صدیوں سے رکا وقت

 


ماضی اور حال


مغل اعظم کی باقیات جب عیش پرست ہو گئی۔اور اقتدار صوبیداروں کے ہاتھ منتقل ہوگیا۔ظاہر ھے ان صوبیداروں نے بھی عیش وعشرت میں ہی پڑنا تھا۔مولوی مولویت اور تفرقہ بازی میں مصروف تھا۔دین  کے طالب علم گھر گھر گھوم کررنگ برنگی کھانے جمع کر کے کھاتے تھے۔اب اس  طرح کے کھانوں کی تاثیر ان طالب علموں کے مزاج میں آنی ہی  تھی۔ جہاں حلوہ دیکھا ٹوٹ پڑے۔عام مسلمان بھی ہندووں سے ذات پات کی پستی و بڑائی امپورٹ کر چکا تھا۔


عیش پرست صوبیداروں کو مرہٹوں نے فنا کیا۔ان مرہٹوں کا کباڑا افغانیوں نے کیا۔ہندو مسلمان مختلف قبیلوں  اور ذاتوں میں بٹے ہوئے تھے۔


جہاں موقع ملتا تھا ایک دوسرے کی گردن ناپتے تھے۔جہاں جہاں سکھوں کا راج تھا۔وہاں جس کی لاٹھی اس کی بھینس والا قانون تھا۔


مسلمان اپنے کردہ و ناکردہ گناہوں کی سزا بھگت رہا تھا۔مغلیہ شہنشاہیت  نام کی رہ گی تھی۔اس  پر بھی محلاتی سازشی اپنے اپنے شاہ کی گڈی چڑھانے میں مصروف تھے۔غریب عوام ظلم وستم کا شکار اور ایک وقت کی روٹی کی محتاج تھے۔جنہیں اس ملک کو سنبھالنا تھا۔وہ چھینا جھپٹی میں مصروف تھے۔


 ایسے حالات میں غیر ملکی طاقتیں قسمت آزمائی نہ کرتیں تو کیا کرتیں؟


اگر کاروباری شخص کو معلوم پڑے کہ مجھے یہاں سے منافع ملے گا۔اور وہ بھی خوب ملے گا۔


وہ کاروباری شخص موقع پرستی نہ کرے تو وہ کاروباری نہیں بے وقوف ھے۔


ان حالات میں مسلمانوں سے ہندوستان کا اقتدار ملکہ برطانیہ کے ہاتھ میں چلا گیا۔


عوام کو اس  سے کیا غرض ہوتی کہ حکمرانی اب  عرب ، ترک، تاتاری اور مغل  کے ہاتھوں سے نکل کر ملکہ جی کے ہاتھ میں چلی گئی۔


عوام کے لئے گاوں کا مکھیا ، بنیا ، پٹواری ہی حکمران تھا۔مسجد کا امام پیدائش پر کان میں اذان دے دیتا تھا مرنے پر جنازہ پڑھا کر کریا کرم کر دیتا تھا۔


اللہ اللہ تے خیر صلا۔


کچھ سر پھرے سر فروشوں نے دینی غیرت  کے نام پر سر کٹائے   ۔


اب عوام انقلاب لا کر گردنیں کٹوا کر دوبارہ دیسی آقاوں کو سر پر بیٹھا نے  کی مشقت کیوں کرتے؟


دیکھے بھالےہوئے تھے جی۔


دیسی آقا۔


قسمت نے یاوری کی ہند کے مسلمانوں کو پھر اللہ نے ملک عطا کیا۔وہ  بھی نسلی تعصب  اورخود غرضی  و ہٹ دھر می کا شکار ہو کر دو ٹکڑے  ہوگیا۔


اب پاکستان کے حالات دیکھتے ہیں۔تو لگتا ھے تاریخ کی کوئی کتاب پڑھ رھے ہیں جسے ڈیڑھ دو سو سال پہلے کسی نے لکھا ہو۔


لوٹ کھسوٹ کا  کلچر   ذات پات کی پستی بڑائی کا پنگا ۔


اور کچھ نہیں تو دوسرے  کی ذات  پر کیچڑ  اچھا لنا۔


پہلے تو ہر کسی کی ڈیڑھ اینٹ کی مسجد ہوتی تھی۔


 اب اپنا اپنا ملا آن لائن جیب میں لئے گھومتے ہیں۔


نسلی لسانی تنفر تو پڑھے لکھے طبقے میں انتہا کو پہونچا ہوا ھے۔


مذہبی جنونی خود کش حملہ کر کے اپنی بات منوانے پر بضد ہیں۔


دوسرے جنونی سب کو ایک تراوزے میں تولتے ہیں اوراپنی علمی بڑائی کے تکبر میں تمسخر اڑا کراپنی بات منوانے پر بضد ہیں۔


  عمومیہ دیدے پھاڑے کبھی ادھر کبھی ادھر   دیکھتے ہیں۔لیکن فائدہ کسی سے بھی ہوتا نظر نہیں آتا۔


عمومیہ دو با ٹوں میں پس رھے ہیں۔کہیں پڑھا تھا۔ کسی اجڑے ہوئے نے کہا تھا۔


زمین تنگ آسمان ناراض۔


ان حالات میں آستین کے سانپ ان عوام کو بھی ایک دوسرے سے لڑاتے ہیں۔جہاں موقع دیکھتے ہیں۔


کوئی نہ کوئی فساد والی بات نکال لیتے ہیں اور اچھے بھلے شریف النفس لوگ بھی ان خبیوثوں کی خباثت کا شکار ہو جاتے ہیں۔


ان خبیثوں میں نام نہاد رفامر  ،لعنتی  مالخولیائی مریض ، ابن الوقت کے چانٹے  تو ہر حال میں ہوتے ہیں۔


اور کچھ بے چارے پیدائشی معصوم جانور  کہ حالات نے انہیں موذی کر دیا۔


اگر کوئی بہانہ کرکے کوئی طاقت منہ میں خاک پاکستان پر قبضہ کر لیتی ہے۔


عوام کو  کوئی فرق پڑھے گا؟


ابن الوقت کے چیلے چانٹے تو اب بھی مزے میں ہیں۔بعد میں بھی مزے کریں گئے۔


جن کے پاس اقتدار ھے وہ خوب لوٹنا چاھتے ہیں۔کہ ایسے موقعے دوبارہ کہاں ملنے۔


جن کے پاس اقتدار نہیں ھے۔


انہیں خوف ھے۔کہ اب کشکول بھرنے والے بھی سختی کرتے ہیں۔


اس لوٹ کھسوٹ میں حصہ نہ ملا تو بعدمیں اقتدار ملا بھی تو کیا کرنا۔


خالی کشکولی حکومت۔بھوکی عوام۔  خاک مزا۔


بے چاری عافیہ صدیقی کو بھی سیاست کا ہتھیار بنا لیا۔


روزانہ ڈرون حملوں میں مرنے والوں سے کوئی مفاد وابستہ  نہیں اس لئے ہلاک ہوتے ہیں تو ہونے دو۔


خود کش حملہ میں مرنے والے بس ہلاک گئے۔


بچے بچیاں زیادتی کا شکار۔


بھوکوں نے خود کشی کر لی۔


جی جاپان کی سالانہ خودکشی کی شرح کو چھو رہی ھےپاک مسلمانوں کی خود کشیاں۔


سیلاب میں نہ جانے کتنی عافیہ اجڑ گئی ہوں گی۔


نہ جانے کتنی بھوکی پیاسی مر رہی ہوں گی۔


تیس ہلاک ۱۰ہلاک کی خبر لگانے والے نے لگا دی پڑھنے والا پڑھ کے گذر گیا۔


عافیہ صدیقی ہی رہ گئی تھی پاک قوم کی غیرت کو جھنجھوڑنے کیلئے؟


گلی گلی کوچے کوچے کا تعفن توبس زندگی کی رنگینیاں ہیں۔


اور کچھ نظر نہیں آرہا کیا؟

صدیوں سے رکا وقت صدیوں سے رکا وقت Reviewed by یاسر خوامخواہ جاپانی on 5:09 PM Rating: 5

6 تبصرے:

جہالستان سے جاہل اور سنکی ۔ کہا...

جناب جنون نوں گھٹ کرو ۔ آپ نہیں جے جاکے کٹ سکدے تے بندے ضرور بھیجنے ہن ۔

سعد کہا...

مجھے تو "انقلاب" نظر آ رہا ہے :D

افتخار اجمل بھوپال کہا...

کچھ دن قبل ايک بلاگ کو پڑتے پڑھتے ميں کھو گيا تھا اور بے خيالی ميں کچھ لکھ ديا تھا ۔ اُسے ہی يہاں کاپی پيٹ کر رہا ہوں

کبھی کبھی ميرے دل ميں خيال آتا ہے
کہ يہ دنيا جسے ميں بسيرا انسانوں کا سمجھتا تھا
کہيں يہ اُس جہنم کا ايک کونا تو نہيں
کہ دہکتے پتھر ہوں گے جس کے انگارے
پھر جس ميں انسان جلائے جائيں گے
اپنی بد اعماليوں بد فعليوں کے نتجہ ميں
ميں کانپ جاتا ہوں يہ سوچ آتے ہی
اور اشک ميرے گالوں پہ ڈھلک جاتے ہيں

ارشاد کہا...

بھیجہ فرائ ۔۔۔ :lol:

عثمان کہا...

سر جی۔۔۔۔
چاہیے تو یہ تھا کہ آپ بھی کوئی " انصاف کی پھانسی" نام کی دھانسو قسم کی پوسٹ امریکہ کی مذمت میں لکھتے۔
لیکن یہ کیا؟
آپ نے تو پاک لوگوں کی ناپاکیوں کے رونے شروع کردیے۔ 8O
بہت بری بات ہے!

کاشف نصیر کہا...

دفتر میں بہت مصروف ہوں اس لئے ابھی مضون پڑھا نہیں، جب فارغ ہوا تو پڑھوں گا اور تبصرہ کروں گا

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.