ماضی کا سفر

ستائیس دسمبر کو اچانک پاکستان جانے کا پروگرام بن گیا۔جانا تو کہیں اور تھا۔سال کا آخر ہونے کی وجہ سے کسی اور ملک میں رہنے والوں نے لفٹ نہ کروائی تو پاکستان کی طرف منہ کر لیا۔ ایئرپورٹ پر پہونچے تو آدم بو آدم بو کرتے ہوئے لمبے لمبے دانت نکالے خونی آنکھوں والوں نے ہمارا اوپر سے نیچے تک جائزہ لینا شروع کردیا۔ہمارا خوف سے برا حال ہو گیا۔


ہم عموماً ایک عدد بیگ کے ساتھ سفر کرتے ہیں۔ہلکے پھلکے ہوتے ہیں۔ سوچا۔ یا اللہ اب کیا ہو گیا۔ان آدم خور نما حضرات سے پوچھا آپ کے ساتھ کیا مسئلہ ھے۔ہم تازے ضرور ہیں موٹے نہیں ہیں کہ آپ تمام حضرات کیلئے خون مہیا کر سکیں۔تمام حضرات خونی مسکان سے بولے۔بے فکر رہیں کہ ہمیں آپ کے کڑوے خون سے کوئی دلچسپی نہیں ھے۔ صرف آپ ہمارا بوجھ اٹھا لیں۔ہم نے کہا خواتین و حضرات ہم ویسے ہی ننھے منے ہیں اتنا دم خم تو ھے نہیں کہ اتنے حضرات کا بوجھ اٹھا لیں۔بحرحال ان حضرات میں سے جو زیادہ شاطر تھے۔انہوں نے ہمارے پاسپورٹ پر اپنا بوجھ پی آئی اے کی لنگڑی لولی پتنگ پر ڈال دیا۔جس پر ہم سوار ہو کر پاکستان چل دیئے۔


 بندہ موٹا ہو یا تازہ ہو یا بے شک باسی ہو پی آئی اے بندے کا بوجھ جمع تیس کلو سے زیادہ نہیں اٹھاتی اگر زیادہ ہو تو ظالم پیسے مانگتے ہیں جس پر جاپان ائیر پورٹ پر ہی گالی گلوچ سننے کو ملتی ھے۔اگر کوئی بدیسی ائیر لائن ہو تو یہ معززین نہایت شرافت سے ایک دو کلو سامان جو زیادہ ہو جائے اس کے پیسے دیتے ہیں خاموشی بیٹھ جاتے ہیں ۔ایک تو ہمارا قومی مزاج ھے کہ بغیر کسی پلاننگ سےگدھے کی طرح منہ اٹھا کے چل پڑتے ہیں اور ہوس اتنی کہ غیر ضرور سامان بھی خرید لیتے ہیں ۔اور خود غرض اتنے کہ چمڑی جائے تو جائے دمڑی نہ جائے پہ اس طرح عمل کرتے ہیں ۔کہ ہندو بیچارہ خوامخواہ میں بد نام ھے۔لیکن ہیں ہم جدی پشتی خوامخواہ کے پھنے خان ۔


پاکستان کے انٹر نیشنل ائر پورٹ پر بحفاظت اترنے پر اللہ کا شکر ادا کیا۔ اترنے کے بعد امیگریشن کی لمبی لائن میں اٹین شن ہو کر کھڑے ہو گئے۔ہمارے ساتھ ٹوکیو سے کچھ معززین جاپان بھی تشریف لائے تھے۔جو ہمیشہ پاکستان کی لاقانونیت کا رونا روتے ہیں۔اور ہمیشہ انہی حضرات کی زبان سے پاکستانیوں کی بد اخلاقی ،بد تنظیمی کا سنتے رہتے ہیں۔ یہ سب حضرات نہایت اعلی تعلیم یافتہ اور پاکستان میں میری طرح غریب طبقے یا گھٹیا طبقے کے حضرات نہیں ہیں۔ہم کیونکہ پاکستان کے گھٹیا طبقے سے ہیں اس لئے خاموشی سے لائن حاضر کھڑے تھے۔


کہ دیکھا ایک پولیس افسر صاحب تشریف لائے اور پانچ عدد معزز حضرات کو نہایت ہی احترام سے ٹخنوں تک جھک کر سلام کیا ہم سمجھے یہ پولیس افسر صاحب سجدہ نشین ہو رہے ہیں۔وقت نماز بھی نہیں تھا اور یہ افسر صاحب کوئی مومن صاحب بھی نہیں لگ رہے تھے۔اس لئے ہم زیادہ دیر غلط فہمی میں مبتلا نہیں رہے۔قصہ مختصر ہم لائن میں کھڑے ہی رہے اور ان حضرات کو افسر نکال کر لے گئے۔ایک امیگریشن افسر نے کچھ دیکھے بھالے بغیر کھڑے کھڑے ان کے پاسپورٹ پر مہر لگائی اور وہ صاحبان نکل چلے۔ لیکن جاپان کے ائیر پورٹ پر ان وی آئی پی حضرات کے ساتھ کالے پیلے کافروں نے ایسا ہی سلوک کیا تھا جیسا ہم جیسے گھٹیا طبقے کے لوگوں کے ساتھ ہوتا ھے۔یعنی ہمارا بھی اور انکا سامان بھی ایک ہی پی آئی اے کی گدھا گاڑی میں بغیر کسی تفریق کے لوڈ کردیا تھا۔اس لئے جب ہم امیگریشن سے فارغ ہوکر باہر نکلے تویہ تمام حضرات سامان کے آنے کا انتظار کرتے پائے گئے۔ہمارے پاس تو دو چار کاچھے ہی ہوتے ہیں ۔ہم تو بغیر کسی انتظار کے نکلے گئے۔


لیکن اتنا ضرور سوچا کہ ان حضرات کو اتنا تماشہ کرنے کی بھی کیا ضرورت تھی۔اور کونسا ہمارا ائیر پورٹ دنیا کا مصروف ترین ائیر پورٹ ھے۔ تھوڑا سا ہم جیسےگھٹیا سے بندے کے ساتھ لائن میں کھڑے ہوکر ان صاحبان نے کچھ ثواب حاصل کیوں نہ کیا۔ہمیں ہی کچھ عزت دے دیتے ہم خوش ہو جاتے کے بڑے لوگوں کے ساتھ لائن میں کھڑے ہوئے اور کچھ لوگوں میں بیٹھ کر فخر ہی کر لیتے۔ پاکستان میں موجودگی کے دوران میں ہی سلیمان تاثیر کی ہلاکت کی خبر ملی۔جس دن یہ واقعہ ہوا اس وقت میں راولپنڈی سے ایبٹ آباد جارہا تھا۔ راستہ میں عام طبقہ کے لوگوں کی خیالات سننے کو ملے ہر شخص خوش تھا۔سب مزے  لےلے کر کہہ رہے تھے۔کہ کرنے والے نے کام بڑا زبردست اور اچھا کیا۔ ماحول ایسا بنا محسوس ہوتا تھا کہ اگر کوئی غلطی سے زبان کی کھجلی پر کنٹرول نہ کر سکے اور کہہ دے کہ یہ خونی کام نہیں ہونا چاھئے تھا۔ سمجھ لیں بندہ تو پکا جان سے گیا!۔


 جان بچ گئی تو بھی لنگڑا لولا ضرور ہو جاتا! ۔


ذمہ دار سیاستدان اور حکمران عوام کے مزاج کو سمجھنے کا دعوی تو ضرور کرتے ہیں۔


اور راتوں رات اپنے ملک کی عوام کو مغربی ملک کی عوام کے مقابل کھڑا کرنے کی خواہش رکھتے ہیں۔حکمرانی کے تکبر کے خناس کا انجام کچھ ایسا ہی ہوتا ہے۔


 دبا لیں ایک اور شہید عوام کو مٹی تلے۔


 عوام کو سہولیات دیں، شعور دیں۔ عوام کی زندگی آسان کرنے کا بندوبست کریں پھر بے شک مذہب کے نام پر بیچ چوراہےعوام کو ننگا نچوالیں۔ جی سلیمان تاثیر کے قتل کے بعد مولویوں نے مساجد کے سامنے مٹھائیاں بانٹیں۔خوشی کے نعرے لگائے۔ہم نے بھی مٹھائیاں کھائیاں نعرے مارے۔معلوم نہیں مولوی بھی شریک تھے یا نہیں لیکن اتنا ضرور معلوم ھے۔ کہ ایسی عظیم دینی خوشی کے موقع پرطوائفیں ناچی تو ہیں ہی کمی ہونے وجہ سے مجبوراً ہیجڑوں کو بھی نچوانا پڑا۔


کوئی شک ہو تواس واقعہ کے بعد کا مانسہرہ ایبٹ آباد وغیرہ کا لوکل اخبار ضرور پڑھ لیں۔میرے خیال میں ملک کے دوسرے علاقوں میں بھی ایسا ہی ہوا ہو گا۔جب دین کی سر بلندی کی خوشی میں مومنین ناچ گانا کرتے ہیں تو مجبوراً پینا پلانا بھی ہو ہی جاتا ھے۔ معصوم بچے تو ہیں نہیں کہ شراب و کباب سے پر ہیز کی جائے۔بحرحال ایسے کاموں سے اسلام کی توہین تو ہوتی ہوگی۔لیکن توہین رسالتﷺ نہیں ہوتی اس لئے چلتا ہے۔


ہمیں جب واپس جاپان بھاگنے کی طلب ہوئی تو معلوم پڑا کہ بیس جنوری تک پی آئی اے کی چاند گاڑی میں سیٹ نہیں ھے۔ لیکن چانس میں صلح ماری جاسکتی ہے۔ہم اللہ کا نام لیکر ائیر پورٹ پر چلے گئے۔ائر پورٹ پر جانے کی وجہ یہ تھی کہ ہمیں معلوم ہوا تھا۔کہ ہماری ویٹینگ لسٹ میں پہلی پوزیشن ھے۔اگر بیٹھنے کیلئے جگہ بنی تو ہمیں ہی لوڈ کیا جائے گا۔ ائیر پورٹ جا کر پی آئی اے کے کاونٹر پر حاضری لگوانے کے بعد ایک طرف شرافت کاکارٹون بن کر انتظار فرمانے لگے۔


تقریباً آدھے گھنٹے بعد دیکھا کہ ایک معزز صاحب تشریف لا رہے ہیں۔دو پولیس والوں کے ساتھ۔ یہ صاحب جاپان میں کافی عرصے سے رہائش پذیر ہیں۔فلپائن اور آسٹریلیا وغیرہ سے اعلی تعلیم یافتہ ہیں۔ہم اپنی کند ذہنی کی وجہ سے ان کی ڈگریوں کے نام یاد نہ کرسکے۔تو ہم نے ان صاحب سے پوچھا خیریت تو ھے۔کچھ سیدھا الٹا تو نہیں کر دیا؟ یہ صاحب بولے ارے بھائی دو ہفتے سے کوشش کر رہا ہوں۔سیٹ نہیں مل رہی تھی۔


ائیر پورٹ پر آکر جو پاکستان ا نٹر نیشنل بے نظیر بھٹو ائر پورٹ سے غیر ممالک پرواز کر نے والوں کے سامان کی تلاشی کرنے والے ہوتے ہیں ان  سے کہا کہ پی آئی اے میں کوئی جاننے والا ھے تو سیٹ کروادو۔ خدمت کردوں گا۔ان صاحب کا کہنا تھا۔کہ یہ دو پولیس والے کام چھوڑ کر میرے ساتھ آگئے ہیں اور میرا کام کردیں گے۔یعنی انہیں سیٹ دلوا دیں گے۔ہم ہکا بکا کھڑے کے کھڑے رہ گئے۔ان صاحب نے ہمیں بھی کہا کہ تین چار ہزار میں کام ہو جائے گا۔کیا خیال ھے؟ آپ کیلئے بات کروں ؟ ہم نے ہنس کےعرض کیا !نہیں ضرورت نہیں ھے! ہمارے دیکھتے ہی دیکھتے ان صاحب کو بورڈنگ کارڈ مل گیا ۔ہم بونگا سا منہ اٹھائے کھڑے تھے۔کہ وہ پولیس والے ہمارے پاس آئے اور ارشاد فرمایا۔کیوں اوئے جانڑا ای؟۔


 ہم نے لرزتے ہوئے عرض کیا کہ چاند گاڑی اڑ تو جائے گی لیکن باحفاظت اترنے کی اللہ میاں سے گارنٹی لے دیں تو رشوت دے کے کام کروالیتا ہوں۔اگر لازمی جانا ہوا توکل کسی بھی دوسری ائر لائن کا ٹکٹ لے لوں گا۔ایک عدد ناقابل اشاعت نہایت پیارے بھرے الفاظ بھی اپنی میٹھی زبان سے ادا کئے جس سے کچھ دل کو ٹھنڈی ہوئی ۔


اور نہ جانے کیوں دونوں پولیس والوں اور پی آئی اے کے ملازم کے نام اپنے پاس لکھ لئے اور دوبارہ بینچ پر بیٹھ گیا۔کچھ دیر بعد مجھے کاونٹر پر بلایا گیا۔اور ۲۳اے کی سیٹ کا بورڈنگ کارڈ مجھے دیا گیا۔ اور ہم صرف ہمارےہی خیال میں نہایت مستانہ دیکھنے والیوں کو مست کر دینے والے چال چلتے ہوئے چاند گاڑی میں بیٹھ کر جاپان آگئے۔ ہوائی جہاز میں ہماری ساتھ والی سیٹ بھی خالی تھی۔ہم ایک ٹکٹ میں دو سیٹوں پر لمبے لیٹ کر جاپان تشریف لائے۔جنہوں نےرشوت دیکر سیٹ لی تھی۔وہ درمیان والی سیٹ میں موٹے موٹے چینوں کے درمیان تشریف پھنسا کر جاپان تشریف لائے۔ ان صاحب کو امیگریشن تک چھوڑنے کے بعد میرے تنگ کرنے پر پی آئی اے کے ملازم اور پولیس والوں نے ہاتھ جوڑ کر کہا تھا۔ ہم کسی سے کچھ نہیں مانگتے کوئی اللہ کا پیدل بندہ خود پھنسے تو ھذا من فضل ربی!! ۔اب آپ ہماری جان چھوڑو اور آپ بھی جاو۔


پاکستان کی عوام سخت عدم تحفظ کا شکار ہے۔ ہر شخص حواس باختہ لگتا ھے۔دیار غیر سے جانے والے بھی اگر غیر محتاط ہوں تو حواس باختہ ہو جاتے ہیں۔


جیسی حرکات پاکستان کی مجبور عوام کرتی ہے ایسی ہی حرکات باہر سے قلیل عرصہ کیلئے جانے والے بھی کرنا شروع کر دیتے ہیں۔


پاکستان کی عوام کے مسئلے مسائل خود کاشتہ زیادہ ہوتے ہیں۔تھوڑا سا غور کیا جائے تو کوئی اتنا بڑا مسئلہ نہیں ہوتا لیکن لوگ خود اپنے آپ کو الجھاتے تو ہیں ہی دوسروں کو بھی الجھا دیتے ہیں۔


دیار غیر سے قلیل عرصے کیلئے پاکستان جانے والوں سے عرض ہے۔پاکستان کی عوام چاھے انپڑھ جاہل ہو یا تعلیم یافتہ ان کا مشاہدہ کریں۔


سب کی حرکات اور سوچ میں دلچسپ مطابقت محسوس ہوگی۔


خصماں نو کھاو تے سانوں کی!!!!۔

ماضی کا سفر ماضی کا سفر Reviewed by یاسر خوامخواہ جاپانی on 10:43 AM Rating: 5

8 تبصرے:

Tweets that mention ماضی کا سفر | عام بندے کا حال دل -- Topsy.com کہا...

[...] This post was mentioned on Twitter by UrduFeed and UrduFeed. UrduFeed said: ماضی کا سفر: ستائیس دسمبر کو اچانک پاکستان جانے کا پروگرام بن گیا۔جانا تو کہیں اور تھا۔سال کا آخر ہونے کی وجہ س... http://bit.ly/gdYjhX [...]

افتخار اجمل بھوپال کہا...

"پاکستان کی عوام کے مسئلے مسائل خود کاشتہ زیادہ ہوتے ہیں۔تھوڑا سا غور کیا جائے تو کوئی اتنا بڑا مسئلہ نہیں ہوتا لیکن لوگ خود اپنے آپ کو الجھاتے تو ہیں ہی دوسروں کو بھی الجھا دیتے ہیں"

ميرے ہموطنوں کو يہ عادت لے ڈوبی ہے ۔ ميرے ساتھ کئی بار ايسا ہوا کہ کہا گيا فلاں آدمی يا فلاں دفتر والے تو بغير بھاری رشوت کام نہيں کرتے ۔ ميں اَن سُنی کر کے گيا اور بغير حيل و حُجت کام ہو گيا ۔ ميں صرف اتنا کہتا تھا "آپ کی مہربانی ہو گی ۔ ميرا يہ کام کر ديجئے"۔ بعض اوقات مجھے عزت سے بٹھا کر چائے پلائی گئی اور اسی دوران ميرا کام کر ديا گيا ۔ ماری قوم کو احساس نہيں کہ قرآن شريف ميں راشی کا ذکر آيا ہے يعنی جو رشوت ديتا ہے وہ گناہگار ہے

امتیاز کہا...

آپ نے پولیس والوں کو چند ہزار روپے نہ دے کر ثابت کر دیا ہے کہ
آپ واقعی جاپانی شہریت رکھتے ہیں۔۔
کیا ہو جاتا اگر دو محنت کش افراد کا بھلاکر دیتے ۔۔
ان کے بچے کسی اسکول میں پڑھ لیتے
اور وہ ایک وقت کا کھانا کسی اچھی جگہ کھا لیتے۔۔

جعفر کہا...

زبردست لکھا ہے۔
اپنی ہی آپ بیتی لگی مجھے

وسیم بیگ کہا...

یاسر بھائی اپنی آب بیتی کو بہت اچھے لفظوں میں بیان کیا ہے بھائی پاکستان میں چھوٹا سے چھوٹا کام کرانے کے لیے بھی رشوت درکار ہے اس میں سمجھتا ہوں کے غلطی رشوت لینے یا مانگنے والوں کی نہیں .سب سے بڑی غلطی رشوت دینے والے کی ہے . اور اس جرم میں سب سے آگے ہم یہاں پردیس میں بسنے والے ہیں یہاں ہم کسی کام کے لیے گھنٹوں لائنوں میں کھڑے ہو لیتے ہیں لیکن اپنے دیس میں ہم لائن میں لگنا گوارا نہیں کرتے زیادہ ہم نے ہی اس وبا کو عام کیا ہے یا پھر ہمارے جو پیچھے بھائی بیٹے ہیں ان نے جن کو ہم اپنا پیٹ کاٹ کر راتوں کو جاگ کر بیس گھنٹے کام کر کے خون پسینے کی کمائی بھجتے ہیں وہ اس کی قمیت نہیں سمجھ پاتے.ہر طرف سے جیب تراشی ہم پردسیوں کی ہوتی ہے

وقاراعظم کہا...

کس کس چیز کا رونا روئیں، خیر سے ماضی سے حال میں صحیح سلامت تشریف آوری مبارک ہو. :wink:

جاوید گوندل ۔ بآرسیلونا ، اسپین کہا...

بہت سے واقعات ہیں جو رشوت نہ دینے لینے پہ بیان کئیے جاسکتے ہیں، کہ کسطرح سنی سنائی باتوں سے ہٹ کر زمہدار عہدیداروں سے خود رابطہ کرنے پہ حقائق وہ تصویر نہیں بنتی جو ہمارے ہاں ہر آدمی آپکو بیان کرتا ہے۔ مگر پھر کبھی سہی ۔ فی الحال اسوقت آپ کی جاپان کے علاوہ اردو بلاگنگ پہ واپسی کی مبارک ہو۔

خرید وی پی ان کہا...

very good

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.