یارانہ

دنیا میں عجیب و غریب واقعات ہوتے رہتے ہیں۔اسی طرح خود غرض قسم کے لوگوں کو دوست بھی مل جاتے ہیں۔دوستی کا مقصد کسی مفاد کیلئے ہو یا وقت پاس کرنے کیلئے یا کوئی بھی وجہ ہوسکتی ہے۔خلوص ،ایثار، خوامخواہ کی محبت بھی ہوسکتی ہے۔


 اسی طرح ایک دفعہ چوہے اور مینڈک میں دوستانہ ہو گیا۔چوہا بھاگ دوڑ کے بچی کچھی روکھی سوکھی روٹی کے ٹکڑے کھاتا تھا اور رنگ برنگی خوراک کے مزے بھی اڑاتا تھا۔مینڈک کو کھانے میں کیڑے مکوڑے یا پھر گھاس ہی ملتی تھی۔ دوستی اپنی جگہ لیکن کھاتے پیتے موج اڑاتے دوست کو دیکھ کر جیلسی پیدا ہونا کم ظرفی کا وطیرہ ہوتا ہے۔


مینڈک تھا تھوڑا کمینہ اور حسد کرنے والا۔ ایک دن مینڈک نے چوہے سے کہا کہ آوء آج تمیں دریا میں تیرنے کا کتنا مزا ہوتا ہے دکھاوءں۔چوہا بولا مجھے تیرنا نہیں آتا میں تو دریا میں نہیں اتروں گا۔چوہے کو مینڈک سے دوستانہ محبت تھی اور تھا بھی بیچارہ بھولا بھالا۔


مینڈک کے کہنے پر چوہے نےاپنے ٹانگ مینڈک کو دی اور مینڈک نے چوہے کی ٹانگ اپنی ٹانگ سے باندھی، اور دونوں دریا میں اتر گئے۔ مینڈک تو مزے سے دریائی کیڑے مکوڑے کھانے لگا اور تیراکی کے جوہر دکھانے لگا۔کبھی تو دریا کی تہہ میں اترتا اور کبھی پانی کی سطح سے بلند ہو کر الٹی قلابازیوں کے فن کا مظاہرہ کرتا۔ چوہے کی ٹانگ مینڈک کی ٹانگ سے بندھی ہوئی تھی۔مینڈک کو پروا بھی نہ تھی کہ چوہا جیتا ہے یا مرتا ہے۔


مر گیا تے سانوں کی ۔۔۔۔بچ گیا تو چوہے پہ احسان کہ دریا کی سیر کرائی تھی۔ تو مان یا نہ مان۔۔۔


 مسئلہ تو چوہے کا تھا کہ ٹانگ پھنسا دی تھی مینڈک کی ٹانگ میں اگر رسی تڑا کر بھاگتا ہے تو بیچ دریا کے ڈوبنا ہی ڈوبنا ہے۔اگر رسی سے جان نہیں چھڑاتا تو مینڈک نے ڈوبکیاں بھی دینی ہیں اور قلابازیاں لگا لگا کر پٹخیاں بھی۔ دونوں صورتوں میں موت ہی نظر آرہی تھی۔


خوب ڈوبکیاں اور پٹخیاں کھانے کے بعد چوہا تو ہوگیا بے ہوش۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور عالم بے ہوشی میں دریا کی موجوں میں اوپر نیچے ہورہا تھا کہ عقاب کی نظر چوہے پر پڑی۔ چوہاعقاب کیلئے شکار تھا۔ عقاب نے ہوائی غوطہ لگایا اور شکار پہ جھپٹا اتنے میں مینڈک نے لگائی قلابازی اور عقاب کے ہتھے لگ گیا چوہے کے بجائے مینڈک !!!۔


جیسے ہی عقاب فضا میں بلند ہوا مینڈک خوف سے تڑپا عقاب نے اپنی گرفت مضبوط کی تو مینڈک کی کٹ گئی ٹانگ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ٹانگ کے ساتھ رسی کٹی اور مینڈک کی ٹانگ کے ساتھ چوہا بھی بنجر زمین پر جا گرا!!!۔


بنجر زمین پر گرنے سے چوہے کو ہوش کیا آنا تھا بیچارے کے گھٹنے گوڈے انجر پنجر بھی ہل گئے اس وقت جو تماشہ مسلمانوں کے ممالک میں ہورہا ہے کچھ ایسا ہی ہے۔


دیکھتے ہیں کہ مسلمان مینڈک ہیں یا چوہا یا پھر عقاب۔۔۔۔۔۔۔مار لیا شکار؟!!!۔


 ویسے میں تو یہی سمجھتا ہوں اگر تیرنا نہیں آتا تو دریا یا سمندر میں نہیں اترنا چاہے۔اگر تیرنا آتا ہے تو تیرتے ہوئے محتاط رہنا چاھے کہ آپ  کے ساتھ کون تیر رہا ہے۔۔

یارانہ یارانہ Reviewed by یاسر خوامخواہ جاپانی on 2:42 PM Rating: 5

6 تبصرے:

جہالستان سے جاہل اور سنکی ۔ کہا...

ویسے کیا انتھوپومورفک تشبیہات استعمال کی ہیں آپ نے ۔
مینڈک ہے کہ عقاب سے ڈر کے خشکی پے کھائے بس گھاس ۔ پانی میں دکھائے فنکاری پر کھائے وہاں بھی کیڑے مکوڑے ہی ۔
چوہا ہے کہ باسی کھا کے بھی خشکی پے عقاب کے ہاتھوں مرے ۔ بچ جائے تو پانی میں مینڈک کی دوستی کی نظر ہو جائے ۔

Tweets that mention یارانہ | عام بندے کا حال دل -- Topsy.com کہا...

[...] This post was mentioned on Twitter by UrduFeed, UrduFeed. UrduFeed said: یارانہ http://goo.gl/fb/8kfXp [...]

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

بھائی سنکی جو میں کہنا چاہتا تھا اور کہہ نہ سکا وہ آپ نے کہہ دیا ۔
آپ کا تبصرہ زبردست ہے جی۔ :lol: :lol:

افتخار اجمل بھوپال کہا...

اصل بات آپ نے آخری فقرے ميں جامع طور پر کہہ دی ہے

جاوید گوندل ۔ بآرسیلونا ، اسپین کہا...

اگر میں غلطی پہ نہیں تو آپ دوسرے لفظوں میں آپ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ مشرق وسطٰیٰ میں عوام بھیڑ چال اور مینڈکی دوستی کی وجہ سے غوطے کھانے پہ تیار ہوگئے ہیں۔ جبکہ ان ممالک کے عوام ابھی حقیقی انقلاب کے لئیے تیار ہی نہیں ہیں۔ یعنی کہ صرف چہرے بدلیں گے عوام کی قسمت نہیں بدلے گی اور ان ممالک کے عوام محض میندکی دوستی کی وجہ سے مفت میں غوطے کھارہے ہیں۔ گویا انکی قسمت میں انقلاب نہیں آنے والا ؟۔

ڈاکٹر جواد احمد خان کہا...

خراب نیت والا کبھی کامیاب نہیں ہوتا اگرچہ عارضی نفع ضرور حاصل کر لیتا ہے.
گڑھے کھودنے والی دوستی بھی عجیب دوستی ہے. الله سب کو ایسے دوستوں سے بچائے

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.