بڑ مکھیاں اور افلاطونیاں

افلاطون مالدار اور اشرافی گھرانے میں پیدا  ہوا۔افلاطون اسے اس لئے کہا جاتا تھا کہ اس کے شانے بہت چوڑے تھے۔


 وہ ایک حسین ، طاقتور و توانا اور خوش جمال نوجوان تھا۔ اعلی درجے کا سپاہی اور کھیلوں  کے مقابلے میں انعامات حاصل کر چکا تھا۔


جب افلاطون سقراط سے ملا تو اس کی زندگی میں انقلاب آ گیا۔ کہا جاتا ھے۔.


 کہ جس طرح کے ایام بلوغت افلاطون نے بسر کئے اسطرح کے لوگ فلسفی نہیں ہوتے۔


افلاطون نے  سقراط کی منطقی بازیگری میں نئی لذت پائی۔


جب افلاطون دیکھتا کہ استاد سقراط  اپنے سوالوں کی تیز نوک سے معتقدات اور مسلمات کے غباروں  میں شگاف کر دیتا ھے ۔


تو اسے بڑا لطف آتا۔


سقراط کا بحث و مباحثہ میں دستور تھا۔کہ سوالات پہ سوالات کرتا جاتا تھا۔سقراط نے اپنا نام کہن سالہ بڑ مکھی  رکھا ہوا تھا۔


اس نئی لذت اور لطف سے متاثر ہو کر افلاطون   فلسفیوں کے کھیل میں داخل ہوا۔


افلاطون اپنے بارے میں کہتا ھے۔


خدا کا شکر ہے ۔ کہ میں نسلا یونانی ہوں۔ وحشی نہیں۔ حر ہوں۔ غلام نہیں۔ مرد ہوں۔عورت نہیں۔


لیکن سب  سے زیادہ مقام شکر ھے۔کہ سقراط کے زمانے میں پیدا ہوا ہوں۔


جب استاد سقراط بڑ مکھی کی وفات ہوئی  ۔


افلاطون کی پر سکون زندگی کو اس حزن آمیز انجام نے روحانی و ہر فطری پہلو  سے متاثر کیا۔


اس کے دل میں عمومیہ کی طرف سے سخت نفرت پیدا ہوگئی۔ عوام کو وہ فرد مایہ جاننے لگا۔


اشرافی گھرانے میں ولادت اور تربیت بھی اس کے دل میں حقارت کے یہ شدید جذبات پیدا نہ کر سکتی تھی۔


افلاطون نے عزم کر لیاکہ عمومیہ کو برباد کردینا ھے۔ اور حکومت  اسے حاصل ہونی چاھئے۔


جو معاشرے کا بہترین اور دانا ترین فرد ہو۔


اس کی زندگی کی انتہا یہ ہوگئی تھی اور وہ اسی میں منہمک رہا۔کہ معاشرے کے بہترین اور دانا ترین فرد کو تلاش کرے۔


  اور اسے ترغیب دلائے کہ وہ حکومت کا بیڑا اٹھائے۔


یہ  تو افلاطون کی افلاطونیاں تھیں!!۔


پاک لوگاں کی افلاطونیاں کچھ اس طرح کی ہیں۔کہ بت تراش کے ان سے بڑ مکھی جیسی رہبری مانگتے ہیں۔


یا ان بتوں کی پوجا کی غایت میں اپنی افلاطونی عقل پر دبیز  پردے ڈال ہوئے ہیں۔


اور یہ بت۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔خود ساختہ بڑ مکھیاں ۔


مفاد پرست ہیں۔پجاریوں کو بے وقوف بنا کر اپنا الو سیدھا کرتے ہیں۔


پجاری ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔لکیر کے فقیر۔۔۔۔


یہ بت۔۔۔۔۔۔۔بڑ بڑ  بڑ بڑ کرتے۔


خود ساختہ بڑ مکھیاں ۔


افلا طونیوں کی افلاطونیوں کو سلام۔


کہ انہیں نظر ہی نہیں  آتا یا دیکھنا ہی نہیں چاھتے کہ


یہ خودساختہ بڑ مکھیاں زہر کا پیالہ پینے والیاں نہیں۔


انہی افلاطونوں کو زہر پلانے والیاں ہیں۔


بڑ بڑ بڑبڑ بڑ بڑ :mrgreen:

بڑ مکھیاں اور افلاطونیاں بڑ مکھیاں اور افلاطونیاں Reviewed by یاسر خوامخواہ جاپانی on 10:54 AM Rating: 5

10 تبصرے:

امتیاز کہا...

واہ جناب بہت اعلی افلاطونی ماری ہے آپ نے
بڑبڑبڑبڑبڑبڑ

کاشف نصیر کہا...

بڑی خوب افلاطونیاں ہیں....
ویسے پاک لوگاں نے اپنے میں سے سب سے دانا ترین شخص کو حکمران بنایا ہوا ہے بلکہ اصل میں تو یوں ہے کہ دانا ترین شخص نے پاک لوگاں کو اپنی ریاعا بنایا ہوا ہے. ہے نہ اعجاز اور امتیاز کی بات...............

جہالستان سے جاہل اور سنکی ۔ کہا...

تھوڑی سے مزید کوشش کریں تو ایسی باتیں گوتما بدھا اور کنفیوشش صاحب کے بارے میں کہنے کے لیے بھی لٹریچر دستیاب ہے جی ۔

عطا محمد تبسم کہا...

ہمیں افلاطون نہیں سیدھے سادے لوگ چاہیئے۔

تانیہ رحمان کہا...

بہت اچھی معلومات دی ہیں ۔۔۔ میں سوچ رہی ہوں ہمارے ملک میں اس وقت افلاطون اور سقراط کہاں ہیں

افتخار اجمل بھوپال کہا...

مجھے تو صرف يہ ياد ہے کہ جو بچہ شراتی ہو بڑے کہتے " يہ افلاطون ہے " اور يہ بھی سنا تھا کہ پتنگ جسے پنجابی ميں گُڈی کہتے ہيں افلاطون کی ايجاد ہے

نغمہ سحرِ کہا...

ہمارے یہاں کیا افلاطونوں اور سقراطوں کا قحط ہے جو ہزاروں سال پرانے یونانی بقراطوں کا قصہ دہرائیں ہمارے ہر علاقے ہر محفل ہر خاندان میں ایک سے بڑھ کر ایک نظر آتا ہے آج اگر یہ یونانی فلسفی پیارے پاکستان میں ہوتے تو ان کی ساری بقراتیاں ، سقراتیاں اور افلاطونیاں دھری کی دھری رہ جاتیں۔

عادل بھیا کہا...

اب تو جہاں دیکھو ہر بلاگ پر ایسی ہی کہانیاں سننے کو مل رہی ہیں. سبق آموز کہانیاں....

کا باسی باپ کی تلاش میںHouston کہا...

خوامخواہ افلاطون

کا باسی باپ کی تلاش میںHouston کہا...

Soon your an your Bio Father blogg is hack :lol:

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.