فیس بک کی تباہی

دوستوں کے بار بار اصرار، شرمندہ کرنے والے طنزیہ جملوں سے تنگ آ کر شیدے نے فیس بک جوائن کر لی۔ اب اس کو اس کی الف بے کا بھی نہیں پتا تھا تو واپس انہی دوستوں سے مدد مانگنے گیا۔ انہوں نے پہلے تو شیدے کو لمیاں پا کر شاباش دی اور فیس بک جوائن کرنے پر سراہا۔ پھر اس کو فیس بک کے چیدہ چیدہ پہلو سمجھا کر دفعان کر دیا۔

شیدے کو جب تھوڑی بہت سمجھ آگئی تو رات کو بیٹھ کر اس نے پروفائل بنانا شروع کیا۔ کام، تعلیم اور نام شام لکھ کر جیسے ہی وہ "ریلیشن شپ" کے خانے پر پہنچا تو اک دم ٹھٹک گیا۔ اچانک اس کو اپنی "تنہائی" کا احساس ہوا پھر اچانک اس کے ذہن میں تمام واقعیات باری باری آنے لگے جن میں سے زیادہ واقعیات "واحیات" اور "ذلالت" سے بھرپور ملے تو شیدے نےلسٹ میں سے آپشنز دیکھ کر بڑے افسردہ انداز میں "سنگل" کو مناسب سمجھتے ہوئے منتخب کیا اور آگے بڑھ گیا۔ پھر سیاست کے خانے پر آ کر وہ رک گیا۔ شام کے 5 گھنٹوں کے دوران چلنے والے مختلف ٹی وی ٹاک شوز نے اسے اتنا کنفیوز کر دیا کہ اب کوئی بھی سیاست دان اسے کام کا نہیں لگ رہا تھا مگر اس نے اپنے داغدار ماضی میں جا کر سوچا تو اسے یاد آیا کہ نواز شریف نے کافی کام کئے ہیں اور ویسے بھی آجکل چوک میں اس کے سب آوارہ یار بھی اس کو ہی اگلا وزیراعظم بننے کا کہہ رہے تھے تو اسی کو منتخب کر لیا۔ اگلا خانہ مذہب کا تو آف کورس شیدا ایک کٹر مسلمان جو ٹھہرا تو اس نے اس خانے میں لکھا کہ "مسلمان الحمدللہ"۔ لو اب باری تھی دوستوں کو ایڈ کرنے کی۔ سب سے پہلے اس نے اپنے سارے گلی والے دوستوں کو ایڈ کر لیا۔

شیدے نے فیس بک جوائن کر لی تو صبح شام جب بھی اس کو لاگ آن ہونے کا موقع ملتا تو وہ سب سے پہلے سلام کرتا اور پھر تھوڑی دیر مختلف تصویریں اور ویڈیو دیکھنے کے بعد اس کے ذہن میں آتا کہ یار دنیا کتنی بھٹکی ہوئی ہے۔ تو وہ دو چار نعتیں یا کسی عالم کے ویڈیو شیئر کر دیتا۔ ایک دو ہفتوں میں ہی ایپز ،گیمز، فیک پروفائل والی لڑکیاں اور فنی وڈیوز نے ان اسلامی ویڈیوز اوراصلاح والی پوسٹ کی جگہ لے لی۔ پھر کچھ ہفتے گزرے تو وہ بھی لائک کرنے کرانے والی دوڑ میں شامل ہو گیا۔ اب چونکہ اس کی پوسٹوں کی کوئی تک نہیں بنتی تھی تو اس نے کچھ فین پیجز بنا لئے تا کہ زیارہ سے زیادہ ثواب دیرین یعنی لائکز اکٹھے کیا جا سکے۔ اب سب سے بڑا مسئلہ فین لانے کا تھا تو اس نے دوستوں اور مختلف فین صحفوں پر سپیم کر کر کے ان سب کی ناک میں دم کر دیا۔ مجھے تو ڈر ہے کہ کہیں اک دن یہ "ناک دم,ایک دم" والا پیر مشہور نا ہو جائے۔
اس تحریر کے تمام جملہ حقوق جبران رفیق کے نام محفوظ ہیں۔اور جبران رفیق  کےجملہ حقوق فیس بکیوں کے نا م محفوظ ہیں۔فیس بکیوں کیٔ بٔ  کو پیش سے نہیں زبر سے پڑھا جائے۔اس فیس بک نے بڑے بڑے جگادریوں کا خانہ خراب کیا ہوا ہے۔انگریزی میں فیس بکیاں اور بلاگنگ کرنے کے بجائے ہم اردو والوں کیلئے بھی کچھ لکھ دیا  کریں۔۔۔ 
فیس بک کی تباہی فیس بک کی تباہی Reviewed by یاسر خوامخواہ جاپانی on 10:52 AM Rating: 5

8 تبصرے:

جاوید گوندل ۔ بآرسیلونا ، اسپین کہا...

پتہ نہیں کیوں مجھے لگتا ہے آپ کو شیخ رشید سے محبت ہوگئی ہے :D

ڈاکٹر جواد احمد خان کہا...

بہت اعلیٰ! مگر اس سارے کام میں فیس بک کی تباہی کہاں ہے ...اگر شیدے سے مراد پنڈی والے شیخ صاحب ہیں تو پھر نواز شریف کو وہ اپنا لیڈر کیوں مانتا ہے ..

افتخار اجمل بھوپال کہا...

آجکل آپ معرفت کی باتيں کرنے لگ گئے ہيں اور ميرا بھيجہ ابھی تک درست کام نہيں کر رہا

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

نہیں جی یہ محبت جبران رفیق کو ہی ہوئی ہوگی۔ :lol:

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

ڈاکٹر صاحب
فیس بک کی تو نہیں فیس بک کی دی ہوئی تباہی ضرور ہے۔کہ یہ جبران وہاں لکھ رہا ہے اور اردو بلاگ لکھنا نہیں چاہتا۔

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

ارے نہیں اجمل صاحب یہ جبران فیس بکئے کی تحریر ہے اور میں یہ چاہتا ہوں کہ وہ اردو بلاگ لکھیں۔

انکل ٹام کہا...

یعنی پہنچی وہیں پہ خاک جہاں کا خمیر تھا

ایم اے راجپوت کہا...

ہاہاہا۔۔ لگتا ہے یہ فیس بک پر جا کر بہک گئے ہیں :D

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.