امام روشن خیالیاں۔۲

سرسید کو جدید دنیا کے روشن خیال نئے دور کا مجدّد اور مسلمانوں کی ترقی کا راہنما سمجھتے ہیں‘ مگر حقیقت یہ ہے کہ انگریزوں کے برصغیر میں واردہونے سے قبل یہاں پر تعلیم کا ایک بے مثل نظام رائج تھا۔ دینی مدارس کا جال پھیلا ہوا تھا۔ انہی مدارس کے فارغ التحصیل علماء نہ صرف مساجد ومدارس کا نظام سنبھالے ہوئے تھے‘ بلکہ سیاست اور نظامِ حکومت کا زمام بھی انہی کے ہاتھوں میں تھا‘ انگریزوں نے اس اسلامی نظامِ تعلیم کی بساط لپیٹنے کے لئے سرسید کی خدمات حاصل کیں‘ سرسید نے یورپ جاکر وہاں کے نظامِ تعلیم کا بغور مطالعہ کیا اور واپس آکر علی گڑھ میں محمڈن اورینٹیل کالج کی بنیاد رکھی‘ جہاں پر قدیم وجدید کے امتزاج سے نصابات رائج کئے۔ بعد میں اس کالج کو علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کا درجہ ملا‘ جو آج بھی قائم ہے۔ مسلمان چونکہ انگریز اور اس کی تعلیم سے متنفر تھے اور کسی صورت اس کو قبول نہیں کرپارہے تھے‘ لہذا دینی مدارس کے بالمقابل‘ سرسید اپنے وضع کردہ نصاب تعلیم کی صورت میں مسلمانوں کو مغربی تہذیب وتمدن کی طرف راغب کرہے تھے‘ دوسری طرف انگریزوں نے دینی مدارس کی بساط لپیٹنے کے لئے دینی مدارس کے اوقاف کو ضبط کیا‘ نصاب اور نظام تعلیم پر طرح طرح کے اعتراضات کرنے لگے اور اس کو فرسودہ اور دقیانوسی قرار دینے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگایا۔

 دینی مدارس کے فارغ التحصیل علماء کی ملازمتوں پر پابندی لگادی گئی۔ دوسری طرف انگریزی نظام تعلیم کی سرپرستی اور دلجوئی کی گئی‘ جس کا یہ نتیجہ نکلا کہ دینی مدارس معدوم ہوتے گئے اور لارڈمیکالے کا نظام تعلیم رائج ہوتا گیا جس کا خلاصہ لارڈمیکالے نے یہ بیان کیا تھا کہ:
ہم نے ہندوستان میں اپنے نظام تعلیم کے ذریعہ ایسی پود تیار کرنی ہے جو شکل وصورت کے لحاظ سے ہندوستانی ہو‘ مگر دل ودماغ اور جذبات واحساسات کے لحاظ سے انگریز ہو“۔
سرسید نے انگریزوں کا آلہٴ کار بن کر مسلمانوں میں ان کے لئے ذہنی وقلبی لحاظ سے ماحول بنانے کی کوشش کی تو سرسید کو ان خدمات کے صلہ میں انگریزوں نے مختلف خطابات اور اعزازات سے نوازا‘ چنانچہ اسے خان بہادر (Sir) شاہی مشیر(K.B)انڈیا کا امن جج (K.C) قانون کا ڈاکٹر (L.L.D) جیسے خطابات اور ڈگریوں سے نوازا اور دوپشتوں تک دو سو روپے پنشن سے بھی سرفراز کیا۔ سرسید نے دنیاوی اعزازات تو حاصل کرلئے‘ مگر وہ یہ بھول گیا تھا کہ

:
اے طائر لاہوتی اس رزق سے موت اچھی جس رزق سے آتی ہو پرواز میں کوتاہی
کند ہم جنس باہم جنس پرواز
رسول اکرم ا کا ارشاد گرامی ہے: ”الکفر ملة واحدة“ تمام کفر ایک ہی ملت ہے۔
اس حدیث مبارکہ کے تناظر میں جب ہم باطل فرقوں کا مطالعہ کرتے ہیں تو حیرت انگیز طور میں‘ ان میں باہمی مماثلت اور باطل افکار پر اتفاق نظر آتاہے‘ چنانچہ مرزائیوں کے فرقہٴ ضالہ کی تاریخ احمدیت میں مرقوم ہے کہ سر سید نے مرزا غلام احمد قادیانی جہنم مکانی کی بڑی معاونت کی ہے اور ان کی کتابوں کو بہت سراہا ہے۔

 قادیان کے جھوٹے نبی نے کہا ہے کہ سرسید تین باتوں میں مجھ سے متفق ہے:
۱:․․․ ایک یہ کہ عیسیٰ علیہ السلام بغیر باپ کے پیدا نہیں ہوئے‘ بلکہ معمول کے مطابق ان کا باپ تھا۔ (واضح رہے کہ عیسائیوں کے ایک فرقے کا بھی یہ عقیدہ ہے کہ مریم علیہا السلام کے یوسف نامی ایک شخص سے تعلقات تھے جس کے نتیجہ میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام شادی سے قبل پیدا ہوئے۔ (نعوذ باللہ من ذلک)
۲:․․․دوسرے یہ کہ عیسیٰ علیہ السلام کو آسمان پر نہیں اٹھایا گیا بلکہ اس سے ان کے درجات بلند کرنا مراد ہے۔
۳:․․․تیسرے یہ کہ نبی آخر الزمان حضرت محمد ا کو روح مع الجسد معراج نہیں ہوئی‘ بلکہ صرف ان کی روح کو معراج ہوئی ہے۔
تاریخی واقعات اس بات پر شاہد عدل ہیں کہ مرزا غلام احمد قادیانی اور سرسید احمد خان عیار ومکار‘ انگریزوں کے خود کاشتہ پودے تھے‘ ان دونوں سے انہوں نے وہ کام لئے جو وہ اپنے ملکوں کی ساری دولت خرچ کر کے بھی نہیں کر سکتے تھے۔ ان دونوں کو سفید فام دشمنانِ اسلام نے یہ خدمت سونپی تھی کہ دین اسلام میں اپنے باطل نظریات اور خرافات کے ذریعہ شگاف ڈال کر اہلِ اسلام کو ذہنی اور مذہبی جنگ میں جھونک دیں‘ تاکہ وہ بے فکر ہوکر ہندوستان پر حکومت کے مزے لوٹتے رہیں۔ یہاں یہ وضاحت ضروری ہے کہ سرسید نے بہت سارے مضامین‘ مقالات اور کتب تحریر کی ہیں‘ مگر سب سے ان کا مقصد اپنے غلط نظریے کی ترویج واشاعت ہے۔سرسید نے ایک کتاب ”خلق الانسان“ یعنی انسانی پیدائش سے متعلق لکھی ہے‘ جس میں ڈارون کے اس نظریہ کی تصدیق وتوثیق کی گئی ہے کہ انسان پہلے بندر تھا پھر بتدریج انسان بنا‘ حالانکہ قرآن وسنت کی نصوص سے صراحةً ثابت ہے کہ انسان حضرت آدم علیہ السلام کی اولاد ہے اور آدم علیہ السلام کو مٹی سے پیدا کیا گیا تھا۔ سرسید ان صریح نصوص کا منکر ہے۔
سرسید نے ایک کتاب ”اسباب بغاوت ہند“ کے نام سے لکھی ہے۔ ۱۸۵۷ء میں مسلمانوں نے انگریزوں کے خلاف مسلح جد وجہد کرتے ہوئے علم جہاد بلند کیا تھا‘ سرسید کو اس سے بہت دکھ ہوا کہ انگریزوں کے خلاف مسلمان کیوں اٹھ کھڑے ہوئے‘ اس نے اس جہاد کو بغاوت کا نام دیا‘ اور بغاوت کے اسباب بیان کرکے ”اسباب بغاوت ہند“ نامی کتاب لکھی‘ جس میں مسلمانوں کو انگریز حکومت کے تابع فرمان رہنے کا مشورہ دیا۔ نیز مسلمانوں کو مشورہ دیا کہ تمہاری کامیابی اس میں ہے کہ انگریزی زبان اور علوم سیکھو اور انگریزی تہذیب وتمدن کے رنگ میں رنگ جاؤ تاکہ فرق باقی نہ رہے اور دو ریاں ختم ہوں۔
سرسید کی طرف ایک کتاب ”آثار الصنا دید“ منسوب کی جاتی ہے جو دہلی کے اکابر‘ علماء اور امراء کے حالات اور ان کے مزارات کی نشاندہی پر مشتمل ہے۔ مولانا عبد الحق حقانی تحریر فرماتے ہیں کہ آثار الصنا دید سرسید کی تالیف نہیں ہے‘ بلکہ شاہ جہان آباد کے رہنے والے مرزا بخشی محمود نے ایک کتاب سیر المنازل لکھی تھی جو فارسی زبان میں تھی‘ آثار الصنا دید اسی کا اردو ترجمہ ہے جسے سرسید کی ذاتی تالیف کی شہرت دی گئی ہے۔

جاری ھے
امام روشن خیالیاں۔۲ امام روشن خیالیاں۔۲ Reviewed by یاسر خوامخواہ جاپانی on 5:38 PM Rating: 5

5 تبصرے:

لطف الا سلام کہا...

یہاں تین نکات کا جواب دے دوں۔

1۔ عیسیٰ (ع) بن باپ کے پیدا ہوئے۔ یہ احمدی تفاسیر اور مسیح موعود (ع) کی کتب میں صراحت کے ساتھ موجود ہے۔
سرسید کا خیال اس معاملہ میں درست نہیں تھا۔
2- عیسیٰ (ع) فوت ہو گئے۔ سر سید نے تاریخی اور عقلی اعتبار سے درست بات کی۔ بانی سلسلہ احمدیہ نے ایک عرصہ بعد، وحی الٰہی پا کر عیسی ٰ (ع) کو فوت شدہ قرار دیا اور قرآن و حدیث سے اس کو ثابت بھی کیا۔
لیکن۔۔۔ انگریز کی ہمدردی کا ان دو باتوں سے کوئی جوڑ نہیں بنتا۔ انگریز، عیسیٰ (ع) کی الوہیت کا قائل۔ سر سید نے تو ایک لحاظ سے انگریز کی مخالفت کی۔
3- معراج کا روحانی ہونا بھی ایک اختلافی مسئلہ ہے جو عرصہ سے مسلمانوں میں رہا ہے۔انگریز کے ہونے یا نہ ہونے سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔ جماعت احمدیہ کے نزدیک معراج ایک اعلیٰ درجہ کا روحانی تجربہ تھا۔ایک ذوقی نکتہ اس معاملہ میں مجھے بہت پسند ہے۔ کہ انسان کےآسمان پر جانے سے قرآن انکار کرتا ہے۔ لیکن معراج کی رات عرش زمین پر اتر آیا تھا۔

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

تو یہ بات ثابت ہوئی کہ غلام اے قادیانی اور سر سید خاں کے عقائد اور نظریات ایک ہی تھے؟
یا غلام احمد قادیانی نے سر سید سے تین باتوں میں متفق ہونے کا جھوٹ بولا؟ :D :D :D

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

مرزا صاحب نے فرمایا عیسی کی تین دادیاں اور نانیاں زناکار تھیں(معاذ اللہ)جن کے خون سے آپ کا وجود ظہور پذیر ہوا۔آپ کنجریوں سے عطر لگوایا کرتے تھے۔ایک نوجوان کے لیے شرم کی بات ہے۔ وہ عطر زناکاری کا ہوتا تھا(ضمیمہ انجام آتھم حاشیہ صفحہ7)۔میرا باپ بعض اولوالعزم نبیوں سے بھی آگے نکل گیا(حقیقت نبوت صفحہ257،قادیانیت صفحہ109)۔مرزا صاحب کا شعر سنو۔
ابنِ مریم کے ذکر کو چھوڑو
اس سے بہتر غلام احمد ہے۔۔۔۔(دُرِثمین صفحہ 51)

لطف السلام صاحب یہ سب بھی مرزا اے قادیانی کی کتب میں ہے۔

تو جناب ایسے اخلاق کے شخص کی بات میں کیا سچائی ھے؟ذرا وضاحت فرما دیں۔

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

مرزا اے قادیانی کی وحی کی حقیقت کا
کچھ اس طرح ھے۔ فضولیات لکھنے کے بجائے لطف السلام صاحب سے گذارش ھے۔کہ
اس کی وضاحت کردیں۔
مرزا صاحب پر وحی عربی،فارسی،سنسکرت،انگریزی وغیرہ میں ہوئی۔باقی انبیاء کے پاس تو جبرائیل آیا کرتے تھے مگر مرزا صاحب کے فرشتے ٹیچی ٹیچی خیراتی،مٹھن لال اور کاتب وحی سندر لال تھے(پانچ سوال صفحہ36)۔اس کے علاوہ درشنی، شیر علی بھی مرزا صاحب کے فرشتے تھے(بناسپتی نبی صفحہ6)۔مرزا صاحب پر نازل ہونے والی وحی ان کی کتاب (مجموعہ الہاماتِ مرزا) میں پڑھ سکتے ہیں۔
میں احمدی حضرات سے عرض کروں گا کہ ٹیچی ٹیچی اور مٹھن لال ،درشنی اور خیراتی وغیرہ سے کس طرح کی وحی کی امید کی جا سکتی ہے؟ یہی وجہ ہے کہ مرزا صاحب کو ان فرشتوں نے محمدی بیگم اور مولانا ثناء اللہ امرتسری وغیرہ ایسے معجزوں میں بدنام کروا دیا۔

ارتقاءِ حيات کہا...

ابھی مکمل نہیں پڑھا

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.