جاپان کی سیا ست

آج کل جاپان میں حکمران جماعت کے چیئر مین کےلئےجماعتی انتخابات ہونے والے ہیں۔اس وقت حکمران جماعت کے چئیرمین اور وزیر اعظم خان صاحب ہیں۔ ان خان صاحب کوکان صاحب لکھا جاتا اور کھان صاحب کے تلفظ سے پکارا جاتا ھے۔ان خان صاحب سے پہلے جو وزیر اعظم تھے وہ ھاتو یاما صاحب تھے۔ھاتو یاما صاحب کو اردوئیں تو مطلب بنتا ھے۔پہاڑی کبوتر۔


یہ پہاڑی کبوتر صاحب ہماری پسندیدہ شخصیت ہیں۔جب یہ وزیر اعظم تھے اس وقت معلوم پڑا یہ والدہ محترمہ سے مہینے کے تقریبا ڈیڑھ کروڑ روپے جیب خرچ لیتے تھے۔ھاتو یاما فیملی نہایت مالدار فیملی ھے اور مشہور زمانہ  بریج سٹون کے بانی کی بیٹی ان کبوتر صاحب کی والدہ ماجدہ ہیں ۔بریج سٹون وہی جن کےبنائے گےگاڑیوں کے ٹائیر پاکستان میں بھی پسند کئے جاتے ہیں ۔ھاتو یاما صاحب کی اماں جی جو جیب خرچ میں ڈیڑھ کروڑ دیتی تھیں۔اس کا ٹیکس یہ وزیر اعظم نہیں دیتے تھے۔جب یہ بات جاپان کے میڈیا کو معلوم پڑی تو میڈیا  نےخوب چھترول کیا اور کسی صحافی کو جان کی قربانی بھی نہیں دینی پڑی۔ نہ ہی جیالوں نے جلاو گھیراو توڑ پھوڑ کیا۔نہ ہی بھائی کے پرستاروں نے جوش میں واہی تباہی بکی نہ ہی کسی نے راہ چلتےغریب  مزدورکو ٹھکانے لگا کر اپنا غصہ ٹھنڈا کیا۔  


میڈیا کی چھترول سے یہ ہوا کہ ان ہمارے پیارے پہاڑی کبوتر صاحب نے یک مشت۵۷کروڑ ۵۰ لاکھ روپیا ٹیکس کی مد میں حکومت جاپان کو ادا کیا۔ لیکن آنے والے انتخابات کا سوچ کر کے کہ عوام نےان کی جماعت کو ایک ووٹ بھی نہیں دینا اس لئے انہوں نے جماعت کی چیئر مینی بھی چھوڑ ی اور وزارت اعظمی بھی چھوڑ دی۔ھاتو یاما صاحب کے بعد خان صاحب وزیر اعظم بنے یہ بھی ہماری پسندیدہ شخصیت ہیں۔جب تک یہ وزیر اعظم نہیں تھے ہم سمجھتے تھے کہ یہ بہت ہی باصلاحیت ہیں اور جاپان کی معاشیعت کو بہتر کرنے کیلئے کچھ انقلابی تبدیلیاں کریں گے۔قابلیت تو ان میں بہت ھےلیکن یہاں کی عوام الناس اور ہمارا بھی خیال ھے کہ ان میں اعلی درجے کی  قائدانہ صلا حیتیں نہیں ہیں۔


حکمران جماعت کے ممبران کا بھی کچھ ایسا ہی خیال ہے اس لئے خان صاحب کو وزارت اعظمی کی کرسی سے اتارنے کی تیاری کر لی گئی ھے۔نئے امیدوار جو ہیں۔یہ ایک دلچسپ شخصیت ہیں۔نام ان کا اوزاوا ایچیرو ہے۔


جاپان کے ایک معروف وزیر اعظم گذرے ہیں۔تاناکا کاکووے صاحب انہوں نے جاپان کی کایا پلٹ دی تھی۔جاپان کی معاشیعت میں انقلاب برپا کیا تھا۔اور خاص کر اندورن جاپان کے دیہی علاقوں کی ترقی کیلئے بہت کام کیاتھا۔پڑھے ہوئے یہ  ہماری طرح مڈل پاس ہی تھے۔ کرپشن کے معا ملے میں بھی ان کے بارے میں کہا جاتا ھے کہ یکتا تھے۔پاکستان کے زرداری صاحب یا نواز شریف صاحب ان کے سامنے طفل مکتب ہی ہوں گے۔یہ محروم تاناکا کاکووے صاحب سیاست کی دنیا کے ڈان تھے۔ ان تاناکا کاکووے صاحب کی قریبی شاگرد یا چیلے جو تھے وہ اوزاوا اچیرو صاحب تھے۔


جیسے بھٹو صاحب ایوب خان کو ڈیڈی کہتے تھے۔اسی طرح تو نہیں خیر کیونکہ ابھی بھی یہ انہیں روحانی ڈیڈ ہی کہتے اور سمجھتے ہیں۔اس وقت یہ اوزاوا اچیرو صاحب جاپان کی سیا ست کے ڈان ہیں۔ان کے بارے میں کہا جاتا ھے کہ ہمیشہ پیچھے رہ کر سب کو کٹھ پتلی کی طرح استعمال کرتے رہتے ہیں۔پچھلے دنوں جاپان کے میڈیا اور پولیس نے انہیں کافی ٹھونکا بجایا ھے۔کافی گرد وغبار نکلنے کی امید تھی لیکن اوزاوا صاحب مکھن سے بال کی طرح صاف نکل آئے۔یہ اوزاوا صاحب اگر جماعتی انتخابات میں جیت گئے تو جاپان کے نئے وزیر اعظم ہوں گے۔عوام میں ان کے بارے میں مال بناو صاحب کا تصور ضرور ھے۔لیکن ان کی حب الوطنی کو ان کا بڑے سے بڑا مخالف بھی مانتا ھے۔جاپان کی عوام اپنے سیاستدانوں کی پوجا نہیں کرتی اگر کوئی سیاستدا ن عوام کیلئے اچھا کام کرتا ھے تو وہ ہر طرح کے الزامات کے باوجود جیتتا ہی ھے۔لیکن جب کرپشن کے ثبوت سامنے آ جائیں تو میدان سے بھاگنا ہی پڑتا ھے۔


ہماری اس جماعت سے دل لگی کی وجہ ہمارے انتخابی حلقے کی ایک خاتونہ ہیں۔جن کی وجہ سے ہم ہر دفعہ انہی کو ہی ووٹ دیتے ہیں۔یہ رہین ہو صاحبہ جو ہیں ان کے ابا حضور تائیوانی اور اماں جی جاپانی ہیں۔ کچھ تھوڑی بہت ان سے سلام دعا ھے    


ہمارے دل میں کچھ کالا کالا بھی ھے:oops: :oops: :oops:   اس لئے ہم ان کے پر زور حمائیتی ہیں۔


دل کا کالا کچھ کچھ ایسا ہے کہ یہ جماعت جاپان سے محتاط الفاظ میں امریکی افواج کی کمی  کی خواہش رکھتی ہے۔اور حقیقتا انخلا چاھتی ھے۔لیکن اس کیلئے انقلاب کی ضرورت ھے۔آئین میں تبدیلی کرکے جاپان کی دفاعی افواج کو افواج کا درجہ دینا وغیرہ شامل ھے۔


لیکن آئین میں انقلابی تبدیلی کے معا ملے میں جاپانی نہایت احساس اور محتاط ہیں۔فوج کی حکمرانی میں کافی تباہی آئی تھی اس لئے جاپانی فوج کو ایک مخصوص دائرے میں رکھنا چاھتے ہیں۔لیکن مستقبل کا سوچ کر اپنے ملک کی حفاظت کیلئے فوج کے اختیارات میں تبدیلی  بھی چاھتے ہیں۔


حکمران ڈیمو کریٹ پارٹی کے متعلق یہاں پر تفصیل دیکھئے۔  

جاپان کی سیا ست جاپان کی سیا ست Reviewed by یاسر خوامخواہ جاپانی on 12:26 PM Rating: 5

6 تبصرے:

خاور کہا...

بڑی معلوماتی تحریر هے
اس طرح کی ایک تحریر جاپان کے پاک سیاستدانوں بر لکھ کر دیکھائیں
اپ کو بہادر مان جائیں گے
اگر اب ان لوگوں کی کمظرفی کو برداشت کرسکے تو

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

خاور جی۔
کسی سیانے کہا تھا۔کہ عورت کے متعلق میں زبان اس وقت کھولوں گا۔جب میں قبر کے کنارے ہوں گا۔عورت کی شان میں کچھ کہا اور تابوت کا دروازہ بند۔
جاپان کے پاک سیاستدانوں کے متعلق بھی ہمارا کچھ ایسا ہی خیال ھے۔
یعنی ہم خوامخواہ کے بہادر نہیں ہیں۔ :lol: :lol: :lol:

عثمان کہا...

سرجی۔۔۔
سچ سچ بتائیں۔۔۔یہ تحریر کہیں آپ نے میرے شہریت والے طعنے سے ناراض ہوکر تو نہیں لکھی؟ :?
تحریر بڑی معلوماتی ہے!
اور یہ ڈیڑھ کروڑ روپے جیب خرچ 8O اور جیب خرچ پر ٹیکس 8O جاپان جاپان اے!
یہ خاں صاحب اور سردار صاحب وہ قومیں ہیں جو چاند پر بھی پائی جاتی ہیں۔ یہ تو پھر جاپان ہے۔ :D
ان سیاسی خاتون کو میں ووٹ تو نہیں دے سکتا البتہ میری طرف سے فلائنگ چُمی بھجوا دیں۔ :mrgreen:

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

ارے نہیں عثان
رات گئی بات گئی والی ہوتی ھے ہماری ناراضگی۔
اب کوئی خوامخواہ میں سینگ پھنسا لے تو چھیڑ چھاڑ چلتی بس محبت میں۔
نہیں اوئے چمی نہیں چلے گی۔ورنہ سچی مچی ناراضگی ہوئے گی۔

وقاراعظم کہا...

مطلب کہ جاپانی سیاستدان چاہے کرپٹ ہی کیوں نہ ہو لیکن محب وطن ضرور ہوتا ہے. کاش حُب الوطنی کی یہ صفت پاکستانی سیاستدانوں میں بھی پیدا ہوجائے....

نغمہ سحرِ کہا...

آپ نے جاپانی سیاست میں پاکستانی رنگ بھر دیا اب آپ یہ چاہتے ہیں کہ پاکستان کی رنگینیوں میں جاپانی سیاست آئے۔

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.