امام روشن خیالیاں ۔ ۳

سرسید کی تفسیر القرآن

سرسید نے تفسیر القرآن کے نام سے پندرہ پاروں کی تفسیر لکھی ہے جو درحقیقت تحریف القرآن ہے۔ اس کی چھ جلدیں سورہٴ فاتحہ سے لے کر سورہٴ اسراء تک سرسید کی زندگی ہی میں علی گڑھ کالج سے شائع ہوئیں‘ ساتویں جلد سورہٴ کہف سے سورہٴ طٰہٰ تک ان کی وفات کے بعد علی گڑھ بک ڈپو نے شائع کی۔ سرسید نے تفسیر القرآن کے لئے یہ معیار مقرر کیا کہ ان کی زندگی تک تاریخ اسلام کے تیرہ سو سال کے عرصہ میں توارث اور تواتر کے ساتھ نبی اکرم ا‘ صحابہ کرام‘ تابعین اور علماء واولیاء امت سے قرآن کریم کی جو تفسیر منقول چلی آرہی تھی سرسید نے‘ اس جادہٴ مستقیم کو چھوڑ کر اپنی محدود عقل اور بے علمی کا سہارا لیا اور ایک خانہ ساز تفسیر مرتب کی۔ بقول بعض علماء : قرآن کی وہ خود ساختہ تفسیر لکھی جس کی طرف نہ خدا کا ذہن گیا‘ نہ جبرائیل امین کا‘ نہ آخری پیغمبر ا کا‘ نہ صحابہ کا اور نہ تابعین کا۔ سرسید نے خود لکھا ہے کہ:
”میں نے بقدر اپنی طاقت کے خود قرآن کریم پر غور کیا اور چاہا کہ قرآن کو خود ہی سمجھنا چاہئے“۔ (تفسیر القرآن: ۱۹ ص:۲) چنانچہ سرسید نے اسلام کے متوارث ذوق اور نہج سے اتر کر خود قرآن پر غور کیا اور اپنے انگریز آقاؤں کو خوش کرنے کی خاطر اسلام کے نام پر اپنے ملحدانہ نظریات سے فرنگیانہ اسلام کی عمارت تیار کرنا شروع کی‘ جس میں نہ ملائکہ کے وجود کی گنجائش ہے‘ نہ ہی جنت ودوزخ کا کہیں نشان ہے اور نہ جنات اور ابلیس کے وجود کا اعتراف ہے اور معجزات وکرامات تو ان کے نزدیک مجنونہ باتیں ہیں۔
اللہ تعالیٰ نے اپنے دین کی حفاظت کی خود ذمہ داری لی ہے۔ اور ہر دور میں جب باطل سراٹھاتاہے تو حق بھی اسے للکار تاہے۔ فارسی کا مشہورمقولہ ہے: ”ہر فرعونے راموسیٰ“ ہرفرعون کے لئے اللہ تعالیٰ کوئی موسیٰ پیدا کردیتاہے۔ چنانچہ سرسید کے باطل نظریات کی سرکوبی کے لئے اللہ تعالیٰ نے علماء حق کو پیدا فرمایا۔ اس سلسلے میں سرسید کے غلط افکار ونظریات کو جس شخصیت نے سب سے زیادہ ہدف تنقید بناکر طشتِ ازبام کیا‘ وہ حضرت مولانا عبد الحق دہلوی  ہیں۔ آپ  ہندوستان کے ضلع انبار میں ۱۸۴۹ء کو پیدا ہوئے اور دہلی میں ۱۹۱۶ء کو وفات پائی۔آپ نے قرآن کریم کی تفسیر فتح المنان لکھی جو تفسیر حقانی کے نام سے مشہور ہے‘ اس تفسیر میں آپ نے قرآنی آیات کے اصلی مقاصد ومطالب کھول کربیان کئے اور اس کی ابتداء میں ایک طویل مقدمہ لکھ کر سرسید کے تمام لغویات کو کھول کر بیان کیا اور اس کی تردید مسکت جوابات کے ذریعہ کی۔
خود سرسید کے پیرو کار ومعتقد مولانا الطاف حسین حالی‘ مؤلف مسدس (وفات دسمبر ۱۹۱۴ء) تحریر فرماتے ہیں کہ:
” سرسید نے اس تفسیر میں جابجا ٹھوکریں کھائی ہیں اور ان سے رکیک لغزشیں سرزد ہوئی ہیں“۔ (حیات جاوید مطبوعہ آگرہ ص:۱۸۴)
اس کے علاوہ مولانا محمد علی مراد آبادی نے ”البرہان علی تجہیل من قال بغیر علم فی القرآن“ میں سرسید کے غلط نظریات پر خوب پکڑ کی ہے‘ شیعہ مفسر ابوعمار علی رئیس سونی پت (وفات ۱۸۸۶ء) نے بھی سرسید کی رد میں تفسیر عمدة البیان لکھی جس نے شہرت اور مقبولیت پائی۔ نیز عبد اللہ یوسف علی نے اپنی انگریزی تفسیر قرآن میں لکھا ہے کہ سرسید کی تفسیر قرآن‘ علماء امت کے مسلمہ اصول ونظریات سے متصادم ہے۔

جاری ھے
امام روشن خیالیاں ۔ ۳ امام روشن خیالیاں ۔ ۳ Reviewed by یاسر خوامخواہ جاپانی on 5:50 PM Rating: 5

2 تبصرے:

محمد عرفان کہا...

محترم یاسر صاحب السلام علیکم
سر سید احمد خان کے حوالے سے آپ کا تبصر ہ کافی مفید معلوم ہوتا ہے ، یہ حقیقت کہ سر سید نے اسلام اور قرآن کی کوئی خدمت نہیں کی ہے بلکہ اس نے اسلام اور قران کریم میں نعوذباللہ تحریف کی کوشش کی ہے۔ سید صاحب نے اسلام کے ایسے اٹل حقائق کا انکا رکیا ہے کہ کو ئی مسلمان اس کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتا۔
دراصل سر سید یہ چاہتے تھے کہ اسلام کو عقل کی ترازو میں تولا جائے اور سائنس کی رو سے مشاھدات کے ائینہ میں صرف ان چیزوں کو اسلام قرار دیاجائے جس کو آپ کی عقل تسلیم کرتی ہو حالانکہ انسانی عقل تو شاید موت کےبعد زندگی کا بھی انکار کرے۔
والسلام

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

عرفان صاحب بلاگ پر خوش اآمدید اور تبصرے کا شکریہ

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.