سید احمد شاہ شہیدؒ ۔ ۱

سید احمد شہیدؒ


سید احمد شہیدؒ کاتعلق حسنی سادات کے خاندان سے تھا۔جس میں مجدد الف ثانیؒ ، حضرت شاہ ولی اللہ ، کی تعلیمات کا فیض  آکر مل گیاتھا۔ اس 


خاندان کا آغاز شیخ الاسلام امیر قطب الدین محمد مدنیؒ سے ہوا۔جنہوں نے نے ساتویں صدی ہجری کی ابتدأ میں ہندوستان آکر کڑا مانک پور کے نواح میں جو اس زمانہ میں الہً آباد سے پہلے الہً آباد تھا۔ جہاد کیا۔ اس خاندان کے آخری مورث شاہ علم اللہ ہیں۔جو عالمگیر کے زمانہ میں تھے۔اور حضرت مجدد الف ثانیؒ کے مشہور خلیفہ اور جانشین حضرت آدم نبوریؒ کے فیض سے مستفیض اور مشرق کے دیار میں ان کے خلیفہ خاص تھے۔ اس خاندان میں حضرت مجدد سرہندیؒ اور مجدّد دہلوی کی برکتیں اور سعادتیں جمع ہو گئیں۔


حضرت سید احمد رائے بریلویؒ پچھلی صدی ہجری کے ان اکابر مشاہیر میں گذرے ہیں جن کی یاد مسجدوں اور خانقاہوں کی دنیا الگ رہی لندن اور آکسفورڈ اور کیمبرج کی دنیا کے حافظہ سے بھی محو نہیں ھے۔انسائیکوپیڈیا آف اسلام ان کے تذکرہ سے مزیّن ، انسائیکلو پیڈیا آف برٹانیکا میں ذکر انکا موجود ، انسائیکلو پیڈیا آف ریلیجن اینڈ ایتھکس میں کار نامے ان کے مذکور ، یہ الگ بات ھے کہ دوست انھیں عقیدت کی آنکھوں کے اندر جگہ دیتے ہیں اور دشمن کی نگا ہ میں وہ کانٹے کی طرح کھٹکتے ہیں لیکن نظریں بحر حال اس شہید پر پڑتی ہیں۔


اک خونچکاں کفن میں کڑوروں نباؤ ہیں


پڑتی ہے آنکھ تیرے شہیدوں پہ حور کی


 



نام و نسب


سید صاحبؒ کا نام سید احمد ، والد کانام سید عرفان ، دادا کا نام سید محمد نور ، والد کے دادا کانام سید محمد ہدی ھے۔ اور دادا کے دادا سید علم اللہ ہیں۔اس خاندان میں بیسیوں اولیأ اللہ گذرے ہیں۔ مجا ہدین کی بھی اس خاندان میں کمی نہیں ھے۔حضرت علی رضی اللہ عنہ اور حضرت حسن رضی اللہ عنہ کے بعد سید محمد النفس الزکیہ نے علم جہاد بلند کیا تھا۔ خود ہندوستان میں اس خاندان کے بانی سید محمد مدنیؒ بسلسلہ جہاد ہی یہاں تشریف لائے تھے۔ اس خاندان میں سید صاحبؒ ماہ صفر ؁۱۲۰۱ھ میں رائے بریلی میں پیدا ہوئے۔آپ نے رسمی تعلیم بہت کم حاصل کی۔اللہ تعالی آپ سے کچھ اور ہی کام لینا چاہتے تھے۔ ہزار کوششیں کی گئیں لیکن آپ کی طبیعت عام مدرسوں کی طرف مائل ہی نہ ہوئی۔مگر اس کا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ آپ بالکل انپڑھ تھے۔



تعلیم و تربیت


 


آپ سترہ سال کی عمر میں جب اپنے شفیق والد کے سایہ سے محروم ہوگئے۔تو گھر سے نکل کھڑے ہوئے۔لکھنٔو میں ایک نواب کے یہاں کچھ دنوں قیام رہا۔پھر دہلی تشریف لے گئے۔اور شاہ عبدالقادرفؒ؁۱۲۳۶ھ کے سامنے زانوئے تلمذ تہہ کیا اور شاہ عبد العزیزؒ ف ؁۱۲۳۶ ھ سے بیعت کی۔اس وقت آپ کی عمر ۲۲سال سے زیادہ نہیں تھی۔یہ آپ کا پہلا صفر تھا۔آپ دہلی سے وطن تشریف لے آئے۔اور تقریبا دو سال وہیں رھے۔ اسی دوران آپ نے شادی بھی کی۔اس کے بعد آپ نے راجپوتانہ کا سفر اختیار کیا ۔ جہاں نواب امیر خاں کا قیام تھا۔راستہ میں دہلی ٹھہرتے ہوئے نواب امیر خاں کے پاس پہنچے۔سید صاحبؒ کے دل میں جہاد کا شوق تو لڑکپن ہی  سے گویا فطری طور پر موجود تھا۔ لیکن شاہ عبد القادرؒ کی تعلیم اور خصوصا شاہ عبد العزیزؒ کی تربیت نے آپ کے اندر جہاد کا جوش و خروش دوبالا کر دیا۔یہ جوش نرا جوش نہیں تھا۔ بلکہ ولی اللہی خاندان کے علم وفہم کا ہوش بھی اس کے دوش بدوش موجود تھا۔


اسی ہوش نے آپ کو اچانک اور اندھا دھند جہاد بالسیف شروع کر دینے سے باز رکھا،  بلکہ تیاری ، بر سوں کی تیاری پر مجبور کیا۔


چنانچہ آپ  امیر خاں کی فوج میں  پہونچے اور فوجی ٹرنینگ ہی حاصل نہیں کی بلکہ امیر خاں کی فوج میں رہ کر آپ نے فوجیوں اور خود امیر خاں کو جہاد کی ترغیب دلانے اور ان میں شوق جہاد پیدا کرنے کی بھی کوشش کی۔ متعدد لڑائیوں میں آپ ایک دستہ کے سپہ سالار رھے۔امیر خاں کے مشیر خاص بھی رہے۔


 



آغاز کار


 


لیکن امیر خان اور اس کے فوجیوں سے جب وہ مقاصد حاصل ہوتے ہوئے آپ کو نظر نہ آ ئے جوآپ کے پیش نظر تھے۔ تو آپ واپس دہلی تشریف لے آئے اور جہاد کی تیاری شروع کر دی۔ولی اللہی خاندان جس کے آپ شاگرد اور مرید تھے۔اس نے آپ کے ساتھ پورا پورا تعاون کیا۔ شاہ عبد العزیزؒ کے داماد مولانا عبد الحئی صاحب ف؁۱۲۴۳ ھ اور شاہ اسمعیلؒ ش ؁۱۲۴۶ھ اور خاندان کے دوسرے سر برآوردہ بزر گوں نے آپ کے ہاتھ پر بیعت کی۔ کیونکہ جہاد فی سبیل اللہ کے لئے صرف علم اور روحانیت کافی نہیں ہو سکتی بلکہ فوجی تربیت اور حربی تربیت بھی درکار ہوتی ھے۔ اور سید صاحب ان تینوں خوبیوں کے حامل اور ان سب کمالات کے جامع تھے۔اصل میں خلوص اور للّہیت وہ بنیادی جوہر ہے جو جذب و انجذاب اور پگھلانے کی صفات پیدا کرتا ھے۔ چنانچہ خاندان ولی اللہی کو اگر چہ علم و تقوی کے پہلو سے شان مشیخت حاصل تھی۔بلکہ اپنے زمانہ کی اما مت کا مقام ان کو حاصل تھا۔مگر خلوص و للہّیت کے جوہر نے ان کو سیّد صاحبؒ کے ہاتھ بعیت کر نے سے باز نہیں رکھا۔حالانکہ سید صاحبؒ اسی خاندان کے شاگرد اور مرید تھے اور خود سید صاحب کا خلوص تھا۔جس نے اپنے استاد اور اپنے شیخ کے خاندان کو اپنے کھینچ لیا۔  



تبلیغی دورے


یہ علم و تقوی اور شوق جہاد کا قرآن السعدین مبارک ثابت ہوا۔ارشاد ہدایت اصلاح اور جہاد کی طرف دعوت کا سلسلہ پھیلنے لگا ۔ مولانا عبد الحئی اور مولانا شہید کے ساتھ آپ نے ملک کا دورہ کیا۔ آپ جہاں جہاں تشریف لے گئے۔ وہاں وہاں آپ کے دم قدم سے توحید کی روشنی پھیلی ، شرک و بد عت کی تاریکی دور ہوئی ، جہالت کا غبار چھٹ گیا اور اسلام کا چہرہ صاف نظر آنے لگا۔ اثر انگیزی او اثر پذیری کے دلفریب مناظر سامنے آئے۔جن سے عہد صحابہ کی جھلک نظر آنے لگی۔ سید صاحب اور ان کے رفقا ، جہاں تشریف لے گئے وہاں کی سر زمین نے انسانی طاقت ، ہمت اور حو صلہ کا سونا اگلنا شروع کردیا۔ آپ کی نگاہ پر تاثیر نے نہ معلوم کتنے زنگ آلودہ دلوں کو معرفت کا خزانہ بنا دیا اور نہ معلوم کتنے سینوں کو اصلاح و جہاد کے زندہ جذبے سے مالا مال کر دیا۔جواسلام کی خاطر اور اعلاء کلمتہ اللہ کے لئے تن من دھن سب کچھ قربان کرنے اور سرمایہ حیات تج دینے کے لئے تیار ہو گئے۔صوبہ بہار کے ایک رئیس زادے ولایت علی صادق پوری نے لکھنٔو میں آپؒ کو دیکھا ، ملاقات کی اور نقد دل ہار بیٹھا اور پھر اپنی ذات ہی نہیں پورے خاندان کو آپ کے قدموں میں لا ڈالا۔ پھر جب سید صاحب پٹنہ تشریف لے گئے تو صادق پور ہی نہیں عظیم آباد ہی نہیں ، پورے بہار نے اپنے بہادر ، اپنے لعل و گوہر آپ کی گود میں لا ڈالے۔


مولانا مسعود صاحبؒ کے بقول  گورنمنٹ آف انڈٰا کا ریکارڈ اٹھا کر دیکھو ، مقدمات سازش کی رودادیں پڑھو ، سرحد اور ماوراء سرحد کی پہاڑیوں اور دشوار گذار گھاٹیوں سے پو چھو، سید صاحب کی شہادت ؁۱۲۴۶ ھ ۔ ؁۱۸۳۱ء سے لیکر پورے سو برس ؁ ۱۸۳۱ ء۔ ؁۱۹۳۴ ء تک جس خاندان نے جہاد کا علم سر بلند رکھا وہ قربانی اور سر فروشی کی تاریخ میں اپنی مثال آپ ھے۔


سید صاحب نے اپنے رفیقوں کے ہمراہ جو ملک کے مختلف مقامات کا دورہ کیا اس کے اثرات سے صرف یہی نہیں ہوا کہ توحید کی روشنی پھیلی اور بد عات کی تاریکی چھٹی بلکہ ایک طرف اگر لاکھوں مسلمانوں نے بیعت کی تو دوسری طرف ہزاروں غیر مسلم آپ کی تبلیغ سے حلقہ بگوش اسلام ہوئے۔ 



حج


جہاد سے پہلے آپ نے حج کرنا زیادہ مناسب خیال کیا کیوں کہ اس وقت سفر حج بھی مستقل جہاد کی حثیت رکھتا تھا۔ بد امنی لوٹ مار اور سفر کی صعوبتوں کے باعث بعض علماء نے حج کے سقوط کا فتوی دے رکھا تھا۔ اس طرح دین کا ایک رکن منہدم ہوتا نظر آرہا تھا۔ اس ستون کو کھڑا کرنے کے علاوہ اس میں ایک مصلحت یہ بھی پو شیدہ تھی۔ کہ جو رفقاء سفر حج کی صعوبتیں بر داشت کر سکیں۔ ان پر جہاد بالسیف کے سلسلہ میں زیادہ اعتماد کیا جاسکے گا۔ ایسے لوگ خود بھی اپنے آپ پر زیادہ  اعتماد کر سکیں گے۔خدا پر بھروسہ کے بعد اپنے اندر ہمت اور اپنی طاقتوں کا اندازہ اور ان پر اعتماد کسی بھی کام کے لئے بہر حال ناگذیر  ہے۔ایک فائدہ اور پیش نظر تھا۔اثنائے سفر میں تبلیغ اور رشد و ہدایت کا بھی سلسلہ آپ نے جاری رکھا۔چنانچہ ہزاروں نے ہدایت پائی ۔ تقریبا ۳ برس اس سفر میں صرف ہوئے ۲جون ؁۱۸۲۱ء یکم شوال ؁۱۲۳۶ھ نماز عید کے بعد رخت سفر باندھا ۔ چار سو مرد ، عورتیں اور بچے آپ کے ہمراہ تھے۔منزل بمنزل قیام کرتے ہوئے ۔یہ قافلہ حج بیت اللہ اور زیارت مدینہ منورہ سے مشرف ہوکر ۳۰ اپریل ؁۱۸۲۴ ء کو واپس آگیا۔ ڈاکٹر ڈبلوڈبلو ہنٹر کی غلط بیانی ملاحظہ فر مائیے۔


کہتا ھے۔ سید صاحب کو مکہ معظمہ سے نکالا گیا اور ان کے ساتھ برا سلوک کیا گیا۔حالانکہ سید صاحب حج سے فارغ ہونے کے بعد بھی سات آٹھ مہینے حرم میں قیام فرما رھے اور بلاد حرم کے ممتاز علماء آپ کی صحبت سے فیضیاب ہوئے۔



جہاد


حج کے بعد دعوت تبلیغ کا سلسلہ جاری رکھا گیا۔ مولانا عبدالحئیؒ اور مولانا شہیدؒ کو اور دوسرے ممتاز رفقاء کو مختلف اطراف  میں بھیجا گیا۔ جہاد کی عملی تیاری بھی کرنے لگے۔اس وقت پنجاب میں سکھوں کا ظلم زوروں پر تھا۔سکھ شاہی مظالم سے مسلمانوں کی عبادت گاہیں ، ان کی عورتیں اور بچے اور وہ خود کوئی بھی محفوظ نہیں تھا۔ مسجدوں کو اصطبل بنا دیا گیا تھا۔ مسلمانوں کی جان ، مال اور آبرو کو پامال کیا جا رہا تھا۔


خالصہ شمشیر و قرآن راببرد


اندراں کشور مسلمانی مبرد 


جس ملک میں مسلمانوں نے حکومت کی تھی اور گل چھرّے اڑائے تھے۔شاید صحیح حکومت قائم نہ کرنے کی سزا میں اسی ملک میں ان کا خون ارزاں تھا۔اور اسی ملک کا چپہ چپہ ان کے خون کا پیاسا ہو رہا تھا۔پنجاب کے قرب وجوار میں مسلمان ریاستیں اب موجود تھیں۔ سرحد میں پٹھانوں کے مختلف خاندان اب بھی اپنی نسلی شرافت اور شجاعت پر نازاں تھے۔ لیکن سکھ شاہی مظالم کے خلاف اور اعلاء کلمتہ اللہ  کی خاطر سر د ھڑ کی بازی  لگانے  اگر کوئی اٹھا تو وہ چند سر پھرے مولوی اور ملاّں ہی تھے۔


جن کی آواز پر سچے مسلمان اپنا تن من دھن سب قربان کرنے اور تج دینے کے لئے تیار ہو گئے تھے۔


جاری ھے


ماخوذ از کربلا سے بالاکوٹ تک از محمد سلیمان فرحّ

سید احمد شاہ شہیدؒ ۔ ۱ سید احمد شاہ شہیدؒ ۔ ۱ Reviewed by یاسر خوامخواہ جاپانی on 8:47 PM Rating: 5

5 تبصرے:

کاشف نصیر کہا...

امر المومنین ہند حضرت سید احمد شہید رحمہ اللہ کی خاص بات یہ ہے بریصغیر پاک و ہند کے تمام اہل حق مکاتب فکر انہیں ہی اپنا پیش رو امام قرار دیتے ہیں.
اللہ سے دعا کہ جس مقصد کے لئے سید صاحب نے شہادت کا اعلی مرتبہ صاحل کیا، یعنی اللہ کی زمین پر اللہ کے نظام کے قیام کی جدوجہد کیلئے اس محنت میں ہمیں بھی توانائیوں کو کھپا دینے کی توقیق دے اور اس ملک عزیز کو اسلامی انقلاب اور نشاۃ ثانیہ کے لئے منتخب کرلے. یا اللہ اب اندھیرے اور تاریکی میں تیری مخلوق بھٹک رہی ہے، خدرا اسلامی کا سورج طلوح کردے. (آمین)

عثمان کہا...

بہت خوب!
جاری رکھیے! :-)

جاپاکی کہا...

ماشااللہ ، جزاک اللہ ۔۔

یاسر صاحب عید کی بہت بہت مبارکّ :idea:

بارہ سنگھا کہا...

حضرت آپ کس راستے پر چل نکلے؟ کل کسی جگہ آپ کی یہی تحریریں آپ ھی کے خلاف جائیں گی

اب آپ نے اقرار کیا تو آپ کو بتاتے چلیں کہ علماء دیوبند اسی تحریک کی باقائدہ منظم شکل ہیں . آپ کو معلوم ہوگا کن لوگوں نے مددرسہ دیوبند اور تھانہ بھون کی بنیا رکھی اور اور آج کے پاکستان سے لے کر افغانستان تک کون لوگ اسلام کیلئے دن رات ایک کیئے ہوئے ہیں؟ یہی وجہ ہے کہ اس پر لوگوں نے تبصرے بھی نہیں کیئے کیونکہ اس طرح انکو اقرار کرنا پڑتا اور گھر پر ڈانٹ پڑتی

خیر آپ کے بہت شکریہ آپ نے ایک کار خیر انجام دیا
اچھے صلہ کی دعا !!

ارتقاءِ حيات کہا...

معلومات سے بھرپور
ایسے موضوعات جاری رکھئے گا

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.