دفعہ سی ۲۹۵

تعزیزات پاکستان کی دفعہ ۲۹۵ سی کے تحت توہین رسالت کی سزا موت پراسلام کے تمام مسالک کے مسلمانوں بریلوی، دیوبندی، اہل تشیع اور اہل حدیث کے جید فقہا اور علماء کا اتفاق ہے ۔یہ قانون پاکستان کی پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں سے منظورشدہ ہے۔


پاکستان کی عدالت نے اگر اس قانون کے مجرم کو سزائے موت دے دی تو وفاقی وزیر برائے اقلیتی امور بغیر کسی عدالتی کروائی کے کیسے اس مجرم کو بے گناہ قرار دے سکتا ھے؟


ساتھ میں یہ اعلان بھی کردے کہ یہ قانون تو ہے ہی ظالمانہ!


پنجاب کے گورنر صاحب دوڑے دوڑے مجرم کے پاس جائیں اور اعلان کردیں کہ یہ بے گناہ ھے!۔


عدالت نے ایک ملزم کر سزا دے دی۔وزیر اور گورنر صاحب اس مجرم کو بے گناہ قرار دے رہے ہیں۔


ہمارے خیال میں تو یہ عدالت کی کھلی توہین ھے۔عیسائیوں کے پوپ صاحب نے اپیل نما حکم جاری کیا اور ان ہوا بھرے غباروں میں کھل بھلی مچ گئی۔


عافیہ صدیقی پر کتنے قتل ثابت ہیں؟


عافیہ صدیقی کی واپسی کیلئے کتنے مسلمان تڑپ رہے ہیں ، عافیہ صدیقی کیا انسانوں میں شمار نہیں ہوتی؟


عافیہ صدیقی کیلئے ان  انسانی ہمدردی سے بھرے مینڈکوں میں رتی بھر رحم نہیں ھے۔


آسیہ بی بی کیلئے تڑپنے والے اگر کہہ دیں کہ عافیہ صدیقی کیلئے بھی اپنے پوپ صاحب سے رحم کی اپیل کردیں تو ان کا کہنا ہوتا ھے کہ وہ ایک علیحدہ مسئلہ ھے!!


ان کیلئے انسان کیلئے ڈبل سٹنڈرڈ ھے جی،


 اپنی پسند کا ھے تو انسانی حقوق ہیں۔اختلاف کرنے والے بندوں کا ھے تو دہشت گرد طالبان ، طوائف سے بھی بدتر وغیرہ ہو جاتا ھے۔


عافیہ صدیقی کو تو امریکی قانون نے اور


ان کی عدالت نے سزا دے دی اس لئے اب کچھ نہیں ہو سکتا۔


ان کے ملک میں بھی انسانی حقوق کی تنظیمیں ہیں۔ایسا کہرام نہیں مچا ان کے ممالک میں۔


مسلمانوں کا مجرم مسلمانوں کی عدالتوں کے سزا یافتہ کیلئے معافی  کی درخواست نما حکم اور پھر ہر طرح کا تعاون اور مدد۔


توہین رسالت کے قانون کی حمایت کا ایک ذرا سا ذکر کرکے دیکھیں۔


بے وقوف جاہل اجڈ عقل ادھار لے لو۔


یہ ہمارے اندر کے ہی پورے خاندان کے ساتھ ہجرت کرکے دیس بدل کر جانے والوں اور پاکستان میں بس کر پاکستان کی مراعات  کے مزا اڑاکر خود ساختہ آقاوں کی خدمت کیلئے ہر دم تیار رہنے والوں کے الفاظ ہوتے ہیں۔


ان سے کوئی پوچھے کہ جن کا دم بھرتے ہو کیا ان کے ممالک کے قوانین کا معلوم ھے؟


اپنی کالی چمڑی کی کھال میں ان ممالک میں رہ کر باعزت طریقے سے اپنے خیا لات اپنے جذبات کا اظہار کر سکتے ہو؟


اگر یہ کھال مسلمانی ھے ذرا ان ممالک کے قوانین کا مطالعہ کرکے ہمیں بھی سمجھا دیں۔


جب ان کے ممالک میں مسلمانوں کے جذبات کو مجروح کیا جائے تو انسانی حقوق ، شخصی آزادی ، آزادی رائے وغیرہ وغیرہ کی لفاظی کرکے مسلمانوں کو دھتکار دیا جاتا ھے۔


انہی کے ملک میں جئے ھٹلر کا نعرہ لگا کر دیکھئے،شخصی آزدی ، آزادی رائے وغیرہ دھرے کے دھرے رہ جائیں گے۔


اگر کہہ دیا جائے کہ ہولو کاسٹ کچھ زیادہ لمبی چھوڑی گئی افسانوی کہانی ھے۔


تو انکا قانون متحرک ہوجاتا ھے۔بے شک ہائی کورٹ تک چلے جائیں۔جواب ایک ہی ہو گا قانون تو قانون ھے جی


۔


ہمارے ملک میں بسنے والے ہی کیوں اس قانون کی مخالفت کرتے ہیں۔۔۔۔،،،،۔۔۔۔۔


میرے خیال میں پاکستان میں یہ قانون بھی دوسرے قوانین کی طرح غیر متحرک ھے۔


توہین رسالت کرنے والوں کی کتابوں میں تو اس قانون کی دھجیاں اڑائی گئی ہیں۔


اور یہی لوگ اس قانون کے سب سے بڑے مخالف ہیں۔


جیسے ہی کوئی ایسا واقعہ ہوتا ھے۔ایک مخصوص فتنہ پرور گروہ حد سے زیادہ متحرک ہوجاتا ھے۔اور توہین رسالت قانون کی سب سے زیادہ مخالفت شروع کردیتا ھے۔اس فتنے کی بنیاد ہی  توہین رسالت پر ہے۔اس فتنے نے نہ صرف نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کی ہے بلکہ حضرت عیسٰی علیہ السلام،اور حضرت مریم علیہ السلام کی بھی توہین کے مرتکب ہیں۔اس کے علاوہ وہ جملہ مسلمانوں کو جو کہ اس فتنے کو نہیں مانتے انکے بارے میں بہت ہی غلیظ زبان استعمال کرتے ہیں۔۔


ہمارے نام نہاد روشن خیال جب توہین رسالت کے قانون کا نام سنتے ہیں تو تیوریاں چڑھا کر اس کی برائیاں بیان کرنا شروع کر دیتے ہیں۔


دوسرے قوانین کی طرح اس قانون کا غلط استعمال ضرور ہوتا ہوگا۔اس میں اس قانون کی کیا برائی؟


جب بھی کوئی ایسا کیس سامنے آتا ھے۔اس قانون کی برائی شروع ہو جاتی ھے۔


کیا پاکستان میں قانون کا راج  ھے۔اور امن امان اپنی بہترین حالت میں ھے؟۔


قانون کے بننے سے لیکر اب تک ۷۰۰ کیسز رجسٹر ہوئے ہیں۔


سزا کسی کو بھی نہیں ہوئی۔اور ان سات سو میں سے آدھے سے زیادہ مسلمانوں نے مسلمانوں کے خلاف بنائے ہیں۔


صرف اقلیتوں کو ٹارگٹ کیا جاتا ھے جھوٹ ھے۔


اس قانون کا غلط استعمال کرنے والے صرف کفار کے دشمن ہی نہیں ہیں۔


اس قانون کو استعمال کر کے یورپ کا ویزہ اور پر آسائش زندگی  حاصل کرنے والے بھی تو ہیں۔


ان کے متعلق کبھی کسی نے نہیں لکھا؟


عافیہ صدیقی کو سزا دینے والوں نے کتنی جلدی کہا کہ آسیہ اور اس کی فیمیلی کو ویزہ  دیں گے!۔


اس قانون کے ہونے یا نہ ہونے سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔


حرمت رسولﷺ کا قانون مسلمان کے خون میں ھے۔


جب تک مسلمان ہیں اور ان میں حرمت رسولﷺ میں مر مٹنے کی تڑپ ہے تو یہ قانون لاگو ھے۔ 


ان خوامخواہ کے روشن خیالوں کیلئے نیچے کچھ لنک دئے ہیں۔


اگر ہم مسلما نوں کی درگت بنانے سے فرصت ملے تو ذرا ان دوسرے ممالک کے قوانین  کو بھی پڑھ لیں۔


http://en.wikipedia.org/wiki/Blasphemy_law


 


http://en.wikipedia.org/wiki/Blasphemy_law_in_Pakistan


 


http://en.wikipedia.org/wiki/Laws_against_Holocaust_denial


 


http://en.wikipedia.org/wiki/Holocaust_denial


 


http://psychologyuniversity.net/why-is-holocaust-de ial-illegal/


 


یہاں پر روشن خیالوں کی روشنیاں بھی پڑھئے۔


http://tribune.com.pk/story/80301/the-shame-of-aasia-bibis-blasphemy-charade/

دفعہ سی ۲۹۵ دفعہ سی ۲۹۵ Reviewed by یاسر خوامخواہ جاپانی on 10:56 PM Rating: 5

13 تبصرے:

جعفر کہا...

یہ بات....
ان کو مروڑ صرف ان لوگوں کے اٹھتے ہیں
جو کسی نہ کسی طرح کسی ملعونیت میں ملوث ہوں

میرا پاکستان کہا...

آپ نے ہمارے دل کی بات لکھی ہے ۔ یہی ڈبل سٹینڈرڈ ہم لوگوں کو سمجھ نہیں آتا۔ دراصل مسلمانی اب رہی ہی کہاں ہے۔ سب فائدے کے چکر میں ہیں جہاں سے دو ڈالر ملے، عزت بیچ دی۔

کاشف نصیر کہا...

پاکستان میں تمام اقلیتیں علاقے کے کسی بھی ملک کے مقابلے میں بہت بہتر ہیں اور یہ کہنا کہ پاکستان میں اقلیتوں کے ساتھ بہت ظلم ہوتا ہے اور انہیں پریشان کیا جاتا ہے سفید جھوٹ ہے۔ البتہ ایسا بھی نہیں ہے کہ اقلیتیں کے ساتھ مثالی سلوک ہوتا ہے اور لیکن حالات بھارت، چین اور ایران سے بہت بہتر ہیں.

ویسے آج وہ تمام لوگ خاص طور پر مشہور روشن خیال اورایم کیو ایم بلاگر عنیقہ ناز آپا جو عافیہ صدیقی کا مقابلہ ایک بازاری عورت سے کراتے تھے، آسیہ بی بی کی مظلومیت کا رونا رو رہے ہیں۔ کیا یہ منافقت نہیں ہے!

توحین رسالت کا قانون اللہ کے رسول کا خود بنایا ہوا ہے۔ بخاری اور مسلم کی کئی احادیث اور فقہ کی لاتعداد کتابیں اس موضوع پر موجود ہیں. تمام مکاتب فکر دیوبندی، بریلوی، اہل حدیث، شیعہ وغیرہ کا توحین رسالت کی سزا پر مکمل اجماع اور تامل ہے.

یاد رہے کہ ایک چھوٹی سے گروہ کے ذاتی خیالات اور رائے کچھ بھی ہوں لیکن فیصلہ جمہور کی رائے پر ہوگا. اور جمہور کی رائے وہی ہے جو اوپر بیان ہوچکا.

آسیہ بی بی اگر مظلوم ہیں اور انہوں نے ایسا جرم نہیں کیا جس کا ان پر الزام ہے تو انہیں رہا کرکے عزت سے رہنے دینا چاہئے اور اگر اعلی عدالت میں انکا جرم ثابت ہوتا ہے کہ وہ مجرم ہیں تو انہیں سزا ہونی چاہئے۔ البتہ سزا کے بعد آسیہ معافی کی درخواست کرے اور کہے کہ میں نے جو جرم کیا میں اس پر شرمندہ ہوں تو انسانی ہمدردی کی بنیاد پر اسکی سزا ختم یا کم ہوسکتی ہے واللہ عالم

مسئلہ یہ ہے کہ مسلمان (علاوہ روشن خیالئے) ہر ظلم اور ہر دہشت گردی برداشت کرلیں گے لیکن اہنے پیارے نبی کی توحین ہرگز برداشت نہیں کریں. اگر محمد صلی اللہ و علیہ وسلم نے اپنے گستاخوں کو قتل کرنے کا حکم نہ بھی دیا ہوتا تو بھی فرقِ محبت میں ایک مسلمان ایسا ہی کرتا.

لیکن آسیہ بی بی کی مظلومیت کے نام پر اس وقت روشن خیال اور تاریک دل لوگ جو کر رہے ہیں وہ حب علی نہیں بغض ماویہ ہے۔ یہ بھی سچ ہے کہ کچھ لوگ بے گناہوں کو پھنساتے ہیں اور ماتحت عدالتوں ان بے گناہوں کو سزا بھی ہوجاتی ہے لیکن جب معاملا بڑی عدالتوں میں آتا ہے تو کافی حد تک غلط فیصلے ٹھیک کردئے جاتے ہیں. ایک منٹ اگر مان لیا جائے کہ اس قانون کا غلط استعمال ہوتا ہے تو قتل کے قانوں کا بھی غلط استعمال ہوتا ہے مثال کے طور سب مانتے ہین کہ بھٹو صاحب کو غلط پھانسی ہوئی تھی تو کیا اس لئے ایک بے گناہ کو سزا ہوتی ہے اور عدالت اور پولیس نے اپنا کام ٹھیک نہیں کرتی تو قتل کی سزا بھی ختم کردی جائے؟

کل حامد میر نے بھی اس موضوع پر ایک شاندار مضمون لکھا ہے جسکا ربط یہ ہے۔
http://ejang.jang.com.pk/11-25-2010/pic.asp?picname=06_04.gif

اگر زرداری کی امریکہ پرست حکومت نے اس محمدی قانون کو ختم بھی کردیا تو شمع رسالت کے پروانے اس قانون سے قیامت تک دستبردار نہیں ہونگے. فرق صرف یہ ہوگا کہ ابھی مقدمات قائم ہوکر سب کچھ قانونی ہوتا ہے، اس وقت ہم قانون ہاتھ میں لے کر گستاخ کی قیمہ بوٹی کردیں گے. تو سوچ لیں قانون ختم کرنے کے کیا نتائج ہونگے!

احمد عرفان شفقت کہا...

روف کلاسرا صاحب اس سلسلے میں یہ کہہ رہے ہیں۔۔۔
http://www.express.com.pk/epaper/PoPupwindow.aspx?newsID=1101106087&Issue=NP_LHE&Date=20101125

fikrepakistan کہا...

توہین رسالت صلی علیہ وسلم کے قانون کو ختم کرنے کی کوشش بھی کرنا خود کشی کے مترادف ھوگا حکومت کے لئیے، عافیہ صدیقی کی رہائی سے مشروط کر دینا چاہیے آسیہ کی رہائی کو۔

افتخار اجمل بھوپال کہا...

آپ نے سير حاصل تحرير لکھی ہے مگر وہاں تو وہ حال ہے
تُساں نا آکھيا سِر مَتھے ۔ اپنا پرنالہ اُوتھے نا اُوتھے

وقاراعظم کہا...

واہ جی زبردست...
ان فرنگی زبان والے بلاگز کو پڑھ پڑھ کر تو جی اوپر کا درجہ حرارت انتہا کو پہنچ گیا تھا اور میں کچھ الٹا سیدھا چھاپنے ولا تھا. پر آپ نے ہمارے جذبات کی ترجمانی اچھے انداز سے کردی.
@ احمد عرفان شفقت: جناب بات اتنی سادہ نہیں ہے. حامد میر اور انصار عباسی نے تو لکھا ہے کہ ملزمہ آسیہ نے سب کے سامنے توہین رسالت کا اقرا کیا ہے اور اس غلطی پر معافی کی درخواست کی ہے. میں یہ نہیں کہتا کہ ملزمہ کو دار پہ لٹکا دیا جائے، اس کی معافی کی درخواست پر ضرور غور ہونا چاہیے لیکن اس کی آڑ میں تو ہین رسالت کے قانون کو نشانہ بنانے کی اجازت نہیں دی جاسکتی.
رؤف کلاسرہ صاحب نے کتنی آسانی سے طائف اور فتح مکہ کی داستان بیان کردی لیکن وہ یہ بتانا بھول گئے کہ فتح مکہ کے دوران رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ لوگوں کے نام لے کر حکم دیا تھا کہ اگر وہ غلاف کعبہ سے بھی لپٹ جائیں تو انھیں قتل کردیا جائے.

ڈاکٹر جواد احمد خان کہا...

بہت عمدہ اور معلوماتی مضمون ہے. جزاک الله .
ضرورت اس امر کی ہے روشن خیالوں کے اس طوفان بدتمیزی کا جواب دینے کے لئے معاشرتی اور سیاسی دباؤ میں اضافہ کیا جائے. لوگوں کو متحرک کیا جائے. تاکہ حکمرانوں کو اندازہ ہو کہ معاملہ آٹا، چینی یا دودھ کی قیمتوں میں اضافے سے کہیں زیادہ سنگین ہے.

جاویداقبال کہا...

اس کاکیاکہیں گےانسان کادوغلہ پن ہی ہوتاہےوہ اس بات پربھی اصرارکرےوہ محبت رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم سےسرشارہےاوران کی گستاخی کرنےوالےکوانسانیت کےخلاف واقعہ بھی کہےآخرکیوں؟یہ اپنےگریبان میں جھانک کردیکھیں کہ یہ باتیں وہ کیوں کہتےہیں؟کیاوہ مسلمان ہونےپرنادم ہیں؟ کیونکہ ان کواسلام میں ہرچیزمیں کیڑےنکالنےہی اچھےلگتےہیں
اللہ ہم سب پراپنارحم وکرم کرےاورہمیں دین اسلام کی صحیح تعلیمات پرعمل پیراہونےکی توفیق عطاء فرمائيں۔ آمین ثم آمین

منیر عباسی کہا...

بہت بہت شکریہ یہ سب لکھنے کا. ہمارا کام توجہ دلانا ہے، قانون ہاتھ میں لینا نہیں.

آج کے اخبار میں شائع ہونے والی ایک خبر کا ربط پیش خدمت ہے انسانی حقوق والوں کے لئے:

http://thenews.com.pk/27-11-2010/ethenews/e-17589.htm

Tweets that mention دفعہ سی ۲۹۵ - عام بندے کا حال دل -- Topsy.com کہا...

[...] This post was mentioned on Twitter by Muhammad Asad, Urdublogz.com. Urdublogz.com said: UrduBlogz-: دفعہ سی ۲۹۵ http://bit.ly/gBYpvX [...]

شازل کہا...

اس قانون کو ختم کرنا گویا سب لوگوں کو دعوت دینا ہے کہ وہ توہین بغیر کسی خوف وخطر کے کرتے رہیں.
جب اس کے بارے میں واضح حکم ہے تو کسی بھی مسلمان ملک کے سربراہ کا اس سے رو گردانی کرنا کسی طور جائز نہیں.

لطف الا سلام کہا...

یہ مخصوص طبقہ کہیں جماعت احمدیہ تو نہیں۔ 295 سی سے قبل 295 اے کا قانون تھا۔ اور یہ قانون 1927 میں انڈیا کے پینل کوڈ میں جماعت احمدیہ کی تحریک پر لارڈ ہیلی نے شامل کروایا تاکہ رنگیلا رسول جیسی مزید کوئی توہین آمیز کتاب نہ شائع ہو اور کسی طبقہ کے جذبات مجروح نہ ہوں۔
جنرل ضیاء نے بہت سی لعنتیں ملک میں چھوڑی ہیں۔ طالبان، ہیروئین، کلاشنکوف، جعلی سیاستدان اور ظالمانہ مذھبی قوانین۔ 295 سی بھی ایک ظلم ہے۔ اسلام کی،رسول اللہ صلی اللہ وعلیہ وسلم کی توہین تو یہ ہے کہ ان کے نام پر جبر کیا جائے۔

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.