خارش زدہ۔

ویسے تو ہمارا کاروبار کباڑیئے کا ھے۔لیکن تھوڑا بہت حصص کے کاروبار میں چھیڑ چھاڑ کرتے آئے ہیں۔ لی مان شاک کے معاشی بحران کے بعد کچھ زیادہ ہی اس حصص کے کاروبار میں دلچسپی پیدا ہوئی۔دلچسپی اس لئے پیدا ہوئی کہ ہمارے خیال میں یہ ایک مال بنانے کا سنہرا موقع تھا۔اس لئے ہم نے جب سب پریشانی میں بھاگ دوڑ رہے تھے۔کچھ تھوڑے بہت حصص خرید لئے واقعی ہمارا اندازہ ٹھیک نکلا۔یعنی فائدہ ہی ہوا۔ عموماً جن حضرات کااس کاروبار سے تعلق بھی نہیں ہوتا اور نہ ہی کبھی اس حصص کے کاروبار میں ھاتھ ڈالا ہوتا ھے۔ اس کاروبار سے خوف زدہ ہوتے ہیں یا حرام حلال کے چکر میں پڑے ہوتے ہیں۔


 ہم نے کبھی مولوی صاحب سے فتوی لینے کی زحمت ہی نہیں کی اور نہ ہی کبھی ہمارے سامنے سے کوئی ایسا فتوی گذرا کہ یہ کاروبار حرام ھے یا نہیں کرنا چاھئے۔ جہاں تک ہمارا تجربہ یا ہم نے اس کاروبار سے منسلک ہونے کے بعد جو کچھ محسوس کیا ھے۔اس کے مطابق رسک تو اس کام میں لازمی بات ھے۔یا تو آپ خوب کماو گے۔یا سب اڑاو گے۔یہ رسک ایسے ہی ھے جیسے کسی فطری کاروبار میں ہوتا ھے۔ لیکن اس کاروبار میں ایک تجارت ہوتی ھے۔فیوچرز ٹریڈنگ۔۔۔۔۔۔۔۔


یہ کیا ھے۔ہم نے جو کچھ محسوس کیا وہ تشریح کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔اگر کسی اور صاحب کو علم ہوتو برائے مہربانی ضرور لکھئیے گا۔ ہمارے مطابق یہ کچھ اس طرح ھے۔کہ کسی تیلی میاں کے پاس کوئی سرمایہ دار جائے اور اسے کہے کہ آپ کا یہ تیل جو تین سے چھ ماہ بعد بازار میں آنے والا ھے۔لیکن ابھی تیار بھی نہیں ھے اور نہ ہی تیلی میاں نے یہ تیل نکالنے کیلئے ابھی تل خریدے ہیں اور نہ ہی ان تلوں کی فصل ابھی تیار ہوئی ھے۔


تو جناب سرمایہ دار تیلی میاں کو کہتا ھے کہ یہ آنے والا تیل میں خرید لیتا ہوں۔اسی قسم کا تیل اگر اس وقت پانچ روپے من بک رہا ھے تو اس تیل کی مستقبل کی مانگ کو دیکھ کر سرمایہ دار ہوسکتا ھے دس روپے من میں پیشگی ادائیگی کر کے خرید لے۔بعض اشیاء کیلئے ایسا بھی ہوتا ھے کہ مستقبل میں مانگ کم یا ختم ہونے کے امکانات کا اندازہ لگا کرسرمایہ دار رقم نہیں لگاتایا پھر ہلکی پھلکی رقم لگا کر لگ گیا تو چھکا نہ لگا تو تکا کہہ کر صرف خاموشی سے تماشہ دیکھتا ھے۔


تو جناب اگر تیلی میاں نے تیل نکال کر دے دیا تو مانگ کےمطابق بیچ کر منافع کما یا جاسکتا ھے یا نقصان کیا جا سکتا ھے۔اب اگر مستقبل میں تیل کیلئے تیار کی جانے والی فصل کو کیڑا لگ جائے تو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


تو سرمایہ دار کے ہو جاتے ہیں وارے نیارے۔


اگر فصل کو کیڑا نہ بھی لگے تو کیا گارنٹی ھے کہ سرمایہ دار کیڑا نہ لگائے گا؟


۔ آپ کےذہن میں سوال آیا ہوگا سرمایہ دار کیڑا کیوں لگائے گا؟


۔ جی فصل میں کمی کا ہوا کھڑا کرنے کیلئے۔


جیسے آپ اس وقت آٹا سستے داموں برآمد کرنے کے چکر میں ہیں۔ جب ملک میں آٹے کی ضرورت ہوگی تو آٹا غائب ہوجائے گا۔ اس وقت تو خیر سے حکومت پنجاب آٹا برآمد کرنے کیلئے اخبارات میں اشتہار دے رہی ھے۔


دوسرا مزے کی بات یہ ہوتی ھے کہ تیلی اور سرمایہ دار کے درمیان معاہدہ ہوتا ھے کہ جب دل کرے سرمایہ داراس مستقبل میں نکلنے والے تیل کے حقوق کسی دوسرے کو فروخت کر سکتا ھے۔دوسرا تیسرے کو تیسرا جس کو دل کرے۔چاھئے واپس پہلے والے کے پاس کم داموں میں آجائیں۔درمیان میں کسی کی چمڑی پر قسائی کی چھری چل جائے تو بیچارہ کہنے والا کوئی نہیں ہوگا۔زیادہ تر یہی کہیں گئے۔اس کی غلطی ھے۔ ہماری نظر میں یہ سب ذخیرہ اندوزی اور ناٹک ہوتا ھے۔مال بنانے کیلئے۔


اور ذخیرہ اندوزی کیا ھے۔مولوی صاحب سے اپنے مطلب کا فتوی لینا پڑھے گا۔ اسی طرح آجکل اسلامی بینک کافی متحرک ہیں۔یعنی آپ کو حلال کا منافع ہر ماہ دیں گے۔یہ منافع چونکہ حلال ھے۔اس لئے کم بھی ھے آپ کو مسلمانی طریقے سے صابر و شاکر ہونا پڑے گا۔آپ کی رقم ڈوبنے کا رسک اتنا ہی ہوگا جتنا حرام منافع دینے والے بینک میں رقم رکھنے پر ہوگا۔ ملائشیاسکوک کے جو بانڈز ہیں وہ بھی اسلامی ہیں۔اب ملائشیا میں آپ بازار میں جائیں اور دیکھ سکتے ہیں۔حلال فوڈ کے ساتھ والی گلی میں غیر مسلم کیلئے سب کچھ میسر ھے۔


اور یہی حال عرب امارات وغیرہ کا ھے۔پاکستان کا آپ اور ہمیں سب معلوم ھے۔ اگر آپ کے پاس وقت ھے تو ان اسلامی بینکز اور ملائشیا کے سکوک وغیرہ نے جو سرمایہ مسلمانوں سے جمع کیا ھے۔اس کا تعاقب کریں۔


   تو۔۔۔۔۔۔جناب یہ پرنالہ ایک ہی سمندر میں گر رہا ہوتا ھے۔یا کہیں نہ کہیں اسی سمندر کو فیضیاب کررہا ہوتا ھے۔جاپان کے بینکار  سرمایہ جمع کرنے کیلئے اسی اسلامی بینک کو بھی استعمال کرتے ہیں۔اب جاپان کے بینکار یہ کرتے ہیں تو دوسرے اہل کتاب بھائی بند کیا ایسا نہ کرتے ہوں گے؟ 


مسئلہ ہمارے ساتھ کچھ ایسا ہے کہ خواہشات کی تکمیل کرتے ہوئے جو اندر کے ضمیر صاحب ہیں وہ تنگ کرتے ہیں۔اور ہماری خارش زدہ مسلمانی ہمیں حلال و حرام کے پنگے  میں ڈال دیتی ھے۔


اور ہم اسلام میں اپنے مطلب کی باتیں تلاش کرکے اپنے اندر کے ضمیر صاحب کو تھپکیاں دینا شروع ہو جاتے ہیں۔ جیسے اسلامی کولا دیکھنے میں آیا تھا اسی طرح کل اسلامی شراب بھی چلنا شروع ہوجائے گی۔۔۔اسلامی روح کی غذا وغیرہ بھی۔۔۔۔دلائل مل ہی جائیں گے۔


دینے والے تو دے رہے ہیں کہ شراب بنانا بیچنا توشیطانی کام ھے حرام کہیں نہیں لکھا۔!!


 اسی طرح اسلامی خنزیر بھی آگیا تو؟۔۔۔۔۔۔ تو جناب خنزیر تو خنزیر ہی ہوتا ھے۔کوئی ذبحہ کر کے کھائے یا جھٹکے سے کھائے!!!!!!۔

خارش زدہ۔ خارش زدہ۔ Reviewed by یاسر خوامخواہ جاپانی on 9:51 AM Rating: 5

18 تبصرے:

جعفر کہا...

موسیقی والا گسہ یہاں نکال دیا ہے آپ نے
D:

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

ارے نہیں جعفر جی
ایسی کوئی بات نہیں ھے۔موسیقی میں بھی سن ہی لیتا ہوں۔
موقع ملے تو ٹھمکا بھی لگا لیتا ہوں۔
اب کرنی اپنی ہی مرضی ہے تو ڈرامہ کس بات کا۔

ڈاکٹر جواد احمد خان کہا...

پرانا معاشی اصول ہے کہ پیسا پیسے کو کھینچ لیتا ہے خاص طور پر سرمایہ دارانہ معاشرے میں . اگر آپکو پتا چل جائے کہ پیسا کہاں سے آرہا ہے اور کہاں جا رہا ہے تو شاید آپ کو باوجود منافع کے اپنے کام سے نفرت ہو جائے.مگر صاحب یہ تعاقب کرے گا کون؟اس بھیڑ چال بلکہ گھڑ دوڑ میں کس کے پاس اتنی فرصت ہے؟ یادش بخیر اپنے روشن خیالوں کے پیش امام پرویز مشرف صاحب کے دوڑ میں بھی اپنی سٹاک ایکسچنج پر بہار آئی تھی...جو کہ جلد ہی خزاں میں تبدیل ہوگئی اور اسکے بعد عجیب عجیب کہانیاں سننے کو ملین..اس وقت بھی یار لوگوں نے بڑی ملامت کی تھی. اور میری عقل پر ماتم کیا تھا...
خنزیر کے گوشت کی حرمت پر ایک یورپ پلٹ روشن خیال کو سخت اعتراض تھا....انکا یہ کہنا تھا کہ ایک بکری اور خنزیر میں کوئی فرق نہیں....جواب میں، میں نے جو کچھ کہا وہ ١٨+ کی کیٹگری میں آتا ہے. اس فورم پر نہیں سنایا جا سکتا.
باقی رہی کوک تو یہاں پر مکّہ کولا لائی گئی پیپسی کے مقابلے میں ذائقے میں پیپسی جیسی تھی لوگوں نے اسے پسند بھی کیا مگر پتا نہیں کیوں کچھ عرصے میں خود ہی مارکیٹ سے غائب ہو گئی.

fikrepakistan کہا...

یاسر بھائی جتنی رقم آپ کے پاس ہے اگر آپ اتنی ہی رقم کے شئیرز لیتے ہیں تو یہ بلکل جائز ہے، اور اگر آپ اپنی رقم سے زیادہ کے شئیرز لیتے ہیں جسے بدلہ کہتے ہیں وہ ناجائز ھے کیوں کے اس میں آپ سود ادا کرتے ہیں نقصان یا منافع دونوں کی صورت میں، اس ضمن میں مولانہ تقی عثمانی صاحب کا فتویٰ موجود ھے۔

وقاراعظم کہا...

ہممم تو آپ شاید کہنا چاہ رہے ہیں کہ جس کا جو دل چاہے وہ اسے کرہی لیتا ہے پھر اسے عین اسلامی قرار دینے کی کیا ضرورت ہے؟ شاید خود کو تسلی دینے کے لیے....

نعیم اکرم ملک کہا...

بھائی جی۔۔۔ جن چیزوں کو صاف صاف منع کر دیا گیا ہے۔۔۔ ان پر بحث کرنا بنتا ہی نہیں۔۔۔ مثال کے طور پر شراب، سور، خون، زنا، غیبت، جھوٹ۔۔۔ البتہ۔۔۔ اگر کرنی اپنی مرضی ہے تو پھر دلائل تو لاکھوں مِل جاتے ہیں۔۔۔ بندے کے ڈھیٹ پنے کی بات ہے۔۔۔
سٹاک مارکیٹ کا کام صرف اندازے کی بنیاد پر کرنا بے وقوفی ہے، اب تو یہ کاروبار باقاعدہ سائنس کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ سارا کام اعداد و شمار، کلیات، اور کمپیوٹر سافٹ ویئر کی مدد سے ہوتا ہے۔ میرے خیال سے یہ کام حرام ہرگز نہیں ہے، جس کمپنی کے شیئرز آپ نے خریدے ہیں اگر اسکو منافع ہوا تو آپکو ڈیویڈنڈ ملے گا ورنہ ٹھینگا انعام۔
سود پر پیسہ لے کر شیئرز کا کاروبار تو درکنا، قرآن پاک کی دوکان بھی کھولیں گے تو کہیں نا کہیں آپ کو گناہ ضرور ہو گا۔
مثال کے طور پر میں کچھ دنوں پہلے سوچ رہا تھا کہ انٹرنیٹ پورن میں بڑا پیسہ ہے، کیوں نہ ایک فلاحی ادارہ بنایا جائے جسکی آمدنی کا بنیادی ذریعہ انٹرنیٹ پورن ہی ہو۔ مطلب دو تین ویب سائٹس سیٹ اپ کی جائیں، اور ان پر دوسری ویب سائٹس سے جمع کر کے پورن دکھایا جائے اور پیسہ اکٹھا کیا جائے۔ اب چاہے نوے فیصد آمدنی خیراتی کاموں میں چلی جائے، ہے تو حرام ہی نا۔۔۔
خالی خولی آئیڈیا تھا یار۔۔۔ عملی جامہ نہیں پہنایا میں نے۔۔۔

مکی کہا...

سینکڑوں برج گرا دیے آپ نے.. :mrgreen:

عربی کا ایک مقولہ ہے: العقل نعمة..!!

خاور کھوکھر کہا...

کبھی سوچا ہے که کچھ خاندان امیر هوتے هیں اور نسلوں تک امیر هی چلے جاتے هیں
اور کچھ خاندان ختم هی هو جاتے هیں
امیری غریبی تو دور کی بات هے
کیا وجوھ هیں؟؟
چیزوں کی تاثیر هوتی هے
اور هر چیز کی تاثیر کا علم بندے کو نهیں هوتا تو پھر وحی سے رجوع کرنا پڑتا هے
اور وهاں جانے والے رقم (رکواة) کو فائیدھ اور انے والی رقم (سود) کو نقصان لکھا ہے
جو که عقل کی کسوٹی پر الٹ هے لیکن حقیقت هے
چیزوں کی تاثیر پر غور کریں

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

جی خاور جی
بجا فرمایا۔
خار دار رستہ ھے۔گذریں گے تو سوچنا پڑے گا کہ کانٹوں سے اپنے آپ کو کیسے بچایا جائے۔
لیکن کانٹے تو کانٹے ہوتےہیں۔
خراشیں آہی جاتی ہیں۔
ہمارا کام کانٹوں سے بچنا ھے۔نہ کے کانٹوں کو برا بھلا کہنا یا حقوق کانٹا بازی کیلئے دلائل دینا۔

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

مکی صاحب
آپ نے تعریف کی ہمارے لئے پھولنے کیلئے اتنا ہی کافی ھے۔
جن کیلئے ہمارے دل میں عقیدت ہواور وہ تعریف کر دیں۔
بندے خوشی سے پھولے نہیں سماتا۔

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

ملک صاحب
قیمیتی آئیڈیا یہاں پھینک دیا آپ نے۔
کسی نے عمل کردیا تو۔۔۔۔۔۔۔
باقی آپ کی بات سوفیصد درست ھے۔

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

شاید کیوں مولوی؟
ہم تو کہتے ہیں ڈرامے بازی نہ کرو۔اور ہمیں خوامخواہ میں ٹینشن نہ دو۔

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

فکر پاکستان صاحب۔
مجھے معلوم تھا۔اور جب مسلمان منہ میں کچھ ڈالتا ھے۔
تو دیکھ رہا ہوتا ھے۔کہ کیا کھا رہا ھے۔
بحرحال فتوے کے علاوہ بھی اپنے تجربے سے بھی کچھ باتیں سمجھ میں آتی ہیں۔
علما کرام لازمی نہیں ہے۔کہ ماہر معاشیات ہوں۔
علما کرام کو اطلاع دینا ہمارا کام ضرور ہے۔کہ یہ ایسا بھی ہوتا ھے۔

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

ڈاکٹر صاحب۔
میں نے پڑھا تھا انگریجی والے بلاگ پر۔
حقوق خنزیراں پر کوئی خاتونہ لکھ رہی تھیں۔
کہ خنزیر کا کیا قصور ھے۔
آپ اور وقار اعظم کا بھی مجھے علم ھے۔
ہاہاہا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ویسے آپ ہو میرے پسندیدہ ٹیروریسٹ۔

Liberalism is a Disease of the Frontal Lobe کہا...

nice share........

آصف کیانی کہا...

:roll:

امتیاز کہا...

جی بلکل میں بھی اجکل حلال کریڈٹ کارڈ کا انتظار کر رہا ہوں
اور گماں غالب یہی ہے کہ کوئی یہودی کمپنی ہی حلال کریڈٹ کارڈ کا اجراء کرے گی

سعد کہا...

مولانا صاحب ماہرِ معاشیات بھی ہیں۔ انھوں نے اسلامک بینکنگ اور معاشیات پر بے شمار کتابیں بھی لکھی ہیں۔
اور غالباً آپ جناب مفتی ہونے کے علاوہ پی ایچ ڈی (ڈاکٹر) بھی ہیں۔

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.