوام مزھب اسلام پاکستان ۔ ثقافت شرم وحیا ھجاب و نقاب پہ یہ سال میں بارہ ماہ، تین سو پینسٹھ دن اپنی لن ترانیاں اور خود ساختہ فلسفے بیان کریں گے اور اگر کوئیدل جلانی ۔۔ پہ پاؤں رکھ دے تو پھر چیخ پڑتے ہیں۔ اور صاحب پاؤں کو اسکے مذھب۔ اسکے اخلاق اور خواتین کی عزت وغیرہ کے وہی حوالے دینا شروع کر دیتے ہیں جن حوالوں کو یہ سال بھر نام نہاد روشن خیالی کے نام پہ کوستے رہتے ہیں کہ یہ کالے چٹے کاؤں کا من پسند راگ ہے۔

خرم ابن شبیر کہا...

اچھا تو قصہ پھر چل نکلا ہے ارے بھائی یہ تو بہت پُرانی باتیں ہیں اور ہر دور میں رنگ بدل کر سامنے آتی ہیں یہ سلسلہ تو تب تک چلتا رہے گا جب تک چونا ہےچونے کے علاوہ "میں" بھی اسی کردار کا حصہ ہے

وقار اعظم کہا...

واہ جی واہ ان کائوں کی کیا بات ہے جی. اپنی تعریف میں رطب السان ہوتے ہوئے فرماتے ہیں کہ میں زندہ دل و دماغ والا ہوں. باقی تم سب مردہ دل ہو کہ تمیں میرا چٹا پن نظر نہیں آتا.... اور اب بارش کا کوئی فائدہ نہیں، ان کائوں کے ہاتھ چھتری لگ گئی ہے.... :lol:

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

جب تک یہ زبان ناہنجار منہ میں ہے۔۔۔بارش ہو نا مشکل ہے۔

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

یہ بلاگ وقت کی پابندی کرواتا ہے جی۔۔۔۔مفتے یہی کچھ میسر تھا۔۔اس لئے معذرت

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

جی یہ روشن خیال دو دو فٹ زمین سے بلند ی پر پاوں رکھتے ہیں۔۔یعنی بنیاد یا بیس کیمپ ان کیلئے شرمندگی کا باعث ہو تا ہے۔

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

خرم بھائی ۔۔۔کچھ اپنے والے کاں ۔۔۔۔۔چٹے کاں کے پیچھے لگ جاتے ہیں اور چٹا کاں بگلہ بننے پر بضد ہو جاتا ہے۔۔

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

موسلا دھار بارش میں چھتری کیا کام آئے گی۔۔۔زیادہ ٹینشن دی تو یہ روشن خیال پاگل خود کشی نہ کر لیں۔۔۔۔چلو کچھ تو سکوں ہو گا دنیا میں

سعد کہا...

NaOH + H2O ---------------------------> ????

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

تیزابی پتھر کی طرح سلگنا شروع ہو جاوں گا

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

دھواں دھواں

ڈاکٹر جواد احمد خان کہا...

بھائی یاسر ،
کیوں کووں کو خواہ مخواہ بدنام کر رہے ہیں. یہ صفت انسانوں میں بہت زیادہ ہوتی ہے...

محمد سعید پالن پوری کہا...

یہ نہیں کر سکتا تو بارش کا انتظار کرے کہ بارش کے بعد کالا ہی نکلے گا۔۔چونے کے پتھر کا تیزابی اثر پانی میں بہہ کر صاف ہو جائے گا۔
زمانہ ترقی کرگیا ہے یہ کوے چونے میں نہیں پینٹ میں گرے ہیں اب بارش سے بھی ان کا بھلا ہونے والا نہیں ہے

حجاب کہا...

اتنا شور ہے ۔۔ میں اسی لیئے کوّے مارنے کے لیئے اسلحہ رکھتی ہوں ۔۔

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

بجا فرمایا پالن پوری صاحب

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

وہ انسان تو بکاو مال ہیں نا جی۔

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

حجاب۔۔۔۔۔۔آپ کے توپ و بندوق کی کیا بات۔۔۔خود کار ہیں جی۔۔۔آپ انہیں ریموٹ سے کنٹرول کرتی ہیں؟

حجاب کہا...

ریموٹ سے نہیں ۔۔۔ گھور کے :P

جاوید گوندل ۔ بآرسیلونا ، اسپین کہا...

ویسے جناب محمد سعید پالن پوری صاحب کا نکتہ بھی خیال آفرین ہے کہ زمانہ ترقی کر گیا اب یہ کوے پینٹ میں گرتے ہیں اور ڈھیٹ اس قدر ۔۔ اوہ ۔۔ ڈھیٹ یعنی رنگ یا شاید کوے ۔۔ یا دونوں ہی کہ انکا رنگ اترتے ہیں نہیں اترتا۔

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.