جیوے جاپان

کسی سے سنا تھا۔کہ جب خواجہ سراوں کے گھر لڑکا پیدا ہوتا ھے۔تو وہ خوشی سے پاگل ہوجاتے ہیں۔خوب شور شرابا کرتے ہیں۔جیسا کہ ہمیں معلوم ھے۔کہ پاکستانی قوم بیچاری بھوکی ھے اور حکمران بے چارے ننگے ہیں۔

کچھ نہ کچھ اثرات حکمرانوں کے ہم عوام میں بھی آجاتے ہیں۔عوام میں سے ہم کچھ تقریباً دس ہزار بھوکے پاک لوگ جاپان میں بھی آ گئے ہیں۔اب ہمیں واپسی کا رستہ ہی نہیں مل رہا۔کمبل کو ہم چھوڑنا چاھتے ہیں لیکن کمبل ہمیں نہیں چھوڑ رہا یا ہم اپنے آپ کو چھڑا نہیں پا رہے۔اب ہم جب پاکستان میں مقیم پاکستانیوں کی عیاشی دیکھتے ہیں اور ان کا ایک  دوسرے سے پنگا کرنااس پنگے میں کچھ ایسا ہوتا ھے کہ پاکستان کی مردم شماری شاید کبھی ہوئی ہو۔لیکن پاکستانی عوام  اس پنگے میں  مردے شماری ضرور کرتے ہیں۔کیونکہ یہ مردے شماری کرنے والے اور مردے ہوجانے والے تمام حق پر ہوتے ہیں۔

اس لئے تمام شہید وں میں نام لکھواتے  اور لکھتے ہیں۔ دس ہزار جو بھوکے پاک لوگ جاپان میں تشریف آور ہوئے ہیں۔ان میں عوامی اور حکمرانی خصوصیات پانے والے بھوکے اور ننگے بھی ہیں۔ جیسے ھیجڑوں کے گھر لڑکا پیدا ہونے پر شنائیاں بجائی جاتی ہیں۔ کچھ اسی طرح اس انٹر نیٹ نے ہمیں بھی خوشی میں دیوانہ کر دیا ھے۔جاپان آنے کے بعد ہماری بھوک کچھ کم ہوئی تو حکمرانوں والی عادت نے انگڑائی لی یعنی ننگے ہونے کی خواہش نے زور مارا۔

دس ہزار کی کمیونٹی کیلئے اخبار وغیرہ نکالنے شروع کئے۔جب اخبار بھی اپنا ہو تو مشہوری کا شوق یا کیڑا تنگ تو کرے گا۔مقصد ہی جب کچھ سطحی ہوتو مل بیٹھ کے کچھ اچھائی کا کام تو کرنے سے رہے۔وہی کریں گئے جو پاکستان کے سولہ یا اٹھارہ کروڑ کر رہے ہیں۔

دو تین اخباری گروہوں کا پنگا تو شروع سے ہی چل رہا تھا۔پولیس میں جانا آنا بھی شاید لگا ہی رہتا تھا۔ایک دوسرے پر الزام تراشی کردار کشی وغیرہ تو عام معمول تھا۔اب ھتھا پائی پر بھی آگئے۔بس موقع ملنے کی دیر ھے۔قاتل و مقتول بھی ہوجائیں گے۔کیونکہ سب حق پر ہیں اس لئے شہید ہی ہوں گے۔

پہلے زلزلہ متاثرین کے لئے چندہ کیا گیا۔پھر وہ کھا گیا یہ کھا گیا کی الزام تراشیاں۔

اب کیونکہ پاکستانی عوام پر اللہ کا عذاب نازل ہوتا ہی رہتا ھے۔ سیلاب متاثرین معتوب عوام کی مدد کرنا تو ہمارا فرض بنتا ھے۔ویسے کرنے والوں نے خوب مدد کی اور خاموشی سے اپنے کام میں لگے ہوئے ہیں۔اور مزید کر بھی رہے ہیں۔

ہر کسی کو معتوب عوام کی مدد کرنی چاھئے اس لئے ہمارے معزز مومن و مسلمان بھائیوں نے ذرا دھوم سے مدد کرنے کا پروگرام بنایا۔لیکن دوسرا گروپ کچھ اور مومن و مسلمان تھا۔یہاں سے شروع ہو گیا پنگا۔

چیر ٹی پروگرام میں کچھ برائی تو ھے نہیں جی۔

اگر برائی ھے تو آپ ہی ہمیں بتا دیں!!۔

ننگوں کی عادتاں کچھ ایسا کروادیتی ہیں۔ہمارا کیا قصور؟

یہ سب کچھ عوام ہمدردی اور حب الوطنی اور دینی فریضہ سمجھ کر کیا جارہا ھے۔اب دوسرے گروپ کو جلن ہوئی اور اس نے اس نیک کام کی برائی شروع کردی۔دوسرا گروپ بھی بس شریف ہی ہے جی۔

بس موقع کی تلاش میں رہنا تو صحافتی فریضہ ھے!!!۔

اب اس پنگا پنگی میں کچھ ایسا اور ایسا ہو گیا ھے۔

ایک گروپ کا کہنا ھے۔کہ ہماری پٹائی کی گئی۔

دوسرے گروپ کا کہنا ھے۔ہمیں اغوا کرنے کی کو شش کی گئی۔

پولیس کو سمجھ نہیں آرہا کہ جاپانی قنون کا چھتر کس پر چلائیں؟۔

کیونکہ ہم بھوکے تو تھے ہی ننگے بھی ہیں۔پاکستان کی بے عزتی وغیرہ کا ہمیں کیا؟

پہلے کونسی عزت ہے کہ بے عزتی ہونے احساس کیا جائے۔

ہیجڑوں کے گھر لڑکا پیدا ہونے کی خوشی منانے میں کیا برائی؟

اب لڑکا بڑا ہو کر لڑکا ہی رہے گا یا مرد بن جائے گا۔

یہ کسے معلوم جی۔

ویسے میں دونوں گروپوں کو شروع سے ہی ناپسند کرتا ہوں۔انہیں ناپسند کرنے کی کوئی ذاتی وجہ نہیں ھے۔صرف یہی چاہتا ہوں کہ احساس کریں کہ چھوٹی سی کمیونٹی اگر متحد ہوجائے تو ہم اب بھی بہت کچھ کر سکتے ہیں۔ایک دوسرے کو برداشت کریں۔ اور دوسرے کو برداشت کرنا شاید ہم پاکستانیوں کے ڈی این اے میں ہی نہیں ھے۔

اور یہ بھی سوچیں کہ مسلمان ہیں ہم۔ بے شک نام کے ہی سہی۔لیکن اللہ میاں نے جواب طلبی ضرور کرنی ھے۔
جیوے جاپان جیوے جاپان Reviewed by یاسر خوامخواہ جاپانی on 6:26 PM Rating: 5

6 تبصرے:

جاویداقبال کہا...

یہ پاکستانیوں کوبہت پرانامرض ہےدوسری تمام ملکوں کودیکھ لیں کےوہ اکٹھےمل جل کررہتےہیں لیکن ہم لوگوں نےہرکسی نےڈیڑھ انچ کی مسجدبنائي ہے۔
اللہ تعالی ہم پراپنارحم وکرم کردے۔ آمین ثم آمین

خاور کہا...

اس پوسٹ کو سمجھنے کے لیے ایک مخصوص ماخول اور کہانی کو جانے بغیر سمجھنا مشکل هے

کاشف نصیر کہا...

خاور بھائی کا شکریہ کہ انکے انکے مشورے پر میں مخصوص ماحول سے عدم واقفت کی بنا پر اس تحریر کو سمجھنے کی ناکام کوشش نہیں کررہا ہوں. یاسر صاحب آپ خود ہی مخصوص ماحول کو ملحوض خاطر رکھتے ہوئے مندرجہ بالا تحریر کی ایک تفسیر لکھ کر ہمیں ایمیل کردیں...

ویسے بھوک اور ننگ پن کا اچھا کمبینیشن ہے. انور مقصود صاحب ایک بلا کہ مصور ہیں ایک دفعہ انہوں نے ایک پرہنہ عورت کو پینٹ کیا کسی نے پوچھا انور شرم کرو اس بڑھاپے میں پورن ازم کی طرف نکل پڑے ہو، کہنے لگے لاحول بھیجو میاں، میں نے پاکستان میں غربت کی عکاسی کی ہے.

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

ہاہاہا
کاشیف میں نے بھی کچھ ایسا ہی کیا ھے۔

سارہ کہا...

میرا دماغ تو اس ہی جملے میں الجھ گیا ... "جب خواجہ سراوں کے گھر لڑکا پیدا ہوتا ھے "..... :?

عثمان کہا...

:mrgreen:

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.