امام روشن خیالیاں ۔۱

جنگ آزادی ۱۸۵۷ میں جب برصغیر کے مسلمان سر کٹا چکے اور حکومت اانگلشیہ کے نمک خوار  نمک حلالی میں اس جنگ کو غدر کا نام دے رہے تھے۔ اپنے ملک کی آزادی کیلئے سر کٹانے والوں کو غدار کہہ اور ثابت کر رہے تھے۔اس وفاداری اور نمک حلالی کے انعام میں سر  کے خطاب وصول کر رہے تھے۔

غلام اے قادیانی اور سر شاہ صاحب کا دور تو آپ کو معلوم ہی ہے۔مسلمانوں  میں سے جذبہ جہاد ختم کروانے کیلئے ان خود کاشتہ پودوں کو استعمال کیا گیا۔کہ دوبارہ جنگ آزادی کیلئے سرفروش نہ اٹھ پائیں ان مسلمانوں میں جتنا اختلاف پیدا ہو سکتا ھے۔پیدا کیا جائے۔تاکہ حکومت انگلشیہ ہندوستان میں مستحکم ہو۔ اور مسلمان جذبہ جہاد کو بھول کر صرف جدید دور کے تقاضوں کے مطابق زندہ رہنا سیکھیں۔ جیسے عیسائیوں کی بایئبل کی شکل بگاڑی گئی اسی طرح قرآن کی تفسیر میں تبدیلیا ں کی جائیں۔ حکومت انگلشیہ نے اپنے استحکام کیلئے خوب ہاتھ پاوں مارےاور اسکے لئے انہی مسلمانوں میں سے کچھ نمک خواروں کو خریدا۔

ان میں روشن خیالوں کے امام سر سید احمد خان صاحب بھی ہیں۔ ان  کے متعلق کاپی اینڈ پیسٹ ہماری علمی تحریر حاضر ھے۔ 

سرسید احمد خان کا تعارف


 

سرسید احمد خان کے آباؤ واجداد کشمیر کے باشندگان تھے۔ شاہ عالم ثانی (پیدائش ۱۱۷۳ھ/۱۷۵۹ء) دہلی کے تخت پر ۴۵ سال براجماں رہا۔ اس کے دور میں دہلی کے علماء وفضلاء کا بادشاہ سے اختلاف ہوا اور جو علماء کلیدی عہدوں پر فائز تھے‘ انہوں نے استعفیٰ دے کر کنارہ کشی اختیار کرلی۔ دوسری طرف انہی ایام میں کشمیر میں قحط پڑا‘ سرسید کے خاندان کے بڑوں نے جب اس دوران دہلی کے ان اعلیٰ عہدوں اور مناصب کو خالی پایا تو اپنے آبائی وطن کشمیر کو خیر باد کہہ کر عازمِ دہلی ہوئے۔اعلیٰ ملازمتوں کے حصول کے لئے جو جتن کئے جاتے ہیں اور جو ہتھکنڈے استعمال ہوتے ہیں‘ وہ تمام سرسید کے بزرگوں نے روا رکھے اور ان مناصب پر فائز ہوئے۔ سرسید دہلی میں ۱۸۱۷ء میں سید متقی کے گھر میں پیدا ہوا‘سن بلوغت کو پہنچا تو عام ابتدائی مروجہ علوم میں شدبد حاصل کرچکا تھا۔

 مولانا مخصوص اللہ اور مولانا مملوک علی سے کچھ ابتدائی مذہبی علوم کی تحصیل کی‘ پھر سریانی اور عبرانی زبانوں کے سیکھنے میں مصروف ہوکر کچھ ابتدائی کامیابی حاصل کی اور علامہ بننے کے زعم میں پادریوں کے ساتھ مناظرے شروع کئے‘ جس میں ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا۔ روشن خیالی کے اس امام نے روشن مستقبل کے خواب دیکھناشروع کئے تو ایک سہل طریقہ یعنی پیری مریدی کی طرف متوجہ ہوئے‘لیکن اس میدان میں جن اشیاء کی ضرورت ہوتی ہے‘ اس کے فقدان کی وجہ سے کامیاب نہ ہوسکے۔پھر محکمہٴ مال کی ملازمت اختیار کر لی اور ملازمت کے کچھ مراحل طے کرنے کے بعد مختاری کا امتحان پاس کرکے ۱۸۵۷ء تک جج کے عہدہ پر فائز رہے۔ ۱۸۵۷ء کی جنگ آزادی میں انگریزوں کی دل کھول کر مدد کی‘ انگریزوں کو اپنے اور اپنے احباب ورشتہ داروں کے گھروں میں پناہ دے کر سفید فاموں کو محفوظ مقامات پر پہنچانے میں خوب شہرت حاصل کی۔

 عین ممکن تھا کہ اگر سرسید اور اس کے اعوان وانصار انگریزوں کی مدد نہ کرتے تو انگریز ۱۸۵۷ء ہی میں ہندوستان چھوڑ کر واپس برطانیہ چلے جاتے۔کہا جاتاہے کہ انگریز کو افغانستان میں قدم جمانے کا موقع اس لئے نہیں ملا کہ وہاں ان کو کوئی سرسید ہاتھ نہیں آیا تھا۔

ہماری کاپی اینڈ پیسٹ  قابلیت یہاں سے  آپ کی آسانی کیلئے کاپی فرمائی گئی ھے۔ مزید بھی یہیں سے کاپی فرما کر یہاں پیسٹ کردیں گے۔اس کے علاوہ ہماری پٹاری میں بھی کچھ موجود ھے۔جسے حسب ضرورت لکھ دیا جائے گا۔
امام روشن خیالیاں ۔۱ امام روشن خیالیاں ۔۱ Reviewed by یاسر خوامخواہ جاپانی on 5:28 PM Rating: 5

8 تبصرے:

جعفر کہا...

لالہ جی کیہڑے کم چ پے گئے او
مٹی پاو

کاشف نصیر کہا...

جعفر جی اپنے یاسر بھائی مٹی کیا پائے گے وہ تو مٹی پلیت کررہے ہیں.

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

چلیں جعفر جی
آپ کا حکم ہم نے مزید نہیں چھیڑ نا۔
آخر میں ایک اور چھاپنے کا ارادہ چھڈ دیتا جی۔
:lol: :lol:

جہالستان سے جاہل اور سنکی ۔ کہا...

ٹھیک کو ٹھیک کرنے میں ہی زندگی گزارتے چلے جانا ہی ٹھیک ہوتا ہے جی ۔ جس نے بھی جو کچھ کیا ہے، ٹھیک ہی کیا ہے اور جو آپ کر رہے ہیں وہ بھی ٹھیک ہی ہے ۔

لطف الا سلام کہا...

محترم، سر سید سے اختلاف کرنا آپ کا حق ہے۔ مجھے بھی ان کے نیچری افکار سے اختلاف ہے لیکن انصاف سے کام لیں۔ 1857 کے غدر کے دوران خاندانی اور غیور اسلامی خانوادوں نے معصوم جانیں بچانے کا کام کیا اور شرپسند ہندو اور ان جہلاء قسم کے مسلمانوں سےدور رہے جو آزادی کے نام پر لوٹ مار مچا رہے تھے۔
اس دور کا اہلحدیث کا ترجمان ”اشاعۃالسنۃ“ میں مولانا محمد حسین بٹالوی نے لکھا۔
’’ مفسدہ ۱۸۵۷ء میں جو مسلمان شریک ہوئے تھے وہ سخت گناہ گار اور بحکم قرآن وحدیث وہ مفسد باغی بدکردار تھے۔ ‘‘


پھر فرماتے ہیں :۔


’’ اس گورنمنٹ سے لڑنا یا ان سے لڑنے والوں کی (خواہ ان کے بھائی مسلمان کیوں نہ ہوں) کسی نوع سے مدد کرنا صریح غدر اور حرام ہے۔ ‘‘ (اشاعۃ السنّۃ۔ جلد ۹نمبر ۱۰صفحہ ۴۹ )


پھراپنی کتاب ’’ اقتصاد فی مسائل الجہاد ‘‘ کے صفحہ ۲۵پر رقم طراز ہیں :۔


’’ اس مسئلہ اور اس کے دلائل سے صاف ثابت ہوتا ہے کہ ملک ہندوستان باوجودیکہ عیسائی سلطنت کے قبضہ میں ہے دارالاسلام ہے اس پر کسی بادشاہ کو عرب کا ہو خواہ عجم کا مہدی سوڈانی ہو یا حضرت سلطان شاہ ایرانی خواہ امیر خراسان ہو مذہبی لڑائی وچڑھائی کرنا ہرگز جائز نہیں ۔‘‘


یعنی ملک کے اندر جو بستے ہیں ان پر تو بادشاہ وقت کی اطاعت کرنا اور حکومت وقت کی بات ماننا فرض ہے ہی لیکن مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی یہ فتویٰ دوسرے ممالک کے لئے بھی دے رہے ہیں کہ تم جو انگریزی حکومت سے باہر بس رہے ہو تم بھی اگر انگریزی حکومت سے لڑو گے تو یہ تمہارے لئے بھی حرامہے۔


پھر فرماتے ہیں :۔


’’ اہل اسلام کو ہندوستان کے لئے گورنمنٹ انگریزی کی مخالفت وبغاوت حرام ہے۔ ‘‘ (اشاعۃ السنۃ جلد۶نمبر۱۰ صفحہ ۳۸۷)


’’ اس زمانہ میں بھی شرعی جہاد کی کوئی صورت نہیں ہے کیونکہ اس وقت نہ کوئی مسلمانوں کا امام موصوف بصفات وشرائط امامت موجود ہے اور نہ ان کو ایسی شوکت جمعیت حاصل ہے جس سے وہ اپنے مخالفوں پر فتح یاب ہونے کی امید کر سکیں۔ ‘‘ (الاقتصاد فی مسائل الجہاد صفحہ۷۲)

حضرت سیّد احمد صاحب بریلوی شہید جنہوں نے جہاد کیا اور جہاد کے لئے آپ سرحد کی طرف روانہ ہوئے اور سکھوں سے بھی لڑائی کی وہ ایک مقدس دل ضرور تھا جس میں مسلمانوں کی غیرت موجزن تھی لیکن جہاں تک انگریزی حکومت کا تعلق ہے اس کے متعلق وہ کیا سمجھتے تھے اس بارہ میں آپ کے سوانح نگار محمد جعفر تھانیسری کی زبانی سنئے۔ وہ ’’ سوانح احمدی کلاں ‘‘ کے صفحہ ۷۱ پر لکھتے ہیں :۔


’’ کسی شخص نے آپ سے پوچھا کہ آپ اتنی دور سکھوں پر جہاد کرنے کیوں جاتے ہو ؟ انگریز جو اس ملک پر حاکم ہیں اور دین اسلام سے کیا منکر نہیں ہیں۔ گھر کے گھر میں ان سے جہاد کر کے ملک ہندوستان کو لے لو۔ آپ نے فرمایا ۔۔۔ سرکار انگریزی گو منکر اسلام ہے مگر مسلمانوں پر کچھ ظلم اور تعدی نہیں کرتی ۔۔۔ اور نہ ان کو فرض مذہبی اور عبادت لازمی سے روکتی ہے ہم ان کے ملک میں اعلانیہ وعظ کہتے ہیں اور ترویج مذہب کرتے ہیں وہ کبھی مانع اور مزاحم نہیں ہوتی۔۔۔ ہمارا اصل کام اشاعت توحیدِ الٰہی ہے ۔ اور احیاءِ سنن سیّد المرسلینؐ ہے ۔سو ہم بلا روک ٹوک اس ملک میں کرتے ہیں ۔ پھر ہم سرکار انگریزی پر کس سبب سے جہاد کریں اور خلاف اصول طرفین کا خون بلاسبب گراویں یہ جواب باصواب سن کر سائل خاموش ہو گیا اور اصل غرض جہاد کی سمجھ لی۔ ‘‘

یہ ٹھہرے اہلحدیث مسلک کے بانیان۔ جہاد کے علمبردار اورانگریز کے حامی بھی۔ سر سید سے کیا گناہ ہوا کہ ایسے برے بن گئے؟

Jamal کہا...

“تھے۔اس وفاداری اور نمک حلالی کے انعام میں سر کے خطاب وصول کر رہے تھے۔“

سر اقبال کا سر کس وفاداری اور نمک حلالی کا انعام تھا؟

سلسلۂ اعجازیہن کہا...

میں نے پہلے بھی عرض کیا کہ اْپ جاپانی ہیں اْپ کیا سمجھیں گے پاکستان کے مسلے کو جائے حیات جاوید پڑھیئے پھر سر سید کو برا بھلا کہئیے۔

ارتقاءِ حيات کہا...

وقت آنے پر پرھیں گے

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.