پاکستان میں جینا مشکل

پاکستانی عوام کا جینا مشکل ہو رہا ھے مہنگائی سے۔۔۔۔ہم اخبار پڑھ رہے تھے انٹر نیٹ پر  خبروں ہی خبروں میں ہمیں پاکستانی عوام کی مسائل کا حل مل گیا۔جاپان میں تو ہر چیز دن بدن سستی ہی ہوتی جارہی ھے۔اس لئے یہ حل ہمارے لئے نہیں ہے۔کہ ہمیں تو کوئی پریشانی ہی نہیں ھے۔جاپان میں مہنگائی ہوئی تو کوئی حل نکال ہی لیں گئے۔نہیں تو خالی خولی پھنے خان بننے کےبجائے کوئی کام کاج کرلیں گے۔اپنے دیس میں مقیم پاکستانیوں کے خیال میں ہم دیار غیر میں بسنے والے نہایت عیش وعشرت کی زندگی گذار رہے ہیں۔


ہم تو سمجھتے تھے صرف ہمارے گھر والے ہی پریشان ہیں۔ہمارے گھر کے جوانوں کا مسئلہ کچھ اس طرح ھے کہ کچھ کام کاج اگر کریں بھی تو آٹھ دس ہزار سے زیادہ تو تنخواہ ملے گی ہی نہیں۔اتنی تنخواہ میں کیا بنتا ھے جی۔اور لوگ کیا کہیں گے جی۔بھائی جاپان ہوتا ھے اور یہ محنت مزدوری کر رہے ہیں۔


بس سوچ رھے ہیں کہ باہر کہیں مزدوری کیلئے نکلا جائے۔چانس ملنے کا انتظار ھے۔ تو جناب ایسے حضرات کیلئے بڑا زبردست چانس ھے۔اور کچھ نہیں تو ہم باہر والوں کیلئے آسانی ہی ہوجائے گی۔


پاکستان کے عوام کے خیالات اور پریشانیاں مندرجہ ذیل خبر سے ہمارے علم میں آئیں۔


عوام کے خیالات والی خبر 


پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ عوام کے لیے ناقابل برداشت ہے۔قیمتیں بڑھنے کا انتہائی منفی اثر غریب اور متوسط طبقے پر ہی پڑے گا ۔ زبردست مہنگائی کے طوفان میں ہمارے پاس صرف دو ہی راستے ہیں ، ملک چھوڑدیں یا خودکشی کرلیں۔عید الاضحی قریب آرہی ہے،عید سے چند دن قبل پٹرول کی قیمتیں بڑھنے کا مطلب یہ ہے کہ قربانی کے جانوروں کی قیمتیں بھی آسمان سے باتیں کریں گی۔ڈکٹیٹر کے دور میں چینی 27روپے کلو تھی اب 90سے تجاوز کرگئی ہے۔ہم حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ غریبوں کو ایک جگہ جمع کریں اور ایٹم بم ماردیں۔ان خیالات کا اظہار ملک بھر کے عوام نے جیوکے پروگرام ”کیپٹل ٹاک“ میں کیا۔


اس عوام کیلئے بہترین موقع 


  امریکی خلائی تحقیق کے ادارہ ناسا کے ماہرین کا کہنا ہے کہ مریخ پر آباد کاری کے منصوبہ کے تحت لوگوں کو یکطرفہ ٹکٹ پر لے جایا جائے گا۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق واشنگٹن میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے خلائی تحقیقاتی ادارے کے ترجمان نے بتایا کہ مریخ پر انسانوں کی آباد کاری کا کام شروع کیا جا چکا ہے۔ اس منصوبہ کا نام ہنڈرڈ ایئر سٹار سیٹ مشن رکھا گیا ہے جس کے تحت خواہشمند افراد کو یکطرفہ ٹکٹ پر مریخ بھیجا جائے گا۔ دوسری جانب مریخ پر جانے کے شائقین نے یکطرفہ ٹکٹ کی سہولت پر اعتراض کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اپنے اہل و عیال کو زمین پر چھوڑ کر تنہا مریخ پر آباد ہونے کیلئے قطعاً رضامند نہیں ہیں جبکہ ماہرین کا کہنا ہے کہ یکطرفہ ٹکٹ کے باعث مریخ پر آباد کاری کا سلسلہ تیز ہو جائے گا۔


ہمارے خیال میں اہل وعیال کا معاملہ بعد میں حل کر لیا جائے گا۔فی الحال اس چانس سے فائدہ اٹھائیں۔اور کچھ نہیں تو ایٹم بم کی بھیانک موت سے تو بہتر ہے۔


بس انگریزی کا ملی نغمہ گاتے جائیں ون وےٹکٹ ٹو دی مون اور پہنچ جائیں مریخ پر۔


جعلی ایجنٹوں سے محتاط رہئے گا۔صرف ناسا کے تصدیق شدہ ایجنٹ سے رابطہ کریں۔


آپ کی اطلاع کیلئے عرض کردوں کہ ناسا بھی کچھ کچھ دو نمبریا ھے۔سرمایہ جمع کرنے کا یہ ایک طریقہ کاربھی ہو سکتا ھے۔اصل بات پاکستان کے گورنر جنرل امریکی اتاشی سے معلوم کریں۔

پاکستان میں جینا مشکل پاکستان میں جینا مشکل Reviewed by یاسر خوامخواہ جاپانی on 4:56 PM Rating: 5

11 تبصرے:

خاور کہا...

ون کی ٹکٹ کا نام مریخ کی کا
اور
نندی پور کی نہر میں پھینک دو
لوگ سمجھیں که بندھ مریخ پر ہے اور بندھ اس سے بھی اوپر
الله کے پاس هو

جعفر کہا...

مہنگائی تو واقعی بہت زیادہ ہوگئی ہے جی
بندے کی چیکیں نکل جاتی ہیں، رکشےکا کرایہ دیتے ہوئے
بندے سے مراد، باہر سے چھٹی آیا ہوا بندہ ہے...

جاویداقبال کہا...

بہت خوب جی بہت اچھالکھاہے۔واقعی پاکستان والوں کےذہن میں یہ بات بیٹھی ہوئي ہےکہ ہم بہت مزےسےرہتےہیں اورعیاشیاں کرتےہیں لیکن کیابتائيں دل کیاحال کیاہےجی۔ اورگھروالوں کی حالت بھی ایسی کہ کوئي کام کونہ کہیں گےکہ اتنی تنخواہ سےکیابنتاہےجی۔

محمداسد کہا...

میرے خیال میں پاکستانیوں کو تو قطعآ چاند پر جانے کی محنت نہیں کرنی چاہیے. کیوں کہ اس میں نہ صرف انہیں چلنا پھرنا پڑے گا بلکہ ممکن ہے کچھ مزدوری وغیرہ بھی کرنی پڑے. اس لیے بہتر یہی ہے کہ چند دن گھر میں دبک کر سوئے رہیں. کچھ دنوں بعد باہر آئیں گے تو چاند جیسا ہی ماحول ہوگا. اور ناسا اپنی خصوصی شٹل یہاں بھیجے گا کہ آیا یہاں پانی کے آثار موجود ہیں یا نہیں. :D

افتخار اجمل بھوپال کہا...

مجھے تو صرف اتنا معلوم ہے کہ ميرے ہم عمر يا 5 سال مجھ سے بڑے يا چھوٹے لڑکے ان لوگوں کے جو باہر کمائی کرنے گئے ہوئے تھے اُس زمانے ميں يعنی 1950ء کی دہائی ميں ايک يا دو ہزار روپے قيمت کی گھڑياں پہنتے تھے اور ميٹرک کوئی بھی پاس نہ کر سکا ۔ہمارے والد صاحب کہتے تھے " پڑھو گے لکھو گے بنو گے نواب ۔ جو کھيلو گے کودو گے ہو گے خراب"۔ نواب تو ميں بن نہ سکا البتہ خجل خوار ہونے سے بچ گيا اور اللہ کے خاص کرم سے باعزت زندگی گذاری ہے

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

اپنے وطن میں روکھی سوکھی کھا کر باعزت زندگی گذر جائے
بس یہی کامیاب زندگی ھے جی۔
ہمارے قریبی رشتہ دار ہیں چالیس سال سے باہر کمائی کر رہے ہیں۔اور اب بچوں کیلئے کما رہے ہیں۔چالیس چالیس سالہ بچوں والے بچوں کیلئے۔

عادل بھیا کہا...

واہ کیا مشورہ دیا ہے یاسر بھیا!!! لیکن مریخ کے ٹکٹ کا ریٹ تو بتایا ہی نہیں... خیر کچھ لوگوں کی جیبیں کُتر کر ٹکٹ کیلئے بھی پیسے جمع کر ہی لیں گے. یہاں پاکستان میں ہم یہی کام تو کرتے ہیں. حاکم سے لے کر سویپر تک سب جیبیں ہی تو کُترتے ہیں ایک دوسرے کی

نغمہ سحر کہا...

مریخ پر کریڈٹ کارڈ چلے گا اگر چلے گا تو تین سیٹ بک کروا دیں میری دو نندوں اور ایک عدد ساس کیلئے وہ آپ کیلئے مریخ پہ جاکر دعا کریں گی کہ اللہ تعالی آپ کو ہمشہ جاپانی چپکلیوں سے محفوظ رکھے ۔

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

نغمہ جی۔ساسوں اور نندوں کیلئے تو راول پنڈی میں ایک نالہ لئی ھے۔
کیا خیال ھے۔سستا میں جان چھوٹ جائے گی۔ :lol: :lol:
عادل بھیا اس کا مطلب ھے ۔
پاکستانی سارے سرمایہ اکٹھا کرنے کے ماہر ہیں۔یعنی معاشیات میں پی ایچ ڈی :lol:

باپ کا متلاشی کہا...

بد اخلاق تبصرہ حذف کردیا گیا

فیسل ھسن کہا...

واھان جا کے بھی چاے کا کھوکا ھی لگانا ھے۔۔کونسا ھای فای جوب کرنی ھے

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.