کچھ دل کا غبار

جب ہم جاپان میں مزدوری کیلئے آئے تو دن کو پڑھائی کرنے سکول جاتے تھے اور رات کو محنت مزدوری کرنےفیکٹریوں میں جاتے تھے یا ریسٹورنٹ وغیرہ میں برتن دھونےکو جاتے تھے۔

اس دور میں ہمارے ساتھ سکول میں بھی اور کام کرنے کی جگہ پر بھی کورین ، چائنیز ، ملائشین ، انڈو نیشین ، بنگالی ، کچھ کچھ انڈین ،برازیلین ، اور بھی نہ جانے کہاں کہاں کے لوگ ہوتے تھے۔

امریکی یا برطانیہ والے زیادہ تر انگلش کے ٹیچر ہوتے تھے۔اور ہم جب کسی نئے امریکن یا برٹش سے متعارف ہوتے تھے۔تو  جب وہ اپنی شہریت یا قومیت بتاتا تھا تو ہم چھیڑنے کیلئے یک دم کہہ دیتے تھے۔ اور تم انگلش ٹیچر ہو؟:lol:

اس کے بعد انیس سو نوے کی دھائی کی شروع میں ایرانی آئے اور ایسے آئے کہ یہا ں جا پان میں مشہور باغ جو جاپانی عوام کی تفریح کیلئے حکومت جاپان نے بنائے ہوئے ہیں۔ان باغات میں ایرانی دن و رات لمبے پڑے رہتے تھے۔

بچہ چرسی مست، لگے دم چلے غم ، بندہ مست خوب است۔

شروع میں ہمیں ان ایرانی مسلمان بھائیوں پر ترس آیا تو ایک دو کو ہم اپنے پاس لے آئے جب تک کام وغیرہ کا بندوبست نہیں ہوا ہم نے انہیں اپنے پاس رکھا۔لیکن اس کے بعد ایرانی مسلمان بھائیوں کی مدد کرنے تک تو ٹھیک ھے۔معاشرت نہ کرنے کا پکا ارادہ کیا اور ابھی تک قائم ہیں۔وجہ کچھ اتنی بڑی نہیں ہے۔جاپان میں ہم کافروں کے درمیان رہتے ہیں۔شراب بھی ہوتی ھے اور خنزیر بھی پکایا کھایا جاتا ھے۔

ایرانی مسلمان بھائی دارالحرب کہہ کر سب کچھ کھاتے پیتے ہیں۔ابھی تک کسی ایرانی مسلمان بھائی سے ملاقات نہیں ہوئی جو کھانے پینے میں محتاط ہو یا لحاظ یا شرم کر جاتا ہو۔پینے کے معاملے میں پاکستانی بھائی بھی شرم و لحاظ نہیں کرتے لیکن خلا ئی پرواز کرتے ہونے کے باوجود ایک بار ضرور پوچھتے ہیں۔کہ یہ حلال ہے نا؟

بات ہورہی تھی ہمارے جاپان میں غیر ملکی مزدوروں کی تو اس وقت ہم جب اسلامی جمہوریہ پاکستان کو ہمارے خون پسینے اور جگ رتوں کا کمایا ہوا زرمبادلہ ارسال کرتے تھے تو ایک لاکھ ین کا چودہ یا پندرہ ہزارروپیہ بنتا تھا۔

انڈ ین اور بنگالیوں کا شاید چالیس سے پچاس ہزار روپیہ  اور ٹکا بنتا تھا۔ہم کہتے تھے ان کی عیاشی ہے بھئی تین چار ماہ میں لکھ پتی ہوجاتے ہیں۔اس وقت ایک لاکھ ین کا انڈین پینتالیس سے پچاس ہزار بنتا ھے تو پاکستانی ایک لاکھ سے ایک لاکھ پانچ ہزار بنتا ھے۔

پھر وقت کے گذرنے کے ساتھ ساتھ پاکستانی جاپان میں کم ہوتے گئے۔کچھ عرصے بعد سنا کہ اب مزدوری کیلئے پاک لوگ ملائیشیا جارھے ہیں۔پھر کچھ عرصہ گذرا تو سنا کہ اب پاک لوگ کوریا مزدوری کیلئے جارہے ہیں۔

اب ایک حیرت انگیز خبر  سننے کو ملی کہ مزدوری کیلئے چین بھی جانا شروع ہوگئے ہیں۔

جنہوں نے بیس پچیس سال پہلے قوم کیلئے کچھ کرنے کا سوچا انہوں کچھ کر لیا۔

ہم جیسے جنہوں نے اپنا اور اپنے گھر والوں کیلئے سوچا خوشحال ہو کر خوشحال توسب کوکرگئے۔لیکن اگلی نسل میں نکمے،غیر ذمہ دار اور عیش پرست بھی بنا گئے۔اب ان نکموں اور عیش پرستوں کو باہر بھیجنا ھے مزدوری کیلئے۔جو اپنا بوجھ اپنے ملک میں ہی نہیں اٹھا سکتے وہ باہر جا کر کیا کر لیں گے؟۔

کچھ عرصے بعد امید ھے بنگہ دیش اور انڈیا مزدوری کیلئے جارہے ہوں گے۔اللہ میاں کی ذات بھی کتنی رحیم و کریم ھے ایک در بندہوتا ھے تو دوسرا در کھل جاتا ھے۔آج سے بائیس تیئس سال پہلے جو ایک لاکھ ین کا پندرہ ہزار پاکستانی روپیہ بنتا تھا اب ایک لاکھ پانچ ہزار روپیہ بنتا ھے۔

گذارہ اس وقت بھی مشکل تھا اب زیادہ مشکل ہے۔اتنا عرصہ در بدر ہوکر جاپان اور پاکستان میں تبدیلی کا موازنہ کریں تو یقین مانئے ایسا لگتا ھے کچھ بھی نہیں بدلہ!!۔

اگر کچھ تبدیلی آئی ھے تو۔۔۔۔۔پاکستان میں گذارہ کرنا مزید مشکل ہو گیا ھے۔

اور جاپان کی زندگی کے ہم عادی ہوگئے ہیں۔جاپان میں ڈبل روٹی کی قیمت جب ہم جاپان آئے تھے یعنی تیئس سال پہلے تو ایک ڈبل روٹی۱۷۸ ین کی ہوتی تھی۔اور اب ایک ڈبل روٹی ۱۵۸ ین میں ملتی ہے!!!۔دودھ ،دہی کا بھی یہی حال ھے۔یعنی وہی قیمت ہے یا پھر اشیاء سستی ہوگئی ہیں۔مہنگا ہوا ھے تو الکوحل اور سگریٹ!!۔

سگریٹ کی ڈبی ۲۰۰ ین کی ہوتی تھی اور اب چار سو دس ین سے لیکر چار سو پچاس ین کی ہوگئی ھے۔

ڈیزل پیٹرول جاپان ٹوٹلی باہر سے منگواتا ھے۔بائیس تیئس سال پہلے کی نسبت اب سستا ھے۔وہ بھی پچاس سے سو ین کے قریب!۔

آجکل تو کچھ عجیب حالت ھے۔ہر شے سستی ہی ہوتی جارہی ھے۔ماہر معاشیات بتاتے ہیں کہ عام آدمی نے اشیاء خریدنا چھوڑ دی ہیں۔اس لئے ہر شے سستی ہے۔ دو میاں بیوی بغیر بچوں کے اچھا کھانا پینا رکھ کر ہلکی پھلکی عیاشی بھی کرکے ڈیڑھ لاکھ ین میں گذارہ سکتے ہیں۔ان ڈیڑھ لاکھ ین میں ہیلتھ انشورنس بڑھاپے کیلئے پنشن جو حکومت کو جمع کروانی ہوتی ھے۔شہری ٹیکس وغیرہ شامل ہیں۔کیبل ٹی وی  انٹر نیٹ اپنی گاڑی کا استعمال وغیرہ بھی شامل ہے۔

بس گھر کا کرایہ شامل نہیں ہے۔

تقریباً دو ماہ سے مصروفیت زیادہ تھی۔ان دو ماہ کے میرے گھر کے اخراجات ایک لاکھ چالیس ہزار سے پچاس ہزار آئے ہیں۔

اس لئے  ہم دونوں میاں بیوی کو حیرانگی ہوئی کہ فرصت میسر ہو تو اخراجات زیادہ ہوتے ہیں۔مصروفیت ہوتو بچت زیا دہ ہوتی ھے۔:lol: :lol: :lol:

پاکستان میں ماہانہ پندرہ ہزار آمدنی والے میاں بیوی تجربہ کریں اگر گذارہ نہیں ہوتا تو مصروفیت بڑھا لیں۔مصروفیت بڑھانے کا غلط مطلب مت لیجئے گا۔یہ نہ ہو کہ ایک دو عدد مزید کیلئے کمانا پڑ جائے۔جڑواں بھی آجاتے ہیں کبھی کبھار اللہ میاں کی رضا سے!!۔
کچھ دل کا غبار کچھ دل کا غبار Reviewed by یاسر خوامخواہ جاپانی on 5:19 PM Rating: 5

11 تبصرے:

سعد کہا...

پڑھے لکھے بے روزگاروں کیلیے کیا مشورہ ہے حضور؟
پڑھ لکھ کے مزدوری تو نہیں کر سکتے نا یہ لوگ

میرا پاکستان کہا...

آپ کے حالات پڑھ کر ہم نے بھی سوچا ہے ایک دن امریکہ اور پاکستان کے حالات کا اسی طرح موازنہ کریں گے۔ ویسے تحریر معلوماتی ہے اور بندے کو آخر تک پڑھنے پر مجبور کرتی ہے۔
اسد صاحب
باہر جتنے بھی پڑھے لکھے لوگ آئے انہوں نے سب سے پہلے مزوری ہی کی پھر کہیں جا کر انہیں پڑھوں لکھوں والی نوکریاں ملیں۔ کسی نے ٹیکسی چلا کر ماسٹرز کیا، کسی نے کنسٹرکشن میں مزدوری کر کے بی ایس سی کی اور آج کل ایسے لوگ اچھی زندگی گزار رہے ہیں۔

Jamal کہا...


پھر وقت کے گذرنے کے ساتھ ساتھ پاکستانی جاپان میں کم ہوتے گئے۔کچھ عرصے بعد سنا کہ اب مزدوری کیلئے پاک لوگ ملائیشیا جارھے ہیں۔پھر کچھ عرصہ گذرا تو سنا کہ اب پاک لوگ کوریا مزدوری کیلئے جارہے ہیں۔

اب ایک حیرت انگیز خبر سننے کو ملی کہ مزدوری کیلئے چین بھی جانا شروع ہوگئے ہیں۔“

...

“کچھ عرصے بعد امید ھے بنگہ دیش اور انڈیا مزدوری کیلئے جارہے ہوں گے۔“


يہ جتنے بھی ملک ہيں سيکولر ہيں بنگلہ ديش بھي- جہاں مولوي ہو وہاں ترقي خاک ہوني ہے-۔ حل تو بڑا واضح ہے کوئی نا مانے تو اور بات ہے۔

وسیم بیگ کہا...

جتنی محنت ہم دوسرے ملکوں میں جا کر کرتے ہیں اگر اپنے پاکستان میں اتنی محنت کریں تو وہاں بی ہم بھوکے نہیں مریں گے

عثمان کہا...

بہت خوب!!
مہینوں بعد آپ کے بلاگ پر ایک اچھی اور دلچسپ تحریر پڑھنے کو ملی ہے۔واہ واہ قبول فرمائیے۔ :D

لطف الا سلام کہا...

مصروفیت ہو تو خرچ کرنے کے موقع کم ملتے ہیں۔ فراغت ہو، تو خوامخواہ ہی خرچے نکل آتے ہیں۔

رضوان کہا...

یاسر صاحب غبار نکالتے رہا کریں، آپ کے دل سے نکلا ہمارے دل میں پہنچ گیا۔ بہت خوب لکھا ہے۔
پورے خطے میں اب صرف نیپال اور سری لنکا رہ گئے ہیں پھر سب سے کنگلے ہم ہی ہوں گے لیکن بڑھکیں ابھی بھی وہی ہیں۔
دنیا ترقی کر رہی ہے اور ہم ترقی معکوس

جاویداقبال کہا...

اچھی معلوماتی تحریر ہےدراصل ان ملکوں میں کرپشن ہوتی ہےلیکن ہمارےملک کی طرح نہیں جہاں پرامدادبھی ملتی ہےتووہ بھی حکمرانوں کی جیب میں جاتی ہےباقی توکیابات کریں

Muhammad Aamir کہا...

Islamic revolution like Khumaini is needed for Pakistan. Kill every single corrupt and guilty, hang them over in the middle of the road, let everyone see their public sentenced hangings and only then Pakistan and poor Pakistanis can have a sigh of relief Insha Allah

ھارون اعظم کہا...

اچھی تحریر ہے۔ ویسے پاکستان میں بھی گزارا ہوسکتا ہے اگر کوئی ارادہ کرے تو۔ باقی ہم لوگ باہر کے عادی ہوگئے ہیں، اس لئے گزارا کرنا مشکل لگ رہا ہے۔

وقاراعظم کہا...

پیر صاحب دل کا غبار نکالتے رہا کیجیے. ہم مزدوروں کی معلومات میں اضافہ ہوگا. ویسے یہ بھی خوب کہی کہ مصروفیت بڑھالو ہیں جی. ہم فراغت کے لمحات ڈھونڈھتے ہیں اور تسی کیندے او مصروفیت بڑھا لو.

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.