روزمرہ کی مسلمانی

سننے اور پڑھنے کے بعد تو یہی سمجھ آیا  کہ مسلمان کی شناخت  کواللہ کی وحدانیت،عبادت ،تقوی،اعلی اخلاق ، احسن معاملات جیسی خصوصیات نمایاں اور منفرد کرتی ہیں۔


ظلم و ستم اور قہر واستبداد کے خلاف لڑنا۔امن کیلئے ہر وقت جہاد فی سبیل اللہ کیلئے تیار رہنا مسلمان کی پہچان ہے۔


 بلا امتیاز اور بغیر کسی تفریق کے ہر مظلوم کی ترجیحی بنیادوں  پر مدد کرنا مسلمان اپنا فرض سمجھتاہے۔


اگر کسی معاشرے کے افراد اپنے آپ کو مسلمان بھی کہلاتے ہوں۔روزانہ مذہبی تہوار بھی مناتے ہوں۔


ہر حج کامیلہ مناتے ہوں۔


رمضان مبارک شریف کو ہر سال گلے لگاتے ہوں۔


جشن عید میلادالنبیﷺ مناتے ہوں۔


محرم کے دس دن  نواسہ رسولﷺ کے غم کی یاد میں گذارتے ہوں۔


پھر تیسرا ، دسواں ، چالیسواں بھی مناتے ہوں۔


ناموس رسالتﷺ کے جلوس نکالتے ہوں۔


عشق رسول ﷺ میں موت بھی قبول ہے کا نعرہ عظیم بلند کرتے ہوں۔


ہر جمعرا ت کو پیر و مرشد اعلی نسب شاہ صاحب کے مزار پرجنت کا پروانہ وصولنے کیلئے۔


نذرانے دینے کیلئے حاضری بھی لگواتے ہوں۔


جب یہ ان مذہبی جلسے جلوسوں مجلسوں میلوں میں گیس کا اخراج کرکے ہلکے ہوتے ہیں۔


تو روزمرہ زندگی کی طرف آتے ہیں۔تو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


باقی آپ لکھ دیں۔۔۔۔۔۔۔ہم آپ سے اور آپ ہم سے جو ہیں۔


لکھتے ہوئے بس خیال رکھئے گا۔کہ


میرے اعلی نسب  جس کا میں پجاری ہوں کےخلاف گستاخی نہ کریں۔


میرے پیر ومرشد جن کا میں پجاری ہوں ان کی توہین نہ ہو۔


میرے مسلک کو مجروح نہ کریں۔ مجھے مسلک جان سے زیادہ عزیز ہے۔


میری  نسل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آپ کو صرف تعریف لکھنے کی اجازت ہے۔


میری سیاسی تنظیم کے تاحیات مالکانہ حقوق رکھنے والے جن کا میں پجاری ہوں ان کے خلاف کوئی بات مت لکھیں۔


اخلاقیات ، معاملات کی کسی قسم کی نصحیت نہ کریں۔


 


 


 


 


 


 

روزمرہ کی مسلمانی روزمرہ کی مسلمانی Reviewed by یاسر خوامخواہ جاپانی on 8:25 AM Rating: 5

7 تبصرے:

عبداللہ آدم کہا...

دین مسجد کے اندر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔وہابی،حنبلی،شافعی مالکی وغیرہ وغیرہ۔

مسجد سے باہر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ن لیگ۔۔۔پی پی پی۔۔۔اے این پی۔۔۔متحدہ وغیرہ وغیرہ۔

مکی کہا...

انڈے کی قوم تک یہ باتیں نہیں پہنچیں گی...

امکانِ اتصال کہاں خوب وزشت میں....!!

سعد کہا...

جب روزمرہ زندگی کی طرف آتے ہیں تو اسلام کہیں اور ہی چھوڑ آتے ہیں

وقاراعظم کہا...

ہماری مسلمانی بس اوپر گنوائے گائے کاموں تک ہی محدود ہے. ہم نے بس اسے ہی دین سمجھ رکھا ہے.....

عمران اقبال کہا...

یاسر بھائی۔۔۔ مسلمانیت کیا چیز ہے۔۔۔ ہم بھول گئے ہیں۔۔۔ پیری فقیری، نام و نسب اور مسلکوں کے نام پر مسلمانیت کو بڑا گندا کر دیا ہے ھم نے۔۔۔ جو اطوار ہونے چاہیے تھے انہیں چھوڑ کر باقی سب اپنا لیے۔۔۔

“ جے ہو۔۔۔ پیرومرشد، قائد طریقت، شیخ الحدیث، گدی نشین، اعلی حضرت فلاں فلاں ننگے پیر کی۔۔۔“ اور اسے ہم نے اسلام کا نام دے دیا۔۔۔

ڈاکٹر جواد احمد خان کہا...

بھائی خواہ مخواہ !
آپ نے تو اچھائیاں اور برائیاں ایک ساتھ بیان کرکے تبصرہ کرنے والوں کے لئے مشکل کھڑی کر دی ہے...

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

ڈاکٹر صاحب آپ اس روزمرہ کی مسلمانی کے جو اعلی اثرات معاشرے میں نظر آرہے ہیں وہ لکھ دیں :lol: :lol:

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.