شاہ اسمعیل شہیدؒ۔ جہاد ۔۴ آخری

درس و تدریس


نشانہ بازی میں یہ عالم تھا  کہ یہ ناممکن تھا کہ جانور آپؒ کے سامنے آئے اور بچ کر نکل جائے۔ پیراکی کے ماہر تھے۔کئی کئی میل ایک سانس میں دوڑ لیتے تھے۔کئی کئی راتیں جاگنے کی ریاضت کی اس میں کامیاب بھی رہے۔


اپنی نیند اور بیداری پر شاہ شہیدؒ کو پورا پورا قابو تھا۔ایک طرف یہ سپاہیانہ ریاضتیں کرتے تھے اور اپنے استاد اور چچا شاہ عبد العزیزؒ کے بعد ان کی مسند درس کو زینت بخشی اور وعظ کہنے کا سلسلہ شروع کیا۔درس کے ذریعہ جہالت ، بد عات ، اور مشر کانہ ، رسوم ورواج میں ڈوبی ہوئی ملت کی اصلاح کی بیڑہ اٹھایا عوام و خواص پست و اعلی ہر طبقہ کی اصلاح کی فکر کی۔


فکرو ذہن اور عقائد میں جو غیر اسلامی خیالات گھس آئے تھے۔ اخلاق و عادات میں جو غیر اسلامی چیزیں داخل ہو گئی تھیں۔ معاملات اور برتاو میں برائیاں شامل ہوگئی تھیں،عبادات اور دیانت میں گمراہیاں در آئی تھیں۔ غرض کہ انفرادی اور اجتماعی زندگی کی ایک ایک برائی اور خرابی پر آپ ؒ نے ٹوکا جھنجھوڑا جن لوگوں میں ایمان کی چنگاری باقی تھی وہ بھڑک اٹھی اور انہوں نے اپنی حالت سد ھار لی۔


عقائد ، اخلاق اور معاشرت میں خاصی اصلاح کر نے میں آپ کامیاب ہوئے۔کئی طوائفوں نے آپ کا وعظ سنا اور توبہ کی اور بقیہ زندگی پاکیزہ گذاری۔


شہادت


سید احمد شہید کی امارت میں جو عظیم جہاد کیا گیا اس میں تقریبا ایک درجن معرکے ہوئے ہر ایک میں مولانا اسماعیل شہیدؒ نےبڑھ چڑھ کر حصہ لیا بلکہ سپہ سالاری کے فرائض بھی انجام دے۔


علی میاں کی تحریر سے مختصر اقتباس


بالا کوٹ کی زمین چند مذہبی دیوانوں ہی کا مقتل نہیں ، بلکہ بہت سے سیاسی ہوشمندوں کی بھی عبرت گاہ ھے۔اور سارے ہندوستان کے لئے یکساں احترام کی مستحق ہے۔آج بھی وہاں کی وادی ہندوستاں کو پیغام سناتی ہے۔


سواد قمار عشق میں شیریں سے کوہکن


بازی اگر چہ لے نہ سکا سر تو کھوسکا!


کس منہ سے اپنے آپ کو کہتا ہے عشق باز


اے روسیاہ تجھ سے تو یہ بھی نہ ہوسکا


کارنامے


آپ کے علمی کارنامے دو قسم کے ہیں۔ ایک علمی کارنامے اور وہ شاہ ولی اللہ کے کارنا موں کے پر تو ہیں۔


دوسرےعملی کار نامے ہیں جو سید احمد شہید کی تحریک میں شامل ہو کر آپؒ  نے کئے۔


آپ نے تالیف و تصنیف کے ذریعے اسلامی تعلیمات کو نکھار کر پیش کیا


درس وتدریس کے ذریعہ موجودہ نسل کے لئے علمأ تیار  کئے اور آئیندہ نسل کے لئے علمی سر چشمہ جاری کیا۔


شرک وبدعت اور غیر اسلامی رسوم و رواج کے خلاف قلم اور زبان سے جہاد کیا۔


اسلامی نظام برپا کرنے کےلئے جہاد بالسیف کیا اور تھوڑے عرصہ کے لئے سہی صحابہ کرامؓ کے دور کی یاد تازہ کردی۔


سید احمد شہیدؒ کی تحریک کو علمی و فکری غذا فراہم کی ، دورے کرکے اسے تقویت پہنچائی۔ ولی اللہ خانوادے کے اثر ورسوخ اور علمی و دینی ساکھ سے تحریک کی تائیدو حمایت کاکام لیا۔جس سے تحریک کو دن دونی رات چوگنی ترقی حاصل ہوئی۔


سپاہیانہ ورزشیں اور مجاہدانہ ریاضتیں کرکے عام مسلمانوں میں جہاد کی تیاری کی اہمیت واضح کی اور اس کا شوق پیدا کیا۔


 اللہ تعالی آپ کو غر یق رحمت کرے۔


ما خوذ از کربلا سے بالاکوٹ تک از محمد سیلماں فرحّ


کچھ لوگوں کو سید احمد شاہ شہیدؒ کی تحریک پر اعترضات بھی ہیں۔


اور اچھی معلومات بھی ہیں۔


جس پر یہاں مزید پڑھا جا سکتا ھے۔

شاہ اسمعیل شہیدؒ۔ جہاد ۔۴ آخری شاہ اسمعیل شہیدؒ۔ جہاد ۔۴ آخری Reviewed by یاسر خوامخواہ جاپانی on 10:41 PM Rating: 5

5 تبصرے:

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

شاہ اسمعیل شہیدؒ پر لکھنے کے بعد میرا ارادہ سید احمد شہیدؒ پر لکھنے کا ھے۔ جس سے اس تحریک کی وجوہات سب تک پہونچیں گی۔

توارش کہا...

اچھی تحریر ہے اگلی قسط کا انتظار ہے

امتیاز کہا...

جناب بہت اچھی مطالعاتی تحریر تھی
ساری اقساط پڑھنے کے بعد یہی خیال آیا کہ میری میٹرک کے دور میں اگر اپ یہ پوسٹ لکھتے اور میں پڑھتا تو میرے نمبر اچھے ا سکتے تھے ۔۔۔
اور سید احمد شہید والی پوسٹ کا انتظار رہے گا کیونکہ اس پوسٹ کو پڑھتے ہوئے بھی زہن میں ان کا خیال اتا رہا۔۔

عثمان کہا...

چونکہ پچھلی قسط پر ہونے والی میری بحث حسب معمول کسی کو پسند نہیں آئی اس لئے یہاں بات بڑھانے سے گریز کرتا ہوں۔یہ قسط پڑھی تو نہیں لیکن اس سے فرق ہی کیا پڑتا ہے۔
بس وصول فرمائیے۔۔۔
ماشااللہ ، جزاک اللہ !
:D

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

پڑھی بھی نہیں اور تبصرہ بھی کیا۔
تعریف کا شکریہ

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.