تیل لے لو

تیل لے لو


اندازہ ھے کہ جاپان میں اگلے دس سالوں میں بجلی سے چلنے والی گاڑیوں کی تعداد میں کافی اضافہ ہو گا۔ ۔جیسا کہ دوسرے ممالک میں بھی ہے کہ ٹرین چلانے کیلئے تقریباً بجلی ہی استعمال کی جارہی ھے۔شاید ہمارے پاکستان میں ابھی بھی کوئلہ اور گوبر ہی استعمال ہورہا ہو۔ ایک اور خبر یہاں جاپان کی پٹرولیم کی صنعت کی نظروں سے گذری کہ اگلے تین سالوں میں پٹرولیم کی صنعت میں ۲۵ فیصد کمی کردی جائے گی۔


خام تیل کو امپورٹ کرکے قابل استعمال بنانے کیلئے جو مقدار ابھی تک استعمال ہوتی تھی اس کی ضرورت اب اتنی نہیں رہی اور مستقبل میں مزید کم ہو جائے گی۔۔


جاپان کی جے ایکس ہولڈ ینگس کمپنی جس میں جاپان کی چیدہ چیدہ پٹرولیم کی صنعت کی کمپنیز شامل ہیں۔ان کا پلان ھے کہ دو ہزار تیرہ تک روزانہ تیل کی تیرہ لاکھ بیرل تک کی پیداوار کم کر دی جائے۔


جاپان کی اس وقت کی قابل استعمال تیل کی روزانہ پیداواراڑتالیس لاکھ بیرل ھے۔


ظاہر ہے پیداوار کم کرنے کا کام یہ کمپنیز اپنی مرضی سے  نہیں کر سکتیں۔اس لئے ان پر قانون نے لازم کردیا ھے کہ یہ اگر پیداوار کم کرنا چاہیں توپہلے جاپان کی وزارت صنعت کو رپورٹ دیں۔تو ان کمپنیز  نےجاپان کی وزارت صنعت کو اپنے مستقبل کے پلان کی رپورٹ کر دی ھے۔


 شمسی توانائی کیلئے گھریلو پلانٹ وغیرہ بھی دن بدن سستے ہوتے جارہے ہیں۔اور شمسی توانائی کا پلانٹ لگا نے والے گھر کو حکومت جاپان وعدے وعید کرنے کے بجائے کچھ مالی مدد دیتی ہے۔اس مدد کیلئے زلزلہ یا سیلاب کا متاثر ہونا ضروری نہیں ھے۔اور نہ ہی لائن میں لگ کر ڈانڈے کھانے کی ضرورت ھے۔ لیکن ہماری تحقیق کے مطابق ابھی یہ پلانٹ جاپان میں مہنگا پڑتا ھے۔اگر چین وغیرہ سے لیا جائے تو نہایت کم قیمت میں خریدا جا سکتا ھے۔اور پاکستان میں اتنی تکلیف کرنے کی ضرورت نہیں ھے۔کنڈا ڈال کر کام چلایا جا سکتا ھے۔


تیل جو ابھی تک نہایت اہم توانائی تھی۔مستقبل میں بھی اس کی ضرورت تو رہے ہی گی جیسے پلاسٹک وغیرہ بنا نا ہوگیا۔


اس کے علاوہ شاید آزار بند کیلئے استعمال ہونے والا الاسٹک بھی تیل ہی سے بنتا ھے۔


لیکن توانائی کے متبادل ذرائع ملنے اور انتھک محنت سے تلاش کرنے کی وجہ سے دن بدن تیل کی ضرورت کم ہوتی جارہی ھے۔ بجلی سے چلنے والی گاڑی اس وقت جاپان میں خریدی جاسکتی ھے۔تھوڑی مہنگی ھے۔اس بجلی کی گاڑی کو چارج کرنے  کاطریقہ یہ  ھےکہ جیسے آپ اپنے کمپیوٹر کی بیٹری چارج کرتے ہیں اسی طرح گاڑی بھی چارج کر لیں۔لیکن اس بجلی کی گاڑی کی بیٹری ایک دفعہ چارج کرنے کے بعد ایک سو تیس کلو میٹر سے ڈیڑھ سو کلو میٹر تک چلتی۔


اور ابھی پیٹرل پمپ کی طرز کے بجلی پمپ ہر گلی کوچے میں تعمیر نہیں کئے جاسکے اس لئے ابھی اس گاڑی کو بیچنے پر اتنا زور نہیں دیا گیا۔لیکن بہت جلد نسان اور میٹسوبشی وغیرہ کی گاڑیاں جو کہ بیٹری چارج کرنے کے بعد کافی لمبی ڈرائیو کے قابل ہوں گی مارکیٹ میں آجائیں گی،


پھر ہم انہیں پرانی گاڑیوں کے طور پر دوسرے ممالک برآمد کریں گئے۔


اس کے بعد ہمیں نظر آرہا ھے۔کہ جب ہم لانگ ڈرائیو پر صحرا میں نکلے ہوں گے تو عرب کے شیخ صاحبان بوتلوں میں تیل لئے روڈ کے کنارے کھڑے ہوں گے۔


اور ایک دوسرے پر بازی لے جانے کیلئے گلے پھاڑ کر چلا رہے ہوں گے۔


  تیل لے لو ، تیل لے لو  میرا تیل خالص ھے  تیل لے لو تیل لے لو۔


یہ آواز لگانے کی ٹیکنالوجی ہمارے پاکستانی سیاستدا نوں کی ایکسپورٹ کردہ ہوگی۔


اگر آپ کو جاپان کی بجلی کی گاڑی میں دلچسپی ھے تو وکیپیڈیا کے یہاں اور یہا ں پر فوٹو شوٹو بھی دیکھیں اور اگر آپ کی جیب میں پیسہ وافر مقدار میں ھے تو ہم سے رابطہ کرکے اپنی لئے بجلی کی گڈی منگوائیں۔


شمسی توانائی کیلئے یہاں پر ایک کمپنی کی قیمتیں درج ہیں۔۔۔۔۔۔معذرت کہ یہ سائیٹ صرف جاپانی میں ھے۔لیکن آپ ہندسوں میں قیمت دیکھ سکتے ہیں۔اور اس قیمت کو پاکستانی روپیہ تصور کر سکتے ہیں۔

تیل لے لو تیل لے لو Reviewed by یاسر خوامخواہ جاپانی on 3:33 PM Rating: 5

6 تبصرے:

افتخار اجمل بھوپال کہا...

موجاں کرو جی جاپان وِچ ۔ ہم تو يہ سوچ رہے ہيں کہ اگر موجودہ حال قائم رہا تو ايک سال بعد اگر زندہ ہوئے تو آٹا چاول خرينے کی مالی حثيت ہو گی يا نہيں

منیر عباسی کہا...

میں افتخار اجمل صاحب سے اتفاق کرتا ہوں.

جعفر کہا...

فیر تو جی مجھے بھی کوئی سستی سی لینڈ کروزر بھیج دیں
اس کو سی این جی کروالوں گا

عثمان کہا...

گھر میں شمسی توانائی کا انتظام کرنے کے لئے حکومت یہاں بھی مدد کرتی ہے۔ لیکن اس میں کچھ ابتدائی خرچہ آتا ہے جو کہ چند برس پورا ہوکر باقی عمر موج۔ لیکن پھر بجلی اتنی مہنگی بھی نہیں۔ اس لئے شمسی توانائی کے صارفین کچھ اتنے ذیادہ نہیں۔
اس صدی کے وسط نہیں تو آخر تک تیل پانی ہوا ہی چاہتا ہے۔ صرف کار ہی کیا ، مختلف صنعتیں بھی متبادل ذرائع توانائی پر متنقل ہوجائیں گی۔
ہمارے عرب بھائیوں کی آخری نسل ہے کہ جو موج کرلے تو کرلے۔ :lol:

fikrepakistan کہا...

گزرنے والا ہر دن مسلم دنیا اور باقی دنیا کے درمیان ایک صدی کا فرق پیدا کر رہا ھے، مگر افسوس کہ مسلم دنیا کو عیاشیوں سے ہی فرصت نہیں کے وہ علم اور ٹیکنالوجی کی طرف رجوع کریں۔ قرآن نے غور و فکر کا حکم دیا جسے ہم نے یکسر مسترد کردیا نہ صرف مسترد کردیا بلکے کفر سمجھ لیا ، اس کے پرعکس کفار نے اس حکم کو اپنا اپنا اوڑھنا بچھونا بنا لیا تو ظاہر ھے کامیابی بھی انکو ہی ملنی ھے۔

وقاراعظم کہا...

جناب کچھ بھی ہوجائے تیل اور گیس سے جان چھڑانا ابھی بہت دور ہے. گاڑی کو چارج کرنے کے لیے 20 گھنٹے کون انتظار کرے؟ ویسے شنید ہے کہ کچھ عرصے میں کمپریسڈ ائر سے بھی گاڑیاں چلیں گی.
ویسے مجھے یہ سمجھ نہیں آتا کہ مسلم دنیا کو کس نے منع کیا ہے ٹیکنالوجی سے رجوع کرنے سے؟ کہیں یہ بھی اسلامی شدت پسندوں کی سازش تو نہیں؟ ہمارے ہاں ایسے فکرمندوں کی کمی نہیں ہے جو اس مسئلے پر صرف جلتے کڑھتے رہنے ہیں لیکن.....

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.