بندہ اور بندے کی ذات

انسان کی سرشت ٹھہرے ہوئے پانیوں کی مانند ھے۔جس میں ہر قسم کا عکس پڑتا ھے درختوں میں رہے تو درختوں جیسا۔


 پہاڑوں میں رہے تو پہاڑوں جیسا اٹل مضبوط  ،  جانوروں میں بسیرا کرے تو ان ہی کی مانند حیوان۔۔۔۔۔


اچھاوں کی صحبت ملے تو فرشتہ


رذیلوں کا رنگ چڑھے تو شیطان


تو انسان سیال ہوا کبھی شیر سا بہادر کبھی اونٹ سا کینہ ور۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کبھی فاختہ کی طرح معصوم۔


 کبھی پتے کی طرح چکنا  اور کبھی پھول جیسا گلرنگ۔۔۔۔لے دے کے انسان تو ارد گرد کا پابند ہو گیا۔


انسان  تلاش ھے۔۔وحدت  کی کثرت میں تلاش


انسان تضاد ھے آگ پانی کے میل سے بنا ھے۔


انسان  رزق حرام کی وجہ سے دیوانہ نہ ہوا  ،   انسان تضاد کے ہاتھوں دیوا نہ ہوا۔


دن کے ساتھ رات۔۔۔۔۔۔زندگی کے ساتھ موت۔۔۔۔۔شمال کے مخالف جنوب


انسان کے اندر ہر وقت نیکی بدی خیر و شر کی جنگ ہوتی رہتی ھے۔


حق و باطل کی جنگ جاری ھے۔اور جنگ کا میدان انسان ھے۔


اللہ کی کل کائنات میں صرف انسان ایسا ھے جو اپنی سرشت بدلنے پر قادر ھے۔


اپنے آئینے کو صاف کر سکتا ھے۔


جیت اللہ کی ہوگی۔لیکن موقع ابلیس کو برابر کا فراہم کیا جائے گا۔


اس جنگ کی وجہ سے انسان کی کیا حالت ہوئی۔


اگر انسان دیوانہ ھے تو اس تضاد کے ہاتھوں۔۔۔فرزانہ ھے تو اسی تضاد کے ہاتھوں۔


انسان کی سرشت کو یا تو خدا سمجھتا ھے یا ابلیس۔


انسان تو ابھی خود اپنی سرشت کو سمجھ نہیں پایا۔انسان کا خمیر نیکی سے اٹھا ھے۔


 چور اچکا ڈاکو کوئی بد معاش ساری عمر بدی کمائے ایک توبہ کے وضو سے اس کی بدی دھل سکتی ھے۔


بدی اس کے آئینے میں فقط ابلیس کے عکس کی طرح رہتی ھے۔


انسان کو خالق نے اس طور پر بنایا ھے کہ اس کا وجود تو ایک ھے۔لیکن اس کی روح ، سائیکی سرشت عقل  قلب جان پے کیا کیا کچھ رنگ کئے ہیں۔


انسان کسی کے ساتھ شیر ھے کسی کے ساتھ بکری، کسی کے ساتھ سانپ بن کر رہتا ھے تو کسی کے لئے کینچوے سے بد تر۔


 بدی اور نیکی روز ازل سے اس کے اندر دو پانیوں کی طرح رہتی ھے۔


ساتھ ساتھ ملی جلی علیحدہ علیحدہ جیسے دل کے تیسرے خانے میں صاف اور گندہ لہو ساتھ ساتھ چلتا ھے۔


انسان تو ہمیشہ ڈھلتا ھے ہمیشہ بدلتا ھے کہیں قیام نہیں کہیں قرار نہیں، انسان ایک زندگی میں ایک وجود میں ایک عمر میں لا تعداد روحیں ان گنت تجربات اور بے حساب نشوونما کا حامل ہوتا ھے۔اس لئے افراد تو تو مرتے ہیں انسان مسلسل رہتا ھے؎


انسان خود اپنی وحدت کی تلاش میں ھے۔انسان اپنی وحدت کو اس لئے تلاش نہیں کرسکتا کہ وہ ساری زندگی آرزووں کے جنگل میں سے گزرتا ھے۔


آرزووں کے جنگل کی سرشت کا یہ عالم ہے جیسے ایک آئینہ ٹوٹ کر ہر ٹکڑے میں ایک ہی عکس دینے لگے۔


انسان جس جنگل سے گزرتا ہے باوجود یکہ ہر ٹکڑے میں اس کا اپنا عکس ہوتا ھے۔لیکن ہزارہا آئینے کے ٹکڑے اسے اپنی وحدت سے ملنے نہیں دیتے۔


اس جنگل  کا عجیب شعور ھے یہاں آرزو کی ناکامی ہو کہ آرزو کی بار آوری۔۔۔کثرت سے موجود رہی ھے۔اسی کثرت کی وجہ سے انسان کبھی اپنی وحدت سے دو چار نہیں ہو سکتا۔ 


راجہ گدھ از قدسیہ بانو سے اقتباس۔


نوٹ ۔ قدسیہ بانو کی تحریر کو تھوڑا چھیڑ چھاڑ کرکے چھاپنے پر معذرت  :lol:

بندہ اور بندے کی ذات بندہ اور بندے کی ذات Reviewed by یاسر خوامخواہ جاپانی on 8:11 AM Rating: 5

1 تبصرہ:

کاشف نصیر کہا...

ابھی تحریر مکمل نہیں پڑھ سکا، کل مکمل کرکے تبصرہ کروں گا

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.