ارادہ ، مقصد ، کامیابی

جوں جوں ارادے کا مظہر کامل تر ہوتا چلا جاتا ھے۔رنج و الم بیش از بیش واضح تر ہوتا چلا جاتا ھے۔پودے میں محسوس کرنے کی طاقت موجود نہیں ہوتی اس لئے وہ الم سے بھی محفوظ رہتا ھے۔حیوانی زندگی کی ادنی ترین انواع کسی حد تک متالم ہوتی ہیں۔

کیڑوں مکوڑوں میں بھی محسوس کرنے کی استعداد اور دکھ بھگتنے کی صلاحیت محدود ہوتی ھے۔البتہ جب مہرہ پشت جانداروں کا مرحلہ آتا ھےجن کا نظام عصبی کاملاً ارتقأ یافتہ ہے۔

متالم ہونے کی استعداد بھی افزوں ہوتی چلی جاتی ھے۔جب علم اپنے نقطہ عروج پر پہنچ جاتا ہے۔اور شعور ایک مقام بلند حاصل کر لیتا ھے۔تو الم کا احساس بھی بڑھتا چلا جاتا ھے۔یہاں تک کہ انسان اس کی شدید ترین شکل کا مظہر قرار پاتا ھے۔

پھر کوئی شخص جتنا صاحب علم اور جتنا زیادہ عقیل ہو گا اسی قدر زیادہ متالم ہو گا۔جو شخص اپنے علم میں اضافہ کرتا ھے۔وہ اپنے دکھ میں اضافہ کرتا ھے۔حافظے اور پیش بینی کی قوت سے بھی انسانی کلفت میں اضافہ ہوتا ھے۔ہمارے الم کا ماخذ یا تو گذشتہ واقعات کا استخضارہے یا آنے والے واقعات کے متعلق بصیرت۔

 خود الم کی کیفیت بہت کم عرصے کیلئے قائم رہتی ہے۔

موت اتنی تکلیف نہیں دیتی جتنا موت کا خیال یا خوف مرگ۔

ہماری دنیا میں کوئی ایسی چیز نہیں ۔جو جنت کی تخلیقی تصویر کے لئے آب ورنگ کا کام دے سکے۔

ہر ڈرامائی نظم ،ہر حاسہ ملی ، کش مکش حیات ، جد و جہد  ، حصول مسرت کی جنگ کا مظہر ہوتا ھے۔

کہ ہیرو ہزاروں خطرات سے دوچار ہوتے ہیں۔ہزاروں عقدے حل کرتے ہیں

۔پھر کہیں منزل مقصود پر پہنچتے ہیں ، مگر جونہی منزل پر پہنچتے ہیں۔ مصنف پردا گرانے کا حکم دے دیتا ھے۔

شاعر اگر اور آگے بڑھے تو اسے یہ دکھانا پڑ جائے گا کہ تمثیل یا نظم کا ہیرو منزل مقصود پر پہنچنے کے بعد بھی کامیابی سے ہمکنار نہیں ہوا۔

ہیرو کا یہ خیال تھا کہ منزل مقصود پر پہنچ کے بیکراں مسرت نصیب ہوگی۔

 لیکن ہوتا یہ ھے کہ حصول مقصد کے بعد بھی انسان ویسا ہی مایوس اور محروم رہتا ھے۔

داستان فلسفہ ، ول ڈیورینٹ ، سید عابد علی عابد ،
ارادہ ، مقصد ، کامیابی ارادہ ، مقصد ، کامیابی Reviewed by یاسر خوامخواہ جاپانی on 7:38 AM Rating: 5

3 تبصرے:

لطف الا سلام کہا...

حیوانی زندگی کی جستجو ‘ بقاء ہے۔ اور باقی صرف اللہ کی ذات۔ اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو مسرت اور لذت کے حصول کے بہانے دے رکھے ہیں۔ اور یہ سکھایا ہے کہ حیوانی بقا میں اشتہا ء اور دیگر شہوات ضروری ہیں۔ روحانی بقاء کے لئے اس لذت کا حصول ضروری ہے جو بندگی، عبودیت اور زہد میں پنہاں ہے۔
جنت بھی مسرت ہے اور عبادت و ریاضت اس کے حصول کے بہانے۔
لیکن اصل مزہ تو اس خالق کے پانے میں ہے جس کی رضا ہی جنت کااصل روپ ہے۔

وقاراعظم کہا...

یہ بات خوب کہی کہ جونہی منزل مقصود پر پہنچے، مصنف پردہ گرانے کا حکم دے دیتا ہے. زندگی جہد مسلسل سے ہی عبارت ہے.
جس میں نہ ہو انقلاب موت ہے وہ زندگی
روح امم کی حیات کشمکش انقلاب

کاشف نصیر کہا...

یعنی کہ طلب علم سے کنارہ کشی اختیار کر کر ہی الم کی دنیا سے نجات ممکن ہے.
ویسے پوری بات اوپر سے گزر گئی، دو چار دفعہ اور پڑھوں گا کچھ پلے پڑا تو تبصرہ اور رائے زنی بھی کروں گا۔

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.