انقلاب

آجکل انقلاب انقلاب کا شور مچا ہوا ہے۔انقلاب اگر توڑ پھوڑ کا نام ہے تو یہ انقلاب تو ہمارے پاکستان میں مسلسل ہوتا ہی آرہا ہے۔انقلاب اگر سوچ و فکر میں خوشگوار تبدیلی کا نام ہے تو یہ انقلاب ہمارے ملک و معاشرے میں نہ کبھی آیا اور نہ آنے کی امید ہے۔خوشگوار انقلاب لانے کی خواہش کرنے والے اگر ناکام رہ کر مایوسی کا شکار ہیں۔


 تو اس کی یہ وجہ ہر گز نہیں کہ لوگوں میں قبول حق کی صلاحیت ختم ہو گئی ہے۔ہر دور میں حق کے متلاشی انسان پائے جاتے رہے ہیں۔ہر دور ہر معاشرے میں خیر کے متلاشی انسان ہوتے ہیں۔ایسا کبھی نہیں ہوا کہ انسانیت کے سینے سے خیر و بھلائی اور نیکی کی آرزو اور محبت یکسر ختم ہو جائے۔انقلاب کی خواہش رکھنے والے ناکامی اور مایوسی کیوں محسوس کرتے ہیں؟


اس ناکامی اور مایوسی کی وجہ انقلاب کی ابتداء کرنے والے غلط نقطے سے آغاز کرتے ہیں۔انقلاب کی مہم کا آغازانقلاب کی خواہش رکھنے والے کو اپنی ذات سے شروع کرنی چاھئے جب اپنے وجود کی انقلابی مہم سر ہوجائے تو دوسروں کے وجود سے اس کا آغاز کیا جائے۔انقلاب کے خوشگوار اثرات اپنی زندگیوں میں محسوس کئے بغیر دوسروں کی زندگی میں یہ اثرات پیدا کرنے کی غیر فطری کوشش ہے۔جو ناکامی اور مایوسی کا باعث بنتی ہے۔


 صفائی کی اچھائیاں بیان کرنے والے اگر خود گندے ہوں تو ان کی باتوں پر کون کان دھرے گا؟ سب سے خوفناک ، بھیانک ، نقصان دہ بات یہ ہے کہ جس صفائی جس طہارت جس انقلاب کی آرزو میں انقلاب کے خواہش مند تڑپ رہے ہیں۔اس سے ان کی اپنی زندگی محروم ہے۔ ایسے دین بیزار ایسے خدا فراموش لوگوں کا انسانی تاریخ میں نہ کبھی کوئی کارنامہ رہا ہے اور نہ آئندہ کبھی اس کی توقع کی جاسکتی ہے۔


انقلاب کی شروعات اپنی زندگی سے ہوتی ہیں دوسروں کی زندگی سے نہیں۔


 

انقلاب انقلاب Reviewed by یاسر خوامخواہ جاپانی on 6:52 AM Rating: 5

5 تبصرے:

افتخار اجمل بھوپال کہا...

"تبصرہ کرتے وقت مت بھولئے کہ آپ بہت اچھے/اچھی/درمیانےقسم کے اچھے/ ہیں"
ميں تو درميانے سے کم قسم کا اچھا ہوں ۔ ميرا کيا بنے گا ؟
:lol:

آپ نے بالکل درست لکھا ہے جس سے مجھے اس توڑ پھوڑ کا پاکستان ميں آغاز ياد آ گيا ۔ ذوالفقار علی بھٹو نے اپنی وزارت کھونے کے بعد جيل ميں غلام مصطفٰے کھر سے تربيت پائی اور باہر نکل کر لوگوں کو علامہ اقبال کے شعر "جس کھيت سے دہقان کو نہ ہو روزی ميسّر ۔ اس کھيت کے ہر خوشہ گندم کو جلا دو" کا مطلب يہ سمجھايا کہ جہاں سے گذرو ہر چيز کو تہس نہس کر دو ۔ اس کا نتيجہ يہ ہوا کہ ميں راولپنڈی سيٹيلائيٹ ٹاؤن اپنے گھر سے سکوٹر پر شہر کی طرف جا رہا تھا کہ سات آٹھ سال کے لڑکوں کے ايک گروہ نے اچانک سڑک کراس کی ۔ ميں نے بڑی مشکل سے بريک لگا کر اور سکوٹر کا رُخ موڑ کر انہيں بچايا ۔ ابھی ميں کھڑا ہی تھا کہ ايک لڑکا بولا "چلو ۔ سٹرائيک سٹرائيک کھيليں"۔ ايک دوسرا لڑکا بولا "وہ کيا ہوتا ہے؟" تو اس نے جواب ديا "پتھ مار کر لوگوں کے مکانوں کے شيشے توڑيں"۔
اس دن ميں دل ميں سوچا تھا کہ اب ہماری قوم تنزل کی طرف ل پڑی ہے

جہالستان سے جاہل اور سنکی ۔ کہا...

آرٹیکل کے آخر میں آپ تو اس انقلاب کی بات کر رہے ہیں جس کے بعد مزید کسی انقلاب کی گنجائش ہی نہ رہے ۔ اور یہ بات تو نہ آپنے، ہم نے اور کسی بھی اور نے ماننی ہی نہیں ۔ کچھ نیا نہ ہو پائے تو پرانے ہی کو ادھر اودھر کرنا بھی انقلاب سے انقلاب نکالنا ہوتا ہے جی ۔
ہر کسی کو اپنا آپ ہی بالکل درست لگا کرتا ہے اور جب کوئی آپکے بالکل درست ہونے کی تعریف نہ کرے تو تمسخر یا لعنت کو دل کرتا ہے ۔ بات مزید بڑھے تو گالیاں اور پٹائی تک نوبت پہنچ جاتی ہے ۔ اب آپ بتائیں کیا لعنت بھیجنا بھی ڈپریشن کی علامت نہیں ہوتی ؟
لوگ آئیں گے، ڈپریشن کو کم کرنے کی باتیں کرینگے ۔ انقلاب بھی لے آئینگے اور اپنے لئے گنجائش نکالنے میں بھی کامیاب ہو جائینگے ۔ اسی گنجائش کے کارن نئے انقلاب کی راہ بھی ہموار ہو گی اور نئے انقلاب کی راہ میں کانٹے بھی بچھائے جائینگے ۔

عمران اقبال کہا...

انقلاب اپنی ذات سے شروع ہوتا ہے۔۔۔ لیکن خود میں انقلاب لانا کون چاہتا ہے۔۔۔
ہم ازل سے دوسروں سے امیدیں باندھے بیٹھے ہیں کھ وہ بدلیں تو ہم بھی کچھ کوشش کر لیں گے۔۔۔ اور اسی انتظار میں ہم ابتر سے ابتر ہوتے جا رہے ہیں، نا صرف اجتماعی حد تک بلکہ زاتی طور پر بھی ہمارا اخلاقی دیوالیہ نکل چکا ہے۔۔۔
اور سب سے اہم بات یھ کہ کیا پاکستانی قوم "انقلاب" کا مطلب بھی جانتی ہے۔۔۔؟؟؟ ہمیں تو اچھا لگتا ہے کہ ایک شخص اٹھے، انقلاب کا نعرہ لگائے۔۔۔ ہم اس کے جلسوں میں جائیں۔۔۔ نعرے لگائیں اور پھر اسے اپنے رہبر کے طور پر منتخب کریں اور اسے کھلی چھٹی دے دیں کھ اب ہمیں جیسے مرضی ہانکو۔۔۔ ہم ایک مردہ قوم ہیں۔۔۔ ہمیں صرف شغل میلھ دے دو اور پھر جو مرضی کرو۔۔۔ ایسا ہی انقلاب پچھلے ساٹھ سالوں سے آ رہا ہے اور بار بار آ رہا ہے۔۔۔

سعد کہا...

ہمیں تو بھائی لوگوں کے انقلاب کا انتظار ہے!

جاوید گوندل ۔ بآرسیلونا ، اسپین کہا...

یاسر بھائی!

آپ بھی کمال کرتے ہیں۔ انقلاب تو پاکستان کے لئیے کب کا چل پڑا ہے۔ اور ادہر بلاگستان میں انقلاب کے چاچے مامے نام بدل بدل کر "چومی چوں" انقلاب کا دھول بجا رہے ہیں۔

بس یہ ہے کہ لنڈن کچھ دور ہے اور مے خانہ ہے "میں خانہ" تو ایسے میں انقلاب پہ کچھ سستی چھارہی ہے مگر چلا کبھی کا ہوا ہے۔

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.