وقت

جب مکہ معظمہ فتح ہوا تونبی اکرمﷺ کو ایک حوض میں ستر ہزار اوقیہ سونا ملا۔جسے دنیا کے بادشاہ بیت اللہ کیلئے بھیجا کرتے تھے۔


اس خزانے میں دس لاکھ دینار بھی تھے جن کا وزن دو سو قنطار تھا۔حضرت علیؓ نےآپﷺسے درخواست کی کہ آپ یہ مال لڑائیوں پر صرف کریں۔


لیکن آپ ﷺ نے اس مال کو چھوا بھی نہیں۔


پھر عہد صدیقی میں صدیق اکبرؓ کو اس کی طرف توجہ دلائی گئی۔لیکن آپؓ نے بھی اس مال کو حرکت نہ دی۔ابو وائل کہتے ہیں


 ایک دفعہ میں شیبہ بن عثمان کے پاس بیٹھا تھا۔انہوں نے کہا میرے پاس فاروق اعظمؓ آکر بولے کہ میرا ارادہ ھے.


 کہ میں بیت اللہ کا خزانہ سونا اور چاندی مسلمانوں میں تقسیم کردوں۔


میں بولا آپ ایسا کرنے والے نہیں فاروق اعظم ؓبولے وہ کیوں؟


میں بولا آپ کے دونوں ساتھیوں نے ایسا نہیں کیا۔


فاروق اعظمؓ نے فرمایا۔


واقعی ان کی اقتدا کرنی ضروری ھے۔


 بخاری ، ابو داوءد ، ابن ماجہ۔


یہ خزانہ بیت اللہ میں محفوظ رہا۔حتی کہ فتنہ افطس ؁۱۹۹ھ میں اٹھا افطس حسن بن حسین بن علی بن علی بن زین العابدین ہیں۔


جب یہ مکہ پر قابض ہوئے تو کعبہ سے یہ خزانہ نکال لیا اور فرمایا یہ خزانہ کعبہ میں رکھا ہوا کس کام کا ھے۔


اس حالت میں یہ بے فیض ھے۔


کعبہ اسے کیا کرے گا۔


ہم اس کے حق دار ہیں اسے جہاد پر صرف کیا جائے گا۔آکر اسے خرچ کر ڈالا اس دن سے کعبہ کا خزانہ ختم ہو گیا۔


ابن خلدون  کو پڑھ رہا تھا کہ ایسے ہی اس تحریر پر رک گیا۔ایک  تو مقدار کیلئے استعمال کیا گیا لفظ قنطار بالکل سمجھ  نہ آیا۔اندازہ لگانے کی کوشش کی تو یہی سمجھ آیا کہ دس لاکھ دینار کا وزن  دومن تو ہو نہیں سکتا شاید دو ٹن ہو!!!۔


دوسری بات وقت کے ساتھ انسانوں کے خیالات بدلتے   رہتے ہیں ۔ نبی اکرم ﷺ اوراولذکر صحابہ کرام ؓ نے اس خزانے کو استعمال نہیں بعد الذکر  حضرات نے وقت کی ضرورت کے مطابق  اس خزینے کو استعمال کیا۔


استعمال نہ کرنے والوں نے کیوں استعال نہیں کیا اس پر سوچ میں  پڑ گیا۔اور استعمال کرنے والوں نے کیوں استعمال کیا بس یہ کچھ سوچتے سوچتے اس تحریر کو پوسٹ کردیا۔


ابن خلدون سے ماخوذ

وقت وقت Reviewed by یاسر خوامخواہ جاپانی on 10:59 PM Rating: 5

6 تبصرے:

یاسر عمران مرزا کہا...

ایک دفعہ اللہ تعالی نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے پوچھا کہ اگر آپ چاہیں تو احد پہاڑ کو سونے میں تبدیل کر دیا جائے ، لیکن آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ایسا کرنا منظور نہ کیا۔ یہ بھی سوچنے والی بات ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے کیوں منع فرمایا

احمد عرفان شفقت کہا...

ان باتوں کا حتمی جواب تو واقعی مشکل ہے۔اسلامی تاریخ میں اور ویسے بھی دنیا کی تاریخ میں ایسے بہت سے واقعات ہیں جن میں انسانوں کے اعمال اور محرکات کا تعین مشکل ہے۔
باقی یہ ضرور ہے کہ نبیوں کو اللہ کی طرف سے راہنما ئی ملتی رہتی ہے اور ان کے فیصلے بہر حال عام انسانوں کے فیصلوں سے زیادہ با معنی ہوتے ہیں۔

عمران اقبال کہا...

حضور اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم چاھتے تو تمام کائنات کو زر اور سونے میں بدلنے کی دعا کرتے اور بےشک اللہ سبحان تعالی اپنے محبوب کی دعا قبول فرماتےِ۔۔۔
ایک حدیث کی روشنی میں عرض ہے کہ مال دنیا کا فتنٰۃ ٰھے۔۔۔
اگر دولت اس وقت عام ہو جاتی تو انسان ایمان کی دولت کھو بیٹھتا... اور دنیا کے پیچھے لگ جاتا... جیسے کے عام طور پر ہوتا ہے... اس وقت بھی تو لوگ ہم جیسے ضرورت مند ہی تھے... رسول الله نے خود ہر طرح کی آرام وآسائش کو چھوڑ کر فقر اختیار کیا... کیونکے بھرا ہوا پیٹ ہمیشہ ہی سست ہوتا ہے... اور مفلسی چاک و چوبند... اب جو دولت ملی،ہو سکتا ہے کہ وہ اتنی ہو کہ مکہ اور مدینہ کا ہر شخص مالدار ہو جاتا... لیکن رسول الله نے مال کی بجاے صحابہ کرام کو توکل سکھایا... اور دنیا داری سے نفرت کی تغریب دی... "توکل" کا مطلب یہ بھی ہر گز نہیں کہ کہ مستقبل کے بارے میں نا سوچیں... بلکے توکل میرے خیال میں حسد کا متضاد ہے... جو ہمیں مل رہا ہے... اس پر الله کا شکر ادا کریں اور دوسرے کو عطا کی گیئ نعمتوں پر حسد نہ کریں... خیر... کہنے کا مقصد یہی ہے کہ ہو سکتا ہے رسول الله نے صرف دولت سے لوگوں کی نظریں ہٹانے اور اس کو ان کی نظروں میں بے وقعت بنانے کے لئے اتنی دولت کو مصرف میں نہیں لایا... واللہ عالم بالصواب ...

افتخار اجمل بھوپال کہا...

ميں نے کہيں پڑھا تھا کہ عمر ابن الخطاب رضی اللہ عنہ کے دورِ خلاف ميں فتوحات ہوئيں تو زر و جواہر کا ڈھير لگ گيا ۔ عمر رضی اللہ عنہ اسے ديکھ کر اشک بانہ لگے ۔ ايک صحابی نے پوچھا "امير المؤمنين يہ خوشی کا وقت ہے اور آپ اشک باری کر رہے ہيں"۔ عمر رضی اللہ عنہ نے فرمايا "ميں اس ميں اُمتِ رسول کی تباہی ديکھ رہا ہوں

ميں نے اپنے بزرگوں سے سنا تھا کہ زر ۔ زن اور زمين فساد کی جڑ ہيں

تانیہ رحمان کہا...

زر زمین اور زن ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کوئی شک نہیں یہی اصل تباہی کی وجہ ہیں ۔۔۔ زر اگر زیادہ ہے تو یہی فکر کھائےجائے گی کہاس کو کہاں رکھوں ۔۔ چوروں کا ڈر پیسے کے چلے جانے کا خوف ۔۔۔ زمین کے چھوٹے سے ٹکڑے کے لیے انسانوں کے ٹکڑے کیے جاتے ہیں ۔۔۔ زن کے لیے آئے دن کیا کچھ ہو رہا ہے ۔ ہمارے بزرگوں نے کچھ سوچ کر ہی کہا ہو گا ۔۔۔ جہاں تک ہمارے رسول صلی اللہ و علیہ وسلم کی بات ہے ۔ تو وہ نبی تھے ۔ ان کو پتا تھا کہ میری امت آج سے 1400 سال بعد بھی ایسی ہی ہوگی ۔۔۔ ان سے پہلے والوں کو تو اس شر سے بچایا جائے ۔۔۔

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

بلکل بجا کہا تانیہ جی۔

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.