عصر

۔ہندو ازم دنیا کے بڑے مذاہب میں سے ایک ہے۔اس کی تاریخ چھ ہزار سال پرانی ہے۔ہندوﺅں کی مقدس کتابوں ویدوں، مہابھارت اور گیتا میں الہامی شان ہے۔ہندو ازم کے پاس ایک خدا کا تصور ہے، رسالت کا تصور ہے۔جنت، دوزخ کا تصور ہے۔لیکن ہندو ازم کی گزشتہ ایک ہزار سال کی تاریخ ہمارے سامنے ہے۔ہندو اور ہندو ازم اس طویل مدت میں خود کو عصر سے مربوط نہیں کر سکا۔


مسلمانوں نے بھارت پر ایک ہزار سال حکومت کی اور اس عرصے میں ہندو ازم اسلامی تہذیب کے اثرات قبول کرتا رہا۔ مسلمانوں کے بعد انگریز آگئے اور دوسو سال تک بھارت پر راج کرتے رہے۔اس عرصے میں ہندوﺅں کے موثر طبقات کی کوشش یہ رہی کہ وہ جہاں تک ممکن ہو سکے خود کو مغربی تہذیب اور قانون و سیاست سے ہم آہنگ کرتے رہیں۔


 راجہ رام موہن رائے ہندوﺅں کے سرسید تھے مگر راجہ رام موہن رائے کی تحریک سرسید کے مقابلے میں بہت زیادہ کامیاب ہوئی۔ ہندو راجہ رام موہن رائے اور ان جیسے لوگوں کی تحریکوں کے زیر اثر زیادہ سے زیادہ جدید ہوتے گئے مگر اس جدیدیت کا ہندو ازم کے بنیادی تصورات سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ ہندو ازم کوئی اور چیز تھا اور جدیدیت کوئی اور شے۔


سر سید کی شخصیت پرستی  میں  جدید مغربی  دنیا کی دو سو سالہ تاریخ  سے مرعوب  اسلام کی بارہ سو سالہ تاریخ کو تاریکی کا دور ثابت کرنے پر تلے بیٹھے ہیں۔ ان کا کہنا کہ مسلمان تعلیم سے نا آشنا تھے۔ان ناخواندہ مسلمانوں کی بارہ سو سالہ تاریخ شاہد ھے کہ  ہندوستان کو انہی مسلمانوں نے روشنی سے منور کیا۔جہاں جہاں مسلمان گئے دوسری قومیں تعلیم اور تہذیب کے معاملے میں مسلمانوں کی  مر ہون منت رہیں۔


ہندوستا ن میں مسلمان دس بارہ فیصد ہونے کے باوجود اپنی طرز تعلیم کے ذریعے باقی نوے فیصد ہندووں پر حکومت کرتے رہے۔ہندو مسلمانوں کی زبان تعلیم تہذیب کے ذریعے ہی صدیوں حکومت کے انتظامیہ میں شریک کار رہے۔


خود انگریز برسہا برس تک مسلمانوں ہی کے دئیے ہوئے انتظامیہ کو اپنائے رہا ۔راجہ رام موہن رائے جیسا کٹر مذہب پرست ریفارمر فارسی اور اردو میں اخبار نکال کر اپنی قوم کو مسلمانوں کے قریب کرنے کی اسی طرح کوشش کرتا رہا۔


جس طرح بعد میں سرسید نے مسلمانوں کو انگریز حکمرانوں سے ہم  آہنگ کرنے کی کوشش کی۔


مسلمان تعلیم یافتہ تھے۔ لیکن اس اصطلاح میں نہیں جس اصطلاح میں نئے حکمرانوں کو مطلوب تھے۔ اسی لئے مسلمانوں کی تعلیم و ہنر  ، علوم و فنون ، عظیم ہونے کے باوجود ذریعہ روزگار بننے سے محروم ہو گئے۔


جو تعلیم باعث خوشنودئی حکمران تھی وہ مسلمانوں کے لئے اجنبی تھی اور اجنبی ہی نہیں باعث نفرت بھی۔


مسلمانوں کیلئے یہ ایک ایسا امتحان تھا کہ یا تو اجنبی تعلیم کو اپنا کر اپنی تعلیم سے اجنبی ہو جائیں۔


یا پھر اپنی تعلیم کا تحفظ کریں اور اجنبی تعلیم سے کنارہ کش رہیں۔ہندو کیلئے یہ  مسئلہ در پیش نہیں تھا۔ ایک محکوم جو صدیوں سے محکومیت کے عادی تھے۔


ان کےلئے ایک حکمران سے دوسرے حکمران کی رعیت میں چلے جانا اس طرح تھا۔ جس طرح ایک ملازم کو پرانے منیجر کی ماتحتی سے نئے منیجر کی ماتحتی میں منتقل ہو جانا۔


سر سید کے سامنے جوعصری مسائل تھے۔ کہ کس طرح انگریز کو یہ باور کرایا جائے کہ ہر مسلمان ان کا دشمن نہیں بیشتر خیر خواہ بھی ہیں۔


ہر مسلمان ان سے عدم تعاون نہیں چاہتا کئی ایک ان کے ساتھ بہترین معاون و مدد گار بھی ہو سکتے ہیں۔


مقصد سر سید کا یہی تھا کہ مسلمانوں کو  روزگار کے مواقع مہیا کیئے جائیں۔ چاھئے  اس روزگار کیلئے قرآن کی تفسیر میں تحریف ہی   کرکے ہو۔


اسلام کی عظمت صرف یہی نہیں ہے کہ وہ اللہ کا آخری پیغام ہے بلکہ اس کی عظمت یہ بھی ہے کہ اسلام بیک وقت قدیم بھی ہے اور جدید بھی۔ اس کے قدیم ہونے کے معنی یہ ہیں کہ اس کے عقائد ازلی و ابدی ہیں۔ اس کی عبادات کا نظام مستقل ہے۔اس کا اخلاقی بندوبست دائمی ہے۔اس کے جدید ہونے کا مفہوم یہ ہے کہ وہ ہمیشہ اپنے زمانے یعنی اپنے عصر سے متعلق رہتا ہے۔اس کے مسائل و معاملات پر نگاہ رکھتا ہے۔اس کے چیلنجوں کا جواب دیتا ہے۔


اور اس طرح اپنے پیروکاروں کو ایمان و یقین کی دولت سے کبھی محروم نہیں ہونے دیتا۔ اسلام دائمی طور پر زمانوں کے درمیان پل کا کام انجام دیتا رہتا ہے۔چنانچہ اسلام کے دائرے میں ایک زمانہ دوسرے زمانے سے متصل منسلک اور مربوط رہتا ہے اور زمانی تسلسل برقرار رہتا ہے۔یوں اسلام کی فکری کائنات میں قدیم اور جدید کے درمیان خلیج حائل نہیں ہوتی۔


 


 عصر کا سوال سب سے پہلے امام غزالیؒ کے زمانے میں اٹھا۔ اس زمانے میں یونانی علوم مسلمانوں میں تیزی کے ساتھ پھیل رہے تھے اور سوال پیدا ہو رہا تھا کہ ان علوم کا مسلمانوں کے بنیادی عقائد سے کیا تعلق ہے؟


 امام غزالیؒ نے اس سوال کا جواب دیا۔ اس سلسلے میں انہوں نے یہ طریقہ کار اختیار کیا کہ یونانی علوم پر انہی کے اصولوں کی روشنی میں تنقید لکھی اور ان علوم کے داخلی تضادات کو نمایاں کر دیا۔ اس کے ساتھ ہی غزالیؒ نے یہ بھی دکھا دیا کہ ان علوم کا مسلمانوں کے بنیادی اصولوں سے کیا تعلق ہے؟


غزالیؒ کی تنقید نے مسلمانوں کو یونانی علوم کے اثرات سے محفوظ کر دیا۔مسلمانوں کی تاریخ میں زمانہ یا عصر کا سوال دوسری مرتبہ 19 ویں اور 20 صدی میں اہم بن کر سامنے آیا۔ برصغیر میں اقبال پہلی شخصیت تھے جو اس سوال سے نبرد آزما ہوئے۔انہوں نے اپنی بے مثال شاعری میں اس سوال کی جزیات تک کو کھول کر بیان کر دیا اور بتا دیا کہ اسلام کا جواب اس سلسلے میں کیا ہے؟


 اقبال عصر کے چیلنج سے گھبرائے نہیں بلکہ انہوں نے چیلنج سے قوت کشید کی اور اسے اپنے لیے قوت محرکہ بنا لیا۔ چنانچہ انہوں نے فرمایا


مسلماں کو مسلماں کر دیا طوفان مغرب نے


تلاطم ہائے دریا ہی سے ہے گوہر کی سیرابی


 اقبال نے جو کام شاعری میں کیا مولانا مودودیؒ نے وہی کام نثر میں کیا۔ اس طرح کے کاموں میں شاعری پر نثر کو یہ فوقیت حاصل ہے کہ اس میں بات کو زیادہ کھول کر بیان کیا جا سکتا ہے۔اور اسے زیادہ سے زیادہ دلائل سے آراستہ کیا جا سکتا ہے۔


 اس کام کی اہمیت دوسرے مذاہب کی تاریخ کی روشنی میں نمایاں ہو کر سامنے آتی ہے جنہوں نے یا تو عصر کے سامنے گھٹنے ٹیک دیے یا اس کی طرف پیٹھ کر کے کھڑے ہوگئے۔ظاہر ہے یہ دونوں مثالیں عصر کے ہاتھوں مذہب کی شکست کی مثالیں ہیں۔


مغرب کی مرعوبیت میں ہماری ایک خاتون لیڈر  اللہ ان کی مغفرت کرے  انہوں نے ایک دفعہ اپنی تقریر میں فرمایا تھا۔کہ ہمیں   مودویؒ کا اسلام نہیں چاھئے۔ہمیں  اقبالؒ کا  اسلام چاھئے۔سننے والوں نے خوب تالیاں بجائیں تھیں۔ لیکن کسی نے بتانے کی کوشش نہیں کی کہ اقبالؒ اور مودودیؒ کے اسلا م  میں فرق کیا ھے؟


   اقبالؒ اور مودودیؒ سے بغض معاویہ کون رکھتے ہیں؟۔ یہ سب پر عیاں ھے۔ اقبالؒ نے سب سے پہلے قادیانیت کو ایک علیحدہ مذہب قرار دیا۔اور مودودیؒ نے انہیں کافر قرار دینے کی  تحریک میں  جان  جوکھوں میں ڈالی۔علما کرام کو  مودودیؒ پر اعتراضات ہیں یا مخالفت ضرور کرتےہیں۔لیکن انہیں کافر کوئی نہیں کہتا۔ مودودیؒ کی شدت کے ساتھ مخالفت کرنے والے قادیانی یا پھر قادیانیوں کے ہمنوا شدت پسند روشن خیال ہیں۔


یا پھر ان کے جالوں میں پھنسے ہوئے۔سادہ لوح لوگ جو ان کی حمایت کرتے ہیں ۔


 عصری علوم کی  اہمیت   اس وقت  مسلمانوں کیلئے پہلے کی نسبت زیادہ ھے۔لیکن اگر مسلمان اسلام کو چھوڑ کر عصری علوم کیلئے گھٹنے ٹیک دیں۔


تو کیسا مسلمان اور کیسی مسلمانی؟


 اگر  اسلام کے  ازلی و ابدی عقائد میں تبد یلی کر کے ہی  یہ عصری علوم حاصل کرنے ہیں۔تو اسلام سے چمٹے رہنے کی کیا ضرورت ھے؟ کوئی بھی مذہب اختیار کرکے یہ عصری علوم  حاصل کریں۔مسلمانوں میں اس وقت اتنی طاقت نہیں ہے۔


کہ مسلمانی  چھوڑ نے والوں کی گردن زنی کر سکیں۔ ہماری ایسے شدت پسند روشن خیالوں سے یہی گذارش ھے۔


حمام میں یا حمام سے  باہربے شک ننگے نہائیں لیکن اسلام  کےازلی و ابدی عقائد میں چھیڑ چھاڑ کرکے شدت پسند روشن خیالوں سے  نظریاتی یا فکری اختلاف رکھنے والوں کا تمسخر نہ اڑائیں۔


اور زبردستی اپنے نظریات یا عقائد  روشن خیالیوں  سےاختلاف کرنے والوں پر نہ ٹھونسیں۔


ایسا کرنے سے  دہشت گرد مذہبی جنونیوں  اور   شدت پسند روشن خیال جنونیوں میں ہمیں کوئی فرق نظر نہیں آتا۔


 سر سید کی تحریک اور اس کی عصری معنویت   اور              مذہب اور عصر 


ہم نے ان دو تحریروں سے کانٹ چھانٹ کر اپنی بات لکھ دی۔   :lol:   


خاص کر ہمیں علیم  خان فلکی صا حب کا تحریر کا انداز نہایت پسند آیا۔

عصر عصر Reviewed by یاسر خوامخواہ جاپانی on 4:11 PM Rating: 5

18 تبصرے:

جہالستان سے جاہل اور سنکی ۔ کہا...

آج تو ہمیں بھی ہندوؤں کے سرسید صاحب کا پتا چلا وگرنہ ہم نے تو یہی سنا تھا کہ ہر ہندو ہی سر سید صاحب ہوتا ہے ۔ اچھا ہی چل رہا ہے نا جی ایدھر بھی اور اودھر بھی ۔

جعفر کہا...

سبحان اللہ اور جزاک اللہ کہنے پر تو طالبان ہونے کافتوی ‘پیندی سٹّے‘ لگ جاتا ہے
اور میں جارہوں پاکستان چھٹی پر
اس لئے یہ فتوی لگواکے کیوباجانے کا کوئی پروگرام نہیں
اس لئے
براوووو، چئیرز۔۔۔ وغیرہ

منیر عباسی کہا...

جعفر ایک عدد "ٹوسٹ" بھی کر دیتے سنہری جام کا تو روشن خیالی میں کوئی شک نہ رہ پاتا.

کاشف نصیر کہا...

یاسر جی تسی گریٹ ہو

عین لام میم کہا...

عمدہ کانٹا چھانٹا ہے جی آپ نے.....
:)

افتخار اجمل بھوپال کہا...

آپ نے پاکستان کب آنا ہے ؟
ميرا جی چاہتا ہے آپ کو شريں محل لاہور کی مٹھائی
يا
راحت بيکرز اسلام آباد کا کيک
کھلاؤں

عنیقہ ناز کہا...

یاسر صاحب، میں چونکہ اس وقت گھریلو سطح پہ اس وقت خاصی مصروف ہوں اس لءے صرف یہی لکحونگی کہ آپکی بیشتر اطلاعات لا علمی اور جانبداریت کا نتیجہ ہیں. آپ نے لکھا کہ راجہ رام موہن رائے کی تحریک سر سید سے زیادہ کامیاب رہی. انتہائ غلط. در حقیقت تنقید نگاران جن میں داکٹر انور سدید بحی شامل ہیں راجہ رام موہن رائے کو بیشتر سلسلوں میں ناکام قرار دیتے ہیں. آپ نے جو ایک کے بعد ایک اس سلسلے میں تحاریر دینے کا سلسلہ قائم کیا ہے اور جس میں آپ صرف سر سید کو گالیاں دینے سے باز رہیں ہپیں تو ایسے میں بنیاد پرست ، لا علم اور جانبدار لوگ ہی جزاک اللہ اور چیءرز کہہ سکتا ہے باقی لوگ سر پکڑ کر بیٹھیں گے کہ یہ ہے ہماری قوم کی اپنی تاریخ کے بارے میں معلومات. خدا اپکو مزید علم سے نوازے.

کاسف نصیر کہا...

یار جعفر جلدی سے پاکستان آجاو، لاہور اور اسلام آباد جاتے ہوئے ہمیں بھی ساتھ لے چلنا۔ اپنے افتخار صاحب موڈ میں ہیں کیا پتہ ہمارا بھی بھلا ہوجائے۔ ویسے ایک بات بتاو افتخار صاحب کو تم پر اتنا پیار کیوں آرہا ہے۔

کاسف نصیر کہا...

عنیقہ آپا گھریلو سطح پر مصروف ہوکر آپ اتنے تبصرے اور بلاگ پوسٹ رہی ہیں کہ لگتا ہے کہ سسر جی خدمت سے فارغ ہوئیں تو اردو سیارہ ہوگا اور آپ ہونگی۔۔۔۔

ارے جی ٓاپ سرسید کی مداح ہیں آپ مداحہ سرائی کریں، ہم نقاد ہیں اس لئے ہم تو تنقید کریں گے۔ اور جانبداری تو چھوڑیں جی کہ اس نام کی چڑیا اس دنیا میں کہیں نہیں پائی جاتی۔

جاویداقبال کہا...

السلام علیکم ورحمۃ وبرکاتہ،
سرسیداحمدکااورکوئی کارنامہ ہویانہ ہولیکن انہوں نےمسلمان قوم کوان مشکل حالات میں ایک صحیح سوچ عطاء کی ماناکہ ان سےغلطیاں ہوئیں ہیں کیونکہ وہ انسان تھےلیکن اصل میں وہی سوچ کی بدولت اس قوم کوایک راستہ ملا۔بات پھروہی ہےکہ تنقیداپنی جگہ ٹھیک ہےلیکن تنقیدبرائےتنقیدنہیں تنقیدبرائےصلاح ہوتومزاآتاہے۔اللہ تعالی ہم کوصحیح طورپراسلام کاعلم عطاء فرمائے۔ آمین ثم امین
والسلام
جاویداقبال

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

عنیقہ جی۔
میں نے تحریر دوسروں کی کانٹا چھانٹی ضرور کی ھے۔
لیکن تصدیق خود پڑھ کر کی ہے۔
ہم سر سید کا گالیاں نہیں دیتے۔
نہ ہماری سوچیں تاریک ہیں۔یقین مانئے میں بنیاد پرست ہوں۔
عصری علوم کا بھی حامی ہوں ۔ہوائی جہاز اڑانے کی ناکام کوشش بھی کر چکا ہوں۔:lol: :lol: :lol:
الحمد اللہ کبھی بھی میں نے بنیاد پر ست ہونے سے انکار نہیں کیا۔
نئی اسلامی بنیادیں کہاں سے کھڑی کروں جی۔ :mrgreen:

نغمہ سحرِ کہا...

یاسر خامخواہ صاحب یہ آپ نے بنیاد پرستی کی اصطلاح کہاں سے لی کیا مولانا مودودی صاحب یا علامہ اقبال نے اپنے آپ کو کبھی بنیاد پرست کہا یا کوئی بھی اسلامی تاریخ میں ایسی شخصیت ہے جس نے اپنے آپ کو بنیاد پرست کہا یا کہلوایا
دوسری بات یہ کہ روشن خیالی یا انتہاپسندی کا تعلق مذھب یا عقیدے سے نہیں ہوتا بلکہ اس کا تعلق انسان کے مزاج اور رویے سے ہوتا ہے اور اس کا اثر زندگی کے ہر معملات جیسے کاروباری،معاشرتی ،سیاسی اورخاندانی امور پر نظر آتا ہے جس میں صبر ، برداشت ، اعتدال اور احترام ہو میں اسے روشن خیال ہی سمجھتی ہوں اور ان حوالوں سے اقبال بھی روشن ضمیر اور روشن خیال ہی نظر آتے ہیں۔

کاشف نصیر کہا...

نغمہ جی بنیاد پرستی نئی اصطلاح ہے. اگر اقبال مرحوم کے دور میں یہ اصلاح ہوتی تو وہ سینہ کان کر کہتے کہ میں بنیاد پرست ہوں.یہی دیکھیں کہ اقبال کی پوری شاعری بنیاد پرستانہ سوچ کی شاعری ہے. انکے کلام کی پر ہرت اسلام کی بنیادوں سے جڑی ہوئی نظر آتی ہے. وہ سر سید سے ملکل بھی متفق نہیں تھے.

خوش تو ہیں ہم بھی جوانوں کی ترقی سے مگر
لب خنداں سے نکل جاتی ہے فریاد بھی ساتھ
ہم سمجھتے تھے کہ لائے گی فراغت تعلیم
کیا خبر تھی کہ چلا آئے گا الحاد بھی ساتھ
گھر میں پرویز کے شیریں تو ہوئی جلوہ نما
لے کے آئی ہے مگر تیشۂ فرہاد بھی ساتھ
''تخم دیگر بکف آریم و بکاریم ز نو
کانچہ کشتیم ز خجلت نتواں کرد درو

اب بولیں (8)

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

نغمہ جی آسان سی بات ھے۔
اللہ میاں ایک، شرک کا اسلام میں حرا م ہونا، پیارے آخری نبی و رسولﷺ ایک ، قرآن ایک۔ آخرت پر ایمان،اللہ میاں نے انسانوں کی اصلاح کیلئے رسول اور نبی بھیجے اور انہیں آسمانی کتابیں دیں ،فرشتے اللہ میاں کی مخلوق
نماز پڑھنی ہے سانس نکلنے تک۔
روزہ رکھنا ہے۔ اگر کھانے کو نہ ملے تو روزہ ہی کھا جائے توبھی روزے کا انکار نہیں کر سکتا۔
مال شال پلے پڑ جائے تو زکات تو دینی ہی دینی ھے۔
جان مشکل ڈال کر اور مال کا خرچہ ہونے کے باوجود حج کرنا ہی کرنا ھے۔
بس جی مجھے تو یہی کچھ بنیاد پرست بناتاھے۔
آپ کی روشن خیالی کی اصطلاح سے کوئی بھی انکار نہیں کر سکتا۔اور یہی حقیقت ھے۔
اور یہی حقیقت مجھے بنیاد پرست بنا دیتی ھے۔
نبی اکرمﷺ کی احادیث مبارکہ اور قرآن پاک میں بھی کچھ ایسی ہی تعلیمات ملتی ہیں جی۔ مجھے یقین ہے اس بارے میں آپ مجھ سے زیادہ جانتی ہیں۔:D
اس لئے ہمارے عقیدے اور مذہب میں روشن خیالی نہ ہونے والی کوئی شے مجھے تو نظر نہیں آئی۔
:mrgreen:

نغمہ سحرِ کہا...

جناب کاشف نصیر صاحب
بنیاد پرست کی اصطلاح اقبال کے زمانے میں بھی تھی مگر یہ کلیساوں اور راہبوں کی حد تک 1905 میں باقائدہ ایک تحریک کی شکل اختیار کرچکی تھی اس کا مرکز یورپ کا وہ ہی ملک تھا جہاں سے اقبال نے فلسفہ میں ڈاکٹریٹ کیا تھا اور آپ کے خیال میں اقبال اتنے لاعلم تھے کہ انھیں اتنی اچھی اصطلاح علم ہی نہیں تھا اور اپنی لاعلمی سے سینہ ٹھوک کر یہ کہنے سے محروم رہگئے کہ میں بنیاد پرست ہوں
اقبال کی شاعری میں اتنی وسعت ہے کہ دنیا ریسرچ اور تحقیق میں سر کھاپا رہی ہے
آپ نے دو لفظوں میں بنیاد پرست بنادیا
پاکستانی کہتے ہیں ہمارا قومی شاعر ہے ہندوستانیوں کا دعویٰ ہے اقبال ان کا ہے یورپ بھی کلیم رکھتا ہے چائنا والے کہتے ہیں اقبال ہمارا ترجمان ہے۔
اقبال کے بارے کچھ کہنے سے پہلے اقبال کی بائیو گرافی پر ایک نظر ڈال لیں انشاءاللہ علم میں اضافہ ہوگا۔

علیم خان فلکی کہا...

یاسر خوامخواہ جاپانی صاحب ، السلام علیکم.
ناچیز کی تحریر کی پسندیدگی کیلئے آپ کا شکرگزار ہوں. یہ دراصل ایک تقریر تھی جو جدہ سعودی عرب میں علی گڑھ کلب کے ایک جلسہ میں راقم نے پیش کی تھی. میں علی گڑھ کلب کے منتظمین کا بھی شکرگزار ہوں کہ انہوں نے اس اختلافی موضوع کو نہایت سنجیدگی اور وسعت القلبی سے سماعت کیا تھا.

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

علیم خان فلکی صاحب اسلام علیکم
بلاگ پر تشریف آوری کا شکریہ۔
وسعت القلبی۔۔۔۔ بس اسی کی کمی ہے محترم آجکل۔ :o

یاسر عمران مرزا کہا...

مسلمانوں کی ہندوستان میں کار گزاریوں پر ایک اچھی تحریر ہے۔ شکریہ یاسر بھائی۔۔۔۔۔

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.