شا ہ اسمعیل شہیدؒ۔۔جہاد۔۔۲

۔۔۔۔۔۔۔ہندوستان کے مسلمانوں کا باقاعدہ اسلامی تعلیمی وتربیت کا نظام نہ ہونے کی وجہ سے نو مسلموں کی دینی تعلیم وتربیت نہ ہوسکی۔نتیجہ یہ ہوا کہ جو مرد اور خصوصا عورتیں دائرہ اسلام میں داخل ہوئیں وہ غیر اسلامی رسم و رواج ، عقا ئد ، توہمات اور خیالات اپنے ساتھ لیتی آئیں ، جو آج تک مسلم معاشرہ کا جزو لانیفک ہی بنی ہوئی ہیں۔ اسی طرح بعض حکمرانوں نے ہندو عورتوں سے  شادی کا کافرانہ طرز عمل اختیار کرنے کی ابتدا ٔ کی۔یہ : دیویاں : جب آئیں تو مشرکانہ خیالات اور رسوم بھی اپنے ساتھ لائیں جو رفتہ رفتہ مسلمانوں کی تمدنی زندگی میں داخل ہو گئے۔


آج بھی عام مسلمان عورتوں کی مذہبی زندگی میں ان عقائد ورسوم کا غلبہ نظر آتا ھے۔بہرحال اٹھارویں صدی عیسوی میں مسلمانوں میں آثار پرستی ، قبر پرستی ، جھاڑ پھونک ، ٹونہ ٹوٹکا ، گنڈہ تعویذ ، بھوت پریت ، مشرکانہ رسوم اور عقائد پائے جاتے ہیں۔ حالانکہ قرآن و حدیث میں ان چیزوں کی تعلیم نہیں ھے۔


البتہ یجروید میں ان چیزوں کے متعلق منتر ضرور موجود ہیں۔مسلمانوں کی مجلسی اور تمدنی حالت  بھی یوں ہی تھی۔برسراقتدار اور سربرآوردہ طبقہ عیش وعشرت میں غرق تھا اور


 ۔۔۔۔۔۔بابر عیش کوش کہ عالم دوبارہ نیست۔۔۔۔۔۔پر عامل تھا۔


عام مسلمان بھی انہیںکے پیچھے ہو لیے تھے۔عیش وعشرت اور عیاشی کے فنون لطیفہ کا تو زور تھا ہی ، فنون کثیفہ کا چلن عام تھا۔ شاعری اور موسیقی کے علاوہ مرغ بازی ، بٹیر بازی ، تیتربازی ، پتنگ بازی ، تاش ، گنجفہ ، چوسراور شطرنج  اور قمار بازی شراب خوری ، گویا مسلم معاشرہ کا جز بن چکی تھی۔ عام لوگوں میں نہیں بلکہ شرفأ میں یہ چیزیں عام تھیں۔اور وہ ان عیوب کو عیب نہیں ہنر شمار کرتے تھے۔ اس ہنر مندی میں ایک دوسرے میں ایک دوسرے سے بازی لے جانا چاہتے تھے۔یوں سمجھئے مسلمان ہر پہلو سے مر چکے تھےیا سسک رہے تھے اور دم توڑ رہے تھے۔ان کا دور شمشیر وسناں گذر چکا تھا۔اب ان کا دور طاوس رباب تھا۔


آتجھ کو بتاوں میں تقدیر امم کیا ھے؟


شمشیر وسناں اوّل طاوس و رباب آخر


جہالت عام تھی۔ عام عورتیں تو پھر عورتیں ، عام مسلمان مرد بھی لکھنے پڑھنے سے نابلد تھے۔عام علمأ بھی منطق اور فلسفہ کی فرسودہ بحثوں میں وقت ضائع کرنے اور فقہی جزئیات کے بل بوتے پر ایک دوسرے پر سبقت لے جانے یاایک دوسرے کو نیچا دکھانے میں مشغول تھے۔قرآن اور حدیث گویا ان کے نصاب میں داخل ہی نہ تھا۔اسلامی تصّوف میں ویدانت اور انپشد کے اصول و نظریات شامل بلکہ غالب ہو چکے تھے۔دینا پرست صوفی قبروں اور مزاروں اور عرسوں کے ذریعہ استحصال میں مگن تھے۔یہ حالات شاہ ولی اللہ کے دور کے تھے۔


کیا یہی حالات اس وقت ہمارے دور کے بھی نہیں ہیں؟یہ کچھ ھے جی اپنے ہاں بھی!!!!


اس وقت کے ہمارے معاشرے کا ایک عام انسان اپنی زبان میں اپنے جذبات کے اظہار کی قدرت نہیں رکھتا لیکن بعض لوگ اسے جدید انگریزی زبان میں تعلیم دینے پر مضر ہیں!


پاکستان کے اسی فیصد عوام ظلم و جبر کی زندگی گذار رھے ہیں۔روز مرہ کی زندگی گذارنا جن کیلئے کٹھن ہیں۔


ان سے مراعات یافتہ طبقہ حقارت سے پیش آئے۔


انہیں انسان نہ سمجھے۔مراعات بھی اس ملک سے حاصل کرے اور تحقیر بھی اسی ملک کی مظلوم عوام کی کرے۔نہ کہ ان کی بہتری کیلئے کچھ کرے۔


یہ نام نہاد کےاسی ملک کے مراعات یافتہ روشن خیال حضرات  اپنے ترقی یافتہ دنیا سے دوری ان مظلوم عوام کو سمجھتے ہیں۔


ان کا ایسا سمجھنا ایسا ہی ھے۔کہ ململ کی تہمند والوں کو حالات کی گردش نے کھدر کے شہر میں بسا دیا ہو۔


وہ اپنی ململ کی دھوتی کو ان کھدر کے شہر والوں کے کھدر سے ملانا نہیں چاھتے۔لیکن ان کھدر کے شہر والوں کے کیچڑ سے اپنے پاوں بھی نکالنا نہیں چاھتے!۔


الزام ان کھدر کے شہر میں سسک سسک کر جینے والوں کے سر ہی دھرتے ہیں۔


جاری ھے

شا ہ اسمعیل شہیدؒ۔۔جہاد۔۔۲ شا ہ اسمعیل شہیدؒ۔۔جہاد۔۔۲ Reviewed by یاسر خوامخواہ جاپانی on 10:22 PM Rating: 5

8 تبصرے:

عثمان کہا...

یہ "جہاد" آج بھی جاری ہے۔
صوبہ خیر پختونخواہ کے علاقے لکی مروت میں ایک "مجاہد" نے ایک تھانے میں داخل ہو کر پولیس کی وردیوں میں ملبوس سترہ روشن خیالیے پھڑکا دے۔ مرنے والوں میں کچھ تو امریکہ کے غلام ریاست المعروف" روشن خیالوں" کے سرکاری نمائندے تھے۔ باقی عام شہری تھے جو "اسلامی نظام" کی راہ میں رکاورٹ تھے۔
یااللہ!
یہ وطن "مجاہدوں" سے بھر دے!!

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

آ مین ثم آمین
ارے عثمان بھائی ہم تو سمجھے تھے۔کہ یہ کسی جنونی گروپ کی دہشت گردی ھے۔
آپ کی بات تو مستند ہی ہوگی جی!!
یہ کونسی عینک ھے جی کہ جس سے یہ جہاد نظر آتا ھےاور پھٹ جانے والے مجاہد نظر آ تے ہیں؟!!
بڑی تیزابی استاد قسم کی عینک ہے جی۔
جو پسند نہیں وہ دوسرں کے سر منڈھ دو والا کیمیائی کلیہ تو نہیں ھے جی؟

بحر حال ہم آپ کے دلائل سے متفق ہوئے۔

کاشف نصیر کہا...

پھر ہوگئی شروع وہ پرانی رت.

عثمان کہا...

جو لوگ پھٹنے ہیں وہ بھی خود کو مجاہد سمجھتے ہیں۔ جو انھیں روانہ کرتے ہیں وہ بھی۔ ان "مجاہدوں" کے اچھے خاصے وکلاء بھی موجود ہیں۔ یقین نہ آئے تو ایک پوسٹ تحریک طالبان پاکستان کی پرزور مذمت و ملامت میں لگائیے اور پھر بلاگستان میں رقص بسمل دیکھئے۔ :lol:

کاشف نصیر کہا...

@ عثمان : بات یہ ہے کہ سرکاری پراپیگنڈہ سے دنیا کے بہترین شخص کو بھی دنیا کا بدترین شخص ثابت کیا جاسکتا ہے (حسن نثار)

عثمان کہا...

کاشف۔۔۔
چلئے پھر آپ حقائق کھول دیجئے۔
تحریک طالبان پاکستان کی حمایت 8O میں آپ کی طرف سے مجھے ایک عدد تحریر کا اننظار ہے۔

جہالستان سے جاہل اور سنکی ۔ کہا...

دنیا کو آگے یا پیچھے کرنے کی باتیں ادھر بھی چل رہی ہیں ۔ اچھی ایکٹیویٹی ہے جی اگر دوست حضرات پرسنل نہ ہو جائیں ۔

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

سنکی صاحب آپ نے دل کی بات کہہ دی۔شکریہ

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.