امام روشن خیالیاں ۔ ۴

سرسید کے افکار ونظریات

 
۱-رفع کوہِ طور کا انکارسرسید نے دین اسلام کو عقل کی ترازو میں تول کر مسلماتِ دین کا انکار کیا اور قرآن کریم میں جہاں معجزات یا مظاہر قدرت خداوندی کا ذکر ہے‘ اس کی تاویل فاسدہ کرکے من مانی تشریح کی ہے۔ چنانچہ پہلے پارے میں اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایاہے کہ:” یہود سے جب عہد وپیماں لیا جارہا تھا تو اس وقت کوہِ طور کو ان کے سروں پر اٹھا کر لاکھڑا کردیا تھا“۔ جسے سارے مفسرین نے بیان کیا ہے‘ سرسید اس واقعہ کا انکار کرتاہے اور لکھتاہے:
”پہاڑ کو اٹھاکر بنی اسرائیل کے سروں پر نہیں رکھا تھا‘ آتش فشانی سے پہاڑ ہل رہا تھا اور وہ اس کے نیچے کھڑے رہے تھے کہ وہ ان کے سروں پر گر پڑے گا“۔
سرسید نہ صرف آیت کی غلط تاویل کرتا ہے بلکہ نہایت ڈھٹائی کے ساتھ مفسرین کا مذاق بھی اڑاتاہے۔ وہ لکھتاہے:
”مفسرین نے اپنی تفسیروں میں اس واقعہ کو عجیب وغریب واقعہ بنادیا ہے اور ہمارے مسلمان مفسر عجائباتِ دور ازکار کا ہونا مذہب کا فخر اور اس کی عمدگی سمجھتے تھے‘ اس لئے انہوں نے تفسیروں میں لغو اور بیہودہ عجائبات (یعنی معجزات) بھر دی ہیں‘ بعضوں نے لکھا ہے کہ کوہِ سینا کو خدا ان کے سروں پر اٹھا لایا تھا کہ مجھ سے اقرار کرو نہیں تو اسی پہاڑ کے تلے کچل دیتاہوں‘ یہ تمام خرافات اور لغو اور بیہودہ باتیں ہیں“۔ (تفسیر القرآن ج:۱‘ص۹۷تا۹۹)
آپ نے دیکھا کہ جو واقعہ سرکش یہود کے برخلاف اللہ تعالیٰ کی قدرت کا مظہر ہے اور جس پر سارے مفسرین کا اتفاق ہے کہ کوہِ طور کو اٹھاکر یہود کے سروں پر لاکر کھڑا کیا گیا تھا‘ اسے سرسید لغو اور بیہودہ واقعہ قرار دیتاہے۔ پھر جس طرح کہ سرسید کا دعویٰ ہے کہ پہاڑ کو ان کے سروں پر لاکھڑا نہیں کیا گیا تھا‘ بلکہ وہ پہاڑ آتش فشانی کے سبب لرز رہا تھا اور یہود کو محسوس ہورہا تھا کہ گویا پہاڑ ان کے سروں پر گر پڑے گا۔ کوئی سر سید سے یہ پوچھے کہ آتش فشانی اور پہاڑ کے لرزنے کا بیان اس نے کس آیت اور کس حدیث کی بناء پر کیا ہے۔ اگر اس کے پاس کوئی نقلی ثبوت نہیں ہے اور یہ اس کی اپنی عقلی اختراع ہے تو جمہور مفسرین کے مقابلے میں ایسی عقل پر دس حرف۔ بریں عقل ودانش بباید گریست
۲-بیت اللہ شریف اور سرسید

بیت اللہ شریف جسے عرف عام میں خانہ کعبہ کہتے ہیں‘ تمام عالم اسلام کے مسلمانوں کا دھڑکتا ہوا دل اور ملت اسلامیہ کے اتحاد واتفاق کا مرکزی نقطہ ہے۔ اس مقدس اور بابرکت گھر کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
”ان اول بیت وضع للناس للذی ببکة مبارکاً وہدی للعالمین“ (آل عمران:۹۶)یعنی سب سے پہلا گھرجو لوگوں کے لئے وضع کیا گیا ہے یہ وہ ہے جو مکہ میں ہے۔ بابرکت ہے اور جہاں والوں کے لئے راہنما ہے۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے بیت اللہ شریف کو مسلمانوں کے لئے بابرکت اور ہدایت کا پہلا گھر ارشاد فرمایاہے۔
علامہ اقبال نے اسی کی تشریح میں فرمایا ہے:
دنیا کے بتکدوں میں پہلا وہ گھر خدا کا
ہم اس کے پاسباں ہیں وہ پاسباں ہمارا
دوسری جگہ مکہ مکرمہ کی فضیلت میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
”واذ جعلنا البیت مثابةً للناس وامناً“ (بقرہ:۱۲۵) ترجمہ :․․․”اور وہ وقت بھی یاد کرو جب ہم نے خانہ کعبہ کو لوگوں کے لئے ایک مقام رجوع اور مقام امن قرار دیا“۔
ایک جگہ ارشاد ہے:
”فیہ آیات بینٰت مقام ابراہیم ومن دخلہ کان آمناً“ آل عمران:۹۸) ترجمہ:․․․”اس میں کھلے ہوئے نشان ہیں جن میں سے ایک مقام ابراہیم ہے جو کوئی اس (مسجد حرام) میں داخل ہوتا ہے وہ امن سے ہو جاتاہے“۔
عظمت کعبہ کی بابت دوسری جگہ ارشاد ہے:
”جعل اللہ الکعبة البیت الحرام قیاماً للناس“ (المائدہ:۹۷)ترجمہ:․․․” اللہ تعالیٰ نے کعبہ کو جو کہ گھر ہے بزرگی اور تعظیم والا‘ لوگوں کے لئے قیام کا باعث بنایاہے“ ۔
مذکورہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے بیت اللہ شریف کو بابرکت‘ باعث ہدایت اور لوگوں کے لئے مقام رجوع ومقام امن اور قیام کا باعث فرمایا‘ ان آیات اور دوسری روایات کے باعث مسلمان اللہ تعالیٰ کے اس گھر کو باعث صد تکریم وتعظیم خیال کرتے ہیں اور اس کی حفاظت ونگہداشت کو ایمان کا جزء قرار دیتے ہیں۔ علامہ اقبال نے فرمایا تھا :
ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کیلئے
نیل کے ساحل سے لے کر تا بخاک کاشغر
شیخ الاسلام حضرت علامہ شبیر احمد عثمانی فرماتے ہیں کہ کعبہ شریف دینی اور دنیاوی دونوں حیثیت سے قابل احترام ہے‘ کیونکہ کعبہ شریف تمام روئے زمین کے انسانوں کے حق میں اصلاحِ اخلاق‘ تکمیلِ روحانیت اور علوم وہدایت کا مرکزی نقطہ ہے۔ کعبہ شریف کا مبارک وجود کل عالم کے قیام اور بقاء کا باعث ہے‘ دنیا کی آبادی اس وقت تک ہے جب تک کعبہ اور اس کا احترام اور اکرام والے موجود ہیں۔
محدث کبیر حضرت شاہ ولی اللہ (متوفی ۱۱۷۶ھ/۱۷۶۳ء) فلسفہٴ اسلام سے متعلق اپنی لازوال تصنیف حجة اللہ البالغة میں ارقام فرماتے ہیں کہ چار چیزیں شعائر اللہ میں سے اعلیٰ درجہ کی ہیں۔۱- قرآن کریم‘ ۲- پیغمبر اسلام‘ ۳- کعبة اللہ‘ ۴- نماز۔
واضح رہے کہ کعبہ اسلام کا مرکز اور محور ہے اور اس کی تعظیم وہی کرے گا جس کا دل تقویٰ کی دولت سے مالا مال ہوگا۔ ارشاد ربانی ہے:
”ومن یعظم شعائر اللہ فانہا من تقویٰ القلوب“ ۔(الحج:۳۲) یعنی جو بھی اللہ تعالیٰ کے شعائر کی تعظیم وتکریم کرتاہے تو یہ دلوں کا تقویٰ ہے“۔
اور مسلمانوں کو حکم ہے کہ اللہ تعالیٰ کے شعائر کی بے حرمتی نہ کریں ارشاد ہے:
”یا ایہا الذین آمنوا لاتحلوا شعائر اللہ“ (المائدہ:۲) تررجمہ:․․․”اے ایمان والو! اللہ تعالیٰ کے شعائر کی بے حرمتی مت کرو“۔
اس تمہید کے بعد اب ذرا کلیجہ تھام کر سرسید کی ہرزہ سرائی کعبة اللہ کے بارے میں ملاحظہ فرمائیں۔ نقل کفر کفر نباشد ۔ اپنی تفسیر القرآن کے نام پر وہ تحریف القرآن میں لکھتاہے:
”جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ اس پتھر کے بنے ہوئے چوکھونٹے گھر میں ایسی متعدی برکت ہے کہ جہاں سات دفعہ اس کے گرد پھرے اور بہشت میں چلے گئے یہ ان کی خام خیالی ہے․․․ اس چوکھونٹے گھر کے گرد پھر نے سے کیا ہوتا ہے‘ اس کے گرد تو اونٹ اور گدھے بھی پھر تے ہیں تو وہ کبھی حاجی نہیں ہوئے“۔ (تفسیر القرآن ج:۱‘ ص:۲۱۱و۲۵۱)
وہ مزید لکھتاہے:
”کعبہ کی طرف منہ کرکے نماز پڑھنا اسلام کا کوئی اصلی حکم نہیں ہے․․․ نماز میں سمت قبلہ کوئی اصلی حکم مذہب اسلام کا نہیں ہے“۔ (تفسیر القرآن ج:۱‘ ص:۱۵۷و۱۶۱)
آپ نے ملاحظہ فرمایا کہ: خانہ کعبہ کے گرد طواف کے مقدس عمل کو سرسید ”سات دفعہ اس کے گرد پھرنا“ قرار دے رہاہے۔ گویا وہ طواف کے عبادت ہونے کا بھی قائل نہیں ہے‘ پھر خدا کے اس عظیم اور مقدس گھر کو انتہائی ڈھٹائی اور بے غیرتی کے ساتھ ”چوکھونٹا گھر“ کہہ رہا ہے‘ آگے تو خباثت کی انتہاء کردی ہے کہ اس کے گرد تو اونٹ اور گدھے بھی پھر تے ہیں‘ کیا وہ حاجی بن گئے؟ گویا سرسید کی نظر میں حاجی اور گدھے اور اونٹ برابر ہیں اور یہ کہ طواف کا کوئی ثواب اور فائدہ ہی نہیں ہے‘ اس سے آگے اس نے تمام عالم اسلام کے علماء اور مسلمانوں کے متفقہ عمل یعنی نماز میں خانہ کعبہ کی طرف منہ کرنے کے خلاف یہ زہر افشانی کی ہے کہ یہ اسلام کا اصلی حکم نہیں ہے‘ میرے خیال میں قارئین کے لئے بھی زندگی میں یہ پہلا موقع ہوگا کہ اسلام کا ”اصلی حکم“ کے الفاظ دیکھ اور سن رہے ہیں‘ اس کا تو یہ مطلب ہوا کہ اسلام کے کچھ احکام نقلی‘ دونمبر اور بے فائدہ بھی ہیں‘ جدیدزمانے کے اس روشن خیال مسٹر کو قرآنی حکم کا سامنا کرنا پڑے گا۔

 دوسرے پارہ کے شروع میں اللہ پاک نے ارشاد فرمایاہے: ”سیقول السفہاء الخ“ ”اب بہت سارے بیوقوف کہیں گے کہ اللہ تعالیٰ نے بیت المقدس سے خانہ کعبہ کی طرف منہ کرکے نماز پڑھنے کا حکم کیوں دیا؟“ اس آیت کی رو سے جو لوگ خانہ کعبہ کی طرف منہ کرنا نہیں مانتے وہ بیوقوف ہیں اور سرسید تمام بیوقوفوں کا سردار۔ دوسرا فتویٰ بھی سرسید کے خلاف‘ میں نہیں لگاتا بلکہ قرآن کریم لگاتاہے۔ آیت گذر گئی ”ومن یعظم شعائر اللہ فانہا من تقویٰ القلوب“ (الحج:۳۲) یعنی جو بھی اللہ تعالیٰ کے شعائر کی تعظیم وتکریم کرتا ہے تو یہ دلوں کا تقویٰ ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ کی ان نشانیوں کی عزت وتکریم وہ لوگ کرتے ہیں جن کے دلوں میں تقویٰ وپرہیزگاری ہوتی ہے اور جب سرسید اس مقدس مقام کی بے عزتی پرتلا ہوا ہے‘ ۔

یہ تمام تحاریر  یہاں سے اڑا کر ہم نے اپنے بلاگ پر چھاپی ہیں۔ اڑا نے کی وجہ کچھ اس طرح ہے کہ جو کام آسانی سے ہو جائے اس کیلئے خوامخواہ کی مشقت کیوں کی جائے۔:mrgreen:
امام روشن خیالیاں ۔ ۴ امام روشن خیالیاں ۔ ۴ Reviewed by یاسر خوامخواہ جاپانی on 6:07 PM Rating: 5

25 تبصرے:

کاشف نصیر کہا...

کئی نقات استدلال کے ساتھ سامنے رکھے گئے ہیں. ایک اور مضمون میں بلاگستان میں سرسید پر پڑھا ہے جو شاید کسی ڈاکٹر نے لکھی ہے. نا صفائی میں کچھ دلیر نہ مخالفت میں کچھ نقات صرف اچھائی ہی اچھائی تھی. اس تحریر میں مخالفت کی گئی ہے لیکن ایسے دلائل بھی پیش کئے گئے ہیں جنکا انکار ممکن نہیں. البتہ میں سمجھتا ہوں کہ تفسیر قرآن کے کئی سنگین معاملات ہیں جو یہاں بھی چھوڑ دئے گئے ہیں. بہر حال بہت اچھی کاوش ہے
ماشاء اللہ
جزاک اللہ

افتخار اجمل بھوپال کہا...

ميں چاروں روش خيالياں ايک سانس ميں پڑھ گيا ہوں ليکن زيادہ متاءثر نہيں ہوا کيونکہ بہت کم لکھا ہے ۔ اس کے علاوہ بھی بہت کچھ ہے

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

بہت کچھ نہیں بہت ہی زیادہ کچھ ھے جی۔

عطاء رفیع کہا...

اچھا ہے جناب ..! کچھ نہ کچھ تو ہے. یہ بھی نہ ہوتا تو کیا کرتے؟

علی سلمان کہا...

ارے بابا۔۔۔۔ بھیجا فرائی!! ۔۔۔ بھیجا فرائی!!!۔۔۔ :lol: :lol:

علی سلمان کہا...

پاکستانی معاشرے کو مزہبی انتہا پسندی کی برين واشنگ ميں سبہی مذديبی جماعتوں نے اپنا حصہ ڈالاہے ليکن جو حصہ جماعت اسلامی کا ہے وہ سب پہ بھاری ہے ظياءالحق اور جماعت اسلامی نےمل کر جس مذہبی دھماکا خيز مواد کی بنياد رکھی تھی اور جس کا راہ ميٹريل پاکستان کے انتہائی قابل احترم صحافيوں نے مہيا کيا تھا اور وقت گزرنے کے ساتھ اس کي طاقت ميں اضافہ کے لیے نومولود آزاد الکٹريک ميڈيا بھی کود پڑا آج پوری طاقت کے ساتھ پھٹ پڑا ہے يہ مودودی کا کمال ہے کے تين سيکولر جماعتوں کی مرکز اور تين صوبوں ميں حکومت ہونے کے باوجود نصاب اور آئينن کو چھڑنے کی جئرت نہيں کر سکتے جماعت کي مدد کے لیےالقاعدہ اور طالبان ديار غير سے برامد ہو چکی ہيں جو پاکستانی عوام کي مکمل حمايت وتائد سے(بلکل ايسی حمايت وتائد جيسی ظياء کو ريفرنڈم ميں ملی تھي) سے فلسطين کی جنگ پاکستان اور افغنستان ميں لڑ ريی ہيں
آپ نے کسی مفتی سے فتوا ليا ہے کہ ايسا پلاگ لکھنا حلال ہے ۔ صوفی پاکستانی قوم ايسا ہی کرتی ہے ۔ ہم پرءم ٹاءم ميں عالم آن لاءن انجواۓ کرتے ہيں ۔ مودودی اور ضياء جيت گۓ - :roll: :roll: :roll:

کاسف نصیر کہا...

قراداد مقاصد بھی ضیاء الحق اور مدودی کا کمال تھا نہ۔۔
حد ہوتی ہے. اسلام سے بغض میں لوگ تاریخ ہی مسخ کردیتے ہیں. مولانا مدودی نے نعرے لگوائے تھے نہ کہ پاکستان کا مطلب کیا اور دو قومی نظریہ بھی مولانا مدودی نہ گڑھا تھا نہ. مسلمانوں کی جداگانہ شناخت پر لیکچر قائد اعظم تو نہیں دیتے تھے نہ،

حد ہوتی ہے.

لطف الا سلام کہا...

معجزات کے بارہ میں اور قبولیت دعا کے متعلق سرسید یقینا غلطی پر ہیں۔ لیکن کوہ طور فضا میں معلق بھی نہیں ہوا تھا۔
نیچری افکارات سے لا محالہ گستاخی کی راہیں کھلتی ہیں اور یہ غلام احمد پرویز کے افکار میں بھی نظر آتی ہیں۔

ویسے جامعہ بنوریہ والے بھی ایسے صالحین نہیں ہیں جن کی باتوں میں آکر خوامخواہ نفرت آمیز مواد عام کیا جائے۔ سر سید کی اچھی باتوں پر بات کریں۔ ان کی علمی لغزشیں اب جانے دیں۔
بنوریہ والے مودودی صاحب کو گمراہ جانتےہیں۔ ان کے نزدیک اہلحدیث بھی گمراہ ہیں۔
اور بیچارے بریلوی سراسر مشرک اور شیعہ جانوروں سے بد تر۔

کیا ان لوگوں کا اعتبار کرنا!!

لطف الا سلام کہا...

قرار دادمقاصد کی حمایت اسمبلی میں سب سے پہلے کس نے کی؟

بدتمیز کہا...

اوپر والا تبصرہ میرا نہیں۔ نہ جانے یہ مجھے کیوں والد کے رتبے پر فائز کرنا چاہتا ہے

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

لطف الاسلام صاحب آپکی بے چینی سمجھ آتی ھے۔ :D
اہلحدیث یا مودودی صاحب کو کوئی گمراہ کہتا ھے۔تو ہمارا کیا جاتا ھے۔
شیعہ یا بریلوی کیا ہیں ہمیں ان سے کیا لینا۔
نظریات کے اختلاف سے مسلک جنم لیتے ہیں۔
اصول اور عقائد کے اختلاف سے مذہب جنم لیتے ہیں۔
آپ کہاں سے ٹانکے لگا رہے ہیں۔یا دوسرں کے درمیان فساد کروانا چاھتے ہیں۔
اب عام مسلمان اتنے بھولے بھی نہیں رہے۔
باقی آپ سمجھدار ہی ہو جی۔

عبد تمیز ۔ ولدیت کے متلاشی صاحب کا تبصرہ میں نے ہٹا دیا ھے۔

ابوسعد کہا...

افتخار بھائی اگر آپ سمجھتے کہ اوپر لکھا گیا کم ہے تو براہ کرم آپ اپنے معلومات ہم سے شیئر کریں۔ اگر سرسید کے خلاف الزامات پوائنٹس کی صورت میں لکھ دیے جائیں تو پڑھنے میں آسانی ہوگی۔
میں کفر و تکفیر کے چکروں میں نہیں پڑنا چاہتا لیکن اتنا ضرور جانتا ہوں کہ سرسید سے لے کر غامدی سب جدیدیوں کی کوشش رہی ہے کہ اگر قرآن اور اسلام سے جہاد کو الگ نہیں کیا جاسکتا تو کم از کم مسلمانوں سے الگ کردیا جائے تاکہ یہ مغرب کو مطلوب انسان بن کر ان کی خدمت کریں۔
یاسر بھائی تحریر کے کیے جزاک اللہ

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

تفسیر فتح المنان کا صرف مقدمہ ہی پڑھ لیا جائے تو مزید سب حضرات کی معلومات میں ضرور ہوگا۔

جاوید گوندل ۔ بآرسیلونا ، اسپین کہا...

بقول افتخار اجمل صاحب! میں چاروں تحریریں ایک ہی سانس میں پڑھ گیا ہوں۔

جزاک اللہ ، ماشاءاللہ ۔ اور جن لوگوں کو جزاک اللہ اور ماشاءاللہ جیسے الفاظ سے نفرت ہے انکے لئیے دعائے خیر کہ وہ اپنی ذات، اپنی انا اور اپنی دو لفظی علم سے باہر نکل کر اسلام کی اس آفاقی سچائی کو سمجھنے میں مدد دے کہ اسلام اپنی ذات کی نفی اور اسلامی اخوت کا پیغام دیتا ہے۔

واقعی ابھی بہت سے ایسے پہلو ہیں جنھیں اجاگر کرنے کی ضرورت ہے تانکہ عام مسلمان سرسید کے باطل افکار کو سمجھ سکیں۔

مرزا مردود کذاب غلام احمد قادیان اور سرسید احمد خان میں بہت سی باتوں میں ھیڑت انگیز مماثلت پائی جاتی ہے۔ مرزا ملعون و مردود کی تعلیمات کے عین مطابق مرزا مردود کزاب کے چیلے چانٹے مسلمانوں میں نفاق پیدا کرنے کے لئیے انہیں سنی ، دیوبندی ، اہل حدیث ، اہل تشیعہ وغیرہ وغیرہ کے طعنوں طنزوں اور جھوٹے حوالہ جات سے بھرپور کوششیں کرتے جا بجا نظر آتے ہیں۔ اور اس بلاگ پہ بھی مرزا ملعون کی تعریف میں مرزا مردود کی تعلیمات کے عین مطابق عام مسلمانوں کو اپنے بارے میں مشکوک کرنے کے لئیے افتراء اور کذاب سے کام لیتے ہوئے مرزا غلام احمد قادیان کے چیلے اور ختم نبوت کے منکر نے اپنی بھپور کوشش کی ہے کہ سرسید اور مرزا غلام احمد قادیان ملعون مردود پہ بات کرنے کی بجائے بحث کو ایک نیا رنگ دے دیا جائے جس سے مسلمان اصل مسئلہ بھولتے ہوئے آپس میں باہم دست و گریباں ہوجائیں۔ مگر اسے منہ کی کھانی پڑی ہے۔ پاکستان و بھارت کے مسلمانوں پہ قادینایوں المعورف احمدیوں کے ناپاک ارادوں کے بارے میں علم و اگہی آگئی ہے۔ اسلئے مرزا ملعون و مردود کی تعلیمات کے چیلے چانٹوں کی سازشیں خالی جارہی ہیں۔

لعنتہ اللہ علیہ الکاذبین۔لعنتہ اللہ علیہ المنکرین۔

سرسید احمد خان کی مسلمان دشمنی اور اگریزوں کی غلامی کے بارے میں یہ آگہی کا سلسہ جاری رہنا چاہئیے اور دیگر قابل احترام بلاگرز کو بھی اس پہ لکھنا چاہئیے۔
جزاک اللہ۔ ماشاءاللہ

اقبال کہا...

جزاک اللہ۔ ماشاءاللہ :D

ہسپانوں بُل قادنیت کے سرٹیفکیٹ دینا شروع ھوگیا ۔۔۔ :mrgreen:

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

مرزا اے قادیانی کی وحی کی حقیقت کچھ اس طرح ھے۔
فضولیات لکھنے کے بجائے قادیانی حضرات اور لطف السلام صاحب سے گذارش ھے۔کہ
اس کی وضاحت کردیں۔
مرزا صاحب پر وحی عربی،فارسی،سنسکرت،انگریزی وغیرہ میں ہوئی۔باقی انبیاء کے پاس تو جبرائیل آیا کرتے تھے مگر مرزا صاحب کے فرشتے ٹیچی ٹیچی خیراتی،مٹھن لال اور کاتب وحی سندر لال تھے(پانچ سوال صفحہ36)۔اس کے علاوہ درشنی، شیر علی بھی مرزا صاحب کے فرشتے تھے(بناسپتی نبی صفحہ6)۔مرزا صاحب پر نازل ہونے والی وحی ان کی کتاب (مجموعہ الہاماتِ مرزا) میں پڑھ سکتے ہیں۔
میں احمدی حضرات سے عرض کروں گا کہ ٹیچی ٹیچی اور مٹھن لال ،درشنی اور خیراتی وغیرہ سے کس طرح کی وحی کی امید کی جا سکتی ہے؟ یہی وجہ ہے کہ مرزا صاحب کو ان فرشتوں نے محمدی بیگم اور مولانا ثناء اللہ امرتسری وغیرہ ایسے معجزوں میں بدنام کروا دیا۔
تسلی نہ ہوتو کچھ مزید لکھ دیں؟

کاسف نصیر کہا...

اصل میں انسان جب تکبر اور غرور کی بلندی پر پہنچ جاتا ہے. وہ خود کو سب سے بڑا عالم اور سب سے بڑا متقی سمجھنے لگتا ہے. اسے یہ لگتا ہے کہ جیسے وہ کوئی مسیحا ہے اور دنیا کے مسائل حل کر سکتا ہے تو ایسی کفیت میں اس پر شیاطین اترتے ہیں جن کے نام ٹیچی ٹیچی، مٹھن لال، درشنی اور خیراتی وغیرہ ہوتے ہیں.

احمد عثمانی کہا...

ایک اچھی کاوش ہے
مرزا قادیانی کا کفر تو اچھا ہوا پوری طرح بے نقاب ہوگیا اور اصل بات یہ کہ اس فتنے کا اصل تعاقب علماء دیوبند نے کیا اور انکو کافر قرار دلوانے میں بھی انہی لوگوں کا حصہ ہے اسکے بعد آتے ہیں اہل حدیث لوگ
البتہ کچھ لوگ ایک دو کتابیں لکھ کر شہیدوں میں نام لکھوا گئے
لیکن یہ اچھا ہوا کہ قانون میں کافر لکھے گئے مگر یہ ظالم پورا ملک ہی اچٹ گئے

یہاں ایک قابل غور بات یہ ہے کہ جیسے ہی اسلام دشمن لوگوں کا نام آنے لگا چند لوگ گھبرا گئے ہیں کہ انکے کسی ًمحبوب کا زکر نہ آجائے اسلیئےوہ واردات کرگئے
صاحب بلاگ سے امید تو نہیں ہے مگر دیکھو کیا پتا سب سے بڑے فتنے رافضیت پر بھی لکھ جائیں جس سے آگے چل کر سارے شیطانوں نے رہنمائی لی
مگر اب یہاں سب کو سانپ سونگھ جائے گا اور آئیں بائیں شائیں ہونے لگے گی
چند روز بعد انشاءاللہ ان سب کے درمیان ایک تعلق جماعت اسلامی کی انکی آبیاری اور ان سب کے پیچھے رافضیت پر ہلکی پھلکی بات رکھیں گے

قادیانی نے
"بنوریہ والے مودودی صاحب کو گمراہ جانتےہیں۔ ان کے نزدیک اہلحدیث بھی گمراہ ہیں۔
اور بیچارے بریلوی سراسر مشرک اور شیعہ جانوروں سے بد تر۔ کیا ان لوگوں کا اعتبار کرنا!!"
یہ بات کرکے اپنے لیئے پناہ گاہ تلاش کرنے کی کوشش کی ہے. انکو کوئی مل بھی جائے اور یقیناً ملتی بھی ہے تو بھی ہوئی فرق نہیں پڑتا سارے باطل ایک دوسرے کے مددگار رہتے ہی آئے ہیں -
ویسے اللہ کی شان کہ سارے بلاگز تقریباً انہی لوگوں کے ہیں مگر کسی کو سکون نہیں ملتا اور نہ ہی پناہ

نغمہ سحرِ کہا...

اتنی اچھی علمی بحث میں کچھ تفکیری سوچ کے تبصرے دیکھ کر افسوس ہوتا ہے کہ کچھ لوگ فرقہ ورایت میں اتنے زہر آلود ہوگئے ہیں کہ نفرتیں پھیلانا انکی فطرت بن گئی ہے اور ایسے خبط میں مبتلا ہوگئے ہیں کہ ہر وہ جھوٹ جو انکے فائدے کا ہو پسند آتا ہے اور ہر اس سچ کو قبول نہیں کرتے جو انکی برائیوں کو اجاگر کرتا ہو
تحریک پاکستان سے لیکر آج کی دہشت گردی تک کس کا کیا کردار ہے ایک مسلمہ حقیقت ہے مگر سچائی تسلیم کرنے کی بجائے ہٹ دھرمی کامظاہرہ کیا جاتا ہے
میرا اشارہ کسی خاص مکتب فکر کی طرف ہر گز نہیں لیکن علم بتاتا ہے کہ پانی اپنی سطح ہموار رکھتا ہے اور جاتا وہیں ہے جہاں نشیب ہو
میرے بلاگ پر 5 منٹ کیلئے آنے والوں نے کس طرح نتیجہ نکالا میرے عقائد و نظریات کے بارے میں کم از کم کسی تحریر کا حوالہ تو دیا ہوتا
ایران کا تزکرہ بلاگ اور تبصرے کے حوالے سے تھا میں کبھی بھی ایران کے جبری طرز حکومت کی حامی نہیں رہی جہاں دوسرے عقائد کے لوگوں کو عبادت اور دینی علوم حاصل کرنے کی آزادی نہیں اور یہ بھی جانتی ہوں کہ فرقہ ورایت پھلانے میں ایک گروہ کی مالی اور اسلحہ سے مدد کرتا ہے وہاں اس حقیقت سے بھی واقف ہو کہ ابن سعود کی اولاد بھی کسی طور کم نہیں ہیں اور وہ کن کن فرقہ ورانہ تنظیموں کی مدد کرتی ہے دراصل فرقہ ورآنہ فساد کی آگ انہی دونوں حکومتوں کی جنگ ہے محاذ جنگ کبھی عراق ہوتا ہے تو کبھی لبنان کبھی رخ افغانستان کا ہوتا ہے تو کبھی آکھاڑے پاکستان میں لگائے جاتے ہیں

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

نغمہ جی۔
ان صاحب کے تبصرے چار مختلف آئی پیز سے ہوئے ہیں۔
یعنی ایک شخص یہ نہیں لکھ رہا۔اس لئے ان کی تحاریر کو سنجیدگی سے نہ لیں۔
ایسا کرنے کی وجہ آپ کو معلوم ہی ہے۔ :D :D :D

بارہ سنگھا کہا...

قوم کے خالوؤں کو اپنے پرانے میتھڈ جزباتی افگھان، فلستین وغیرہ سے نشہ پلادیا کہ سوعتے رہیں
مگر یہ نہیں بتایا کہ وہاں ہر جگہ کن ان سبائیوں نے حرام زدگی کی اور کفار کیلئے راستہ ہموار کیا

اور اچھی بحث کیسی؟ سارا مضمون آپ کے ہی خلاف جاتا ہے اب آپ نے تو بس اپنی قوم کی صفائی دینی ہے اور جزباتی میتھڈ سے مفہوم ھانک لینا ہے اور بس
دین کے اندر ہوئی فرقہ واریت نہیں البتہ کفر کو دین مین زبردستی شامل کرنا آپ کی قوم کا خاصہ رہا ہے اسی لیئے چند سالوں سے امام باڑوں کو مسجد کہنا لکھنا شروع کیا ہے اور جماعتی میڈیا اور خاص کر جنگ یہ کام کرنے لگا ہے کہ کسی طرح مسلم قوم میں نقب لگائی جاسکے
آپ لوگوں کی سب بڑی شرمناک حرکت یہ ہے کہ اپنے عقائد سامنے لاتے ہوئے ہمت نہیں ہوتی یہ خود دلیل ہے کہ جھوٹا کون ہے
خیر لگے رہو چار دن کی زندگی جو کرنا ہے کرلو
اللہ پر افتراء باندھنے والوں، قرآن کے اصلی ہونے سے انکار کرنے والوں ، صحابہ کرام کو کافر کہنے والوں اور گالیان دینے والوں اور اپنے ساری تاریخ میں مسلمانوں کا خون بہانے والوں پر اللہ اور اسکی ساری مخلوق کی لعنت

بائے بائے

لطف الا سلام کہا...

جاپانی صاحب، آپ کا جواب پچھلے بلاگ پر دے دیا ہے۔

باقی رہ گئے یہاں کے تکفیری تبصرے۔ تو ان کو جواب دے کر کیا وقت ضائع کروں۔

سلام،

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

جناب لطف السلام صاحب جہاں جواب دینے کا حق بنتا تھا وہاں آپ نے جواب ہی نہیں دیا!! امام روشن خیالیاں ۔ ۲ تبصروں کاجواب دے دیں۔

لطف الا سلام کہا...

جواب دیا تو تھا لیکن غائب ہو گیا ہے۔ اپنے spamوالے فولڈر کو چیک کر لیں۔ اگر نہ ملے تو دوبارہ لکھ دوں گا۔

ارتقاءِ حيات کہا...

شکریہ...............

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.