روشن خیالی اور ہمارے سائیں جی

ایک دفعہ سائیں جی سخت پریشان اور بکھلائے ہوئے ایک دائرے میں گول گول گھومی جارہے تھے۔


کہ ایک ہمدرد نے پوچھا سائیں جی کیا پریشانی ہے؟ سائیں جی نے دوچار تبرکاتی الفاظ ادا کئے اور اپنے کام میں مست ہو گئے۔ تمام لوگ جن کی بھی سائیں جی پر نظر پڑتی تھی وہ سمجھ جاتے تھے۔کہ بندہ مجنون ہے۔


 کوئی شغل کیلئے گپ لگا لیتا تھا تو کوئی انسانی ہمدردی کے طور پر۔ گپ شپ لگانے کے بعد سائیں جی کو کوئی چائے پانی دے تو سائیں جی نعرہ مستانہ لگاتے تھے اور اپنا رستہ چل پڑتے تھے۔ بات ہورہی تھی سائیں جی کی پریشانی کی سائیں جی دائرے میں ہی گول گول گھوم رہے تھے۔اور دیکھنے والوں کو ترس آرہا تھا۔کہ سائیں جی کو آرام کیسے پہونچائیں ۔


 لیکن کوئی ڈر کے مارے سائیں جی کو روکتا بھی نہیں تھا۔اتنے میں ایک سمجھدار بندے نےسائیں جی کیلئے چائے منگوائی اور سائیں جی کو اپنے پاس بیٹھا لیا۔ سائیں جی سےپریشانی کی وجہ پوچھی تو سائیں جی جلالی لہجے میں بولے کہ جامعہ مسجد کے مولوی صاحب کا سارا قصور ہے۔


 سائیں جی سے وضاحت طلب کی گئی تو سائیں جی بولے کہ جمعہ کی نماز کیلئے مسجد گیا تھا۔اور امام مسجد صاحب کا خطبہ سنا۔بس اس دن کے بعد سے پریشان ہوں۔ مولوی صاحب نے فرمایا تھا کہ پل صراط کو پار کرنا ہے ۔ پل صراط دھاگے جتنا پتلا اور تلوار کی دھار کی طرح تیز ہے۔جب بندہ پل صراط سے گذرے گا تو جو گذر گیا وہ جنت میں جو نہ گذر سکا وہ نیچے جہنم میں جا گرے گا۔


 سائیں جی سے پوچھا گیا۔تو اس میں پریشانی والی کیا بات ہے؟!!۔ سائیں جی بولے لالہ جی پریشانی والی ہی تو بات ہے۔


پل صراط کے اس پار جنت ہے جہاں کھانے کو پھل اور پینے کو شراب ملے گی۔پل صراط کے نیچے جہنم ہے جہاں کھانے کو انگارے اور پینے کو پیپ ملے گی۔ سوکھی روٹی اور چائے نہ جہنم میں اور نہ ہی جنت میں ملے گی۔میرا تو پکا ارادہ ہے میں نے پل صراط پار ہی نہیں کرنا۔


میں اس کنارے ہی ٹھیک ہوں۔ لالہ جی بولے تو سائیں سرکار ٹھیک ہے اس پار ہی سہی اس میں پریشانی والی بات کیا ہے۔آپ نہ چڑھیں پل صراط پر!!


سائیں جی کچھ تبرکاتی الفاظ ادا کرنے کے بعد بولے۔


او لالہ جی!!۔ پریشانی یہ ہے کہ مجھے نہیں معلوم اس کنارے بھی روٹی چائے ملے گی کہ نہیں؟!۔


 لالہ جی تو سائیں جی کی پریشانی دور نہ کر سکے آپ ہی سائیں جی کی مدد کرکے  پل صراط پار کر جائیں یا ۔۔۔۔۔۔۔

روشن خیالی اور ہمارے سائیں جی روشن خیالی اور ہمارے سائیں جی Reviewed by یاسر خوامخواہ جاپانی on 7:27 PM Rating: 5

8 تبصرے:

جاوید گوندل ۔ بآرسیلونا ، اسپین کہا...

تو یہ روشن خیال اپنی چائے روٹی کے لئیے سارا الزام مولوی کو دے رہے ہیں۔

افتخار اجمل بھوپال کہا...

ميرا خيال تھا کہ سائيں روشن خيال نہيں ہوتے ۔ آپ کی تحرير پڑھ کر تحقيق کی تو معلوم ہوا کہ آجکل روشن خيال سائيں ہی ہوتے ہيں اور ايک ہی دائرے ميں گھومتے رہتے ہيں ۔ مزيد صرف اس کی طرف ديکھتے ہيں جو اُنہيں کچھ دے باقی سب کو تبرّے سناتے ہيں

سعد کہا...

روشن خیال ایک دائرے میں گھومتے ہیں یا تنگ نظر؟ سوچ کر بتائیں زرا :D

وقاراعظم کہا...

سارا مسئلہ ہی یہ ہے کہ سائیں جی کو صرف چائے سے رام کرنے کی کوشش کی گئی، اگر ڈالر شالر دیکھاتے تو سائیں جی مان جاتے بلکہ لوگوں کنوینس بھی کرتے کے چائے اور روٹی پل صراط کے اس پار بھی ملتی ہے. میں نے خود دیکھا ہے.... :mrgreen:

امتیاز کہا...

مجے دار تحریر ہے جی ۔۔
سائیں جی تو بڑے سیانے نکلے۔۔

عمران اقبال کہا...

جناب۔۔۔ سائیں جی ہوں یا مولوی صاحب ہوں اور یا ہم اور آپ ہوں۔۔۔ ہمارے پاس کوئی آپشن ہی نہیں ہو گی اس دن جب پل صراط سے گزرنا ہوگا۔۔۔ پتا نہیں سائیں کس دنیا کے لوگ ہوتے ہیں جو اس حد تک مان اور منا لیتے ہیں کہ وہاں چائے شائے کا بندوبست ہو جائے گا۔۔۔
اللہ اس دن ہمیں اور ہمارے اعمال کو اس قابل بنائے کہ ہمیں وہاں چائے شائے کیا، شراب، کباب اور پھل فروٹ بھی مل جائیں۔۔۔

Tweets that mention روشن خیالی اور ہمارے سائیں جی | عام بندے کا حال دل -- Topsy.com کہا...

[...] This post was mentioned on Twitter by UrduFeed. UrduFeed said: روشن خیالی اور ہمارے سائیں جی http://nblo.gs/cWVME [...]

ایم اے راجپوت کہا...

عمران اقبال بھائی آپ نے ٹھیک کہا۔۔آمین

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.