دوغلا معیار

 یورپی پارلیمنٹ نے دو الگ قراردادیں منظور کیں۔ ایک قرارداد کے ذریعےگورنر پنجاب سلمان تاثیر کے قتل کی مذمت کی۔ یورپی یونین نے اپنی قرارداد میں پاکستان کو مذہبی آزادی اور رواداری کے ان تمام قومی اور بین الاقوامی معاہدوں اور قراردادوں کی یاددہانی کرائی گئی جن کی وہ توثیق کر چکا ہے۔


یورپی پارلیمنٹ نے اپنی قرار داد میں آئین پاکستان میں اقلیتوں کے حقوق سے متعلق آرٹیکل کا حوالہ دیتے ہوئے حکومت پاکستان پر زور دیا کہ اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کو یقینی بنائے۔


قرارداد میں گورنر پنجاب سلمان تاثیر کے قتل کے ملزم کو ملنے والی حمایت، وکلاء کی طرف سے ان پر گلپاشی، اور مذہبی جماعتوں کی طرف سے گورنر سلمان تاثیر کے قتل کو جائز قرار دینے پر افسوس کا اظہار کیا۔ یورپی پارلیمنٹ نے پاکستانی حکومت سے مطالبہ کیاکہ وہ اپنے سکیورٹی اداروں کو شدت پسندوں سے پاک کرے۔


یورپی پارلیمنٹ نےحکومت پاکستان کی طرف سے شدت پسندی کو روکنے کےلیے کیے جانے والے اقدامات کی حمایت کی۔ یوریی پارلیمنٹ نے پاکستان میں رائج توہین رسالت کے قانون پر اپنے خدشات کا اظہار کرتے ہوئے حکومت پاکستان سے توہینِ رسالت کے قانون پر جامع نظرثانی کا مطالبہ کیا ہے۔


یورپی پارلیمان نے کہا ہے کہ پاکستانی فوج، عدلیہ اور سیاسی طبقے کے بعض حلقوں کی جانب سے مذہبی انتہا پسندوں کی حمایت پر اسے گہری تشویش ہے۔ اس کے علاوہ یورپی پارلیمان نے مقتول گورنر پنجاب سلمان تاثیر کے قتل کی شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے اور یورپی یونین کے رکن ممالک کو پاکستان کے ان معتدل حلقوں کی اصولی اور مالی معاونت جاری رکھنے کی ہدایت کی ہے جو ملک میں انسانی حقوق کے فروغ اور توہینِ رسالت کے قانون کے خاتمے کے لیے کوشاں ہیں۔


آسیہ بی بی کے ذکر کرتے ہوئے یورپی پارلیمنٹ نے حکومت پاکستان سے مطالبہ کیا کہ وہ آسیہ بی بی اور ان کے خاندان کے تحفظ کو یقینی بنائے۔


اپنی دوسری قرار داد میں یورپی پارلیمنٹ نےمصر، نائجیریا، پاکستان، فلپائن، قبرص، ایران اور عراق میں عیسائیوں پر ہونے والے حملوں کی مذمت کی اور مطالبہ کیاگیا کہ اکتیس جنوری کو یورپی یونین کی کمیٹی برائے خارجہ امور بھی، عیسائیوں کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں اور ان کی مذہبی آزادی کے احترام پر بحث کرے۔


یورپی پونین کی امور خارجہ کی سربراہ کیتھرین ایشٹن نے کہا کہ دنیا بھر میں عیسائیوں کے ساتھ ہونے والے زیادتیوں کے بارے میں، یورپی یونین، نظریں نہیں پھیرے گی۔ انہوں نے عراق اور مصر میں عیسائیوں پر ہونے والے حملوں کی مذمت کی۔


کیتھرین ایشٹن نے کہا کہ عالمی برادری کو مذہب کے نام پر تفریق کے سامنے ڈٹنا پڑے گا اور انتہاپسندی کا بہترین جواب، مذہب و عقائد کی آزادی کا عالمگیر معیار ہے۔


ایک مسلمان کی حثیت سے ہم پوچھنا چاہتے ہیں،۔فلسطین ، کشمیر ، عراق ، افغانستان ، اور پاکستان  کے مسلمانوں کے ساتھ جو کچھ کیا جارہا ہے۔کیا یہ انسانی حقوق کے زمرے میں آتا ہے؟ 


پاکستان میں انسانی حقوق کے فروغ کیلئے موم بتیاں جلانے والی تنظیموں کو کبھی ان ممالک کے مسلمانوں کے حقوق کیلئے موم بتیاں جلانے کی توفیق نہ ہوئی۔


ہم یورپی ممالک سے اس معاملے پر احتجاج کرنا ہی نہیں چاہتے کہ وہ اپنی جگہ پر ٹھیک ہیں،ہم پاکستان میں کام کرنے والی نام نہاد انسانی حقوق کی تنظیموں سے گذارش کرنا چاھئیں گے۔کہ یہ لوگ مسلمانوں کی مذہبی آزادی کیلئے ہی آواز اٹھا لیں۔کم از کم یہ اتنا تو کرسکتے ہیں کہ مسلمانوں کی دل آزاری کیلئے جو ان یورپی ممالک میں توہین رسالت ہوتی ہے اسی کیلئے قانون سازی کروادیں۔اگر یہ بھی نہیں ہو سکتا تو انسانوں کی مذہبی آ زادی کیلئے حجاب پر جو یورپ میں پابندیاں ہیں، یہ ہی ختم کروادیں۔اور کچھ نہیں کر سکتے تو توہین یہودی کے قانون پر ہی نظر ثانی کروادیں۔


 آزادی کا عالمگیر معیار مسلمانوں کیلئے بھی بنوا دیں۔


بی بی سی اردو 

دوغلا معیار دوغلا معیار Reviewed by یاسر خوامخواہ جاپانی on 3:39 AM Rating: 5

20 تبصرے:

Tweets that mention دوغلا معیار | عام بندے کا حال دل -- Topsy.com کہا...

[...] This post was mentioned on Twitter by Urdublogz.com, UrduFeed. UrduFeed said: دوغلا معیار http://nblo.gs/djpGR [...]

افتخار اجمل بھوپال کہا...

بات بھيڑيئے اور بھيڑ کے بچے والی ہے ۔ اس دور ميں بھڑيا امريکا ہے اور پاکستان بھيڑ کا بچہ بنا ہوا ہے ۔ جب تک پاکستان اور پاکستانی شير نہيں بنتے بھيڑيئے کا کچھ نہيں بگاڑ سکيں گے

دلاورخان کہا...

اصل بات یہی ہے کہ سچ کیا ہے ؟ مولویوں نے تو اُمت کو فرقوں میں تقسیم کردیا ہے۔ سب ایک اللہ کی عبادت کرتے ہیں مگر ایک لاحاصل بحث کے ذریعے جیسا کہ رفع یدین وغیرہ کے نام پر ایک اللہ کی عبادت کرنے والوں کو تقسیم کردیا گیا۔ اصل معاملہ جہالت سے جنگ ہے جو فردِ واحد کا کام نہیں ہے۔ :roll:

دلاورخان کہا...

پیغمبرِاسلام کے دور میں سب لوگ اسلام کے عالم تھے اور سب اسلام کو جانتے تھے، اس وقت لوگ "عوام اور مولویوں" میں بٹے ہوئے نہیں تھے مگر آج ہم نے اسلام کو مولویوں کے حوالے کردیا ہے جو اسلام کے ساتھ ویسا ہی سلو ک کررہے ہیں جیسا کہ کوئی اناڑی کھلاڑی کھیل کے ساتھ کرتا ہے۔ جب تک اسلام کو سمجھنے کے لیے ہم لوگ خود آگے نہیں آئیں گے، ملا ہماری کمزوریوں کو جواز بنا کر ہمارے جذبات کو اپنے مزموم مقاصد کے لیے استعمال کرتے رہیں گے اور ہم لوگ کسی پتلے کی طرح ان کے ہاتھوں میں رہیں گے۔

Jamal کہا...

“ایک مسلمان کی حثیت سے ہم پوچھنا چاہتے ہیں،۔فلسطین ، کشمیر ، عراق ، افغانستان ، اور پاکستان کے مسلمانوں کے ساتھ جو کچھ کیا جارہا ہے۔کیا یہ انسانی حقوق کے زمرے میں آتا ہے؟“

ذرا حساب کرکے بتانا جتنے مسلمان، تہہارے محبوب طالبان کے ہاتھوں مارے جارہے ہيں اتنے کہاں مارے جا رہے ہيں۔ ايک ايک دھماکے ميں سو سو مسلمان مرتے ہيں،عورتيں، بچے مرد سب۔ پاکستان ميں کلاشنکوفوں کی حفاظت ميں نمازيں پڑھی جارہی ہيں۔ دنيا کے کس ملک ميں مسلمان اتنے غير محفوظ ہيں؟

ڈاکٹر جواد احمد خان کہا...

ایک بار David Icke نے مغربی ذہنیت پر طنز کرتے ہوۓ کہا تھا کہ یہ انتہائی درجے کے منافق ہیں...اسکی مثال اس نے سپر بال میں وقفہ کے دوران ہونے والے گانے میں گلوکاروں کی طرف سے ہونے والے فحاشی کے ایک مظاہرے پر جسے پورے امریکا میں دکھایا گیا، تبصرہ کرتے ہوۓ کہا کہ " اس واقعہ پر بہت سے لوگوں نے کہا کہ اس واقعہ سے ہمیں دھچکا لگا ہے" پھر David Icke نے عراق ، فلسطین اور افغانستان میں ہونے والی بربریت کی تصاویر دکھاتے ہوۓ وہ تصاویر جن میں عورت بچے بوڑھے بے دردی اور سفاکی سے قتل کیے گئے تھے امریکی اور مغربی باشندوں سے سوال کیا کہ " یہ تصاویر دیکھہ کر تمہیں دھچکا کیوں نہیں لگتا اور تمہیں اپنی حکومتوں پر شرمندگی کیوں نہیں ہوتی."
یہ بات اب کوئی راز نہیں کہ انکے سارے خوش نما اور خوش کن اخلاقی اصول اور تہذیبی برتری کے سارے دعوے کھوکلے ہیں.عالم اسلام کے متعلق انکا رویہ انتہا درجہ کا منافقانہ ہے ...آج بھی اگر امریکا اگر کسی مسلم ملک پر حملہ کرنے جائے تو وہاں کے انسانی حقوق کے علمبردار، جنگ کے خلاف مہم میں یہ نہیں کہتے کہ یہ جنگ ناجائز ہے اور امریکی حکومت کو بیگناہ انسانوں کی جانیں لینے کا کوئی حق نہیں بلکہ یہ کہنا پڑتا ہے کہ اس جنگ میں ہمارے بچے مارے جائیں گے لہٰذا اس جنگ کو روکا جائے...

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

جمال۔
ہمیں معلوم ہے کہ یہ کون لوگ کرتے ہیں۔مسلمان کو کون مار رہا ہے۔
ذرا یہ تو بتاو۔۔اپنا نام وغیرہ چھپا کر کیوں تبصرے کرتے ہو؟
نام سے تو مسلمان ہی لگتے ہو!!
تو جناب آپ جیسے ہی مسلمانوں کو دھماکوں میں مار رہے ہیں۔
نہیں تو اسلام دشمنوں کی حمایت کیوں؟

ھارون اعظم کہا...

کمزور صرف شور کرتا ہے، جبکہ طاقتور مارتا ہے۔ فی الحال مسلمان کمزور ہیں، اس لئے مار کھا رہے ہیں۔

وقاراعظم کہا...

آج کل پورے بلاگستان میں بہت سارے باپ کے متلاشیوں کو مولوی کی پڑی ہے. فروعی مسائل کو ایسے دیکھاتے ہیں کہ جیسے یہی آج کا سب سے بڑا مسئلہ ہے. اس طرح کی بکواسیات کے ذریعے یہ اپنے آقا و مولا مغربی سامراج سے توجہ ہٹانا چاہتے ہیں. بات جب ان کے آقائوں کی جائے تو کتے کی طرح بھونکنے لگ جاتے ہیں. حضور آپ ہی بتائیے کہ عراق و افغانستان کے لاکھوں مسلمانوں کے لہو کا موازنہ یہاں ان ہی کے ایجنٹوں کے ہاتھوں شہید کیے جانے والے مسلمانوں سے کرتے ہیں اور بڑی ہی ڈھٹائی اور بے غیرتی سے اپنے آقائوں کی حمایت کرتے ہیں. شرم ان کو مگر نہیں آتی....

محمد سعد کہا...

معتدل لوگوں کی تو کیا ہی بات ہے! کھوپڑیوں کے مینار بنا دیں تب بھی معتدل ہی کہلائیں گے۔

جاوید گوندل ۔ بآرسیلونا ، اسپین کہا...

یاسر بھائی!

مانگنے والے کو "اختیار" کا حق نہیں ہوتا۔ جو اسے ملے اسے لینا پڑتا ہے۔ میری رائے میں، اپنے تعیش کے لئیے پوری قوم کو دیوار کے ساتھ لگانے والے ہمارے اپنے حکمران اور انتظامیہ ہے۔ اگر یہ خوف خدا اور اپنے عوام کی بھالئی کو مدنظر رکھتے ہوئے کاروبارِ ریاست کے معاملات چلائیں تو یہ نوبت ہی نہیں آئے گی کہ ہم گھر کی دال روٹی کے لئیے مغرب کے محتاج ہوں۔ جب ہمارے دشمن ہمارے وہ لوگ ہیں جو مسند اقتدار پہ بیڑھ کر محض اپنے مفادات کا تحفظ کرتے ہیں اور ملک و قوم پہ قابض بھی اسی لئیے ہوتے ہیں کہ اس طرح حرام کھانے میں کوئی امر مانع نہیں ہوتا اور حرام ملتابھی بہت ہے۔ اور اسی پہ بس نہیں۔ جو قومیں انکے سامنے حرام ڈالتی ہیں وہ ایک آدھ یا چند سو کو حرام ڈال کر بدلے میں پورے ملک کا سودا کر لیتی ہیں۔ ایسی امداد دینے والی قومیں یہ بات بخوبی جانتی ہیں اور من پسند افراد کو سامنے لانے اور انہیں اہم عہدوں پہ بٹھانے کے لئیے سر توڑ کوششیں کرتی ہیں اور بد قسمتی سے پاکستان جیسے ممالک میں انہیں ایک کے بعد دوسرا ننگ ملت اور بکاؤ مال مل جاتا ہے۔ ایسی قومیں اپنے نفع نقصان کو ایک بنئیے کی طرح پرکھتی ہیں اور جانتی ہیں کہ چند سو لوگوں پہ سرمایہ کاری کرکے وہ ایک ایسے ملک اور اسکی قوم پہ قابض ہوجاتی ہیں جو ترقی کر کے انکے لئیے مستقل میں درد سر بن سکتی ہے۔ بلکہ الٹا انہیں منافع ہی منافع ملتا ہے کہ یوں وہ ایسی قوم کے وسائل پہ ببھی قابو پالیتی ہیں۔ یوں حکومت اور اس ملک کے وسائل دونوں امداد دینے والے ممالک کی جیب میں ہوتے ہیں۔ اور بے چارے عوام سر پھٹول کرتے رہتے ہیں۔

دنیا میں اور خاصکر اسلامی دنیا میں جتنی بھی حکومتیں موجود ہے ۔ جتنے بھی حکمران اقتدار میں ہیں۔ ان میں سے ایک آدھ کو اشتناء حاصل ہے ورنہ سبھی کسی بڑی کارپوریشن کے کنٹری ایگزیکٹو نظر آتے ہیں جو اپنے عوام کی امنگوں کا خون کرتے ہیں اور مغرب کی تنخواہ پہ اپنے ہی ملک کے وسائل ایسی قوموں کو لٹاتے ہیں۔ یہ کھیل پچھلی چھ سات دہائیوں سے جاری ہے اور ہمارے ملک پاکستان جیسے ممالک میں اسقدر راسخ ہوچکا ہے کہ بے چارے عوام بھی یہ کہنے پہ مجبور ہوجاتے ہیں کہ تاج شاہی اسکی پیشانی کی زینت بنے گا جس پہ امریکی ہما کا سایہ ہوگا۔

خیرات کھانے والے۔ ہاتھ پھیلانے والے۔ سب سے پہلے جس شئے سے محروم ہجاتے ہیں اور بھیک جس شئے پہ سب سے پہلے حملہ کرتی ہے وہ غیرت ہے۔ تاریخ شاہد ہے کہ بھیک مانگنے والوں کی کوئی عزت نہیں ہوتی۔

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

ساڈی مرضی جو دل میں آئے گا کریں گے۔ویسے میں انتہا پسند ہوں :D :D

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

بجا فرمایا۔
شیر اور لگڑبھگے میں یہی فرق ہے۔
شیر شکار کرکے کھاتا ہے اور لگڑ بھگا بچی کھچی ہڈیاں جھنجھوڑتا ہے۔

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

یہ حدود اربعہ اپنا چھپاتے ہیں اور کہتے ہیں۔مسلمان دھماکے کرتا ہے۔
مردود سبھی کچھ یہی کرتے ہیں۔

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

مسلمان تو جناب اسلام کی ابتدا ہی سے کمزور تھا۔
یہ مار کھانے والی بات کمزوری سے کوئی تعلق نہیں رکھتی۔
حب دنیا کی وجہ سے مار کھا رہا ہے مسلمان۔

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

مسئلہ ہمارے اندر کے خبیثوں کا ہے۔
یہ ہر بات میں اسلام اور مسلمان دشمنی کرتے ہیں۔

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

مولوی نے امت کو ہی تقسیم کیا ہے نا۔
لیکن اس مولوی نے آپ کے ساتھ ایسا کیا کردیا جو مرچیں چبائے گھوم رہے ہیں؟
یہ مولوی نہ ہوتو نہ جانے کیا کیا تماشے دیکھنے کو ملیں!!۔

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

گستاخی کی پیشگی معذرت محترم۔
شیر بننے کیلئے مردار کھانا چھوڑنا پڑے گا۔
اور ادھر تو رگ رگ میں حرام و ھڈحرامی گھسی پڑی ہے۔

سعد کہا...

یہ ہماری اپنی کمزوری ہے۔ اگر ہم اتنے مضبوط ہوتے تو کسی کی سات سمندر پار بھی ہمت نا ہوتی کہ ناموسِ رسالت یا اسلام پر انگلی اٹھا سکے۔ کمزور کو ہر طرف سے مار ہی پڑنی ہے سو وہ پڑ رہی ہے۔

سعد کہا...

آپ مولویوں کو امت سے نکال کر متحد ہوجائیں نا۔ تب بھی مار آپ کو ہی پڑے گی!

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.