شاہ اسمعیل شہیدؒ ۔جہاد۔ ۱

۱۷۷۸ عیسوی تا ۱۸۳۱ عیسوی شاہ اسمعیل شہید رحمتہ اللہ علیہ شاہ شہید اور سید شہید نے جس زمانے میں اصلاح ملت اور تجدید دین کا بیڑا اٹھایا اور جہاد کا علم بلند کیا اس کا پس منظر جب تک نگاہوں کے سامنے نہ ہو آپ کے کارناموں کا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور آپ کی عظیم تحریک کی عظمت کا صیحیح اندازہ نہیں کیا جاسکتا۔


 اورنگزیب عالمگیرؒ کا انتقال؁۱۷۰۷ میں ہوا۔آپ کی وفات سے اسلامیان ہند کا سیاسی زوال شروع ہو گیا۔ عالمگیر جیسے عظیم حکمراں کی اولاد حکمرانی کی صلاحیتوں سے قطعاً محروم تھی۔سلاطین انتہائی نااہل اور نالائق تھے۔تو حکام ان سے پیچھے کیوں رہتے۔وہ باہمی رقابت اور آویزش کا شکار ہو گئے۔نتیجہ یہ ہوا کہ مرکزی حکومت کی گرفت ڈھیلی پڑ گئی۔امرأ کاہل اور عمال ظالم ہوگئے۔راجپوتوں،جاٹوں،مرہٹوں اور سکھوں نے بغاوت کا جھنڈا بلند کیا۔


اس صورتحال سے صوبے دار کیوں نہ فائدہ اٹھا تے۔دکن،گجرات،بنگال،ملتان،اودھ اورمالودہ سب خود مختار بن بیٹھے۔نادر شاہ درانی آیا،آسمانی کوڑا بن کر برسا،خون کی ندی نالے بہائے،مگر مسلمانوں کو پھر بھی ہوش نہ آیا۔محمد شاہ نے پہلے سے زیادہ رنگ رلیاں منائیں۔پانی پت کی تیسری لڑائی ؁۱۷۲۱ھ نے اگر چہ مرہٹہ حکومت کا خواب ہمیشہ کے لئے پریشان کردیا۔لیکن دوسری طرف یہ بھی ایک حقیقت ہے۔کہ مرکزی حکومت کا بھی گویا دیوالیہ نکل گیا۔سورج مل جاٹ نے دن دیہاڑے اکبر آباد کو لوٹا اور تباہ کیا۔سب جاچکا تھا۔


حکومت شاہ عالم از دہلی ناپالم کا منظر سامنے تھا


۔پھر بھی بادشاہ سلامت کی ظاہری آنکھیں باقی تھیں۔غلام قادر روہیلا نے سوچا جب ان سے کام نہیں لیا جاتا تو ان کو باقی رہنے کا بھی حق نہیں ھے۔چنانچہ اس نے شاہ عالم کی آنکھیں نکال لیں۔؁۱۷۵۷ٔمیں میر جعفر کی نمک حلالی کی بدولت بادشاہ کو بھی دہلی چھوڑ کر انگریزوں کے سایہ عاطفت میں رہنے کیلئے الہ آباد جانا پڑا۔ ؁۱۷۹۹ء میں وقت کے ایک مجاہد نے اسلام ،ملت اسلام اور وطن المسلمین کی آزادی، سر بلندی اور غلبہ و تسلط کے لئے آخری کوشش کی مگر میر جعفر کی روح ، میر صادق نے پھر نمک حلالی کا ثبوت دیا۔ٹیپو سلطان نے شہادت کا جام نوش کیا اور انگریزوں کے قدم ؁۱۹۴۷ء تک کے لئے جم گئے۔


عارف سیالکوٹی نے سچ کہا ھے۔


جعفر از بنگال و صادق از دکن


 ننگ دنیا،ننگ دیں، ننگ وطن


 ؁۱۸۰۳ء میں لارڈ لیک نے دہلی فتح کر کے مسلمانوں کی سیاسی بالاتری کا خاتمہ کر دیا۔یہ تھا اٹھارویں صدی میں اسلامیان ہند کی سیاسی حالت کا اجمالی خاکہ،مذہبی حالت بھی دگرگوں تھی۔ہندوستان میں اسلام یاتو اپنی ذاتی کشش اور فطری جاذبیت کی بنا پر پھیلا، مسلم تاجروں کی بدولت پھیلا، یا صوفیائے کرام کی روحانیت اس کا ذریعہ بنی۔بعض مسلمانوں کی انفرادی کو ششوں سے بھی اس نے فروغ پایا۔ لیکن غلاموں ، خلجیوں ، تغلقوں ، سیدوں ، لودھیوں ، ترکوں ، اور مغلوں کی حکومت نے اسلام کی اشاعت کے لئے دانستہ کوئی کوشش نہیں کی۔


اگر جائز تبلیغی کوششیں کی گئی ہوتیں تو صدیوں کی مدت میں اس کا یہ نتیجہ ضرور سامنے آتا کہ ہندوستان یقینا مسلم اکثریت کا ملک ہوتا۔بلکہ ممکن تھا کہ تمام مسلم مما لک کی رہنمائی اور قیادت کا منصب بھی اس کو حاصل ہوتا۔لیکن اے غفلت اور بے حسی تیرا برا ہو کہ نافرض شناس حکمرانوں نے اس طرف قطعا توجہ نہیں کی۔لے دے کر صرف فیروز شاہ تغلق ، اورنگزیب ، سلطان محمود بیگڑہ والی گجرات ، اور سلطان ٹیپو شہید نے اسلام کی تبلیغ و اشاعت کےلئے کچھ کچھ سرگرمی کا ثبوت دیا۔ 


اور بس اللہ اللہ خیر سلاّ۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔


جاری ھے


:D ہماری کاپی اینڈ پیسٹ قابلیت جاری ھے۔  


ماخوذ ازکربلا سے بالا کوٹ تک۔


از محمد سلیمان فرخ

شاہ اسمعیل شہیدؒ ۔جہاد۔ ۱ شاہ اسمعیل شہیدؒ ۔جہاد۔ ۱ Reviewed by یاسر خوامخواہ جاپانی on 9:29 AM Rating: 5

6 تبصرے:

جاوید گوندل ۔ بآرسیلونا ، اسپین کہا...

ہماری کاپی اینڈ پیسٹ قابلیت جاری ھے۔ واہ
جاری رہے ۔ جاری رہے۔ بس ابھی کچھ نام نہاد روشن خیال اور علم کے بوجھ سے دوہرے ہوتے اپنے آپ کو اُچے ، سُچے سمجھنے والے ۔ یعنی کریم سمجھنے والے آئیں گے۔ اورنگ زیب عالمگیر رحمتہ علیہ کو ظالم ۔ قاتل گردانتے ہوئے ۔ گل کو پنڈ سے نکالتے ہوئے ۔ آپ کو نان روشن خیال ۔ جماعتیا۔ دیو بندی۔ رُجعت پسند۔ کراچی سے باہر رہنے والا۔ اور پتہ نہیں کیا کیا القابات و خطابات سے نوازنے کے لئیے انکے پاس صرف ایک ہی دلیل ہوگی کہ وہ اپنے تئیں محض اپنے زعم میں روشن خیالی سے چکا چوند ہیں جو صرف انکے ذہین اذہاں ہی کے لئیے وجود میں لائی گئ۔ اور یاسر بھائی وہ آپکی ایسی تیسی کر دیں گے کہ آخر آپ نے محمد سلیمان فرخ کی یہ ۔۔ڈھکوسلہ ۔۔ تحریر یہاں لگانے کی جراءت کیسے کی۔ پھر یہ روشن خیالی سے چکاچوند انٹرنیٹی گرو بااتفاق یہ ثابت کرے گا کہ تاریخ وہ ہے جسے ڈاکٹر مبارل علی اینڈ کمپنی کی سند حاصل ہو اور اسمیں ہر کوئی پی ایچ ڈی کی ننھی منھی کتھارسس کا حوالہ دے گا کہ دیکھو ہم کتنے عالم ہیں اور آپ ایک انپڑھ محلے کی مسجد سے سیپارہ پڑھنے والے قدامت پسند،،،۔۔۔۔۔۔ مگر ۔۔۔۔

مگر لگے رہو یاسر بھائی! کہ باطل خواہ کتنے بھی روپ بدل لے وہ باطل ہی ہوتا ہے اور حق سچ ہمیشہ حق سچ ہوتا ہے خواہ اسے بیان کرنے والے محلے کی مسجد سے سیپارہ پڑھنے والے ہی کیوں نہ ہوں ۔۔۔ کیونکہ یہ روشن خیالی چکاچوندی یہ نہیں سمجھتے کہ ۔۔۔۔۔۔ یہ نصیبوں کی بات ہے کہ خدا جس کے نصیب میں لکھ دے ۔ کہ وہ کچھ ایسے حقائق سے پردہ اٹھائے جو ہماری تاریخ کے رخشندہ باب ہیں۔ جس سے پاکستان کے منتشر خیال لوگوں کو یکسو ہونے اور ایک قوم بننے میں مدد دے۔ کہ۔۔۔ ترقی کے زینے کے لئیے ہجوم سے قوم بننا اولیں شرط ہے۔

ہمیں آپکی کاپی پیسٹ اپنے آپ کو اپنے تئیں نابغہ روزگار سمجھنے والوں کی لایعنی تاویلات سے زیادہ عزیز ہے۔جو اپنی خود ساختہ روشن خیالی کی چکا چوند سے کوتاہ بینا ہوچکے ہیں۔

یاسر جاپانی! بہت خوب

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

تمام تبصرہ کرنے یا اس تحریرکو پڑھنے والے حضرات سے گذارش ہے۔کہ اس وقت کے پاکستان کے حالات کا مشاہدہ کرنے کوشش ضرور کرئیے گا۔
صدیوں سے ہم ایسے ہی تو نہیں؟
میر جعفر اور میر صادق کیا اپنے وقت کے روشن خیال نہیں تھے؟
وہ اگر غدار تھے تو یہ مشرف صاحب کیا تھے؟
سلطان ٹیپو کیا اس وقت کے طالبان تھے؟
لارڈ لیک نے جو ۱۸۰۳میں دہلی پر قبضہ کیا تھا۔اس وقت کے حالات اور اس وقت کے پاکستان حالات میں مماثلت نہیں ھے کیا؟
کیاچھینا چھپٹی الزام تراشیاں بہتان بازیاں ایسی ہی نہیں تھیں ؟

احمد عرفان شفقت کہا...

جاوید صاحب، یہ جس روشن خیالی کی طرف آپ نے اشارہ کیا ہے وہ تو واقعی ایک مصیبت بن جاتی ہے۔۔۔دوسروں کے لیے بھی اور خود اس روشن خیالی کے زعم میں مبتلا بندے کے لیے بھی۔
ایسا روشن خیال شخص بیچارہ اپنے محدود ذہنی وسائل کے باعث اکثر بالکل واضح حقائق کا ادراک کرنے سے بھی قاصر رہتا ہے۔ اپنے خود کے پیدا کیے ہوئے اندھیروں میں ہی سدا بھٹکتا رہتا ہے۔

احمد عرفان شفقت کہا...

اور یاسر آپ نے صحیح کہا ہے۔۔۔صدیوں سے وہی کہانیاں دھرائی جا رہی ہیں۔ چہرے اور نام بدلتے رہتے ہیں، انسانی جبلت اور خصائص وہی رہتے ہیں۔

کاشف نصیر کہا...

اس مقدمے کے بعد حضرت شاہ اسماعیل شہید رحمہ اللہ ہر ایک جامع مضمون کا انتظار رہے گا.

کاشف نصیر کہا...

یوں تو خرابی کا آغاز بنو امیہ سے ہی شروع ہوگیا تھا لیکن بنو عباس کے دور میں تو دنیا داری پی دنیا داری تھی. لیکن پھر بھی دینی شعائر کو زندا رکھا گیا. لیکن چودہویں صدی میں امام اب تیمیہ رحمہ اللہ کے انتقال کے بعد معاملہ یہ ہوا کہ امت قرآن و سنت صحابہ کے ورثہ سے ہٹ کر روایات، خرافات اور بدعات کی راستوں پر چل نکلی اور امراء میں بھی عیاشیاں اور اسلام سے لاتعلقی اپنے کلامکس پر پہنچ گئیں اور کئی تو اتنے آگے بڑھے کہ انہوں نے دین الہی کا تصور بھی پیش کردیا.

لیکن سترہویں صدی عیسویں میں اس امت پر رحمت بن کر نازل ہوئی اور ہر طرف سے قرآن و سنت کی طرف رجوع اور احیائے اسلام کی تحاریک پیدا ہوئیں. ناجرئیا میں حسین دان فودیو، عرب میں شیخ ابن عبدل وہاب نجدی اور ہندوستان میں خاوندا شاہ ولی اللہ رحمہ اللہ کے چشم و چراغ حضرت شاہ اسماعیل شہید رحمہ اللہ اور فرزند شاہ ولی اللہ شاہ عبدالعزیز کے عزیز شاگرد امیر المومینین ہند حضرت سید احمد شہید ڑحمہ اللہ کی تحاریک ایسی تھیں جس نے امت کا دھارا بدل دیا. درحقیقت آٹھاریویں، انیسیوں اور بیسیوں صدی کی تمام اسلامی اور جہادی تحاریک انہی بزرگوں کے بنائے ہوئے راستوں پر رواں دواں ہیں اور انشاء اللہ وہ وقت بہت قریب جب اسلامی نشاۃ ثانیہ کا خواب پورا ہوگا اور دین پورا کا پورا قائم ہوگا.

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.