جاپان پولیس کی مسلمانوں اور دہشت گردی سے متعلق دستاویزات

آج کی خبر ھے کہ جاپان پولیس کی مسلمانوں اور دہشت گردی سے متعلق دستاویزات لیک ہوگئی ہیں۔جاپان میں مقیم غیر ملکی اور جاپانی قومیت اور شہریت کے حامل مسلمان جنہیں جیسا کہ بین الاقوامی وبا پھیلی ہوئی ھے اس کے مطابق دہشت گرد یا نیم دہشت گرد سمجھا جاتا ھے۔ جاپان کی پولیس نے نہایت محنت اور مشقت سے ان مسلمانوں کے مطلق معلومات جمع کی تھیں۔اور نہایت اہم اور سیکرٹ فائل میں محفوظ کیا ہوا تھا۔

یہ ایک پی ڈی ایف فائل تھی۔اسے کسی ظالم نے انٹر نیٹ پر ڈال دیا تا کہ تمام غیر مسلم معصوم اور دنیا کے امن و امان کیلئے پریشان امریکی اور یورپی امن کے کبوتر اپنے آپ کو محفوظ کر سکیں۔انتیس اکتوبر کو اس نہایت اہم فائل کی دیکھ بھال کرنے والے متعلقہ افراد نے خود کو ہی رپورٹ کی کہ فائل افشاں بی بی ہوگئی ہے۔ایسے ہی جیسے راز افشاں ہو جاتا ھے۔

اس پی ڈی ایف فائل میں مسلمانوں کے علاوہ رشین ، کورین ، چائینز کے جاسوس حضرات کی معلومات بھی شاید ہیں۔

لیکن جاپان پولیس کو پریشانی مسلمانوں کو اس سے کیا نقصانات ہونے کے امکانات ہیں کے متعلق نہیں ھے۔پولیس کو پریشانی اگلے مہینے جاپان کے شہر یوکوہاما میں ہونے والی ایپک کی کانفریس کے متعلق ھے۔کہ ان معلومات کے نکلنے سے اس کانفرنس پر کیا اثرات پڑیں گے!!۔

پولیس کی سپیشل فورس : گایجی سانکا  : کو میں نے فون کر کے پوچھا کیونکہ مجھے اس فورس نے مارک کیا ہوا تھا۔صرف وجہ یہی تھی کہ افغان مھاجرین کے امدادی وفد کے ساتھ امدادی کام کیا تھا۔اور پاکستان کے صوبہ سرحد سے تعلق ھے۔صرف ان دو وجوہات کی وجہ سے دوسال تک میرا مسلسل تعاقب کیا گیا۔اور جب کچھ نہ ملا تو مجھےٹوکیو کے مرکزی پو لیس اسٹیشن بلایا گیا۔جس کا میں نے سختی سے انکار کیا تھا۔جب دوبارہ مجھ سے رابطہ کیا گیا تھا تو میں نے کہا کہ میرے علاقے کا جو پولیس سٹیشن ھے ۔وہاں آکر مجھ سے مل سکتے ہیں۔ اس وقت میرے کچھ جاپانی مسلمان ساتھی کافی تعداد میں پولیس سٹیشن کے باہر آکر جمع ہو گئے تھے۔

   قصہ مختصر اس کے بعد مجھے تنگ نہیں کیا گیا۔ایک دو دفعہ اسی فورس کے کسی آفیسر کا فون آیا تھا۔جسے میں نے گالیاں دی تھیں۔اور کہا تھا۔کہ اگرمجھے دوبارہ تنگ کیا گیا تو ہراس منٹ کا کیس کردوں گا۔

آج یکم نومبر کی خبر سن کر میں نے اس فورس کے ہیڈ کوارٹر فون کیا اور پوچھا کہ میری کس طرح کی معلومات لیک ہوئی ہیں۔اور مجھے مستقبل میں اپنی حفاظت کے لئے کیا کرنا چاھئے۔پہلے تو فون پر آنے والے آفیسر نے ٹال مٹول سے کام لینے کی کوشش کی لیکن میرے سخت ردعمل کے بعد تصدیق کرکے مجھے اطلاع دینے کا وعدہ کیا۔

ہمارے خیال میں اس فائل میں ، مذہبی رحجان ،   نام ،  قومیت ،  مقام پیدائش ،  کاروبار ، مالی حثیت ، جنم بھومی  کو ارسال کرنے والی رقوم ، جائداد ، بینک بیلنس ، وغیرہ کی معلومات شامل ہوں گی۔

پولیس کی اس اسپیشل فورس کی معلومات جمع کرنے پر ہمیں کوئی اعتراض نہیں ھے۔کہ اس سے جاپان میں بسنے والے تمام انسانوں کی حفاظت ہی مقصود ھے۔ لیکن ہمیں اچھی طرح یاد ھے کہ نائین الیون کے تقریباً چھ ماہ پہلے ہی سے ہمارا تعاقب کیا جاتا تھا۔اور یہ تعاقب کا سلسلہ نائین الیون کے بعد بھی چلتا رہا۔لیکن ہماری تھانے میں حاضری کے بعد یہ سلسلہ ختم ہوگیا تھا۔چند دن پہلے انگلینڈ اور دبئی کی کارگو فلائیٹ میں دھماکہ خیز مواد کا ملنا اور اب دہشت گرد اور دہشت گردی کیلئے بنائی گئی پولیس فورس کا ڈیٹا لیک ہونا۔کچھ عجیب سا لگ رہا ھے۔

جب ہمارے پاس سیکرٹ سروس کے افراد آتے تھے تو ہم نے ایک دن جب ایک اکیلا افسر ہمارے ہتھے چڑھ گیا تھا تو اس سے پوچھا تھا۔کہ بھئی سچ سچ بتاو میرے پیچھے کیوں پڑے ہو۔اس کا جواب تھا کہ بات یہ کہ آپ میں مشکوک ہونے والے تمام جراثیم موجود ہیں۔یہ آپ کا مزاج ھے یا واقعی مشکوک ہو اس کی تصدیق کرنے کیلئے آپ کے پیچھے پڑے ہیں۔

میں نے جب ان سے ان جراثیم کے بارے میں پوچھا تو ان کا کہنا تھا۔کہ میرا حلقہ احباب بہت محدود ھے۔کام اور کام کے بعد گھر یا مخصوص پسندیدہ مشغلہ ہے۔اس کے علاوہ نہ نائٹ کلب جاتا ہوں۔ نہ ہی کوئی سیکرٹ گرل فرینڈ وغیرہ پالی ہوئی ھے۔اور مسلمان اورسرحد کا پاکستانی ہونا سب سے بڑی مشکوک ہونے کی وجہ ھے۔

مشکوک نہ ہونے کیلئے ہمیں اب یہ سارے کام کرنے ہی پڑیں گے۔:mrgreen:

:D

جاپانی شہریت تو لے لی ھے۔مسلمانی اور پاکستانیت تو نہیں چھوڑیں گے۔کر لو جو کرناھے۔:D :D :D
جاپان پولیس کی مسلمانوں اور دہشت گردی سے متعلق دستاویزات جاپان پولیس کی مسلمانوں اور دہشت گردی سے متعلق دستاویزات Reviewed by یاسر خوامخواہ جاپانی on 2:18 PM Rating: 5

16 تبصرے:

وسیم بیگ کہا...

سلام بھائی آپ کی آب بیتی پر یہ ہی بولوں گا کے صرف آپ کے ساتھ نہیں پاکستانی دنیا کے جس خطے میں بھی ہیں ان سب کے ساتھ ایسا ہی ہو رہا ہے سب کو عجیب نظروں سے دیکھا جاتا ہے اور اس سب کا ذمہ دار پرویز مشرف ہے اس کی غلط پالیسیاں ،،

وقاراعظم کہا...

اس کا مطلب ہے کہ آپ ایک ہائی ویلیو ٹارگٹ ہیں. شکر کریں کہ جاپان میں تھے. ادھر ہوتے تو لاپتہ ہوچکے ہوتے.....
:mrgreen:

کاشف نصیر کہا...

اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ادا کیا کریں کہ آپ جاپان میں ہیں کہ اب تک آپ کا اتا پتہ ہے ورنہ بقول اپنے مولانا صاحب کے آپ بھی لاپتہ ہوچکے ہوتے.

وسیم بیگ @ پرویز مشرف کو الزام دے کر ہم مسلمان اور پاکستانی اپنے اجتماعی گناہوں کی نحوست سے پاک نہیں ہوجائیں گے.

افتخار اجمل بھوپال کہا...

حلقہ احباب بہت محدود ۔کام اور کام کے بعد گھر . اللہ سے ڈرنا اور غلط کام نہ کرناپسندیدہ مشغلہ ۔نہ نائٹ کلب تو بڑی بات ايسی جگہ نہ جانا جہاں آزاد خيال عورتيں ہوں ۔ آباؤ اجداد سے لے کر بچوں تک کسی کا سگريٹ تک نہ پينا ۔ گرل فرینڈ اُس وقت بھی نہ بنائی جب جوانی اُمڈی پڑتی تھی ۔ زلزلہ ۔ سيلاب يا کسی اور آفت کے متاءثرہ لوگوں کی بھرپور مدد ۔ نادار مريضوں کی مدد ۔ نادار بچوں کی تعليم کا بندوبست ۔ وغيرہ ساری بُرائياں مجھ ميں موجود ہيں
يہی وجہ ہے کہ مجھے اور ميری بيوی کو 2001ء کے بعد امريکا کا ويزہ نہيں ديا گيا شايد ميرا نام امريکا کی فہرست مشکوکاں ميں ہو

منیر عباسی کہا...

ارے واہ. اس کا مطلب ہے آپ کے بلاگ پر جو بھی آئے گا وہ مشکوک ٹھہرے گا.

میں وی؟
نہیں!!!!!!!!!

سعد کہا...

کیوں خواہ مخواہ پولیس والوں کو تکلیف دے رہے ہیں آپ؟ پولیس سٹیشن جا کر اقبالِ جرم کر لیجیے نا :D

Jamal کہا...

يہ پڑھ کر بالکل حيرت نہيں ہوئی بلکہ ہمارا خيال تھا کہ جاپانيوں کو اردو نہيں آتی اسليئے آپ کے انتہا درجہ کے انتہاپسند خيالات پہ جاپانيوں کی نظر نہيں گئي۔ مذہبی انتہاپسندوں کی تو لاٹری نکلی ہوئی ہے، خود تو انسانی حقوق پہ بالکل يقين نہيں رکھتے ليکن سيکولر ممالک ميں جاکے سيکولر حقوق کا خوب فائدہ اٹھاتے ہيں بلکہ قانون کا فائدہ اٹھا کے دھمکياں بھی ديتے ہيں۔

شکر کريں کہ جاپانی آپکے محبوب طالبان کی طرح نہيں ورنہ اب تک دشمن کا ايجنٹ قرار دے کر گردن کاٹ چکے ہوتے، نہ کوئی شنوائی نہ کوئی مقدمہ۔

بہرحال اس سے دو باتيں پتہ چليں، ايک يہ کہ جاپانی اچھے خاصے اچھے لوگ ہيں کہ کھلے دشمن کو بھی حقوق دے رہے ہيں اور دوسرا جاپانی پوليس پہ اعتماد بحال ہوا کہ انہيں انتہاپسندوں پہ نظر رکھنی آتی ہے، بس ذرا انکی شرافت انکو آپکو شمالی وزيرستان ارجنٹ ڈيليوری کے ذريعے بھجوانے سے روکے ہوئے ہے۔

Jamal کہا...


جاپانی شہریت تو لے لی ھے۔مسلمانی اور پاکستانیت تو نہیں چھوڑیں گے۔کر لو جو کرناھے۔


يہ بڑھکيں اسی وقت ماري جاتی ہيں جب شہریت مل جائے ورنہ اس سے پہلے سر گرا کے ہر بات پہ جی سر جي۔

فکر نہ کريں مغربی ممالک نے تو شہریت رکھنے والے انتہاپسندوں کو بھی ڈيپورٹ کرنا شروع کرديا ہے۔ جاپان نے بھی شروع کرديا تو يہ بڑھکيں بھی ختم ہوجائيں گی اور ڈيپورٹ ہونے کے بعد پھر وہی مغربی ايمبيسيوں کے چکر۔

عثمان کہا...

پاک لوگاں کی شان اور جاپانی پُلس کی مستعدی اور شرافت کا نمونہ ہے جی۔ :lol:
جاپان میں تو آپ نے خفیہ پلس کو سنا دیں۔ ادھر پاک وطن میں اپنے سنتری پادشاہ سے واسطہ پڑتا تو لگ پتا جاتا۔ ویسے اب آپ کے بلاگ پر کمنٹ کرتے ڈر لگنے لگا ہے۔ :lol:

اور ہاں اس واقعہ کو لے کر بیگم پر رعب شوب جمایا کریں۔ :mrgreen:

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

وسیم بجا فرمایا۔

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

وسیم ؛ بجا فرمایا۔
کاشف اینڈ مولوی ۔۔اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ھے۔
افتخار صاحب ؛ نہیں دیتے ویزا تو نہ دیں۔
منیر ؛ آپ تو ہو ہی مشکوک یہ تو مریض ہی بتا ئے گا کہ نشتر اور نقاب میں مریض کو آپ کیسے دیکھتے ہو۔
سعد؛ اکیلے جاتے ہوئے ڈر لگتا ھے۔اکھٹے نہ چلیں؟
عثمان ؛ ہماری بےغم ہم سے بھی زیادہ بنیاد پرست اور متشدد ہیں۔
جمال صاحب آپ کی حس جمالیت کو تکلیف دینے کی معذرت
ویسے سیکولر ممالک سے مفاد حاصل کرنے کا حق تو صرف مالیخولیائی مریض اور اس کے چانٹوں کا ہی حق ھے۔ کہ انہوں نے گرانقدر خدمات انجام دی ہیں۔
ویسے اس فائل میں پولیس کے مخبروں کے نام بھی تھے۔جی وہ سارے مردود وملعون کے چانٹے ہی ہیں۔
بھڑکیں تو مارنے دیں۔ہم تو خوامخواہ کے امن پسند ہیں۔

جاویداقبال کہا...

بالکل آپ بیتی توآپ نےصحیح کہی اورخوب کہی ہے۔ لیکن واقعی یہ جاپان تھانہیں توپاکستان میں ہوتےتواب تک آپ وہاں جاتےکہ آپ کوبھی پتہ نہ ہوتا۔

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

جاوید اقبال صاحب بالکل بجا فرمایا۔
ہونا تو وہی ھے جو اللہ کی مرضی ہوگی

عدنان مسعود کہا...

یاسر صاحب, اللہ تعالی آپ کو استقامت دے۔

ایک سوال تھا کہ دیگر ترقی یافتہ ممالک کی طرح جاپان میں بھی پروفایلنگ اور پرایویسی کے قوانین یقینا موجود ہونگے۔ آپ نے کبھی شہری حقوق (سول لبرٹیز) کی تنظیموں کے تعاون سے کلاس ایکشن مقدمے کے لئے کوئی اقدام کیا کہ اس قسم کے عوامل پر قدغن لگائی جا سکے؟

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

عدنان صاحب
جاپان ایک پرامن ملک ھے۔اگر یہاں پر بسنے والے کے پاس کام کاج یعنی زندگی گذارنے کا بندوبست ہوتو کوئی خاص مسئلہ نہیں ہوتا۔
پروفائیلنگ اور پرایویسی قوانین کی حالت ویسی ہی جیسی دوسرے ترقی یا فتہ ممالک میں ھے۔
زیادہ تر لوگ بضد ہوں گے کہ ترقی یافتہ ممالک میں پروفائیلنگ اور پرایویسی کے قوانین کی سختی کے ساتھ پابندی کی جاتی ھے۔تو میرے خیال میں ایسا کچھ بھی نہیں ھے۔
دوسرے ممالک میں بھی میرا تجربہ ھے۔کہ خاص کر تیسری دنیا کے باشندوں کے کیلئے یہ قوانین نہیں ہیں۔اور سرکاری ملازمین ان قوانین کے کھلے عام خلاف ورزی کر رہے ہوتے ہیں۔
جاپان کی ایک عام سی مثال دوں گا کہ بغیر پوچھےپولیس یا شہری حکومت پاسپورٹ یا کسی دوسری شناختی دستاویز کی کاپی کر لیتی ھے۔اگر شور مچایا جائے کہ میری دستاویز کا میری اجازت کے بغیر کیوں عکس لیا گیا تو آئیں بائیں شائیں کر جاتے ہیں۔بینک وغیرہ میں بھی یہی حال ھے۔مقصد ان کا یہ ہوتا ھے کہ زیادہ سے زیادہ غیر ملکیوں کی معلومات جمع کر لی جائیں۔وجہ کا اندازہ آپ کر سکتے ہیں۔
مقدمہ وغیرہ کبھی نہیں کیا ااور نہ ہی اس حد تک نوبت کبھی آئی ھے۔

عمر گل کہا...

جاپان پولیس کی مسلمانوں اور دہشت گردی سے متعلق دستاویزات کی خبر کو پڑھا- میرے نزدیک جاپانی پولیس پر الزام لگانا نہ انصافی ہے، کیونکہ ان کا ہر عمل اپنے ملک اور اپنے ملک میں رہنے والے غیر ملکیوں کی حفاظت کرنا مقصد ہو تا ہے - پھر ان پر الزام لگا کر ہمیں کیا حاصل ہو گا- ہاں اس وقت ضرورت اس بات کی ہے کہ ڈیٹا لیک ہونے کے نقصانات سے کیسے بچا جا سکتا ہے- کیا ہمارا فرض نہیں کہ انکی حفاظت کے اقدامات پر غور کریں اور جاپان پولیس کی مدد کریں- آپ کا کیا خیال ہے؟

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.