حجام اور حجامت

 ہمارے معاشرے میں ایک ہر فن مولا کردار عموماً دیکھنے کو ملتا ھے۔لیکن ہم اس کے اتنے عادی ہیں کہ کبھی اس کی خدمات کو خراج بھیجنے کا تکلف نہیں کرتے۔ اس کردار کی خدمات جب کوئی پیدا ہوتا ھے تو اس وقت سے شروع ہو جاتی ہیں۔سب سے پہلے تازہ تازہ پیدا بندے کی ٹنڈ یہی صاحب کرتے ہیں۔لڑکے کی جراحی کرکے سنتی حجامت بھی یہی صاحب کرتے ہیں۔ بالغ ہونے تک اگر لڑکا ھے۔تو یہی صاحب اس کی وقت بہ وقت حجامت کرتے رہتے ہیں۔جب لڑکا یا لڑکی شادی کرتے ہیں توکھانے پکانے کا کام بھی یہی صاحب کرتے ہیں۔پھر بیاہ کاولیمہ اپنے ہاتھوں پکا نے کی خدمت سر انجام دینے کے بعد اسی بندے یا بندی کے بچوں کی ٹنڈ کر تے ہیں۔


جب کوئی بندہ مرتا ھے۔تو نہلانے کا کام بھی انہی صاحب سے لیا جاتا تھا۔اب معلوم نہیں کیا ہوتا ھے۔


ہمارے ایک سائیں جی نہانے سے بھاگتے تھے۔تو ایک دن کسی نے بڑے پیار سے کہا سائیں کبھی کبھار نہا لینا چاھئے تو سائیں جی نے اس معاشرتی خدمت گارکی شان میں ایک تاریخی جملہ کہا تھا۔کہ جب پیدا ہوا تھا تو دائی نے نہلا دیا تھا،جب مروں گا تو نائی نہلا دے گا۔ہمارے سائیں جی کا یہ تاریخی جملہ اس معاشرتی کردار کی خدمات کا منہ بولتا ثبوت ھے۔


 ان حجام صاحب کا پیشہ تو حجامت کرنا ہی ہوتا ھے۔لیکن نیک فطرت ہونے کی وجہ سے تقریباً سارے سماجی و فلاحی کام سر انجام دیتے ہیں۔ پیدائش مبارکہ کے بعد ٹنڈ کرنا، جراحی ، مردے نہلانا شادی بیاہ پر کھانے پکانا،تیسرے کے کھانے اور جمعراتی کھانے بھی پکانا،پھر چالیسواں بھی انہی حجام صاحب کی پکی دیگوں سے ہوتا ھے۔ کیونکہ یہ سب کام مذہبی بنیادوں پر ہوتے ہیں تو یہ صاحب کافی حد تک مذہب کو بھی سمجھنے کے خبط میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔


ہمارے ساتھ ان ہر فن مولا صاحب نے کچھ اسطرح واردات کی تھی کہ ہمیں کچھ سمجھ نہ آئی کہ ہوا کیا؟!!۔ہمیں انہوں نے کہا تھا وہ دیکھو دیوار پر سونے کی چڑیا بیٹھی ہے۔لیکن جب ہماری چیخیں نکلیں تو اس وقت نہایت معصومیت سے بولے وہ تو کوا لے اڑا!!!۔ 


جب کوئی حج مبارک کو روانہ ہوتا ھے،تو حج کا طریقہ تو نہیں سمجھا سکتے لیکن احرام باندھنا ضرور سکھا دیتے ھیں۔ اب یہ علیحدہ بات ہے کہ یہ احرام دھوتی باندھنے کی طرح ہی ہوتا ھے۔ جب یہ حجام صاحب پختہ عمر کے ہوتے ہیں۔تو داڑھی بھی رکھ لیتے ہیں۔اور اپنے ارد گرد ایک مذہبی حالہ بنا لیتے ہیں۔اب عوام انہیں صوفی نائی جی کہنا شروع کردیتے ہیں۔


ان صاحب کے کردار کو دیکھا جائے تو معاشرے میں انہیں نچلے طبقے کا سمجھا جاتا ھے۔لیکن یہ اپنے پیشے سے مخلص ہوتے ہیں۔اور انسان کی نیک خصلت سے مجبورتمام نیک کام انجام دیتے ہیں۔انکی کوشش ہوتی ہے کہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کے کام آئیں۔اور اپنے کاموں سے ہی قابل عزت ہوں۔ اسی طرح دوسرے عوامی پیشے ہیں جنہیں عوام نے اختیار کیا ہوا ھے۔یہ عوام اپنے اپنے پیشے سے مخلص ہیں۔یہ تمام پیشے نچلے طبقے یا عوامی طبقے کے لوگوں نے اختیار کئے ہوئے ہیں۔


ہمارے معاشرے میں اس وقت تین طبقے ہیں۔لیڈران و حکمران طبقہ جس میں ملاں سے لیکر مراثی تک نسل در نسل شامل ھے۔دوسرا چڑھتے سورج کا پجاری طبقہ،یہ پجاری طبقہ ہمیشہ موقع کی تلاش میں رہتاہے کہ کسی کی بندگی کرکے نسل در نسل مال بنایا جائے۔اس پجاری طبقے میں اعلی تعلیم یافتہ پڑھے لکھے زیادہ ہوتے ہیں۔ یہ دو اعلی طبقے پورے خلوص سے اپنے پیشے کا کام کرتے ہیں یعنی عوام کی حجامت!۔


 لیکن حجام جو دوسرے سماجی و فلاحی کام کرتا ھے یہ وہ نہیں کرتے کہ یہ کرنے سے ان کی نسل کا کمی ہو جا نے کا خطرہ ہوتا ھے۔


ان کا اس خطرے سے بچنا ہی حجام کی نسل کا خالص بچ رہنے کا باعث بنا ہوا ھے۔نہیں تو جیسے جراحی سنت اب ڈاکٹر کرتا ہے، کھانے پکانا اور مردے نہلانے کا کام بھی ڈاکٹر کو کرنا پڑ جاتا۔نچلا طبقہ یا عوامی طبقہ کہہ لیں۔ اس طبقے کی مسلسل حجامت کی جارہی ہے۔اوپر والے دو طبقے حجامت کرنے کے ایسے ماہر ہیں کہ جیسے حجام ایک ہاتھ سے کھوپڑی کو سختی سے پکڑتا ھے اور دوسرے ہاتھ سے استرا پھیر کر ٹنڈ کرتا ھے ایسے ہی اس عوامی طبقے کی مسلسل ٹنڈ کی جارہی ھے۔


یہ حجامت کبھی بجلی کا بحران کبھی گیس کا بحران پیدا  کرکےکی جاتی ھے۔اور کبھی تیل کا بحران پیدا کرکے۔ جب اس بحرانی حجامت کے بعد عوام کے سر پر دو بال پیدا ہوتے ہیں تو کبھی چینی کا بحران پیدا کردیا جاتا ھے تو کبھی آٹے کا۔


مہنگائی ٹنڈ تو اس عوام کی سارا سال کی جاتی ہے خاص کر عیدوں پر تو حجامت حجامت  میں ذبح مبارک کردیئے جاتے ہیں۔ اگر اس عوامی طبقہ کا آئی کیو ٹیسٹ کروایا جائے تو اس طبقے میں دنیا کے ذہین ترین ،دانش ور ، مفکر اعظم وغیرہ وغیرہ پائے جانے کی امکانات بہت زیادہ ہیں۔اس عوامی طبقے کی کھوپڑی کو سختی سے نیچیے جھکا کر مسلسل حجامت کی جارہی ہے اس لئے یہ طبقہ حجام کا ہاتھ پکڑنے سے قاصر ھے۔


اس لئے اس عوامی طبقے میں سے جو شومئی قسمت سے اعلی تعلیم حاصل کرلیتے ہیں یا مال بنا لیتے ہیں تو اسی طبقے کے دوسرے گنجوں سے حقارت سے پیش آنا شروع ہوجاتے ہیں۔یعنی یہ عوامی طبقہ حجامت تو دوسرے دو طبقوں سے کرواتا ھے۔لیکن حجامت اپنے ہی طبقے کے گنجوں کی ہی کرتا ھے۔ ایک دوسرے کی حجامت کرتے اپنے آپ کو دنیا کا ذہین ترین انسان بھی ثابت کیا جاتا ھے۔اس لئے ہماری مودبانہ گذارش ھے کہ آئی کیو ٹیسٹ کروا کر اس ذہین ترین نچلے طبقے کی عوام کو دنیا میں ایکسپورٹ کردیا جائے۔


لیکن یہ کیا!!!۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔زر مبادلہ تو پھر بھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔نہیں جی جس حال میں ہو اسی میں خوش رہو۔

حجام اور حجامت حجام اور حجامت Reviewed by یاسر خوامخواہ جاپانی on 3:57 PM Rating: 5

13 تبصرے:

افتخار اجمل بھوپال کہا...

کسی زمانہ ميں شادی کی دعوت اور موت کی اطلاع بھی انہی کے ذمہ ہوتی تھی ۔ ميں بچپن ميں اس بات پر حيران ہوا کرتا تھا کہ اسے سب کے نام اور پتے کيسے ياد رہتے ہيں
يہ سلسلہ نسبی تھا مگر اب ختم ہو چکا ہے کيونکہ ان کے بچوں نے مہنگائی اور لوگوں کی بے پرواہی سے مجبور ہو کر يہ پيشہ چھوڑ ديا ہے ۔ البتہ کہيں کہيں ابھی يہ سلسلہ چل رہا ہے

سعد کہا...

حجامت تو خوب ہو رہی ہے سب کی
مگر اب نائی نے ریٹ کافی ہائی کر دیا ہے :lol:

fikrepakistan کہا...

بہت اچھا لکھا ھے یاسر بھائ۔

وقاراعظم کہا...

یہ حجام کی کارستانیاں ہم نے صرف سنی ہی ہے. اتنے ملٹی پرپز حجام کراچی میں دستیاب نہیں. ہان حجام طبقہ... میرا مطلب ہے حکمران طبقہ سے حجامت کا سلسلہ تو چلتا ہی رہتا ہے...

اور ہاں وہ سونے کی چڑیا کہیں ملی جو کوّا لے اڑا تھا.. :mrgreen:

کاشف نصیر کہا...

اچھا لکھا ہے جی!
ہم نے ایسے حجام کا سنا تو بہت ہے لیکن دیکھا کبھی نہیں کہ یہ اپنے افتخار صاحب کے زمانہ قدیم کی بات ہے، البتہ ایک نئے قسم کے حجام جنکا آپ نے آخری حصے میں زکر کیا جنکا کام طرح طرح سے عوام کی حجامت بنانا ہے سے بڑی حد تک واقفیت ہے۔

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

افتخار اجمل صاحب !! مجھے آپ سے اس بات کا علم ہواکہ یہ سلسلہ نسبی ختم ہوگیا ھے۔
میرے لئے اس معاشرتی کردار کاختم ہو جانا یقین مانئے بہت ہی بڑا شاک ھے!!
بیس پچیس سال میں اتنی تبدیلی!!
اس کا مطلب ھے ہماری یاداشتوں میں جو کچھ خوبصورت موجود ہے وہ سب ختم۔۔۔۔۔۔۔

جعفر کہا...

عمدہ لکھا ہے
بہت ہی عمدہ

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

جعفر جی ،بہت بہت شکریہ،آپ نے تعریف کی ہمارا جگرا بڑا ہو گیا۔

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

کاشف آ پ کا شمار ہماری اگلی نسل میں ہوتا ھے۔

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

کوا ہے کہاں واپس کرے گا۔

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

شکریہ

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

تو زلفیں کب بڑھانا شروع کریں گے۔

عثمان کہا...

لگتا ہے کہ آپ نے کافی دنوں سے حجامت نہیں کروائی. اسی لئے یاد ستا رہی ہے. :lol:

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.