جنگل اور وحشی

جہاں انسانیت کی توہین ایک عام سی بات ہو۔جہاں مولوی فرقہ پرستی میں قتل وغارت کرنے سے بھی گریز نہ کرے بلکہ سادہ دل لوگوں کو اشتعال دلائے۔نظریاتی اختلاف رکھنے والے روزانہ ایک دوسرے کا گلہ کاٹ رہے ہوں۔جہاں پولیس اثر ورسوخ رکھنے والے کی لونڈی ہو اور رشوت  بےبس و مجبوروں سے وصول کرے ۔


جہاں سیاستدانوں کو الزام تراشیوں سے فرصت نہ ہو۔جہاں پیرو مرشد نذرانے ہی وصول کریں۔جس قوم کے خود ساختہ رہنما اپنی تجوریاں بھرنے میں مصروف ہوں۔جس قوم کے منتخب سیاست کے کھلاڑی عوام کے ننگے بدن کو دیکھ  کرحقارت سے نظریں پھیر لیں۔ان ننگ ملت صدر و وزرا کے بدن پر اقوام مغرب کے ڈیزائن کردہ قیمتی لباس ہوں۔


جس قوم کا ہر فرد خوف زدہ ہو،جس قوم کے سیاستدان و حکمران نام نہاد مذہبی و سیاسی راہنما انسانوں کو وحشی درندوں اور مشینوں میں بدل دیں۔جس قوم کے لوگوں کا جسم اور ذہن اپنے  دائرے میں ٹھیک ٹھیک کام نہ کرے۔جس قوم کے مراعات یافتہ اعلی تعلیم یافتہ اپنی ذہنی و علمی قابلیت خوامخواہ نفرت وغصب اور فریب کاری میں ضائع کریں۔جس قوم کے امیر و غریب پڑھے لکھے و انپڑھ سادہ زندگی گذارنا پسند نہ کریں۔


حرص و تعیش کے غلام ہوں،آرزومند ، رشک زدہ ہوں۔جو کچھ ان کے پاس ہے ان سے ان کی تسلی نہیں ہوتی، وہ طلب کرتے ہیں جو ان کے پاس نہیں۔ایک گروہ دوسرے گروہ کے حقوق میں در اندازی کرے۔جو کچھ خطہ زمین سے حاصل ہو اس پر لڑائی ٹھنی رہے۔


چھوٹے قصبے سے لے کر بڑے شہروں تک میں رنگ برنگی طبقہ بندی ہو ایک غریب بھکاریوں کا طبقہ دوسرا امیر بھکاریوں کا طبقہ۔ دونوں طبقے والے جس کا جہاں ہاتھ پہونچے دوسرے کے حقوق میں در اندازی کرے۔


جس قوم کے مذہبی عناصر حجاج کو بھی لوٹ لیں۔جس قوم کا غریب جاہل اپنی تین سے دس سالہ بچیوں کو جوئے میں ہار جائے۔جس قوم کے اعلی تعلیم یافتہ اپنے اختلاف کا اظہار بھی دوسروں کی تذلیل کر کے ہی کریں۔جس قوم کے لوگ جب کمزور ہوں تو دبائے جائیں۔


جب طاقتور ہوں تو کمزوروں کو دبانا شروع کردیں،جب  کمزوری محسوس کریں تو دہائی دینا شروع کردیں۔ مدد ، مدد ، انصاف ، انصاف۔


اس قوم کے معاشرے میں کیسا قانون اور کیسا عدل کونسا انصاف اور کیسا انصاف؟


جو قوم اپنے ہی مذہب کی روزانہ توہین کرتی ہو۔جو قوم اپنے پیارے نبیﷺ کی تعلیمات کی روزانہ توہین کرتی ہو۔


مولوی سے لیکر مراثی تک توہین رسالتﷺ عقیدت و محبت سے کر رہا ہو۔جس قوم کا بچہ بوڑھا کوئی انسانی و دینی حقوق نہ رکھتا ہو نہ  ہی اسے اپنے دینی و دنیوی حقوق کا علم ہو۔اس قوم کی پناہ میں رہنے والے غیر مسلم کے  کیسے حقوق؟


جب طاقتور توہین رسالتﷺ کرے تو چوڑیاں پہن کر احتجاج کرے،جب اپنی پناہ میں موجود غیر مسلم پر توہین رسالتﷺ کا الزام لگے تو سزائے موت دے۔


اس غیر مسلم کو کہاں سے اور کون انصاف دے؟ پہلے اس غیر مسلم کو اس کے حقوق دو انسانوں جیسا سلوک کرو۔


پھر بھی توہین رسالتﷺ میں مقابلہ کرے تو


پھانسی دے دو۔   


 

جنگل اور وحشی جنگل اور وحشی Reviewed by یاسر خوامخواہ جاپانی on 9:44 PM Rating: 5

24 تبصرے:

سعد کہا...

انصاف؟ کتابی باتیں مت کریں۔ اب تو جس کی لاٹھی اس کی بھینس! کٹی سمیت!

جعفر کہا...

پر جی ایک بات اور ہے
یہ صرف اس قانون کے متاثرین کو ہی حکومت سے انصاف اور امریکہ یا یورپ کا ویزہ کیوں ملتا ہے؟
باقی سارے ناانصافی کے شکار ہونے والوں کے لیے رب کو خود آنا پڑے گا ؟

ضیاء الحسن کہا...

ہماری کیٹیگری تو ہے ہی نہیں یہاں ۔۔۔۔۔۔

fikrepakistan کہا...

غلامی رسول صلی اللہ وسلم میں موت بھی قبول ھے، ہر کوئی یہ نعرہ لگاتا ھے، بات بھی صحیح ھے مگر احکامات رسول صلی اللہ وسلم کا کیا ھے ؟ اس پر عمل کون کرے گا ؟ ۔ سچ تو یہ ھے کہ یہاں سب سے زیادہ توہین رسالت کے مرتکب تو ہم خود ھو رہے ہیں۔

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

جعفر جی ان کو ویزہ وہی لے کر دیتے ہیں جو اس خاتونہ کیلئے تڑپ رہے ہیں۔اور یہ وہی گروہ ھے جسے سب سے زیادہ توہین رسالت قانون کی تکلیف ھے۔مذہبی جماعتوں کے علاوہ جتنی بھی روشن خیال الیاں جو این جی اوز ہیں انہیں یہی گروہ چلاتا ھے۔اس آسیہ بی بی نامی خاتونہ کو بھی اسی گروہ کی این جی او مدد دے رہی ہوگی۔
باقی نا انصافی کے شکار ہونے والوں کیلئے رب تو نہیں اترے گا۔یہ ہی رب کے پاس پہونچ جائیں گے۔

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

آ پ کی کیٹیگری ہمارے دل میں ھے جی۔۔۔۔۔لیکن بغیر آپ کی ٹیم کے۔۔۔ہمارا دل چھوٹا ھے جی۔

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

سعد جی بجا فرمایا

ڈاکٹر جواد احمد خان کہا...

مجھے سب سے زیادہ ڈر اس بات کا ہے کہ اگر توہین رسالت پر اسی طرح معافیاں دی جانے لگیں تو اس ملک میں ایک اور بحران کھڑا ہو جائے گا. اور لوگ خود سے ہی ان معاملات کو اپنی ہی عدالتوں میں نمٹانے لڱيں گے. اور غالباً مغرب کا یہی منشا ہے.
بھائی فکر پاکستان!
اتنا بھولپن بھی اچھا نہیں ہوتا. احکامات کیا ہیں اور کون عمل کرے گا یہ کوئی راز نہیں ہے. نافرمانی اور توہین میں بہت فرق ہوتا ہے. خاص طور پر دینی معاملات میں. دین میں توہین ایک نہایت سنگین جرم ہے جو کے مرے جیسے بے عمل مسلمان کی بھی سوچ سے پرے کی چیز ہے. روشن خیال ہو تو بات اور ہے.

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

ڈاکٹر جواد صاحب اس کے علاوہ ایک مخصوص لابی اس قانونی کی مخالف ھے۔
ہمارے نام نہاد روشن خیال تمام مسلک کے علما جنہوں نے دین کا علم حاصل کرنے کیلئے برسوں ریاضت کی ان سے زیادہ دین کو سمجھنے کا دعویدار ھے۔
توہین رسالت قانون ان علما کے اتفاق سے بنا ھے۔
ہم عام لوگ کیسے اس کی مخالفت کر سکتے ہیں؟
اگر یہ قانون ختم ہوگیا تو ہر گلی میں جیسے اس وقت پیر ٹائپ جنس پائی جاتی ھے نبی موجود ہونا شروع ہوجائیں گے۔اور یہی سب سے بڑی رسالت کی توہین ہے

عثمان کہا...

جاپانی میرے جانی ،
خاور کنگ سے تھوڑی عقل ادھار لے لیجیو! واضح رہے وہ ملعون روشن خیالیوں کی کیٹیگری میں نہیں آتے۔ اور ہمارے طرح آپ بھی ان کے فین ہیں۔ :mrgreen:
باقی "علمائے" دین کے بارے میں میرے خیالات ناقابل اشاعت ہیں۔ :lol:

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

عثمان : میں خاور کی عزت کرتا ہوں۔فین بھی ہوں۔
لیکن مسئلہ یہ ھے کہ خاور نے عقل بیچنے کی دکان نہیں کھولی ہوئی۔
وہ تو کباڑ بیچتے ہیں۔آپ نے غلط فہمی میں غلط شے خرید لی :D
علمائے دین۔۔۔۔۔کے لئے ناقابل اشاعت خیالات کا اظہار معلون و لعنتی زور و شور سے کرتے ہیں یا فہم دین کے خبط میں مبتلا خوامخواہ روشن خیال۔
یا تیسری کیٹیگری کے جو مولوی کے ہاتھوں اسی فیصد میں شامل کر دے گے ہیں۔
آپ کونسی کیٹیگری میں سے ہیں؟

عثمان کہا...

خاور نے عقل بیچنے کی دکان نہیں کھولی.
اللہ نے کھولی ہے. اور اللہ عقل مفت دیتا ہے۔ بلا تخصیص سب کو۔ جس کا جی چاہے لے کر استعمال کرے۔ جس کا جی چاہے مولوی کو دے کر اس کے در پر بیٹھ جائے۔ :D

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

اسی لئے کہتا ہوں نا۔
عقل کے ساتھ اللہ میاں اخلاق بھی مفت میں بانٹتے ہیں۔
کسی سے اختلاف ہو تو اسے عقل ادھار لینے کا مشورہ دینے سے پہلے سوچنا چاھئے۔
اب اگر پپو بچے کے مولوی نے چودہ طبق روشن کردیئے تو پپو بچے کو غلط فہمی میں روشن خیالی کا خبط نہیں ہونا چاھئے۔ مولوی تو مولوی ھے۔
آپ کو کیا ہر جگہ پر بیہودگی کرنے کا چسکا پڑ گیا ھے؟
میری کسی بات سےاچھے الفاظ میں بھی اختلاف کرسکتے ہیں۔
یا آپ کے والد صاحب جو بہت ہی اعلی و ارفع ہیں، انہوں نے کچھ ایسی ہی اعلی تربیت کی ھے؟
اب ذاتیات کا رونا مت رویئے گا۔میں نےصرف آپ کے مزاج کے مطابق آپ کو سمجھانے کی کوشش کی ھے۔

محمد طارق راحیل کہا...

جس قوم کے حکمران نا اہل بے حس اپنے منصب کی اہمیت سے بے بہرہ اللہ کے سامنے جوابدہی کے خوف سے آزاد ہوں طاقت جن کا مقصد حکمرانی جن کا نصب العین اور دولت جن کا خدا ہو ایسے ملکوں میں یہی رواج روز و شب دکھائی دیا جاتا ہے
عوام بھی بے حس ہے خواص کیا کیا کہنا
اسلامی اقدار کو بھولنے والوں اسلامی معیار زندگی کو ترک کرنے والوں دکھاوے اور ریاکاری کے سیلاب میں بہنے والوں میں اور بس میں کے لئے لڑنے والوں کے ساتھ ایسے ہی ہوا جاتا ہے
حقوق اللہ کی کیا نبہانا یہاں حقوق العباد پورے کیا ان کو پامال کیا جاتا ہے اللہ کو مانتے ہیں اللہ کی نہیں مانتے رسول کو مانتے ہیں پر رسول کی نہیں مانتے ماننے کی حد یہاں کے کٹ مریں گے کوئی ان کا نام کے ساتھ یا لگائے یا نہیں اس بات کے لئے مگر انہوں نے کہا کیا وہ بھول گئے

؎ خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی

نہ ہو جس کو خیا ل آپ اپنی حالت کے بدلے کاآمین

عثمان کہا...

اوپر کئے گئے مزاق میں ایسی گھٹیا بات کونسی لگی ؟ میرے ہرجگہ ہلکے پھلکے مزاق سے آپ اچھی طرح واقف ہیں۔
نیز آپ کے "ٹھنڈے مزاج" سے بھی میں خوب واقف ہوں۔ اپنے نظریاتی مخالفین کو تبصروں میں غلیظ گالیاں اور گھٹیا پوسٹیں لکھنے کا جو ریکارڈ آپ نے قائم کیا ہے وہ تو کوئی نہیں توڑ سکتا۔
امید ہے مستقبل میں بھی میری چھیڑ خانی سے زچ ہوتے رہیں گے۔ :lol:

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

نظریاتی اختلاف والوں کو میں نے آج تک گالیاں نہیں دیں!!
جسے آپ گالیاں کہہ رہے ہیں وہ بارہ سنگھے اور بارہ سنگھی کو بار بار گذارشات کرنے کے بعد ذرا تلخ الفاظ استعمال کئے ہیں۔جو وہ الفاظ استعمال کرتے ہیں انکا آپ کو معلوم ہی ھے۔
آپ نے عقل ادھار لینے کا مشورہ کیوں دیا تھا؟
کس کے خلاف میرا موقف سخت ہوتا ھے؟
تو کیا آپ کے نزدیک خبیثوں کے ٹولے اور آپ میں نظریاتی اختلاف ھے؟

عثمان کہا...

یہ خبیثوں کا ٹولا اب اللہ جانے کون ہے اور ان کی کیا رائے ہے۔ اپنی رائے ایک بلاگ پر دی تھی۔ تقریبا وہی ادھر لکھ دیتا ہوں:

میں‌ اس موضوع پر کسی حد تک خاور کھوکھر کی پوسٹ سے متفق ہوں۔ پھانسی کی سزا کی تو میں‌ حمایت نہیں‌ کرتا۔ ہاں اگر کوئی گستاخ‌ رسول نفرت انگیز کتاب لکھتا ہے یا کوئی شخص بڑے پیمانے پر شان رسالت کے خلاف پروپگینڈا میں‌ مصروف رہتا ہے تو اس پر مقدمہ چلا کر جیل بھیج دینا چاہیے۔ لیکن اگر محلے میں‌ لڑائی کے دوران کسی گنوار اور بےکس شخص نے اسلام اور رسول کے خلاف ہرزاسرائی کردی تو کوئی ایسی قیامت نہیں آگئی۔ میرا فہم دین بات بات پر لوگوں کی گردنیں‌ اتارنیں‌ کی تلقین نہیں‌ کرتا۔ جہاں‌ درگزر کرنے اور ہدایت سے کام چل سکتا ہے وہاں یہی مثبت راستہ اپنانا چاہیے۔میرے نزدیک یہی دین کے اصل روح‌ کے موافق ہے۔
کہنے کا مطلب یہ ہے کہ سزا جرم کی شدت کے مطابق ہونا چاہیے۔ یہ نہیں کہ تین روپے کی روٹی چرانے والا اور تین ارب کا بینک ہڑپ کرجانے والا برابر کے چور ہوں۔


آپ کی ماضی کی پوسٹیں موجود ہیں جن میں آپ نے شرمناک طریقے سے "اختلاف" کے کارنامے ہے۔ اور یہ ایک نہیں بلکہ بہت سی ہیں۔ حوالہ دینے کی ضرورت نہیں۔ جنسی گالی نکالنے کا کارنامہ بھی آپ ہی ماضی میں انجام دے چکے ہیں جس کا ریکارڈ حال ہی میں کسی نے برابر کیا ہے۔ خود اس پوسٹ آپ کے الفاظ سامنے ہیں۔

میرا ہر کسی کے ساتھ ہلکا پھلکا مزاق چلتا ہے۔ ہر بلاگ پر دیکھا جاسکتا ہے۔ خاور کنگ کی بلاگنگ آپ کو بھی پسند ہے مجھے بھی۔ اسی حوالے سے مزاق کیا ہے۔

آپ کا بلاگ ہے جو مرضی لکھتے رہیے۔ آپ جس مرضی لیول پر گر جائیں آپ کے ماضی کے ریکارڈ کے پیش نظر مجھے کوئی حیرانی نہیں ہوگی۔

عثمان کہا...

تصحیح٭

خود اوپر تبصرے میں آپ کے الفاظ سامنے ہیں۔


بہرحال مٹی پائیں اور غصہ تھوک دیں۔

یا پھر حسب معمول میرے خلاف ایک اور پوسٹ داغ دیں۔ :lol:

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

میری اس پوسٹ پر ایسی کونسی بات تھی کہ میں نے آسیہ نامی خاتونہ کو پھانسی دینے کی بات کی؟
آپ کو معلوم ھے۔آپ نے میری ذات پر لکھا تو میں نے آپ سے لڑائی نہیں کی۔
کسی دوسرے کے متعلق اگر پوسٹ لکھی ہے تو اس شخصیت نے انتہا ئی غلیظ زبان استعمال کی جس کیلئے میں نے پوسٹ لکھی وہ بھی تھوڑا ہاتھ ہلکا رکھ کر۔
ابھی بھی آپ کے ہم نوالہ و ہم پیالہ گری ہوئی زبان ہی استعمال کرتے ہیں۔
جاہل ،اجڈ ،گنوار گدھے وغیرہ یہ ان کے الفاظ ہوتے ہیں ۔
ان سےاختلاف کرنے والوں کیلئے۔
کسی سے متفق نہ ہوں تو طوائف سے بھی گرا ہو ا ثابت کردیتے ہیں۔
جسے میں جنسی گالی دی اس کا بھی آپ کو معلوم ہی ھے۔
وہ گالی بھی میں نے اپنی ذات کیلئے نہیں دی تھی۔
آپ نے یہاں پر مجھے عقل ادھار لینے کا کیوں مشورہ دیا مجھے بھی معلوم ھے۔
قادیانیوں سے میرا نظریاتی اختلاف نہیں ھے۔
اصول اور عقائد کا اختلاف ھے۔
اس مذہب کا بانی جو زبان اپنے مخالفوں کیلئے استعمال کرتا ھے۔وہ میرے خیال میں آپ کو معلوم ھے۔نہیں تو میں بمعہ ثبوت آپ کو دے دیتا ہوں۔یہی وجہ ھے کہ میں قادیانی کیلئے کوئی رعایت کا جذبہ نہیں رکھتا۔
آپ کو توہین رسالت کے قانون سے اختلاف ھے تو احسن طریقے سے یہاں تبصرہ کردیں۔
یا اپنے بلاگ پر پوسٹ لکھ دیں۔
میری جتنی بھی گالی گلوچ والی پوسٹز ہیں یہاں رابطہ لکھ دیں۔
اور ہم آپ کے ہم نوالہ اور ہم پیالہ خواتین و حضرات کی پوسٹ اور تبصرے چھاپ دیں گئے۔آپ نے بھی جہاں جہاں جو کچھ لکھا وہ بھی مل جائے گا۔
حقیقت میں مجھے آپ سے کچھ باتوں میں اختلاف ضرور ھے۔
لیکن ابھی آپ پر پوسٹ لکھنے کی ضرورت محسوس نہیں کرتا۔
نہ ہی مجھے آپ سے نفرت یا بغض ھے۔بلکہ کچھ انسیت ہی ھے۔
یہاں پر جو مذاق میں آپ نے بات لکھی وہ اگر صرف میری ذات پر ہوتی تو شاید میں خاموش رہ جاتا۔آپ نے احسن طریقے سے اختلاف نہیں کیا اس لئے میں نےآپ سے سختی سے بات کی۔رہ گئی ہمارے گرنے کی بات تو ابھی طفل مکتب ہیں شاید کبھی اوپر آ ہی جائیں۔

کاشف نصیر کہا...

پاکستان میں تمام اقلیتیں علاقے کے کسی بھی ملک کے مقابلے میں بہت بہتر ہیں اور یہ کہنا کہ پاکستان میں اقلیتوں کے ساتھ ظلم ہوتا ہے اور انہیں پریشان کیا جاتا ہے سفید جھوٹ ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ اقلیتیں کے ساتھ مثالی سلوک ہوتا ہے اور لیکن حالات بھارت، چین اور ایران سے بہت بہتر ہیں.

ویسے آج وہ تمام لوگ خاص طور پر مشہور روشن خیال اورایم کیو ایم بلاگر عنیقہ ناز آپا جو عافیہ صدیقی کا مقابلہ ایک بازاری عورت سے کراتے تھے، آسیہ بی بی کی مظلومیت کو رونا رو رہے ہیں۔ ہے کیا یہ منافقت نہیں!

توحین رسالت کا قانون اللہ کے رسول کا خود بنایا ہوا ہے۔ بخاری اور مسلم کی کئی احادیث اور فقہ کی لاتعداد کتابیں اس موضوع پر موجود ہیں. تمام مکاتب فکر دیوبندی، بریلوی، اہل حدیث، شیعہ وغیرہ کا توحین رسالت کی سزا پر مکمل اجماع اور تامل ہے. اور یاد رہے کہ ایک چھوٹی سے گروہ کے ذاتی خیالات اور رائے کچھ بھی ہوں لیکن فیصلہ جمہور کے مسئلے پر ہوگا. اور جمہور کا مسئلہ وہی ہے جو اوپر بیان ہوچکا.

آسیہ بی بی اگر مظلوم ہیں اور انہوں نے ایسا جرم نہیں کیا تو انہیں رہا کرکے عزت سے رہنے دینا چاہئے اور اگر اعلی عدالت میں یہ ثابت ہوتا ہے کہ وہ مجرم ہیں تو انہیں سزا ہونی چاہئے۔ البتہ سزا کے بعد آسیہ معافی کی درخواست کرے اور کہے کہ میں نے جو جرم کیا میں اس پر شرمندہ ہوں تو انسانی ہمدردی کی بنیاد پر اسکی سزا ختم یا کم ہوسکتی ہے واللہ عالم

مسئلہ یہ ہے کہ مسلمان ہر ظلم اور ہر دہشت گردی برداشت کرلیں گے لیکن اہنے پیارے نبی کی توحین ہرگز برداشت نہیں کریں. اگر محمد صلی اللہ و علیہ وسلم نے اپنے گستاخوں کو قتل کرنے کا حکم نہ بھی دیا ہوتا تو بھی فرقِ محبت میں ایک مسلمان ایسا ہی کرتا.

لیکن آسیہ بی بی کی مظلومیت کے نام پر اس وقت روش خیال اور تاریک دل لوگ جو کر رہے ہیں وہ حب علی نہیں بغض ماویہ ہے۔ یہ بھی سچ ہے کہ کچھ لوگ بے گناہوں کو پھنساتے ہیں اور ماتحت عدالتوں ان بے گناہوں کو سزا بھی ہوجاتی ہے لیکن جب معاملا بڑی عدالتوں میں آتا ہے تو کافی حد تک غلط فیصلے ٹھیک کردئے جاتے ہیں. ایک منٹ اگر مان لیا جائے کہ اس قانون کا غلط استعمال ہوتا ہے تو قتل کے قانوں کا بھی غلط استعمال ہوتا ہے مثال کے طور سب مانتے ہین کہ بھٹو صاحب کو غلط پھانسی ہوئی تھی تو کیا اس لئے ایک بے گناہ کو سزا ہوتی ہے اور عدالت اور پولیس نے اپنا کام ٹھیک نہیں کرتی تو قتل کی سزا بھی ختم کردی جائے؟

کل حامد میر نے بھی اس موضوع پر ایک شاندار مضمون لکھا ہے جسکا ربط یہ ہے۔
http://ejang.jang.com.pk/11-25-2010/pic.asp?picname=06_04.gif

اگر زرداری کی امریکہ پرست حکومت نے اس محمدی قانون کو ختم بھی کردیا تو ہم اس قانون سے قیامت تک دستبردار نہیں ہونگے. فرق صرف یہ ہوگا کہ ابھی مقدمات قائم ہوکر سب کچھ قانونی ہوتا ہے، اس وقت ہم قانون ہاتھ میں لے کر گستاخ کی قیمہ بوٹی کردیں گے. تو سوچ لیں قانون ختم کرنے کے کیا نتائج ہونگے!

کاشف نصیر کہا...

اگر زرداری کی امریکہ پرست حکومت نے اس محمدی قانون کو ختم بھی کردیا تو ہم اس قانون سے قیامت تک دستبردار نہیں ہونگے. فرق صرف یہ ہوگا کہ ابھی مقدمات قائم ہوکر سب کچھ قانونی ہوتا ہے، اس وقت ہم قانون ہاتھ میں لے کر گستاخ کی قیمہ بوٹی کردیں گے. تو سوچ لیں قانون ختم کرنے کے کیا نتائج ہونگے!

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

ننھے مولوی :twisted: :twisted: :twisted:
یا شیطان کے چچا میاں :evil: :evil:

عثمان کہا...

قادیانی فتنے کا تذکرہ کہاں سے درد آیا؟
جھوٹی نبوت کے دعویداروں کو تختے پر لٹائیں۔ اس سے کون اختلاف کررہا ہے۔
یہاں بات ہو رہی ہے ہر وقت استعمال ہونے والے قانون کی۔ جو دو ہاتھا پائی میں ملوث لوگوں کو بھی پھانسی تک پہنچا دیتا ہے۔

منیر عباسی کہا...

میرا خیال ہے کاشف نصیر صاحب،کہ ، قانون ہاتھ میں لینے سے کچھ فائدہ نہیں ہوگا. الٹا اس پروپیگنڈے کو تقویت ملے گی، کہ دیکھا، ہم نہ کہتے تھے..

اس لئے کسی جذباتی رد عمل کی بجائے ایک حکمت عملی اختیار کرنی ہو گی، مگر وائے افسوس، ہمارے نمائیندے جی ایس ٹی پر حکومت کی حمایت کرنے کے عوض اپنے سیاسی فائدے حاصل کرنے میں مگن ہیں.

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.