اشتہار یا لطیفہ؟

ایکسپریس اخبار پڑھ رہا تھا۔کہ اس اشتہار پر نظر پڑی۔

کیا زبردست کامیاب زندگی حاصل کرنے کا آسان حل ھے۔

صرف ایک اشتہار سے خوابوں کی تکمیل !!۔

وہ بھی چوپڑی ہوئی دودوکھانے کا شوق۔

کیا خود اعتمادی ہے جی!!!۔

ہمارے منہ سے یہ اشتہار دیکھ کر گرو گھنٹال کے الفاظ

در باش نکلے!!۔

آپ کا کیا خیال ہے جی؟

ہم بھی کوئی ایسا اشتہار لگا کر آپ سے در باش حاصل کریں؟

:lol: :lol: :lol:

اشتہار یا لطیفہ؟ اشتہار یا لطیفہ؟ Reviewed by یاسر خوامخواہ جاپانی on 11:04 PM Rating: 5

14 تبصرے:

جعفر کہا...

یہ نہ اشتہار ہے نہ لطیفہ
بےغیرتی ہے!
اور برسبیل تذکرہ در شاباش گروگھنٹال کی ترکیب نہیں، بلکہ بقول گرو گھنٹال اس کے گرو کی ہے۔۔۔
واللہ اعلم بالصواب

سعد کہا...

یہ ذہنی طور پر کھسکا ہوا تو نہیں؟

شعیب صفدر کہا...

خوابوں کی دنیا مین رہنے والی نسل کا یہ ہی المیہ ہے! دولت ملے بس! کچح کیئے بغیر سہل زندگی گزانے اورخود کو فلموں کی کہانیوں کا ہیرو سمجھنے والے اُلو کے پٹحے ایسے ہی اشتہار دیں گے نا اخبار میں

یاسر عمران مرزا کہا...

یہ کوئی پہلا اشتہار تو نہیں اس طرز کا۔ اس طرح کے اکثر اشتہارات میگنزینوں اور رسالوں میں شائع ہوتے رہتے ہیں۔ اور کچھ اشتہار یورپ سیٹل فیملیز کی طرف سے بھی ہوتے ہیں۔ جن کی ریکوائرمینٹ، پڑھا لکھا ، انجینر ، ڈاکٹر اور خوبصورت نوجوان ہوتا ہے اور اشتہار میں لکھا گیا ہوتا ہے کہ نوجوان دوشیزہ کے لیے رشتہ درکار ہے جب کہ ہوتی وہ کوئی آنٹی ہے۔ ہاں بعض اوقات اچھے لوگ بھی مل جاتے ہیں مگر مجموعی طور پر یہ لڑکا یا لڑکی خریدنے جیسا ہوتا ہے۔

کاسف نصیر کہا...

یہ صرف موصوف کی بے غیرتی نہیں بلکہ متعلقہ اخبار کی بھی غیر ذمہ داری ہے۔ اس طرح کے اشتہارات بہت عام ہیں اور اخبارات والوں انکے چھاپتے ہوئے کوئی شرم بھی نہیں آتی۔

کاسف نصیر کہا...

اس فون نمبر پر ایس ایم ایس کیا ہے "بڑے صاحب شرم تم کو مگر نہیں آتی"۔ آپ حضرات بھی زیادہ سے زیادہ تعداد میں ایس ایم ایس کریں اور ثواب داریں حاصل کریں۔

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

ارے باپ رے پاپ!!
ارے گرو گھنٹال کا گرو بھی!! :mrgreen:
سعد جی بالکل نہیں کھسکا ہوا بس انڈین فلمیں زیادہ دیکھتا ھے۔
شعیب جی بالکل متفق۔ :lol:
یاسر جی میں وہ دوشیزاوں والے اشتہا بڑے غور سے پڑھتا ہوں۔لیکن یہ اشتہار نمایاں جگہ پر لگا ہوا تھا۔ :D
کاشف جی آپ متشدد ہو :wink:

افتخار اجمل بھوپال کہا...

يہ اُڑتے پرندے ہيں ۔ ميں صرف شُغل کي خاطر کافی عرصہ ضرورت رشتہ کے اشتہار پڑھتا رہا ہوں ۔ ابھی چند سال قبل پڑھنے چھوڑے ہيں ۔ ايسے اشتہار کوئی 15 سال قبل شروع ہوئے ۔ ويسے بڑے بڑے دلچسپ اشتہار ہوتے ہيں

محمد احمد کہا...

بے غیرتی والی بات ہی ٹھیک رہے گی.

منیر عباسی کہا...

جنھوں نے بھی اشتہار دیا ہے، حقیقت کو تسلیم کیا ہے. ایسے لوگ جو حقائق کو تسلیم کر کے اپنی زندگی کو ڈھال لیتے ہیں وہی کامیاب رہتے ہیں. ذہنی طور پر بھی، جسمانی طور پر بھی اور مالی طور پر بھی.

اس نے ایسا کیا تو کیا برا کیا؟

ہم سب کو صرف موقع ملنے کی دیر ہے، رشتہ داروں کے طعنوں کا مناسب جواب سوجھنے کی دیر ہے، اور "لوگ کیا کہیں گے " کا جملہ بھولنا ہے، یہ سب کچھ ہم بھی حاصل کر سکتے ہیں.

آزمائش شرط ہے.

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

ڈاکٹر صاحب
اسے لئے میں نے آپ کا خیال پوچھا تھا۔ :D :D
جب میر اشتہار دیکھ سب در شاباش دے رہے ہوں گے۔
تو آپ کا تبصرہ سامنے کر دوں گا :lol: :lol: :lol:

منیر عباسی کہا...

بس مجھے سامنے نہ کر دیجئے گا.

میرے تبصرے کی خیر ہے.
کہیں تو ایک دو اور سیاسی قسم کے تبصرے آپ کی حمایت میں داغ دوں؟؟

عطاء رفیع کہا...

اشتہار میں کچھ شرائط ہیں. اس کی وضاحت کیوں ہے؟ مطلب اب بانجھپن بھی نقطہ ارتکاز ہے کسی کا.

ارتقاءِ حيات کہا...

بانچھ خاتون شائد اس لئے کہ بعد میں ان کی دولت کا کوئی حقدار ہی نہ رہے
موصوف نے مستقبل کا مکمل پلان بنا رکھا ہے جی

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.