سوالنامہ

تمام محترم خواتیں و حضرات  اور لائق و نالائق شاگردوں سے گذارش ھے کہ مندرجہ ذیل سوالات کے جوابات دیں۔


 انٹارکیٹکا میں “موج میلہ” کا بندوبست کیا ہے؟۔


 رات ہوتے ہی “زلف کے پریشان “ہونے کی واردات کو کیا نام دیا جاتا ہے؟۔


 ہم پیالہ و نوالہ باہم خلط ملط ہونے پہ “دائیں بازو” کے احتجاج کا کوئی شائبہ تونہیں؟۔


 نیز کیا نام نہاد روشن خیالی کے نام پہ پاکستان میں رائج فیشن کی طرح انٹا رکٹیکا کے وسائل کو “گھر کی مرغی” سمجھا جاسکتا ہے؟


۔تفضیلات درکار ہیں۔ جعلی تفاخر اور فضول ضد پہ واہ واہ کرتے :شاگرد عزیز” اور خود سے کہی اور لکھی “گمنام” قسم کی خوشامدوں اور چاپلوسیوں  پربارہ سنگھے داد تحسین کے ڈونگرے برساتے ہیں یا نہیں ؟۔


 آخر میں ایک اہم سوال ہے کیا انٹا رکٹیکا میں جھاڑیاں ہوتی ہیں یا نہیں اور بارہ سنگھوں کو جھاڑیوں میں سینگ پھنسانے کی جبلت پہ ان کی پیٹھ ٹھونکے پہ کوئی قدغن تو نہیں؟ ۔


مصنف سوالات جاوید گوندل بارسلونا والے صاحب کا خلاصہ استعمال کرنا قطعاً ممنوع ہے۔


 مزید سوالات آپ کے جوابات آنے تک موقوف کیئے جاتے ہیں۔


مزید سوالات کیلئے مصنف سوالات سے رجوع کیا جائے گا۔


 

سوالنامہ سوالنامہ Reviewed by یاسر خوامخواہ جاپانی on 4:35 PM Rating: 5

21 تبصرے:

خرم ابن شبیر کہا...

یہ کیا چکر ہے جناب

فارغ کہا...

انٹارکیٹکا میں “موج میلہ” کا بندوبست کیا ہے؟۔
کوئی بندوبست نہیں ہے. موجیں شائد برف کے نیچے مل جائیں پر میلہ کا بندوبست خود کریں
رات ہوتے ہی “زلف کے پریشان “ہونے کی واردات کو کیا نام دیا جاتا ہے؟
جو دل چاہیں دیں کوئی پابندی نہیں
ہم پیالہ و نوالہ باہم خلط ملط ہونے پہ “دائیں بازو” کے احتجاج کا کوئی شائبہ تونہیں؟
انٹارتیکا پر سردی کی وجہ سے دایاں اور بایاں بازو دونوں بےکار ہی ہوتے ہیں سو کوئی شائبہ نہیں
نیز کیا نام نہاد روشن خیالی کے نام پہ پاکستان میں رائج فیشن کی طرح انٹا رکٹیکا کے وسائل کو “گھر کی مرغی” سمجھا جاسکتا ہے؟
جو دل میں آئے سمجھیں :lol:

سعد کہا...

مجھے کوئی جواب نہیں آتا۔ میں اس امتحان میں فیل۔

عمران اقبال کہا...

یاسر بھائی۔۔۔ میں تو صرف آپکے آخری سوال کا جواب دینے کی جسارت کر سکتا ہوں اور وہ یہ کہ بارہ سنگھا چاہے انٹارٹیکا کا ہو یا کراچی کا۔۔۔ بے چارے کی پیٹھ کوئی بھی نہیں تھپکتا۔۔۔ بےچارہ اتنا معصوم جانور ہےکہ اپنے بھولے پن کی وجہ سے جھاڑیوں میں پھنس بھی جاتا ہےاور پھر بعد میں اساتذہ کرام کی جگتیں بھی جھیلتا ہے۔۔۔ مزید یہ کہ اگر کوئی رحمدل استاد اس کی ہمت افزائی کے لیے پیٹھ تھپک بھی دے تو وہ پھولے نہیں سماتا اور کھوتے کی طرح استاد کو ہی دولتی مار دیتا ہے اور پھر اپنی اوقات سے باہر ہو کر دوسری جھاڑیوں میں دوبارہ اپنے سینگ پھنسا دیتا ہے۔۔۔۔ بے چارہ بارہ سنگھا۔۔۔ ویسے آج کل بارہ سنگھا پایا کدھر جاتا ہے۔۔۔؟

تانیہ رحمان کہا...

میں نے کافی غور اور سوچا ۔ جواب بھی مل گیا ۔ لیکن پھر سوچا اور سوچتی ہی رہی ، تب جوابات بھول گئی ۔۔۔ 8O 8O

محمد احمد کہا...

خوب موج میلہ لگایا ہوا ہے آپ لوگوں نے بلاگستان میں. :-)

ان سوالات کے جواب تو میرے پاس نہیں لیکن میرا خیال ہے کہ دو چار دن کے موج میلے کے بعد سب بلاگرز اپنی اپنی ڈگر پر آ جائیں تاکہ بلاگستان کی رنگا رنگی اور بلاگرز کی انفرادیت برقرار رہے. 8)

ڈاکٹر جواد احمد خان کہا...

یاسر بھائی !
بڑا گھن چکر ہے ...اس سارے سوالنامہ اور برادر اعظم کے بلاگ میں اس تحریر کا پس منظر نہیں سمجھ سکا. کچھ مزید اشارے دیے جائیں.

افتخار اجمل بھوپال کہا...

ميں دو جماعت پاس ہوں اسلئے آپ کے سوالوں کا جواب نہيں دے سکتا
مگر ايک بات ميں خوب اچھی طرح جانتا ہوں کہ ميں ستّر سال کا ہو چکا ہوں اسلئے آپ سب بلاگرز کا بزرگ ہوں چنانچہ آپ کو ميری بات ماننا چاہيئے اور انٹارٹيکا کا خيال چھوڑ کر سب کو خلوصِ نيت سے تحقيق کرنا چاہيئے کہ اپنے وطن ميں بجلی اور گيس کی فراوانی کيسے ہو گی ؟
ہمتِ مرداں مددِ خدا

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

دنیا گول گول والا گول گول چکر ہے جی۔

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

آپ لائق بچے کوشش کر کے دیکھئے۔

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

کسی آنٹی کے در پر پڑا ہو گا جی۔

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

آپ یاد کریں۔۔۔یاد آجائے تو پوسٹئے۔

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

بس جی خون گرم رکھنے کا ہے اک بہانہ :D

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

:D چند دنوں میں بلی تھیلے سے باہر آجائے گی

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

محترم اجمل صاحب۔
معذرت میرا سپیم فولڈر سو سے زیادہ واہیات تبصروں سے بھر گیا تھا۔اس لئے کچھ ایسا لکھنا پڑ گیا۔

وقاراعظم کہا...

میں نے تو جی آنکھوں دیکھا حال ہی بیان کرنا ہے. تو حضور والا موج میلہ کا بندوبست کہاں نہیں ہوتا؟ بس بندہ قیمت اداکرنے والا ہو تو کسی چھوٹے سے اگلو میں بھی میلہ لگایا جاسکتا ہے۔ یہی حال انٹارکٹیکا کا ہے۔
ہم پیالہ و نوالہ کو اگلو کی خلوت میں عوام الناس کو متاثر کیے بغیر باہم خلط ملط ہونے کی آزادی ہے۔
ویسے تو انٹارکٹیکا کو پہلی نظر میں دیکھ کر ایسا لگتا ہے کہ شاید دوائیں بازو کے نظریات کا غلبہ ہے لیکن درحقیقت اندورن خانہ ہرطرح کی آزادی میسر ہے۔ اور بائیں بازو سے تعلق رکھنے والوں نے دائیں بازو والوں کے چند اصول و ضوابط کا لحاظ کرتے ہوئے بقائے باہمی کی فضا پیدا کی ہوئی ہے. یعنی اگلو آپ کی ملکیت ہے وہاں بغیر کسی کو متوجہ کیے سب کرتے چلے جائو....
دادوتحسین کے ڈونگرے برسانے والوں اور باراسنگھوں کی کہیں کمی نہیں ہے. خود انٹارکٹیا بھی اس سے محروم نہیں ہے. بس یہاں ان باراسنگھوں کی کھال کچھ موٹی ہوتی ہے.
انٹارکٹیکا میں جھاڑیاں تو نہیں ہاں اگلو وافر مقدار میں پائے جاتے ہیں اور ان باراسنگھوں نے حالات سے مطابقت پیدا کرنا بخوبی سیکھ لیا ہے. لہذا وہاں یہ جھاڑیوں میں نہیں اگلو میں گھس کر پھنس جاتے ہیں اور اپنے اس فعل پر بائیں بازو والوں سے داد و تحسین ہی سمیٹتے ہیں۔

حجاب کہا...

میں بارہ سنگھا کی تصویر دیکھ لوں پہلے اس کے بعد جواب دیتی ہوں :P

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

بغیر چمڑی کی تصویر دیکھنے کو ملے گی :D

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

یہی موج میلہ کرنا ہو تو اتنا لمبا سفر کرنے کی کیا ضرورت یہیں پہ منہ کالا کر لیا جاتا تو خرچہ کم ہوتا۔یہاں پسندیدہ جھاڑیاں بھی میسر ہیں۔ :D

ڈاکٹر جواد احمد خان کہا...

ویسے بھینسے اور شاگرد عزیز کے ذکر سے یہ تو معلوم ہوگیا ہے کہ یہ باتیں کن کے متعلق ہے لیکن باقی ضروری تفصیل موجود نہیں...برائے مہربانی بلی کو جلد باہر نکال لیں ...مجھے تو تجسس اور سنسنی خیزی کی وجہ اختلاج قلب ہونے لگا ہے... 8O

ڈاکٹر جواد احمد خان کہا...

معاف کیجیے گا بارہ سنگھے کو بھینسا لکھہ دیا ..تمام بھینسوں سے معزرت .

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.