حواس باختہ

کچھ لوگوں کے مزاج عجیب ہوتے ہیں۔مشاہدہ کریں تو کافی دلچسپ بھی ہوتے ہیں۔ایسے مزاج کے خواتین و حضرات کی حرکات پر غصہ نہیں آتا نہ جانے کیوں کچھ پیار سا آجاتا ھے۔بعض اوقات تو ایسا محسوس ہوتا ھے۔کہ اگر یہ ایسی حرکت نہ کررہے ہوں تو ہم یہ حرکت کر رہے ہوتے۔


ایسے حضرات کو احساس نہیں ہوتا اور ایسی حرکت نہ کرنے والے کو احساس ہوتا ھے۔کہ ایسا کرنے سے دوسرے ہنسیں گے۔


ہمیں تو ایسے مزاج کے لوگ نہایت معصوم اور کسی قسم کے تضاد سے پاک ہی محسوس ہوتے ہیں۔عموماً لوگ ایسے حضرات کا مذاق اڑاتے ہیں یا ناپسند کرتے ہیں۔


یہاں جاپان میں ایک دفعہ ایک پاکستانی سائینسدان جو شاید اٹامک انرجی میں ہوتے تھے۔کسی تحقیقی کورس کیلئے یہاں آئے ہوئے تھے۔


قدرتی طور پر دلچسپ شخصیت تھے۔قدرتی طور پر اس لئے کہ پیدائشی طور پر بکھلائے ہوئے لگتے تھے۔


ہر وقت سوچوں میں گم رہتے تھے۔ان کے کزن کی وجہ سے ہماری بھی کبھی کبھار ملاقات ہوجاتی تھی۔


ایک دن انہوں نے کسی پارٹی میں جانا تھا۔ہم نے کہا آپ کو گاڑی میں وہاں اتاردیں گے۔تیار ہوکر نیچے آجائیے گا۔


ہم وقت سے آدھا گھنٹا پہلے پہونچ گئے۔دیکھا کہ ابھی تک تیار نہیں ہیں۔جناب بھول گئے تھے کہ انہوں نے پارٹی میں جانا ھے۔


جب ہم نے بتایا تو بھاگ دوڑ کر تیا ر ہوئے اور کہا چلیں۔


ہم گاڑی میں بیٹھے اور چل دیئے۔


جب انہیں منزل پر اتارا تو دیکھا کہ سوٹ تو پہنا ہوا ھے۔لیکن بیلٹ کے بدلے آزار بند ٹائپ کا کوئی کپڑا باندھ رکھا ھے۔


ہم اور ہمارے دوست ایک دوسرے کی شکل دیکھنا شروع ہوگئے۔کہ یہ کیا ہے اور اب کیا کریں؟؟!!،۔


آخر کار ہماری بیلٹ نکال کر انہیں دی ۔


وضاحت کرنا نہایت ضروری  سمجھتا ہوں کہ ہم نے پینٹ پر آزار بند نہیں باندھا،آپ مانو یا نہ مانو میں  نہ مانوں۔


اور ابھی تک ان کی حرکت کا معمہ حل نہیں ہوسکا کہ انہوں نے کیا سوچ کر پینٹ پر آزار بند باندھ لیا تھا۔


کچھ لوگ تو بالکل پالتو جانور کی طرح پیارے اور معصوم ہوتے ہیں۔


کچھ بھی اور کیسی بھی حرکت کرجائیں۔معصوم ہی رہتے ہیں یا بنے رہتے ہیں۔


پالتو بلی سے آپ پیار کر رہے ہوں تو بلی یک دم ایک کیٹ پنچ آپ کو رسید کردے۔آپ ذرا گھور کر دیکھیں۔کتنی معصومیت سے میاوں کردے گی۔


آپ کو اس معصومیت پر پیار آئے گا اور ہنس دیں گے۔


اسی طرح کوئی بےضرر شخصیت آپ کو تنگ کرے تو اگر آپ ذرا گھور کر دیکھئں گے تو پیاری بلی کی طرح میاوں کردیں گے۔


 اگر آپ کچھ زیادہ غصہ دکھا دیں گے تو حواس باختہ ہوجائیں گے۔اس حواس باختگی پر بھی پیار آجاتا ھے۔


مجھے تو ایسے حواس باختہ قسم کے خواتیں و حضرات پر بہت پیار آتا ھے۔


لیکن کچھ اس قسم کے لوگوں پر بالکل پیار نہیں آتا کہ کیٹ پنچ رسید کرکے نہایت معصومیت سے میاوں کر جائیں۔


کچھ غصہ دیکھا دیں تو حواس باختہ ہوجاتے ہیں۔جیسے سیلاب یا تالاب میں ڈوبتا چوہا حواس باختہ ہوتا ھے۔


ڈوبکیاں بھی کھا رہا ہوتا ھے اور مونچھیں پانی سے باہر رکھتا ھے۔کہ مونچھیں گیلی نہ ہو جائیں۔


آجکل مجھے پاکستانی سیاستدان کچھ ایسے ہی محسوس ہورہے ہیں۔وکی لیکس کی کارستانی پر جرمنی اور برطانیہ نےاحتجاج کیا۔


جرمنی نے امریکی سفیر کو امریکہ واپس بلانے کا مطالبہ کیا۔


اور امریکہ نے برطانیہ سے معذرت کرلی۔


لیکن پاکستانی سیاستدانوں کی حالت ڈوبکیاں لیتے چوہے کی طرح ھے۔


پانی سے مونچھیں باہر ہی رکھ رہے ہیں۔اور حواس باختگی میں الٹی سیدھی تاویلیں دے رہے ہیں۔


مجھے توانتظار اور دلچسپی صرف اپنے پیر ومرشد مولوی فضلو کی تاویل سے ھے۔کہ کب کیا خطبہ ارشاد فرماتے ہیں۔

حواس باختہ حواس باختہ Reviewed by یاسر خوامخواہ جاپانی on 2:16 PM Rating: 5

19 تبصرے:

افتخار اجمل بھوپال کہا...

يہ دو فقرے زبردست ہيں
لیکن پاکستانی سیاستدانوں کی حالت ڈوبکیاں لیتے چوہے کی طرح ھے۔

پانی سے مونچھیں باہر ہی رکھ رہے ہیں۔اور حواس باختگی میں الٹی سیدھی تاویلیں دے رہے ہیں۔

احمد عرفان شفقت کہا...

یہ ماننے کی بات ہے کہ کچھ بھی ہے وکی لیکس نے ہلچل مچا دی ہے کرہ ارض پر۔ عوام تو ہمیشہ ہی بدحواس سے پھرتے ہیں، اب خواص بھی کچھ اسی طور پھرتے دکھائی دے رہے ہیں۔

تانیہ رحمان کہا...

پاکستانی سیاست دانوں پر کچھ عرصہ کے لیے ہی اثر ہوتا ہے ۔۔۔ ڈوبکیاں لگاتے رہنا ان کے لیے عام سی بات ہے ۔ اور جہاں تک مونچوں کے گیلے ہونے کا تعلق ہے ۔ وہ مونچیں کڑوانا پسند کریں گے ۔۔۔ یہ سانسدان بھی سیاست دانوں کی طرح ہو جاہیں ۔ خاص کر ہمارے تو پاکستان کتنی دور جا سکتا ہے ۔ ویسے سانسدانوں کی پہچان ہی بھولنا ہے ،، جب یاد آتا ہے تو وقت گزر چکا ہوتا ہے ۔۔

کاشف نصیر کہا...

ہا ہا ہا بہت خوب
مزید تبصرہ حالات حاضرہ کے پرچہ کے بعد کروں گا فالحال تو پرچے کی تیاری کے لئے فوری طور پر احباب کے گھر جارہا ہوں پتلون پر بیلٹ لگا کر.

جاوید گوندل ۔ بآرسیلونا ، اسپین کہا...

یہ پاکستانی سیاستدان ہیں۔ الزامات پہ چھاتی پُھلا کر کہیں گے۔ تیری گلی گئے تو تھے ۔ کیا ہوا رسوا ہوگئے۔ وکی لیکس کے انکشافات کو اپنے حلقہ میں امریکہ سے یاریوں کی سند طور پہ پیش کر دیں گے۔

ایم۔اے۔امین کہا...

بہت خوب تحریر ہے، اس پر ہمیں وہ چوہا یاد آگیا جو اس بات پر اکڑ رہا تھا کہ جنگل کے بادشاہ کی بیٹی کی گشدگی کی رپٹ میں اسکا نا درج تھا اور اسے بھی مشکوک تصور کیا جارہا تھا۔

شازل کہا...

عمدہ تحریر ہے

وقاراعظم کہا...

سیاستدانوں کا ڈوبتے چوہوں سے موازنہ خوب کیا. لیکن کیا یہ چوہے واقعی ڈوب جائیں گے. مولوی فضلو کی ڈھٹائی سے بھرپور تردید پڑھی کہ نہیں؟

ڈاکٹر جواد احمد خان کہا...

لیکن کچھ اس قسم کے لوگوں پر بالکل پیار نہیں آتا کہ کیٹ پنچ رسید کرکے نہایت معصومیت سے میاوں کر جائیں۔

کچھ غصہ دیکھا دیں تو حواس باختہ ہوجاتے ہیں۔جیسے سیلاب یا تالاب میں ڈوبتا چوہا حواس باختہ ہوتا ھے۔

ڈوبکیاں بھی کھا رہا ہوتا ھے اور مونچھیں پانی سے باہر رکھتا ھے۔کہ مونچھیں گیلی نہ ہو جائیں۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

ارے!!!!! یہاں تو میرا تذکرہ ہو رہا ہے

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

توبہ ، توبہ ڈاکٹر صاحب۔
ہم ایسی گستاخی نہیں کر سکتے۔نہ ہی ہم تیزابی ہیں۔

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

آہو جی
مولوی فضلو اپنا ہی بندہ ھے۔پتہ تھا کیا ارشاد فرمائے گا۔

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

ارے موسی صاحب اتنا خطرناک بلاگ تو ہم دیکھ کر ہی ڈر گئے۔ہمارے دوست تو ہم سے بھی زیادہ ڈرپوک ہیں۔

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

تعریف کا شکریہ شازل جی۔
ہماری تعرید کم ہی ہوتی ھے۔

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

تعریف کا شکریہ امیں صاحب
کچھ یہی حال ھے ہمارے بادشاہوں کی جی۔

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

جاوید صاحب
کیا کریں دل جلتا ہے ان کی حرکتیں دیکھ کر۔

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

کاشف ایک بار پھر دیکھ لیں واقعی بیلٹ ھے؟

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

جی تانیہ جی
یہ سب نوٹ چھاپنے کیلئے حواس باختہ ہیں۔

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

شفقت بھائی
جو پاکستانی عوام کو معلوم تھا
وہ وکی لیکس نے غیر پاکستانیوں کو بھی بتا دیا۔
اتی سے گل ھے۔

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

اجمل صاحب
آپ نے تعریف کی ہمیں خوشی ہوئی۔
بہت بہت شکریہ

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.