شاہ اسمعیل شہیدؒ۔ جہاد۔ ۳

خاندان اور تعلیم و تربیت مختصر


شاہ شہیدؒ کا نام شاہ محمد اسمعیلؒ ھے۔آپ کے والد کا نام شاہ عبد الغنیؒ ھے۔آپ کے دادا کا نام شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ ھے۔آپ کے پردادا کا نام شاہ عبد الرحیمؒ ھے۔آپ کے ایک چچا شاہ عبدالقادرؒ ہیں۔دوسرے چچا شاہ عبد العزیزؒ محدث دہلویؒ ہیں۔تیسرے چچا رفیع الدینؒ ہیں۔


اس اندازہ ہوتا ھے۔کہ شاہ شہید کا خاندان علم  وفضل اخلاق و روحانیت و شریعت  میں اپنی مثال آپ تھا۔


آپ نے آٹھ برس کی عمر میں قرآن مجید حفظ کر لیا۔حفظ کے ساتھ کسی قدر فہم اور ترجمے سے بھی آپ کو واقفیت بہم پہنچائی گئی۔ 


 گیارہ بارہ سال کی عمر میں ہی علم صرف ونحو میں آپ نے خاصا ملکہ پیدا کرلیا تھا۔معقولات کی کتاب :  صدرا : جو انتہائی مشکل کتاب شمار کی جاتی ھے۔ خصوصا اس میں اقلیدس کا پانچواں مقالہ ھے۔ لیکن آپ جیسے ذہین اور طباع کیلئے وہ مشکل ثابت نہ ہوئی۔  سال۱۶ کی عمر میں آپ  معقولات اور منقولات کے فاضل اور فارغ التحصیل ہو گئے تھے۔ ریاضی ، جغرافیہ ، تاریخ ، دینی علوم سے آپ کو خصوصی لگاؤ تھااور یہ ان کے خاص مضا مین تھے۔منطق اور ریاضی وغیرہ علوم عقلیہ سے فارغ ہو کر  آپ نے علم احا دیث کی طرفتوجہ فرمائی۔ اور اپنے چچا شاہ عبدالعزیز محدث دہلویؒ سے علم حدیث میں مہارت حاصل کی۔


مولوی کرامت علی حیدرآبادی آپؒ کے ہم سبق تھے۔ان کا بیان ھے۔کہ ہم لوگوں  نے شاہ عبد العزیزمحدث دہلویؒ سے شکایت کی کہ اسمعیلؒ رات دن تیراندازی ، شہسواری ، اور گولی چلا کر نشانہ بازی سیکھنے میں لگے رہتے ہیں۔


نہ پڑھنے سے پہلے مطالعہ کرتے ہیں اور نہ پڑھنے کے بعد کتاب اٹھا کر دیکھتے ہیں۔ ہماری شکایت پر شاہ صاحبؒ نے امتحان لیا۔تو ہم لوگوں سے اچھے ثابت ہوئے۔ذہانت اور حا فظہ اللہ کی خاص بخششیں ہیں۔جن سے اللہ نے آپ کو خوب خوب نوازا تھا۔


 


مجاہدانہ ورزشیں


دین اور سلطنت کے ضعف سے مسلمانوں میں بھی ضعف روز افزوں ترقی پر تھا۔فنون لطیفہ ، ناچ  رنگ ، گانا بجانا ، وغیرہ اور فنون کثیفہ تیتر اور بٹیر بازی وغیرہ میں انہماک بڑھ رہا تھا۔ حربی اور سپاہیانہ کھیلوں کی طرف سے غفلت میں روز بروز اضافہ ہو رہا تھا۔ اب مسلمانوں میں شہسواری ، نیزہ بازی ، تلوار بازی ، تلوار سے نیبو کاٹنا ، میخیں اکھاڑنا ، گولی چلانا ، شیر کا شکار کھیلنا کم ہوتا جا رہا تھا۔پھر بھی دہلی کے ہر محلے میں اکھاڑے موجود تھے۔جن میں لڑنت ، کشتی رانی ، پٹہ بازی ، اور نبوٹ وغیرہ کی مشق کا سلسلہ جاری تھا۔لیکن شرفأ و خصوصا امرأ اور علمأ ان سے پرہیز کرتے تھے بلکہ اپنی شان کے خلاف سمجھتے تھے۔  شاہ شہیدؒ جب کتابی علم سے فارغ ہوئے اور آپ نے معاشرتی زندگی میں قدم رکھا تو آپ نے سپاہیانہ فنون میں تکمیل بہم پہنچانے کی شدید ضرورت محسوس کی آپ نے مولویانہ طرز معاشرت اور مشیخانہ شان کے مقابلے میں شیر خدا علی کرم اللہ وجہہ ، عمر فاروقؓ ، خالد بن ولیدؓ ، ابو عبیدہؓ ، اور سعد بن وقاص کا جانشین بننا پسند فرمایا۔گھڑ سواری آپ نے میاں رحیم بخش چابک سوار سے سیکھی گھڑ سواری میں اتنے مشاق ہوئے کہ کتنا ہی چلبیلا ، اور منہ زور اور سرکش گھوڑا ہوتا پھر بھی زین اور رکاب کے بغیر سوار ہو جاتے اور دوڑا لیتے۔ پٹہ بازی ، اور نبوٹ ، مرزا رحمت اللہ بیگ سے سیکھی اور جلد ہی ان چیزوں میں کمال پیدا کر لیا۔حویلی اعظم خاں کے اکھاڑے میں کشتی اور لڑنت کا فن سیکھا اور اس میں مشق اور مہارت پیدا کی۔


مغل شہزادے آپ کی ان کوششوں اور دلچسپیوں کو دیکھ کر ہنستے اور حقارت آمیز نگاہیں آپ پر ڈالتے۔ کہ مولوی زادہ سپاہیانہ ورزشیں اور مجاہدانہ مشقیں کر رہا ھے۔۔آپ نے فرمایا میں ان کی اولاد ہوں۔جنہوں نے قیصروکسریً کو زیر کیا اور تم ان کی اولاد ہو جنہوں نےاپنی عیش وعشرت اور رنگ رلیاں کی خاطر ملّت اسلامیہ کا وہ حال کردیا کہ جو آج نظروں کے سامنے ہے۔


جاری ھے

شاہ اسمعیل شہیدؒ۔ جہاد۔ ۳ شاہ اسمعیل شہیدؒ۔ جہاد۔ ۳ Reviewed by یاسر خوامخواہ جاپانی on 10:41 PM Rating: 5

44 تبصرے:

عثمان کہا...

لکی مروت میں بھی آج سترہ روشن خیالیے پھڑک گئے۔ اور اٹھہتر روشن خیالیے زخموں سے کراہ رہے ہیں۔ نیٹو اور امریکہ کو اپنے روشن خیالی اتحادیوں کے مرنے سے مزید نقصان ہوا۔
بے شک امت کو علم و قلم کی نہیں۔۔۔
بلکہ طاقت و تلوار کی ضرورت ہے۔
مجاہدانہ ورزشیں ہی کفار کے دلوں کو دہلائیں گی۔
نعرہ تکبیر۔۔
اللہ اکبر!!
:D

کاشف نصیر کہا...

عثمان میرے خیال سے ہمیں کچھ نادان لوگوں کی وجہ سے جہاد اور معتبر مذہبی شخصیات کا مذاق نہیں بنانا چاہئے. اس روش میں کہیں ایک دن ہم بھی مزاق نہ بنادئے جائیں.

اس میں کوئی شق نہیں کہ اسلام قلم اور علم کی بات کرتا ہے لیکن جہاد و قتال قلم اور علم کے ایک دوسرے کے متضاد نہیں. قرآن کریم میں جابجا جہاد اور قتال فی سبیل اللہ کی بات کی گئی ہے. اور یہ بھی یاد رہکھیں کہ شاید رسولِ اممی نبی آخری ازمان ایک بار نہیں بارہاں تلوار لے کر میدان میں آئے اور جب انتقال ہوا تو گھر میں کھانے کےلئے بھی کچھ نہیں تھا لیکن اسکی دیواروں پر نو بہترین تلواریں لٹک رہی تھیں. کہیں ایسا نہ ہو کہ کوئی بدبخت اس روش کو آگے بڑھاتے ہوئے تمام غزوۃ کو بھی دہشت گردی سے منسلک کرکے مذاق اڑایا کرے.

شاید آپ مجھ سے بہتر جانتے ہوں گے کہ دین میں تدبر ہے مزاق اڑانا اور تمسخر بنانا نہیں، اس لئے پیارے بھائی پلیز شعائر اسلام پر تھوڑی سی مہربانی

کاشف نصیر کہا...

مزاخ

عثمان کہا...

کاشف۔۔۔
یہ آپ نے کسطرح فرض کرلیا کہ میں جہاد فی السبیل اللہ کے خلاف ہوں یا معتبر شخصیات کا مذاق اڑا رہا ہوں؟؟
موجودہ دور کے پاکستان میں معصوم مسلمان شہریوں کے خلاف جگہ جگہ "جہاد" اور رسول اللہ کے جہاد میں کوئی مماثلت ہے؟
کیا تحریک طالبان پاکستان جہاد فی السبیل اللہ جس کا حکم قرآن میں واضح ہے۔۔۔۔اس پر عمل پیرا ہے؟؟
رسول اللہ نے جتنی زندگی جہاد کرتے گذاری اس سے کہیں ذیادہ زندگی علم پھیلانے کے لئے صرف کی۔
رسول اللہ کی شخصیت کا معراج ان کا جلال نہیں بلکہ صبروشکر تھا۔
آج ہمیں کس کی اشد ضرورت ہے؟
تلوار کی یا قلم کی
طاقت کی یا علم کی؟
کس کی ترویج چاہیے؟
صبر کی یا تشدد کی؟

جہالستان سے جاہل اور سنکی ۔ کہا...

بظاہر دوست خواتین و حضرات کو کولیبوریٹیو ٹالکس کرنی چاہئیں نہ کے ڈسکشنز، جو کہ نادان دوستوں کے درمیان ہوا کرتی ہیں ۔

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

عثمان یہ پاکستان میں جسے آپ جہاد کہنے پر بضد ہیں۔یہ جہاد کب سے شروع ہوا تھا؟
کچھ روشنی ڈالئے گا۔
آپ کے کنیڈین فو جی بھی فلاحی کا موں کیلئے افغا نستان گئے ہوئے ہیں۔
وہاں پر مسلمانوں کو پہلے ان سے علم حاصل کر نا چاھئے۔ پھر جان شان بنانی چاھئے؟
مشرف شاہ صاحب کے دور میں پاکستان کی نصاب میں عملی بہتری کیلئے بہت کام ہوا ھے۔
کچھ مخصوص قسم کی تعلیمات چن چن نصاب سے ختم کرنے کی باتیں ہوتی تھیں۔
ختم ہوئیں کہ نہیں مجھے معلوم نہیں ھے۔
شاہ شہید کیا صرف جان شان ہی بنانے والے تھے؟آپ کی نظر میں علم نہیں تھا ان کے پاس؟
ویسے جہاد کے نام سے الرجک لگتےہیں۔ تھوڑا غور کیجیئے گا۔ایک اور اس کے مرید بھی جہاد کےسخت مخالفت کرتے ہیں۔ان کی نظر میں جہاد کی اب ضرورت ہی نہیں ھے۔
ملکہ جی کے وفادار تھے وہ اور ن کے مرید اب بھی وفادار ہیں۔
مجھے آپ کا معلوم ھے۔کہ آپ ان میں سے نہیں ہو۔اس لئے عرض کر رہا ہوں۔
اسلام میں تلوار اور قلم ساتھ ساتھ چلتا رہا ھے۔ بلکہ لازم و ملزوم ھے۔
مدینہ کے ابتدائی ادوار کا تو آپ کو معلوم ہی ہوگا؟

عثمان کہا...

ذرا غور کیجئے۔ میں اوپر تبصروں میں جہاد واوین میں لکھ رہا ہوں۔
یہ "جہاد" حضرت ضیاء الحق رحمتہ اللہ علیہ کے دور میں شروع ہوا تھا۔ سی آئی اے اور مشرق وسطیٰ کے پیسوں سے۔
پاکستان ایک ایٹمی طاقت ہے۔ اور ایک بڑی طاقتور فوج رکھتا ہے۔ دفاع کے معاملے میں ہم ماڑے نہیں ہیں۔ قوم کا ایک بڑا پیسہ فوج اور دفاع وطن کے لئے خرچ ہوتا ہے۔
جبکہ اس کے مقابلے میں تعلیمی لحاظ سے ہمارا شمار دنیا کے پسماندہ ترین ممالک میں ہوتا ہے۔ہم دہائیوں سے بس تلوار کے جہاد کی ہی تیاری کررہے ہیں۔ جبکہ زمانہ معشیت اور تعلیم کے محاذ پر لڑنے کا ہے۔ عرض یہ ہے کہ تلوراریں ہم نے خوب جمع کررکھی ہیں۔ اب علم اور معشیت کے محاذ پر بھی کوئی تیار پکڑیں۔ نہیں تو عصر میں صرف تلواریں کوئی کام نہ دیں گی۔
شاہ شہید کی وجہ شہرت شہادت اور جہاد تھی۔ علم نہیں۔ اپنی پوسٹ کا ٹائٹل بھی خود پڑھ لیں کہ آپ کے لاشعور کی ترجیح کیا ہے۔
مدینہ کے دور سے پہلے مکہ کا دور تھا۔ جب مسلمان کفار کے مقابلے میں کافی کمزور تھے۔ اور رسول اللہ ﷺ کی تلقین صبر و شکر تھی۔

کاشف نصیر کہا...

یارعثمان آپ نے یاسر کے مضمون پر ایک تنزیہ تبصرہ کہا،
کیا آپ بتائیں گے یاسر نے تحریک طالبان پاکستان اور حکیم اللہ پر پوسٹ لکھی یا شاہ اسماعیل شہید اور تحریک اسلام پر؟

اگر تو یاسر نے تحریک طالبان پاکستان کی تعریف کی ہوتی یا انکا ذکر کیا ہوتا تو آپکے تبصرے کا کوئی پس منظر سمجھ میں آتا، انہوں نے سیدھا سادھا شاہ اسماعیل شہید کی بات کی اور آپ نے اسے تحریک طالبان پاکستان اور مبینہ دہشت گردوں کے ساتھ جوڑ دیا.

میرا تبصرہ بھی اسی تناظر میں تھا.

عثمان کہا...

کاشف۔۔۔
بین السطور بھی کچھ دیکھنا چاہیے۔
مجھے اچھی طرح معلوم ہے کہ یہ تحریر کس پس منظر میں لکھی جارہی ہے۔ میں نے جواب دیتے وقت بھی اسی پس منظر اور سوچ کو مدنظر رکھا ہے۔
کیا میں غلط ہوں اگر میں یہ کہوں کہ اس بلاگستان میں کچھ حضرات تحریک طالبان پاکستان سے ہمدردی رکھتے ہیں؟ اور بلا شش و پنج تحریک طالبان پاکستان کی مذمت اور ملامت کرنے سے کتراتے ہیں؟

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

یہ کیسی ایٹمی طاقت ھے۔ کیسے تگڑے حکمران ہیں۔کہ ایک فون پراس دو ر کے اعلی تعلیم یافتہ جدید مسلمان اور دعوی نسبت رسول کر نے والے نےہاتھ باند ھ کر سر قد موں میں رکھ دیا۔
اپنے ہی ملک میں پھٹنے کو جہاد کہنا حضرت مردار کی جدیدیت سے شروع ہوا جب اس نے حمیت غیرت سب کچھ اپنے آقاوں کے قدموں تلے رکھ دی۔ پتھر کے دور میں جینے کے ڈر سے۔اب ہیرے کے دور میں جی رہا ھے۔اور ہم پتھر کے دور میں ہی ہیں۔
شوق شہادت ہوتا تو یہ بے غیرتی کا جینا تو نہ ہوتا۔
گیدڑ کی سو سالہ زندگی سے شیر کا ایک دن بہتر کہہ کر امر ہونے والا اسی ہیرےکی دنیا میں
جگمگا رہا ھے۔جس میں یہ بے شرمی سے جی رہا ھے۔
اس سے یہ مطلب مت لیجیئے گا۔کہ ہم پاکستان میں ہمارے جسم کو نعرہ تکبیر کہہ اڑا نے والوں کے حامی ہیں۔ایسے خبیث کوئی بھی ہوں۔ہم ان کے سخت مخالف ہیں۔

ہم تعلیم کے مخالف نہیں ہیں۔تعلیم لازمی ھے۔آپ نے پوسٹ شروع سے پڑھی ہو تو سمجھ جائیں گے کہ تعلیمی نظام نہ ہونا ہی زوال کا سبب لکھا گیا۔اور یہ سب مسائل اعلی تعلیم کو ایک مخصوص طبقے تک محدود کر دینے کی وجہ سے ہے۔ باقی بے چاروں کو روٹی اور پیٹ تک محدود کر دیا گیا۔جو اعلی تعلیم یا فتہ ہو جاتا ھے وہ بے چارہ بھی اگر کوئی اثرو رسوخ نہ رکھتا ہو تو جوتیاں چٹخا رہا ہوتا ھے۔کیا آپ نے انجینئرو ڈاکٹر خوار ہوتے نہیں دیکھے؟
دنیا کی جدید معشیت کیا ھے۔آپ بھی میرے خیال میں جانتے ہوں گے۔میرا بھی یہ حال ھے کہ روزانہ سی این بی سی کے سامنے الو بنا بیٹھا ہوتا ہوں۔ان کی آنیاں جانیاں غور سے نہ دیکھوں توگیا کام سے :lol:
مکہ کے دور کے نہایت کمزور مسلمانوں نے کس بات کی خوشی میں با آواز بلند نعرہ تکبیر بلند کیا تھا؟

کاشف نصیر کہا...

میں نہیں سمجھتا کہ آج کل کے دور میں یا کسی بھی دور میں صرف قلم سے ہم غلبہ دین ممکن ہے، قتال فی سبیل سے گریز اور قلم سے جہاد مرزا صاحب کی اصطلاح ہے جس کو آہستہ آہستہ بدقسمتی سے ہم مسلمان بھی اپناتے جارہے ہیں.

فلسطین کا نوجوان اسرائیل کے ٹینکوں کو اپنی کتابوں سے نہیں روک سکتا اسے تو میزائیل چاہئے. افغانستان میں امریکی بمباری کو بھی قلم اور کتاب سے نہیں بلکہ بھرپور مضاہمت سے ہی روکا جاسکتا ہے. مسلمانوں کی قلم نے کیا چنگیز خان اور ہلاکو خان کو روک لیا تھا.

میں قلم اور تلواز کو ہرگز پرگز ایک دوسرے کا متضاد نہیں سمجھتا میرے نزدیک کو بہترین عالم کو ہی بہترین مجاہد بھی ہونا چاہئے. اب اس کا یہ مطلب نہیں ہے جہاد کے نام پر ہم دہشت گردی کی حمایت کریں گے، جو غلط ہے وہ غلط ہے لیکن جو صحیح ہے اسے مٹھی بھر غلط لوگوں کی وجہ سے ختم نہیں جاسکتا.

حضرت علی رضی اللہ کی شخصیت کی مثال ہمارے سامنے ہے، انکے بارے میں آپ صلی اللہ و علیہ وسلم نے کہا کہ میں علم کا شہر اور علی اسکا دروازہ ہیں. حضرت علی کے اقوالات علم و حکمت سے بھرے پڑے ہیں. انہیں صحابہ میں سب سے زیادہ عالم فاضل بھی مانا جاتا ہے.لیکن وہی علی میدان جنگ میں اسد اللہ تھے.

میں سمجھتا ہوں کہ عالمی سامراج کے مقابلے لئے بہرحال جہاد فی سبیل اللہ ناگزیر ہے. قلم کی ضرورت اشاعت اسلام کے لئے ہے غلبہ اسلام صرف اور صرف مومنین کی جواں مردی سے مشروط ہے

عثمان کہا...

میں یہ بات واضح کردوں کہ میں نہ تو مسٹر پرویز مشرف کا فین ہوں نہ میں اس کے نام نہاد نعرہ "روشن خیالی" کا معترف ہوں۔ میں دنیا کے تمام آمروں پر لعنت بھیجتا ہوں۔
آپ نے سوال کیا ہے تو میرا جوب یہ ہے کہ میں اس حکمت پر یقین رکھتا ہوں کہ جیسی قوم ہو۔ اللہ تعالیٰ ویسے ہی حکمران ان پر نافذ کردیتا ہے۔
غور کریں۔۔۔بڑی پیاری بات کی ہے۔۔میں نے! :lol:

عثمان کہا...

ایک بار پھر واضح کردوں کہ میں جہاد فی سبیل اللہ جس کی حکمت قرآن میں ہے۔۔۔۔کا منکر ہرگز نہیں۔
تاہم میں آپ حضرات کی تاویلات کا بھی قائل نہیں۔
معشیت اور علم کی فوقیت میرے نزدیک تلوار سے کہیں ذیادہ ہے۔ معشیت اور علم میں اگر آپ صفر ہوں تو جتنی مرضی تلواریں اکھٹی کرلیں۔ آپ کہیں نہیں پہنچ سکتے۔
عصر حاضر کی حقیقتیں اور معروضی حالات سامنے رکھیں تو نتائج پر پہنچنا کسی صاحب شعور کے لئے مشکل نہیں۔
اپنی باتوں کی وضاحت میں سابقہ مراسلات میں کرچکا ہوں۔ تکرار کا شوق نہیں رکھتا۔ :D

جعفر کہا...

پوسٹ پر تبصرے پڑھنے کے بعد میرا تاثر یہ ہے کہ آئندہ کسی نے آئن سٹائن کی سائنسی خدمات پر پوسٹ لکھی تو میں یہودیوں کی مان بہن ایک کروں گا کہ انہوں نے فلسطینیوں پر اتنے مظالم کیوں کئے۔

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

ہاہاہا :lol: :lol:
جعفر جی سے اتفاق ھے۔
ہم بھی آپ کے ساتھ ہیں۔آئیندہ سے اب ایسا ہی کریں گے، :mrgreen:

عثمان کہا...

جعفر ، یاسر۔۔۔۔
اور میرا جواب یہ ہوگا کہ اگر مسلمان ایک بھی آئن سٹائن پیدا کرنے کی سکت رکھتے تو اس حالت رسوائی کو نہ پہنچتے۔ :lol:

کاشف نصیر کہا...

عثمان جی اتنے شرمندہ شرمندہ نہ رہا کرو، ہم نے ایک نہیں ہزاراں آئنس ٹائن پیدا کئے ہیں. تعلیم ہمارا مسئلہ ہے لیکن اصل مسئلہ بے ایمانی اور خد غرضی ہے جو پڑھے لکھے طبقے میں بھی اتنی ہی ہے جتنی جہلا میں.

عثمان کہا...

کاشف۔۔۔
بات عصر حاضر کی ہورہی ہے۔ پانچ سو برس پہلے کے زمانہ کی نہیں۔
بے شک بے ایمانی اور خود غرضی بھی ایک بہت بڑا مسئلہ ہے۔ اور یہ پوری قوم میں رچی بسی ہے۔ میں نے انکار کب کیا؟

کاشف نصیر کہا...

ہم نے چاچا غالب پیدا کیا تھا
: :lol: :lol: :lol: :lol: :lol: :lol: :lol: :lol:

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

تو پھر عصر حا ضر میں مسلمانوں کی بہتری کیلئے ہمیں کیا کرنا چاھئے؟
کیااچھےتعلیمی نظام کی ضرورت ھے؟
یا پھر شرمندگی سے بچنے کیلئے مسلمانی کو چھوڑ دینا چاھئے؟

کاشف نصیر کہا...

یاسر جی مسلمانی چھوڑنے کی بات کو کسی نے کہی.
البتہ تعلیم ضروری ہے بہت ضروری.
الہامی تعلیم بھی اور ماددی تعلیم بھی....

لیکن اسکے زیادہ ایمان کی محنت ہونی چاہئے یہاں سب سے بڑا مسئلہ بے ایمانی اور خود غرضی ہے.

افتخار اجمل بھوپال کہا...

عثمان صاحب
آپ ذہين ۔ باعلم اور تجربہ کار آدمی ہيں ۔ ذرا اس پر بھی غور کيجئے کہ ان اللہ کو ماننے والوں نے پچھلی چھ صديوں ميں کوئی اعلٰی سائنسدان کيوں پيدا نہيں کيا ؟
مجھ دو جماعت پاس بے تجربہ کے مطابق اس کی وجہ يہ ہے کہ يہ نام نہاد مسلمان اللہ کو مانتے ہيں مگر اللہ کی کوئی نہيں مانتے

کاشف نصیر کہا...

بی بی سی کی یہ خبر بھی پڑھ لیں ذرا
http://www.bbc.co.uk/urdu/world/2010/09/100908_church_defiant.shtml

عثمان کہا...

یاسر۔۔۔
یہ "مسلمانی چھوڑنے" والا فقرہ آپ پہلے بھی کس چکے ہیں۔ مجھے نہیں معلوم کہ مسلمانی چھوڑنے کا کون کہہ رہا ہے یا آپ کا یہ جملہ کہنے کا کیا مقصد ہے؟ اگر آپ سمجھتے ہیں کہ میں اسطرح گفتگو میں آؤٹ آف فوکس ہوجاؤں گا تو یہ آپ کی خوش فہمی ہے۔

محترم افتخار اجمل بھوپال صاحب۔۔۔
آپ کا فرمانا بجا ہے۔ مسلمان خدا پرستی کو چھوڑ کر مذہب پرستی کے پیچھے پڑ گئے ہیں۔ جسطرح ایک قبر پرست کو اندازہ نہیں ہو پاتا کہ وہ قبر کو پوج رہا ہے یا خدا کو۔ اسطرح مذہب پرست کو بھی اندازہ نہیں ہوپاتا کہ آیا وہ خدا کی پرستش کرتا ہے یا مذہب کی۔

کاشف۔۔۔
میں سمجھ نہیں سکا کہ آپ کا یہ لنک دینے کا مقصد کیا ہے؟ اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ میں ہر جائزیا ناجائز معاملے میں امریکہ، مغرب یا کسی کا بھی وکیل ہو تو یہ آپ کی غلط فہمی ہے۔
جو لنک آپ نے دیا ہے اس میں ذکر کئے گئے شر پسند اشخاص ہر قوم میں پائے جاتے ہیں۔ امریکہ میں بھی ایسے بدبخت اچھی خاصی تعداد میں ہے۔ جو نہ تو حضرت عیسیٰ کی تعلمیات پر عمل پیرا ہیں۔ نہ ان اخلاقیات پر جن کا وہ پرچار کرتے ہیں۔ وہ صرف اور صرف اپنی نفرت کی پرستش کرتے ہیں۔
لیکن امریکہ صرف اسی قسم کے لوگوں سے ہی نہیں بھر پڑا بلکہ اصاحب دانش بھی وہاں موجود ہیں۔ جس واقعے کی نشاندہی آپ نے کی ہے اس کی مذمت و مخالفت امریکہ میں بھی شدومد سے کی جاری ہے۔ تاہم یہ الگ بات ہے کہ وہ اپنے قوانین سے مجبور ہوکر کسی بھی ایسے شخص کے خلاف کاروائی نہیں کرسکتے جو کسی بھی مذہب کی توہین کرنے کی ناکام کوشش کرے۔
قرآن کا تو خیر کوئی کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔ تاہم اگر ہم بحثیت ایک قوم مظبوط ہو جائیں تو ہمیں ان خبروں سے گھبرانے کی کوئی ضرورت نہیں۔
یہ مراسلہ لکھنے کا مقصد آپ کو تشفی دینا تھا۔ امید ہے کہ آپ یہ شکایت نہیں کریں گے کہ بحث کسی اور طرف نکل گئی کہ آپ ہی نے یہ لنک میری طرف پھینکا ہے۔

اقبال کہا...

یار یہ بندا سب سے سچا ھے ،،،

http://www.youtube.com/watch?v=8L3Dsw7iTJs

اقبال کہا...

:roll: :roll: :roll:

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

عثمان اب کوئی اور طریقہ سوچنا پڑے گا۔پھسنا چھوڑ دیا لوگوں نے :D :D

محب علوی کہا...

یاسر بڑی عظیم شخصیت پر لکھنا شروع کیا ہے آپ نے اور امید ہے اس پر مزید بھی لکھتے رہیں گے۔

شاہ صاحب کی شخصیت علم و سپاہ دونوں میں کمال رکھتی تھی اور برصغیر کے مسلمانوں کے جذبہ حریت کی آخری مثالوں میں سے تھے

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

جناب جاوید گوندل صاحب
خوبصورتی سے وضاحت کرنے کا نہایت مشکور ہوں۔کہ میرے پاس اپنے جذبات کا اظہار کرنے کیلئے ایسے الفاظ نہیں تھے۔
شکریہ

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

علوی صاحب حوصلہ افزائی کا شکریہ۔

منیر عباسی کہا...

میں بحث برائے بحث قطعا نہیں کرنا چاہتا ، مگر عثمان کے اس تبصرے کی آخری سطور نے کہ :

کاشف۔۔۔
بین السطور بھی کچھ دیکھنا چاہیے۔
مجھے اچھی طرح معلوم ہے کہ یہ تحریر کس پس منظر میں لکھی جارہی ہے۔ میں نے جواب دیتے وقت بھی اسی پس منظر اور سوچ کو مدنظر رکھا ہے۔
کیا میں غلط ہوں اگر میں یہ کہوں کہ اس بلاگستان میں کچھ حضرات تحریک طالبان پاکستان سے ہمدردی رکھتے ہیں؟ اور بلا شش و پنج تحریک طالبان پاکستان کی مذمت اور ملامت کرنے سے کتراتے ہیں؟

یہ کہنے پر مجبور کر دیا ہے کہ کیا تحریک طالبان پاکستان کی مذمت کوئی ایسی لازمی چیز ہے کہ اگر کسی نے نہ کی تو وہ آپ کے مخالف کیمپ کا آدمی تصور کیا جائے گا؟

آپ کا یہ رویہ ان تکفیری علما سے بہت ملتا ہے جنھوں نے دیوبندی -بریلوی مکاتب فکر کی کشمکش کے ابتدائی دنون میں ایک دوسرے کے خلاف تکفیری فتاویٰ جاری کئے تھے. اور کچھ فتاوی تو بہت کٹیلے تھے. عثمان نے ہی لکی مروت میں سترہ روشن خیالوں کے مرنے کی بات کی. واہ جی واہ. سلام کرتا ہوں آپ کی مینڈکی والی سوچ کو.

ذرا یہ خبر پڑھ کر اپنے خیالات سے مطلع فرمائیے کہ ان کی مذمت کرنے والے طالبان میں شمار ہوں گے یا روشن خیالوں میں؟

http://www.bbc.co.uk/news/world-us-canada-11223457

عثمان کہا...

منیر عباسی۔۔۔
جو لنک آپ نے میری طرف پھینکا ہے۔ یہی کام اوپر کاشف نے بھی اپنے ایک تبصرے میں کیا ہے۔ اس کی ملامت میں اوپر ایک تبصرے میں کرچکا ہوں۔ پڑھ لیجئے۔
میں نے اوپر اپنے تین تبصروں میں بار بار وضاحتیں کی ہیں کہ میں کوئی جہاد کا منکر نہیں۔ نہ ہی معتبر شخصیات کا تمسخر اڑا رہا ہوں۔ اور نہ میں پرویز مشرف کا فین ہوں۔ کیا میں وضاحت کروں کہ میں نے کن کی مینڈکی والی سوچ کو ٹھنڈا کرنے کے لئے یہ وضاحتیں کیں باوجود اس کے کہ کسی بحثیت مسلمان مجھے اپنی مسلمانی کی ایسی وضاحتیں دینے کی ضرورت نہیں؟
تحریک طالبان پاکستان ایک دہشت گرد تنظیم ہے۔ جس کے ہاتھوں میں سینکڑوں بلکہ شائد ہزاروں پاکستانیوں کا خون ہے۔ اس تنظیم سے ہمدردی رکھنے یا اس تنظیم کے بارے میں نیوٹرل رائے رکھنے والا بندہ مشکوک بندہ ہے۔
اس بلاگستان میں کئی حضرات ایسے ہیں کہ ہزاروں میل دور دو مینڈک لڑ کر زخمی ہوجائیں تو وہ واویلا شروع کردیں گے۔
لیکن اگر تحریک طالبان پاکستان درجنوں پاکستانیوں کو قتل کردے تو ان کے پاس مذمت وملامت کے لئے کچھ نہیں ہوتا۔ بس ان کے خاموش بلاگ ہوتےہیں۔
کیا سمجھے۔۔۔ڈاکٹر صاحب!!

عثمان کہا...

جاوید گوندل صاحب کے تبصرے سے اگر جذباتی واعظ الگ کیا جائے تو میں صرف اتنا کہوں گا کہ بھلے پیسہ اور سپورٹ کسی بیرون ملک خفیہ ایجنسی سے مل رہی ہو۔ لیکن قتل غارت کرنے والے پاکستانی ہی ہیں۔ غیر ملکی نہیں۔ اغیار تو سازشیں کرتے ہی ہیں۔لیکن اگر کوئی آپ کو لاکھ روپیہ دے کر کہے کہ جائیے جا کر اپنے گھر کو آگ لگا دیں۔ تو مجھے بتائیے کہ قصور کس کا ہے؟

کاشف نصیر کہا...

جہاں تک تحریک طالبان پاکستان کا تعلق ہے تو اس کے قیام کو کم و بیش تین برس گزر چکے ہیں. لیکن اب تک یہ ایک ایسی تنظیم ہے جسکے بارے میں مستند معلومات کا شدید فقدان ہے.

حال یہ ہے کہ حکومت کے نزدیک یہ ایک دہشت گرد جماعت ہے جو پاکستان میں ہونے والی اکثر دہشت گردی کی واقعات میں ملوث ہے اور افواج پاکستان کے سرکردہ لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ لوگ ہندوستان اور امریکہ کے ایجنٹ ہیں اور ان دونوں کی ہاں میں ہاں ملانے والی تیسری قوت میڈیا ہے۔ کیا ان تینوں کی گواہی کو قوی مانا جاسکتا اور اسکی بنیاد پر کوئی حکم لگایا جاسکتا ہے۔

حکومت، فوج اور میڈیا تینوں کا حال یہ ہے کہ اس کے پاس صرف الزامات ہیں۔ کسی ایک بھی دہشت گردی کے واقعے کی تحقیق کرکے مجرمان کی نشاندہی نہیں کی گئی۔ پھر معاملہ یہ بھی ہے پاکستان یا دنیا کی کسی بھی عدالت میں تحریک طالبان یا اس کے کسی بھی رہنما کو مجرم ثابت نہیں کیا گیا۔ مولوی عمر جو کچھ عرصے پہلے پکڑے گئے تھے کو بھی غائب کردیا گیا اور انہیں کسی عدالت میں پیش نہیں کیا گیا۔ تو ہم یہی کہیں گے دنیا اور شریعت دونوں قوانین کے تحط تحریک طالبان پر الزامات تو ہیں لیکن کوئی الزام کسی عدالت میں اب تک ثابت نہیں کیا گیا۔ اس لئے انہیں دہشت گرد کہنا انصاف کے اصولوں کے مطابق نہیں۔

ایک جماعت پر حکم لگانے کے لئے ضروری ہے کہ دونوں طرف کی رائے موجود ہو لیکن چونکہ اس تنظیم کا کوئی ایک شخص بھی منظر عام پر نہیں جو اپنی کیس کو پیش کرسکے اس لئے صرف میڈیا اور حکومتی پراپیگنڈے کی بنیاد پر دہشت گردی اور انسان دشمنی کا حکم لگانا نہ شرعا درست نہ قانونا"

جہاں تک فوج سے لڑائی کا تعلق ہے تو اسکی تو یہ دلیل ہوسکتی ہے کہ دونوں قوتوں کے درمیان جنگ ہے لیکن دونوں طرفین میں سے کسی کو بھی یہ حق نہیں انکی کاروائیوں سے نہتے لوگوں نشانہ بنیں۔ سوات، لال مسجد اور قبائلی علاقے میں فوجی آپریشن میں بڑی تعداد میں نہتے لوگ مارے گئے اسکی مذمت کون کرے گا۔ اور جہاں تک تحریک طالبان کی طرف سے نہتے پر حملے کا الزام ہے تو اگر وہ ایسا کررہے ہیں تو ہم انکی مذمت کرتے ہیں اور ان سے اعلان براءت کا اظہار کرتے ہیں لیکن اگر یہ سب کچھ صرف الزامات ہی ہیں تو ہم انہیں مظلوم سمجھتے ہیں۔ البتہ ہمیں انکے طریقہ کار پر ضرور برقرار رہے گا۔

آخری بات یہ کہ جو واحد ثبوت تحریک طالبان کے خلاف ملتا ہے وہ دراصل وہ آڈیو ٹیپ اور ایمیل ہیں جن میں تنظیم کے مبینہ ترجان اکثر دہشت گرد حملوں کی ذمہ داری قبول کرتے نظر آتے ہیں۔ لیکن بہرحال آج کے جدید دور میں جعلی ایمیل اور آڈیو ٹیپ بنانا کون سا مشکل کام ہے

ہم کیوں کہ جید علمائے کرام کو زیادہ فوقیت دیتے ہیں اس لئے ہم درج بالا صورتحال میں انکی اس رائے سے متفق ہیں ہمیں تحریک طالبان حسن زن اور ہر طرح کی دہشت گردی سے شدید نفرت ہونا چاہئے۔

کاشف نصیر کہا...

فقدان : کمی

کاشف نصیر کہا...

البتہ ہمیں انکے طریقہ کار ضرور اختلاف برقرار رہے گا۔

عثمان کہا...

یار کاشف۔۔۔
میرے دوست۔۔۔
آپ نے جو موقف اختیار کیا ہے وہ اتنا غریب ہے کہ میرے پاس اس کے سوا اور کوئی چارہ نہیں کہ میں اناللہ پڑھ کر پیچھے ہٹ جاؤں ورنہ میرا نفسیاتی مریض بننے کا خدشہ ہے۔ میں حیران ہوں کہ اگر کراچی یونیورسٹی میں پڑھنے والے ایک پڑھے لکھے طالب علم کی سوچ اتنی غریب ہوسکتی ہے تو پاکستان کے ایک عام شہری کی نفسیات کس نہج پر ہوگی؟
مجھے تحریک طالبان پاکستان کے گناہ اور ثبوت گنوانے کی ضرورت نہیں۔ سو افراد کے قاتل کے خلاف اگر سورج اور چاند بھی بطور گواہ اور ثبوت پیش کردیے جائیے تو آپ محض اس بات پر قاتل سے ہمدردی رکھیں گے کہ وہ " اسلامی " ہے۔ امریکہ کا نام اگر " اسلامی جمہوریہ امریکہ " ہوتا تو آپ اس کے گناہ بھی بخش دیتے کہ آخر اس نے تحریک طالبان پاکستان سے کم پاکستانی مارے ہیں۔
مجھے اطمینان ہے کہ میں نے اس تحریر کے شروع میں جو طنزیہ تبصرہ کیا تھا وہ رائیگاں نہیں گیا کہ وہ آپ حضرات کے شعور یا لاشعور کے بخوبی ترجمانی کرتا ہے۔

منیر عباسی کہا...

عثمان میں تو آپ کی ذہنیت پر حیران ہوں کہ آپ کے پچھواڑے میں اگر کوئی نفرت پر مبنی کام ہو رہا ہے تو آپ یہ کہہ کر جان چھڑا لیتے ہیں کہ یہ چند اشخاص کی کارروائی ہے اور یہ کہ باقی لوگ بھی اس کی مذمت کر رہے ہیں. بس. آپ اس کے سوا اور کچھ نہیں کہتے. مگر جب کہیں پر بھی اسلام یا مسلمانون کی بات آتی ہے تو آپ یہ سوچنے کا تردد کئے بغیر کہ یہ بھی تو چند گمراہ اشخاص کی کارروائی ہو سکتی ہے، لٹھ لے کر مسلمانوں کے پیچھے پڑ جاتے ہیں. آپ کے اس انتہاپسندانہ طرزعمل کا ردعمل انتہاپسندانہ ہی ہوگا. جیسا آپ بوئیں گے ویسا ہی کاٹیں گے.

اب شاہ اسماعیل شہید اورتحریک طالبان کا آپس میں کیا رشتہ ہے؟ آپ دونوں کو آپس میں ملا کر، طنزیہ لہجے میں ان کا ذکر کر کے کیا ثابت کرنا چاہتے ہیں؟ یہ تو آپ کو ہی علم ہوگا. مگر افسوس کی بات تو یہ ہے کہ "متمدن ،مہذب مغربی معاشرے " میں رہنے کے باوجود جس مہذب ردعمل کی توقع آپ سے کرنی چاہئے وہ آپ دکھا نہیں پا رہے.

اندر سے آپ ہیں ہی انتہا پسند، اور آپ کسی بھی صورت اپنے مخالفین کو نیچا دکھانے کا کوئی بھی موقع جانے نہیں دیں گے. یہ میرا تاثر ہے جو آپ کے بارے میں قائم ہوا ہے، بلاگستان کے مامے اور پھپھڑ صاحب!!!!

کاشف نصیر کہا...

عثمان یار
میں نے تحریک طالبان ہر کوئی حکم نہیں لگایا
میری بات کا خلاصہ یہ تھا کہ مجھے نہیں پتہ کہ تحریک طالبان پاکستان والے دہشت گرد ہیں یا نہیں ہیں. اگر پاکستان کی کسی بھی عدالت میں انکے خلاف دہشت گردی کا کوئی ایک الزام بھی ثابت یوگیا تو میں بھی مان لوں گا کہ یہ جماعت دہشت گرد ہے. لیکن فلحال میرا معاملہ نہ انکے حامی کا نہ مخالف کا.
اور دوسری بات کہ مجھے تحریک طالبان سے حسن ذن ہے تحریک طالبان پاکستان جو ایک نامعلوم اور مشکوک تنظیم ہے سے نہیں.

عثمان کہا...

منیر عباسی صاحب۔۔۔
آپ کی جذباتی تقریر کے جواب میں میں صرف اتنا کہوں گا کہ انگریزی بلاگستان میں مغرب کے مختلف رویوں پر تنقید کرنے کی وجہ سے بعض افراد مجھے قدامت پسند کے طور پر جانتے ہیں۔
جس واقعے کا ذکر آپ زور شور کررہے ہیں۔ اس قسم کی باتوں پر میرا موقف " تنازع فیس بک " نامی میری ایک تحریر میں پڑھ لیجئے جو میرے بلاگ کی پہلی تحریر تھی۔ اگر مناسب سمجھا تو اپنے موقف کی وضاحت مستقبل میں بھی کرکے آپ کی تشفی کردوں گا۔

عثمان کہا...

کاشف۔۔۔
جو لوگ مسلمان ممالک میں جدوجہد آزادی لڑ رہے ہیں۔ ان کے موقف کا میں قائل ہوں۔
لیکن پاکستان میں معصوم شہریوں کو نشانہ بنانے والوں سے کوئی ہمدردی نہیں۔

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

عثمان
سیانے کہتے ہیں۔
خربوزہ خربوزے کو دیکھ کر رنگ پکڑتا ھے۔
ہم میں سے کسی نے بھی معصوم شہریوں کو نشانہ بنانے والوں سے ہمدردی نہیں کی۔
آپ خوامخواہ میں سینگ کیوں پھنساتے ہوئے۔

بارہ سنگھا کہا...

کاشف صاحب نے بہت ہی اعلیٰ طریقے سے مقدمہ پیش کیا اور برحق بھی مگر ایک کم نصیب نے اصلیت چھپا کر سب کو نیچے لگا رکھا ہے کہ دوسرے تبصرے میں کاشف بھی معزرت کرتے نظر آتے ہیں
گوندل صاحب کے تبصرے کا کاشف کے بڑے تبصرے سے ملا کر پڑھنے سے بات پوری ہوتی ہے

یہودیوں کے پروٹوکولز یاسر صاحب آپ پڑھ لیں تو وارداتوں کے سمجھنے میں آسانی رہے گی اگر نہ ہوں تو لنک مانگ سکتے ہیں

ارتقاءِ حيات کہا...

مطالعہ جاری ہے

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.