سوچوں کا گند

ہم نہایت افسوس اور دکھ سے یہ پوسٹ لکھ رہے ہیں۔کہ اگر کسی  سے کسی مسئلے پر اختلاف ہو بھی تو انسان کو اتنا زہریلا نہیں ہونا چاھئے۔


کہ کسی کی بھی عزت کی دھجیاں اڑا دے۔حقیقت میں مجھے بھی عافیہ صدیقی صاحبہ سے کوئی خاص دلچسپی نہیں ھے۔اور میری اس روش کو کئی دوستوں نے بےحسی کہا۔میری دلچسپی نہ ہونے کی وجہ کوئی خاص نہیں ھے۔بس کچھ معلومات الٹی سیدھی پڑھ نے کو ملیں۔اور کچھ اپنے پاکستان کے ننگ ملت ننگ دین بے غیرت اور بے حیا حکمرانوں کی وجہ سے اپنے آپ کو کمزور سمجھتا ہوں۔اگر یہ ہماری بہن بے گناہ ہیں۔تو ان  کا معاملہ اللہ پر چھوڑ دیا۔


اگر گنہگار بھی ہیں تو ایسی بے غیرت قوم کوئی بھی نہیں کہ اپنے ملک میں مقدمہ چلائے بغیر ملزم کو درندوں کے حوالے کردے۔


اپنی بے بسی پر رو کر اللہ سے ان کے لئے بہتری کی دعا کردی۔کہ اپنے پلے اس سے زیادہ کرنے کےلئے کچھ نہیں ھے۔


اب اسے کوئی ہماری بے حسی کہہ لے یا بے غیرتی ہم سر جھکا لیں گے۔


ایک اور خاص وجہ میری خاموشی کی کچھ اس طرح ھے کہ میں عورت کی آزادی  کا ایک حد تک قائل ہوں۔


آپ مجھ سے اختلاف کر سکتے ہیں۔


لیکن اچھے طریقے  سےکریں تو آپ کا ممنون ہوں گا۔بحر حال میں عورت کی آزادی کو ایک حد تک ہی بہتر سمجھتا ہوں۔


ایک معزز خاتون بلاگر سے کچھ لوگوں نے سوالات کئے اور کچھ ان کے سوالات بھی ہونگے۔


:oops:


ہم نے تھوڑا ہاتھ ہلکا رکھ کر ان کے جواب سوچے۔آپ حضرات کے پاس بھی اگر ان سوالات کے جوابات ہیں تو برائے مہربانی ان الجھے ہوئے حضرات کو مطمعین کردیں۔


سوال۔۔۔۔۔۔۔۔اچھی خاصی یونیورسٹی سے ڈاکٹریٹ کرنے والی عورت اس ذہنی بیماری کا کیوں شکار ہوئ۔ جس کے لئے اس نے اپنی ذات ،


 اپنے والدین اور اپنی اولادکے برے اور بھلے کا بھی نہیں سوچا۔  حتی کہ اس نے  دوسری شادی بھی ایک مبینہ القاعدہ کارکن سے کی۔ پہلے شوہر سے  تین بچے جو اس وقت واللہ اعلم کہ کہاں کہاں درگور ہو رہے ہیں۔  لیکن لوگوں کا ایک گروہ عافیہ صدیقی کو ایک مثالی مسلم عورت کے روپ میں پیش کرنے کی کوششوں میں مصروف۔


جواب۔۔۔۔۔۔بس جی یہ بیماری کچھ ایسی ہی ھے۔کہ ڈاکٹریٹ کرنے والی عورتوں کو ہی ہوتی ھے۔ذہنی مریض کو بیچنے والے بے حیا اور بے غیرت  محافظ کو شرم نہیں آئی ایک ذہنی مریض بہن بیٹی  کو بیچتے ہوئے؟۔


ذہنی بیمارعورت سے کیا گلہ کیا شکوہ؟جب محافظ ہی بے غیرت ہوں تو ایسی ماں کے بچے در گور ہی ہوں گے۔


سوال۔۔۔ایک عورت جب اپنے بچوں کو زہر دیتی ہے تو وہ معتوب ٹہرتی ہے لوگ کہتے ہیں کیسی ماں ہے، کیا زمانہ آگیا ہے۔


 ماں کو اپنے بچوں سے محبت نہیں رہی۔  مگرایک عورت جب اپنے بچوں کو  باپ اور ماں سے محروم کر کے  انہیں دنیا میں در بدر کر دیتی ہے۔


 تو حالات کی اصل نوعیت کو جانے بغیر یہ قابل حمد و ثناء ٹہرتا ہے۔ آخر کیوں؟


جواب۔۔۔۔۔جب بچوں  کو زہر دینے والی عورت کو واعظ کیا جائے کہ جسم فروشی کرکے بچے پالنا عظمت ہے۔تو باحیا عورت بچوں کو زہر دے کر مرنا ہی پسند کرے گی۔


جب بے کس لوگوں کو معلوم بھی ہو کہ ایک بیمار عورت کو بچوں سمیت ام الخبائث کی اولاد نے چند پیسوں کے عوض فروخت کر دیا۔تو اس ظلم کےخلاف آواز اٹھانا برا کیوں لگتا ھے؟اتنا حق تو دے دیں کہ آپ تو ہو ہی روشن خیال اعتدال پسند۔



سوال ۔۔۔۔۔۔۔ایک اور گروہ یہ کہتا ہے کہ تقریباً ستر کے قریب اسلامی ممالک نے عافیہ کو ملنے والی سزا پہ ایک حرف نفرین نہیں کہا۔ عافیہ پہ جو بھی الزامات ہیں انکا تعلق صرف پاکستان سے نہیں۔ انکے تعلقات القاعدہ جیسی تنظیم سے بتائے جاتے ہیں۔ اس طرح اسکے حامیوں کے نزدیک تو وہ عالم اسلام کی سر بلندی کی جنگ لڑ رہی ہں۔ لیکن اس چیز کا دوسرے مسلم ممالک کو کیوں احساس نہیں۔ دنیا کے کسی بھی دوسرے ملک نے اس آواز میں اپنی آواز کیوں شامل نہیں کی۔

جواب۔۔۔۔۔اول  تو ستر اسلامی ممالک کسی قابل ہوتے تو یہ ذلت و خواری ہی نہ ہوتی۔

دوئم انہیں معلوم ہے یہ ڈالر کے پجاری اپنوں کو خود ہی بیچنے والے بےغیرت ہیں۔

 

 

سوال۔۔۔۔۔۔آج شہر میں ایم کیو ایم عافیہ کے حق میں ایک ریلی نکالی۔ وہ شاید اس راستے سے ان مذہب پرستوں کے دل تک پہنچنا چاہتے ہیں جنہیں ہر چیز کسی مذہبی ایشو کی کوٹنگ میں قابل قبول ہوتی ہے۔ اگرچہ اس سے پہلے بھی انکے نمائیندے فاروق ستارعافیہ کے والدین سے مل چکےہیں اور انکے گھر جا چکے ہیں مگر جب سب عظمت کی اس گنگا میں ہاتھ دھو رہے ہیں تو وہ اس سے کیوں محروم رہیں۔ امید ہے ایم کیو ایم کی  اس ریلی کے نتیجے میں شہر میں جو افراتفری پھیلے گی وہ سب کے لئے قابل قبول ہو گی۔

جواب۔۔۔۔۔شہر۔۔۔۔ کیا پر سکوں شہر ھے جی۔افراتفری؟؟؟!!۔ خون کی نہیں دودھ کی نہریں بہہ رہی ہیں اس شہر میں؟۔پوتر ایم کیو ایم نے اس سے پہلے عظمت کی گنگا میں ہاتھ دھونے کا موقع کب چھوڑا؟

 

 

سوال۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔تو جناب، عظیم بیٹی بننے کے لئے اگر حجاب پہن لیا جائے، جہادی تنظیموں کے لئے چندہ بھی جمع کر لیا جائے، انکے خفیہ نیٹ ورکنگ کے لئے فنڈنگ کا بندو بست بھی کر لیا جائے ایسے کہ ساتھ رہنے والے  شوہر کو اور گھر والوں کو سن گن بھی نہ لگے۔ پھر اس شوہر سےعلیحدگی ہو جانے کے بعد کسی القاعدہ کے کارکن سے شادی بھی کر لی جائے۔ اتنا حوصلہ پیدا کر لیا جائے کہ کسی بھی قسم کے تشدد کو برداشت کر لیا جائے۔

 جواب۔۔۔۔۔۔۔۔تو جناب حقوق نسواں، شخصی آزادی عورت اور مرد کے برابری کے حقوق وغیرہ بھی تو ہیں نا جی۔

اگر آپ کے نزدیک جسم فروش بیٹی عظیم ھے تودوسروں کے لئے حجاب والی عظیم بیٹی ھے۔

شوہر گن سن لگے بغیر باہر گلچھڑے اڑا سکتا ھے۔تو عورت کو یہ حق بھی آپ ہی دے رہے ہیں۔ خصماں نوں کھاو تے سانوں کی!۔

 

 

سوال۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔لیکن ایک عورت جو اچھے خاصے کریئیر کے ساتھ زندگی گذار کے اپنے پیدا کئے ہوئے بچوں کو ایک پر سکون اور مطمئن زندگی دے سکتی تھی وہ  کتنے عظیم دل کی مالک تھی جو  انکی بر بادی کو اپنے ہاتھوں سے منتخب  سے کرتی ہے۔ کس کاز کے لئے اس نے کم از کم تین لوگوں کو عمر بھر کی اذیت میں مبتلا کیا۔ ایسے میں مجھے تو وہ عورت بہت عظیم لگتی ہے جو اپنے بچوں کو دو وقت کی روٹی دینے کے لئے جسم فروشی کرتی ہے، لوگوں کی جھڑکیاں سنتی ہے، مگر انہیں خاطر میں نہیں لاتی ۔ کیا محض عظمت کے حصول کے لئے ممتا قربان کر دینا ایک مہنگا سودا نہیں۔

جواب۔۔۔۔ایک ذہنی بیماری کی شکار ڈاکٹریٹ کرنےوالی عورت سے کیسا گلہ؟ کیسا شکوہ؟

جن کا کاز ہی بے حیائی ہو ان کے لئے عظمت تو رنگ برنگی بچوں والی جسم فروش عورت ہی ہو سکتی ھے۔اور ممتا کی عظمت کو بڑانے کیلئے دو چار اور رنگ برنگی جن دے گی۔ایسی عظمت کے قائل بھی اگر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تمام حضرات سے اچھے جوابات کی امید رکھتے ہیں۔ہم نے بڑی مشکل سے بیہودہ جوابات سے بچنے کی کوشش کی ھے۔

اچھے جوابات وصول ہونے کی صورت میں پوسٹ میں شامل کردے جائیں گے۔

   

 
سوچوں کا گند سوچوں کا گند Reviewed by یاسر خوامخواہ جاپانی on 11:24 PM Rating: 5

22 تبصرے:

جعفر کہا...

ان سارے سوالوں کا ایک ہی شافی و کافی جواب ہے میرے خیال میں
درترین شاباش۔۔۔

نعیم اکرم ملک کہا...

یار عافیہ صدیقی والے مسئلے میں کچھ کہنا محال ہے... عین ممکن ہے سارا معاملہ ہی فیک ہو... امریکی یا پاکستانی یا کسی اور ملک کی ایجنسیوں نے سٹیج کیا ہو... اللہ بہتر جانتا ہے...

بدتمیز کہا...

یار کچھ کوے اور ہنس کا ذکر پڑھا تھا کہیں۔ خیر مجھے بڑی دیر بعد سمجھ لگی تھی ہر بکواس کا جواب دینا ضروری نہیں ہوتا۔ تہانوں کدوں لگے گی؟

جہالستان سے جاہل اور سنکی ۔ کہا...

جب آپنے اپنا رویہ تبدیل کر کے خود ہی اپنی جیت کا اعلان کرنا ہے تو دیر کیسی ۔ یہ جنگ تو آپ انکے جیتے جی نہ جیتے ۔

ارشاد کہا...

بھیجہ فرائ ۔ :lol:

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

عبد تمیز جی ،
دیرآید درست آید ،
اج توں بعد لکھ لعنت۔
نہ خبیث ول جاو تہ نہ ٹینشن پاو۔

سنکی بھائی۔
اب سمجھ آگئی ھے۔
گرو گھنٹال کی لاکھ در ترین باش

حق بات کہا...

آپ لوگ اتیقہ کو کیوں برا بھلا کہہ رہے ہو؟
وہ اپنے دین کی خدمت کررہی ہے اور وہی کررہی ہے جو اسکے اجداد نے کیا
اور آپ انکی مخلافت کرکے حضرت مودودی کہ بھی تکلیف دے رہے ہیں اس لئے فوراً ان سے معافی مانگیئے

منیر عباسی کہا...

اصل مضمون اور اس کے حوالہ جات بمع تبصرہ جات کے مطالعے کے بعد میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں عافیہ صدیقی نے مسلمان عورتوں کی جو توہین کی ہے اس پر اس اگر 860 سال کی سزا ہو جاتی تو بھی کم تھا. اس 860 سال کی سزا میں اس کے ساتھ روزانہ ہر وہ فعل روا رکھا جانا چاہئے تھا جو کہ مہذب اور روشن خیال دنیا کے امام کے ہاں جائز ہے.

آج کے بعد ایبٹ آباد اور گرد و نواح کی طوائفیں اگر مجھے ملیں تو مجھے چاہئے کہ مغربی تہذیب کے مطابق ہیٹ اتار کر ان کو تعظیم دیتے ہوئے ایک طرف ہو کر راستہ دے دینا چاہئے. آخر وہ عافیہ صدیقی سے بہتر جو ہیں.

الطاف حسین کی ریلی اور خطاب کا مقصد اپنی کھال بچانا تھا، کیونکہ ڈاکٹر عمران فاروق کے بہیمانہ قتل کےڈانڈے اسی طرف جاتے دکھائی دیتے ہیں. اب انگلینڈ میں وہ مہاجر حقوق اور محرومی کی دہائی دینے سے تو رہا. عافیہ کے حق میں یہ ریلی نکال کر اس نے ان قوتوں کو اشارہ دیا ہے کہ اگر تم نے مجھے نہ بچایا تو مذہبی طاقتیں اور طالبان تو ہیں ہی. ویسے اب اس کے دن گنے جا چکے ہیں. مجھے ڈر ہے یہ کہیں خود کشی نہ کر لے اس طرح اور بدنام ہونے سے بچ جائے گا.

میں قارئین کو یاد دلاتا چلوں کہ ایم کیو ایم جو اس وقت مہاجر قومی موومنٹ تھی کے چئیرمین عظیم احمد طارق نے اپریل 1993 میں بھائی کے خلاف ایک پریس کانفرنس کی تھی، بھائی پر سنگین الزامات لگائے تھے. یکم مئی 1993 کی رات ان کو نا معلوم افراد نے گھر میں گھس کر قتل، اوہ میرا مطلب ہے شہید کر دیا تھا. تین افراد بعد میں پکڑے گئے ان کے قتل کے الزام میں، وہ بھی غالبا مارے گئے. جوآخری ملزم یا اس سلسلے کی کڑی تھا، اسے بینظیر حکومت کے وزیر داخلہ نصیر اللہ خان بابر نے اے پی ایم ایس او کی کسی ویدیدار کی سفارش پر رہا کروا دیا تھا.

زندگی رہی تو ان تفصیلات کا حوالہ بھی دے دوں گا. مجھے اس وقت ربط نہیں مل پا رہا.

یہی صورت حال اس وقت آئی جب غالبا کراچی کے علاقے کھوڑی گارڈن میں ایک پبلک پارک یا اسی طرح کا کوئی قطع زمین بچانے کے لئے ایک تحریک کے سابق قائد، نثار بلوچ جنھوں نے اپنی جدو جہد کا اکثر حصہ اسی تحریک کے لئے وقف کیا تھا، کراچی کے مئیر مصطفی کمال کے خلاف ایک پریس کانفرنس کر گئے. غالبا اگلے دن یا ایک دن بعد دو موٹر سائیکل سواروں کے ہاتھوں ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بن گئے.

خفیہ ہاتھ کسی بھی صورت کراچی والوں کو امن سے بیٹحنے نہیں دین گے. عظیم احمد طارق مرحوم ہوں، نثار بلوچ مرحوم ہوں یا ڈاکٹر عمران فاروق، یہ سب مہاجر عوام کے دشمنوں کے ہاتھوں ہلاک ہوئے. ان سب کے لئے ایک مرتبہ سورۃ فاتحہ اور تین مرتبہ سورۃ اخلاص پڑھ کر ایصال ثواب تو کر دیں.
باقی باتیں بعد میں.

وہ عرفی نے کیا کہا تھا فارسی میں، کتوں کے بھونکنے سے فقیر کا رزق کم نہیں ہو جاتا. عافیہ کی بے گناہی لوگوں کی تنقید اور ایک جسم فروش عورت کو ان پر برتر قرار دینے سے کم نہیں ہوتی.

یہ تو ہم سب "حق پرست" پاکستانیوں کی کمزوری ہے کہ وہ ہماری ہی حکومت میں بیچی گئی. کاش اس ملک پر اس وقت انگریز حکومت کر رہے ہوتے تو ہم کہہ سکتے تھے کہ یہ اسلام دشمنوں کا کارنامہ ہے.

ابوسعدخان کہا...

الطاف بھائی کے پیروکاروں کو بہت ہی قریب سے دیکھتے ہوئے میرا خیال تھا کہ ان کی پارٹی سے تعلق رکھنے والا ہر ایک صرف اور صرف الطاف بھائی پر یقین رکھتا ہے۔ وہ بتائیں کہ قادیانیوں کے حق میں ریلی نکالو‘ اہل مذہب اور مذہبی لوگوں کی مذمت کرو، مارو اور مرو، امریکیوں کے حق میں ریلی نکالو!
یہ سب کچھ گزر جائیں گے ۔ مجھے الطاف بھائی سے اس کی امید نہیں تھی ، وجہ جو بھی ہے انہوں نے یوٹرن لیا ۔
اور اسی یو ٹرن نے مجھ پر ایک چیز اور واضح کردی کہ ایم کیو ایم میں ایک بڑی تعداد ایسی بھی ہے کہ اگر الطاف حسین ان کے خدا وں یعنی امریکیوں کے خلاف اور مسلمانوں کے حق میں ایک لفظ بھی کہہ دیں تو یہ الطاف بھائی کے خلاف ہوجائیں گے۔ عنیقہ ان میں سے ایک ہیں

محمد سعد کہا...

چھوڑو یار۔ ان لوگوں کے ساتھ الجھے ہوئے ہو کہ اگر دمتری میندلیو (Dmitri Mendeleev) مسلمان ہوتا تو اسے بھی طالبان کا ساتھی قرار دے کر لٹکا دیتے۔
یہ لو لڑم مارکہ نسوار کھاؤ اور ٹینشن بھول جاؤ۔

کاشف نصیر کہا...

عنیقہ آپا کو میں نے رواں سال جون میں پہلی دفعہ پڑھا، میرا پہلا تاثر جو انکے بارے میں قائم ہوا وہ یہ تھا کہ وہ ایک باشعور اور سوچنے سمجھنے والی اور دلائل کی بنیاد پر بات کرنے والی خاتون بلاگر ہیں. پھر میں اکثر انکے بلاگ پر جانے لگا، کئی دفعہ میں متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکا. چنانچہ میں نے انکی پچھلی تحاریر کو بھی پڑھنا شروع کیا اور یوں وقت گزرتا گیا. اگست کے وسط تک میں موصوفہ کی اکثر تحایر پڑھ چکا تھا اور میری پہلی رائے جو انکے بارے میں قائم ہوئی تھی وہ یکثر بدل چکی تھی.

نظریاتی اختلاف بری چیز نہیں ہوا کرتی، میرے کئی بہترین دوست کمیونسٹ اور لبرل نظریات کے حامل ہیں لیکن ہم ساتھ اٹھتے بیٹھتے ہیں اور دلائل اور استدلال سے اپنا موقف بیان کرتے ہیں. لیکن بری چیز متشدد رویہ ہوتا ہے کہ آپ اپنے نظریاتی مخالفین کو ہرصورت میں غلط ہی تصور کریں اور انکی اچھی چیزوں کو بھی نظرانداز کردیں اور انہیں بدنام کرنے کے لئے خود اپنے بنائے ہوئے اخلاقی اصول توڑتے رہیں.

عنیقہ آپا کا مسئلہ یہی ہے وہ ناصرف خاص نظریات سے وابستہ ہیں بلکہ ان خاص نظریات کے فروغ اور نظریاتی مخالفین کی تار پود کے لئے کسی اصول اور کسی ضابطے کو خاطر میں نہیں لاتیں. ایک چیز لبرل نظریہ ہوتا ہے کہ میں اسلام وہ ہے جو میرا دل اور دماغ قبول کرے اور جس چیز کو میرا دل اور دماغ مسترد کردے وہ چاہے کتنے مستند حوالے رکھتا ہو، عنیقہ آپا کا مسئلہ اس سے بھی آگے کا ہے وہ دماغ کی خدائی بھی مسترد کرکے صرف اپنے دل سے سوچتی ہیں، جو انکو پسند ہے وہ ٹھیک ہے اور جو ناپسند ہے وہ ہر صورت میں ناقص.

انکے بلاگ عافیہ آپی کی مقدمہ پڑھ کر مجھے حیرت نہیں ہوئی کیونکہ دو روز قبل میں نے انکے بلاگ پر اسلامی کارٹون کے عنوان سے ایک مضمون پڑھا تھا اور مصوفہ کے بارے میں یہی جان سکا تھا کہ بنیادی طور پر دہریہ خاتون ہیں اور ہر مسلمان جو اپنے چودہ سو سالہ دینی ورثہ سے جڑنا چاہتا انکی انکھوں میں کھٹکتا ہے.

عنیقہ آپا ایک پڑھی لکھی خاتون ہے، اللہ سے میری دعا کہ انہیں ہدایت نصیب ہو تاکہ انکی صلاحیتیں عالمی سامراج، سرمایہ دارانہ نظام اور بین القوامی دہشت گردی کی وکالت اور جانب داری کے بجائے حق کے لئے بلند ہو، ایک خامی جو انکے اندر بدرجہ اتم موجود ہے وہ یہ کہ مخالفین کے لئے وہ زبان، لہجہ اور اصول اختیارکرتی ہیں جو عالمان وقار تو درکانار کسی چھٹی جماعت پاس کا بھی وطیرہ نہیں ہوتا

جاویداقبال کہا...

السلام علیکم ورحمۃ وبرکاتہ،
بھائی، بات یہ ہےکہ ان کواپنی بات سچ نظرآتی ہےاسلئےتوہربات کودرخواعتناسمجھ کربھول جاتےہیں۔
یہی دعاہےکہ اللہ تعالی میرےملک کوعزت واحترام واپس دلادے۔ آمین ثم امین

والسلام
جاویداقبال

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

کاشف ۔ میں بھی شروع شروع میں نہایت عقیدت محسوس کرتا تھا ۔ان کے بارے میں لیکن کئی دفعہ ان کےانتہائی غیر اخلاقی رویہ سے دکھ محسوس کیا کہ اہل علم کو ایسا زیب نہیں دیتا۔لیکن اب مجھے تو یہی محسوس ہوتا ہے کہ یہ خاتونہ جان بوجھ کر فساد کرتی ہیں۔
ان کا کوئی خاص مشن ہی محسوس ہوتا۔ایک سمجھداری مسلمان عورت اخلاقی طور پر اتنی نہیں گر سکتی چاھئے پاکستان کے کسی بھی طبقہ سے ہو۔

جہالستان سے جاہل اور سنکی ۔ کہا...

امید ہو چلی ہے کے اب آپ نہ تو انکو ڈسکس کرینگے اور نہ ہی انکے ساتھ کچھ ڈسکس کرینگے ۔

ہوسٹن کا باسی باپ کی تلاش میں کہا...

ایس لئی ساڈے فقیراں، ولیاں تے درویشاں سو سو طرحاں اُمت نوں سمجھاؤن دی کوشش کیتی اے جو خلقت خُدا دی رل مل کے وسن لئی بھوئیں تے لاہی گئی اے۔ میرے مرشد مولانا جلال الدین رومی علیہ رحمت فرمایا سی:
تو برائے وصل کردن آمدی
نے برائے فصل کردن آمدی
بھلیا لوکا، توں دنیا تے مخلوق نوں آپس وچ جوڑن تے رل وسن دا سبق پڑھاؤن لئی آیا ایں۔ توں لوکاں نوں ونڈن تے ہک دوجے توں تروڑن تے وکھ کرن لئی نہیں آیا۔

پر رب دے ناں تے ٹُکر پاڑن والے میل ہمیشہ ساد مرادیاں بندیاں نوں پٹھا سبق پڑھایا تے راہوں تھڑکایا۔ اپنی بے سمجھی تے داء دپے نال خلقت نوں فرقیاں وچ ونڈیا۔ ایہہ ویکھ کے پیر سائیں بلھے شاہ ہوراں فرقے بندی توں اُچیاں ہو کے اپنی پچھان کرائی۔ آپ فرمایا:

نہ ہم سُنی ، نہ ہم شیعہ
صلح کُل کا مارگ لیا

ہوسٹن کا باسی باپ کی تلاش میں کہا...

جماعت اسلامی نے نیٹو کی جانب سے ملکی حدود کی خلاف ورزیوں اور پاکستان میں حملے کے خلاف جمعے کو ملک بھر میں یوم احتجاج منانے کا اعلان کیا ہے۔منصورہ لاہورسے جاری بیان میں امیر جماعت اسلامی سید منورحسن نے کہا کہ امریکہ کا اتحادی ہونے کا یہ صلہ دیا جارہا ہے کہ نیٹو افواج پاکستانی شہریوں کو شہید کرنے کے ساتھ پاک فوج کو بھی نشانہ بنارہی ہیں، حکومت دہشتگردی کیخلاف نام نہاد جنگ سے فوری الگ ہو جائے اور نیٹو کی سپلائی بند کرکے ان سے ائیرپورٹ واپس لے لیے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ جمعے کو نیٹو حملوں کے خلاف مظاہرے کیے جائیں گے اور ریلیاں نکالی جائیں گی۔

md کہا...

لگ ایسا رہا کہ اپنے اپنے دل کی بھڑاس نکالنے کیلئے دو پلیٹ فارم تشکیل پارہے ہیں - مگر علمی کے بجائے ذاتیات پر زیادہ بات ہورہی ہے - ہر انسان کی سوچ وراثت ، ماحول ،اورلٹریچرکے زریعے تشکیل پاکر "انا"کا درجہ لے گئی ہے -یقین اتنا راسخ ہوگیا ہے کہ -میری سوچ کو دوسرے لوگ بھی اپنائیں کیونکہ یہی "حق" ہے گھر ہویاکہ باہر یاپھر کوئی محفل ہر جگہ یہی تماشا چل رہا ہے - اسکے لئے میں اپنی سوچ کا ایک گوشہ دکھا رہاہوں -میں مانگنے والے فقیر کو ایک روپیہ بھی نہیں دیتا ہوں -لیکن میں ایسے ضرورت مند لوگوں کو ڈھونڈ کر اتنے پیسے دینے کی کوشش کرتا ہوں کہ آج کے دن انکا دل خوش ہوجائے - پیسے دینے کے بعد میں تیزی سے اپنا منہ دوسری طرف پھیر کر فورا" ہی اس شخص سے دور ہوجاتا ہوں کہ کہیں وہ دُعا دینے نہ لگ جائے -اگر اسنے دُعا کیلئے الفظ استعمال کئے تو پھر دل دُعا نہ دے سکے گا - دل کا خوش ہونا دل کی دُعا ہے - اسی لئے کسی کےبھی دل کو دُکھانا نہیں چاہئے آپ نے عنیقہ کے بارے میں جو جملے لکھے رب جانتا ہے بہت دکھ پہنچا ہے جس کے لئے لکھا گیا ہے اُسے کتنا دکھ پہنچا ہوگا ؟ ذاتیات پر حملے نہیں ہونا چاہئے سخت قسم کے جملوں سے پرہیز کرنا چاہیے - عنیقہ کو بھی سوچنا چاہیے کہ عافیہ کے لئے کتنےہی مسمانوں کے دل میں عزت واحترام ہے - عنیقہ نے آخری پیرائیہ میں جو الفاظ استعمال کئے ہیں اس سے لوگوں کے دل دکھی ہو ئے ہیں - میری التجا ہے ذاتیات سے بچیں ،سخت قسم کے الفاظ استعمال نہ کریں - لوگوں کےدلوں کو دکھی نہ کریں - بہت شکریہ

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

ایم ڈی بھائی کیا معصوم سی التجا ھے آپ کی۔
یہ آجکل کی شروع ہوئی گروہ بندی نہیں ھے۔
:wink:

جاوید گوندل ۔ بآرسیلونا ، اسپین کہا...

انکا کاں چٹا ہے۔

نغمہ سحر کہا...

کچھ لوگوں کو اپنی اپنی پسند کا سچ اچھا لگتا ہے اور یہ لوگ اپنی سوچوں میں ایسے مقدس بت تخلیق کرلیتے ہیں اور ان کی پرستیش کرتے ہوئے یہ بھی کبھی نہیں سوچتے کے یہ کس مٹی کا بنا ہوا ہے مگر سچ تو سچ ہوتا ہے کسی کو اچھا لگے یا برا

ڈاکٹر جواد احمد خان کہا...

کئی سال پہلے ایک دن بیٹھے بٹھایے ایک بظاھر معمولی واقعه کے نتیجے میں مجھے یہ کہاوت سمجھ آگئی کہ دنیا جیسی دکھتی ہے ویسی ہے نہیں. دنیا کا بنیادی مادہ دھوکہ ہے . اسی لئے سیانے اسے دھوکے کی ٹٹى (چلمن) کہتے ہیں. دنیا میں چیزوں کی حقیقت بہت دیر میں اور بہت دور جا کر سمجھ آتی ہے. چیزیں بظاھر خوش نما اور خوش کن نظر آتی ہیں لیکن وہی بعد میں جان کا وبال بن جاتی ہیں. لوگ قیاس پر زیادہ بھروسہ کرتے ہیں اور جانچ پڑتال سے جان چھڑاتے ہیں. آپکو مارکیٹنگ آتی ہو تو آپ کچھ بھی بیچ سکتے ہیں. آپ کو یقین دلانے کا فن آتا ہے تو آپ دن کو رات ثابت کر سکتے ہیں. اسی لئے میں کہتا ہوں کے دنیا میں اکثریت پرسیپشن اور اقلیت ڈیسپشن کے اصول کے تحت زندگی بسر کرتے ہیں. انسانوں کا معاملہ بھی یہی ہے آپکو تقریباً ہر شخص ہی کچھ نہ کچھ بچتا ہوا یا خریدتا ہوا نظر آئے گا. کوئی دین ،کوئی دنیا ، کوئی محبوب آپکے قدموں والے تعویذ بیچ رہا ہے . کوئی عقل و دانش بیچ رہا ہوتا ہے اور کوئی وطن سے محبت بیچ رہا ہوتا ہے. دارومدار گاہگ پر ہے کہ وہ کیا خریدنا چاہتا ہے. ستم ظریفی یہ ہے کہ بیچنے والے کے پاس وہ چیز ہی نہیں ہے جس کے وہ گن گا رہا ہے.

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

ڈاکٹر جواد صاحب،ہمارے بلاگ پر خوش آمدید۔
آپ کی بات بالکل بجا ھے۔

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.