ہور چوپو

حرب و ضرب کا فن کوئی بھی ہو اس کیلئے بڑی مشقت کرنی پڑتی ہے کہ بندہ چوٹ کھا کر بھی حواس باختہ نہ  ہواور قوت برداشت خوب بڑھے۔جب بندے میں قوت برداشت بڑھ جاتی ہے تو اچھی خاصی مار آسانی سے برداشت کرلیتا ہے۔چھوٹی موٹی چوٹ تو ایسے ڈھیٹ بندے پر اثر ہی نہیں کرتی۔ہر ھنگامے اور شور شرابے والے ماحول میں بھی اپنے اوساں بحال رکھنے پہ قادر ہوجاتا ہے۔


لڑائی مار کٹائی کا ایک مشہور کھیل کراٹے ہے۔اس میں کئی مختلف اسٹائل ہوتے ہیں۔عموماً دیکھنے میں آیا ہے کہ عام بندہ جو اس کھیل کو سیکھنے کا شائق ہوتا ہے۔وہ یا تو دھنگا فساد کرنے والا ہوتا ہے یا میرے جیسا کوئی ناتواں مرنجا مرنج ہوتا ہے کہ اپنی ھڈی پسلی  بچانے کے قابل ہی ہو جائے۔


کراٹے کا ایک ا سٹائل ہے کیوک شن اس میں جب بندہ بلیک بیلٹ لینے جاتا ہے تو باری باری ہر تین سے پانچ منٹ بعد دس بندوں سے لات مکا کرنا ہوتا ہے۔ گرو اور مہا گرو بیٹھے تماشہ دیکھ رہے ہوتے ہیں ان کا دل کرے تو بارہ بندوں سے بھی لات مکا کروا دیتے ہیں۔لیکن بلیک بیلٹ کیلئے جانے والا بندہ اتنی مشق کرتا ہے کہ ڈھیٹ ہو جاتا ہے۔لات مکا کرتے ہوئے جب تھکاوٹ اور چوٹوں سے ہوش و حواس سے بیگانہ ہو جاتا ہے تواتنی مشق ہوئی ہوتی ہے کہ بے ہوشی کے عالم میں دفاع بھی کرتا ہے اور حملے بھی۔


 بندے نےمار کھا کھا کر خوب مشق کی ہوئی ہوتی ہے تو ذہنی و جسمانی حالت جوبن پر ہوتی ہے۔یعنی بندہ اصلی ڈھیٹ ہوجاتا ہےاس ڈھیٹ پن میں ٹورنامنٹ وغیرہ میں بھی حصہ لیتا رہتا۔لیکن جب پنتیس کے آر پار ہوتا ہے ۔توایک سکوں سا آجاتا ہے اور بندہ بس صحت کو قائم رکھنے کیلئے تھوڑی بہت اچھل کود کر لیتا ہے۔


مسلمانوں کی حالت کچھ ایسے ڈھیٹ بندے کی طرح ہی ہے۔کوئی وقت تھا کہ مسلمانوں کی دنیا میں بڑی ٹور شور تھی یعنی شان و شوکت تھی  وجہ یہی تھی کہ وہ اپنے دین کیلئے مشقت کرتے تھے۔تاویلیں نہیں گھڑتے تھے۔ایک نظام اللہ میاں نے دیا تھا تھوڑی بہت ڈنڈی مارنے کے باوجود اس نظام کے اندر رہنے کی کوشش کرتے تھے۔اب نئے نئے نظام گھڑتے ہیں اور انہیں استعمال کرنے کے تجربے کرتے ہیں۔


مصر کے صدر مبارک کو بھگا دیا عوام کی طاقت نے جی۔اور مسلمان دانشور جذباتی قسم کے کالم اور بلاگ لکھ رہے ہیں۔جیسے اب مصر میں دودھ کی نہریں بہنا شروع ہو جائیں گئیں۔ایسے انقلاب تو ہمارے پاکستان میں بے شمار آئے لیکن ہوا کیا؟


ایک کا پیٹ بھرتا نہیں تو دوسرا اقتدار کا بھوکا آجاتا ہے۔ ایوب ،بھٹو، ضیاء ،بے نظیر ، نواز ،بے نظیر ، نواز ، مشرف ،اور اب زرداری اسے مصر جیسا انقلاب کہنا بے وقوفی ہے؟ یا نہ کہنا بے وقوفی ہے؟


مصر کے وردی والی سرکار نے پہلے عوامی خطاب میں فرمایا ہے کہ اسرائیل کے ساتھ امن معاہدہ اسی طرح ہی چلتا رہے گا۔جیسے ہی یہ بیان دنیا کے کانوں میں پڑا اسرائیل کے اسٹاک ایکسچینج نے بلے بلے کرنا شروع کردی۔مردہ پڑے حصص میں جان پڑ گئی۔


مصریوں کے انقلاب کےبعد پہلا پیغام جو وردی والی سرکار نے دیا ہے وہ یہاں پر پڑھا جا سکتا ہے۔میں جب ان جذباتی قسم کے حضرات کی تحاریر پڑھتا ہوں تو مجھے کراٹے  کاشوقین اور مار کھا کھا کر ڈھیٹ ہو جانے والا بندہ یاد آتا ہے۔کہ گرو اور مہا گرو بیٹھے تماشہ دیکھ رہے ہوتے ہیں جب بندہ دس بارہ بندوں سے لات مکا کر کے تھکاوٹ سے ٹوٹ رہا ہوتا ہے 


تو گرو اور مہا گرو کو  کوئی بات پسند نہ آئےیا موڈ خراب ہو جائے تو کہتے ہیں ابھی مزید مشق کرو اور دوبارہ بلیک بیلٹ لینے کیلئے آنا۔!!!!!۔


جاو شاباش  ہور چوپو!!!۔  


 

ہور چوپو ہور چوپو Reviewed by یاسر خوامخواہ جاپانی on 9:47 PM Rating: 5

16 تبصرے:

میرا پاکستان کہا...

ہم آپ کی رائے سے سو فیصد متفق ہیں اور ایسے ہی ہوگا جیسے آپ نے لکھا ہے یعنی مصر کا انقلاب کسی کا کچھ سنوار نہیں سکے گا۔

مکی کہا...

آپ کا بلاگ ملائیشیا میں نہیں کھلتا پراکسی استعمال کرنی پڑتی ہے.. ہوسکے تو اس کا کوئی علاج کریں..

جاویداقبال کہا...

اصل کھیل تواب شروع ہےاورمصری قوم کاصحیح طورپرامتحان توابھی شروع ہواہےکہ وہ کس جماعت کواقتداردیتےہیں جس کووہ اقتدارکی بھاگ دوڑدیتےہیں وہ وہی کام کرتاہےکہ کچھ نظام کی تبدیلی بھی کرتاہے۔

عدنان شاہد کہا...

میں آپ کی بات سے سو فیصد متفق ہوں کہ اس انقلاب سے کچھ بھی حاصل نہیں ہوگا۔

عبداللہ آدم کہا...

السلام علیکم ۛۛۛۛ

جناب کیوکشن کے حوالے سے اسلام اباد پنڈی میں کوءی کلب یا سنٹر وغیرہ آپ کے علم میں ہو تا بتاءیں۔۔۔۔میں کچھ عرصہ یہ کر چکا ہوں اور اب کچھ عرصہ تک دوبارہ ارادہ ہے۔

والسلام

عمران اقبال کہا...

درست۔۔۔ بلکل درست۔۔۔
مبارک کے جانے کے بعد کوئی اور “نامبارک“ انسان کرسی سنبھال لے گا۔۔۔ ہوتا وہی رہے گا جو امریکہ والی سرکار کی اکشا ہے۔۔۔ چہرے بدل جاتے ہیں۔۔۔ کرتوتیں وہی رہتی ہیں۔۔۔
آپ نے اس تحریر کا عنوان بڑا مزیدار رکھا ہے۔۔۔ واقعی۔۔۔ امت مسلمہ کے نا ہنجار حکمرانو۔۔۔ ہور چوپو۔۔۔

ڈاکٹر جواد احمد خان کہا...

انقلاب کے پیچھے اگر انقلاب کے تقاضوں کا ادراک رکھنے والی سچی اور دیانت دار قیادت نہ ہو تو یہی انقلاب ایک بڑی مصیبت بن جاتا ہے. خاص کر پاکستان جیسے معاشروں میں جو کہ جاہلوں کا معاشرہ ہے (ان پڑھ اور پڑھے لکھے جاہلوں کا) یہاں پر انقلاب کی باتیں اچھی تو لگتی ہیں لیکن جب اس انقلاب کی قیادت کے بارے میں سوچیں تو انتہائی درجے کی کوفت اور بیزاری ہوتی ہے. کیونکہ یہاں ہر چیز کی طرح انقلابی بھی دو نمبر ہیں ..ہمارے انقلابی کون ہیں...کامریڈ الطاف حسین یا پھر کامریڈ نواز شریف....رہے عوام تو وہ تھوڑی توڑ پھوڑ کریں گے، لوٹا ماری کریں گے ، تھوڑا جلاؤ گھیراؤ کریں گے اور الله الله خیر صلا...اشرفیہ کی گردن میں پٹہ ڈالنے والی قیادت کہاں سے آئے گی یہ کسی کو معلوم نہیں.

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

اخوان المسلمین کے ہاتھ اقتدار آگیا تو شاید بہتری ہو لیکن اس صورت میں معاشی مسائل بہت ہوں گے۔اسرائیل اور امریکہ تو دشمن ہوگا ہی سارا یورپ بھی دشمنی کرے گا۔۔۔اس وقت مصری برداشت کر گئے تو دوسرے مسلم ممالک میں بھی تبدیلی کی امید کی جاسکتی ہے

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

مکی صاحب انشاءاللہ میں کوشش کرتا ہوں۔

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

دیکھتے ہیں جی کیا ہوتا ہے۔۔۔اور کچھ نہیں تو کرپشن ہی ختم ہوجائے ۔اللہ سے بہتری کی امید رکھتے ہیں۔

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

عبد اللہ بھائی پنڈی اسلام آباد میں تو مجھے نہیں معلوم۔۔
اگر کک پنچ اور دفاع کرنے کا طریقہ سیکھ چکے ہیں تو۔۔۔
پرانے ٹائیر جمع کرکے اپنے قد کی اونچائی تک رکھئے اور شروع ہوجائیں۔

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

عمران بھائی اچھائی کی امید رکھتے ہیں۔۔۔لیکن لگتا یہی ہے کہ ان تلوں میں تیل نہیں ہے

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

جی ڈاکٹر صاحب آپ سے متفق ہوں

UncleTom کہا...

کراٹے سے اچھا اکیڈو ہے ، میرا اردا اسی قسم کی کوی چیز سیکھنے کا ہے ، انشااللہ اس گرمیوں میں ۔ اور مسلمانوں کو کونوہا میں جیسے ناروٹو ہے ویسے کوی بندہ چاہیے ہے لول

یاسر عمران مرزا کہا...

یعنی مسلمان بلیک بیلٹ لینے کے لیے لاتیں مکے اور گھونسے ہی کھاتے رہیں گے ؟
آج ہم زرداری کے پیچھے بھی پڑے ہیں۔ کل کو زرداری کے دور کو آئیڈیل بھی کہہ سکتے ہیں، جیسے آج مشرف دور کو کہتے ہیں۔۔۔ہا ہا ہا

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

جی یاسر بھائی مجھے تو ایسا ہی لگتا ہے۔۔۔گرو اور مہا گرو کی مر ضی پہ ہے کہ بلیک بیلٹ دیتے ہیں کہ نہیں

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.