تیونس

تیونس کی تیئس سالہ مضبوط حکومت اچانک ختم ہو گئی ۔اور تیونس کے صدر بھاگ کر سعودی عرب میں جا کر پناہ گزین ہوئے۔غیر ممالک کی سرمایہ کاری، یورپ کو برآمدات کے لئے محنت اور مستقبل کیلئے مثبت معاشی پالیسز کی وجہ سے تیونس کو شمالی افریقہ کا نہایت لائق طالب علم کہا جاتا تھا۔ لیکن نوجوانوں کی بیروزگاری اور بھگوڑے سابقہ صدر بن علی اور صدر کے قریبی ساتھیوں کی کرپشن لوٹ مار نے تیونس کی معاشیت کے کھوکھلے نعروں کا عوام پر الٹا اثر ہوا اور عوام سڑکوں میں نکل آئے۔


تیونس میں اپنے پڑوسی ممالک لبیا یا الجیئریا کی نسبت قدرتی وسائل کی کمی ہے۔یورپ سے نزدیک ہونے کی وجہ سے سیاحت میں کافی ترقی یافتہ ملک ہے۔گزشتہ چند سالوں میں سستی افرادی قوت ہونے کی وجہ سے صنعتی پیداوار میں بے تحاشہ اضافہ ہوا تھا۔پچھلے دس سالوں میں تیونس کا جی ڈی پی دوگنا ہو کر سالانہ چار ہزار ایک سو ڈالر ہو چکا تھا۔تیونس کی آبادی ایک کروڑ ہے اور آدھی آبادی تیس سال سے کم عمر کے افراد کی ہے۔


گذشتہ سال سرکاری سطح پر بیروز گاری کی شرح تیرہ فیصد بتائی جارہی تھی۔لیکن قیاس کیا جاتا ہے کہ بیروز گاری اس سے زیادہ تھی۔ سابقہ صدر بن علی کے عزیز و اقارب کی سرکاری صنعتوں کی نج کاری سے منافع خوری عروج پر تھی۔لیکن حکومت کے خلاف کسی قسم کی بیان بازی کرنے کی اجازت نہیں تھی۔عوام کو ڈنڈے کے زور پر خاموش کر دیا جاتا تھا۔


 گذشتہ ماہ ایک بے روزگار نوجوان کی اپنے آپ کو آگ لگا کر خود کشی کرنے کی وجہ سے عوام کے دلوں کا غبار سڑکوں پر نکل آیا اور صدر بن علی کو تئیس سالہ آمرانہ اقتدار چھوڑ کر سعودی عرب میں پناہ گزین ہونا پڑا۔ آمر صدر بن علی بھی امریکہ کا پٹھو تھا۔ اس لئے امریکہ نے کبھی بھی اس آمرانہ حکومت کے خلاف کوئی بات نہیں کی۔یہ ہی حال تقریباً دوسرے عرب ممالک اور پاکستان کا ہے۔


  اگلے چند ماہ میں مہنگائی میں بے تحاشہ اضافہ ہو گا۔ اس سال  میں نے پاکستان میں  نے محسوس کیا کہ گندم کی پیداوار بہت ہی کم ہونے کے امکانات ہیں۔لیکن حکومت پاکستان نے جیسے انڈیا کو پیاز برآمد کرنے کی اجازت دے دی ہے۔اسی طرح ایکسپورٹر گندم کو برآمد کر رہے ہیں۔اجازت حاصل کرکے برآمد کرنے والے تو شاید اچھے کاروباری ہیں۔لیکن جو مسلسل اسمگلنگ کر رہے ہیں۔ انہیں تو کسی قسم کی اجازت کی ضرورت نہیں ہے۔


حکومت پاکستان کے حکمرانوں کی حالت یہ ہے کہ انہیں کھانے کو اور اڑانے کو مل رہا ہے۔حالات میں بہتری کیلئے وہ لوگ جد و جہد کرتے ہیں۔جنہیں احساس ہو کہ وہ غریب غربا ہیں یا اسی ملک میں اگلی نسلوں کو پالنا ہے۔ان کی نسلیں دنیا کے مہنگے ترین ممالک میں آسانی سے زندگی گذار رہی ہیں۔انہیں اس سے کیا کہ عوام ننگی رہتی ہے یا بھوکی سوتی ہے۔


اور عوام کی حالت یہ ہے کہ حالات میں بہتری کیلئے کچھ کرنے کی نسبت گھر کے ایک عدد بندے کو باہر بھیج کر خوش ہو جاتے ہیں کہ اب کھانے کو مل جائے گا۔ تیونس کی ایک کروڑ آبادی میں سے صرف دس ہزار لوگ احتجاج کیلئے سڑکوں پر نکلے اور صدر بن علی بھاگ گیا۔ ہماری عوام روز نکلتی ہے اور رات کو جاکر سکون سے سوجاتی ہے۔


وہ انسانوں کا ٹولہ تھا،اور یہ بھیڑوں کا اجتماع ہوتا ہے۔مینگنیں کرتے ہیں اور گھر واپس چلے جاتے ہیں۔ خود کشیاں ہمارے ملک میں روزانہ ہوتی ہیں۔آگ لگا کر بھی اور ٹرین کے نیچے کٹ مر کر بھی۔


 کتنے لوگ ان کا درد محسوس کرتے ہیں؟ کتنے یہ کہہ کر گذر جاتے ہیں کہ یہ تو جہنمی ہے۔اگر خودکشی کرنے والا جہنمی ہے تو اس جہنمی کیلئے آواز نہ اٹھانے والا کیا ہے؟


 اور جنہیں سیاسی لیڈر ہونے کا دعوی ہے انہیں الٹی سیدھی حرکات سے ہی فرصت نہیں وہ عوام کیلئے کیا سوچیں گے۔عوام سسک سسک کر جی رہے ہیں۔۔لیکن قربانی دے کر اگلی نسل کیلئے کچھ کرنےکی سوچ کی صلاحیت سے ہی فارغ ہیں۔ ایسی عوام کا حال ایسا ہی ہونا چاھئے۔

تیونس تیونس Reviewed by یاسر خوامخواہ جاپانی on 10:43 AM Rating: 5

3 تبصرے:

Tweets that mention تیونس | عام بندے کا حال دل -- Topsy.com کہا...

[...] This post was mentioned on Twitter by UrduFeed, Urdublogz.com. Urdublogz.com said: UrduBlogz-: تیونس http://bit.ly/e1lpYr [...]

مولوی کہا...

تیونس کے مفرور صدر زین العابدین بن علی کو سعودی عرب نے سیاسی پناہ دیدی ہے۔ انہیں جدہ پیلس میں انتہائی نگرانی فراہم کی گئی۔ دوسری جانب تیونس میں تشدد کا سلسلہ جاری ہے جس میں مزید 40 افراد ہلاک ہوگئے ہیں جبکہ پارلیمنٹ کے اسپیکر فواد میباذا نے قائم مقام صدر کا حلف اٹھاتے ہوئے ملک میں 60 روز کے اندر عام انتخابات کرانے کا اعلان کردیا ہے

جاوید گوندل ۔ بآرسیلونا ، اسپین کہا...

قوم "اوتر نکھتر" ہوگئی ہے۔

قحطالرجال۔۔

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.