اور اب جنت بھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

خطرہ!!۔


 ہم نے محسوس کیا کہ ہم مسلمانوں کے اعلی عمل و اخلاق سے جاپانی چٹے کفار میں اسلام کیلئے نہایت اچھے محسوسات پیدا ہو نے شروع ہو گئے ہیں۔ اگر یہ چٹے کفار مسلمانوں ہوگئے۔تو جہنم کے ایندھن میں کمی ہونے کا خطرہ پیدا ہو جائے گا۔ اور اس دنیا میں جو کہ ہمارے علم کے مطابق فانی ہے یعنی نہایت جلد فنا ہو جانے والی۔ اس دنیا میں بھی ہم مسلمانوں کا مستقبل غیر محفوظ ہونے کا دجّالی خطرہ ھے۔ یہ خطرہ اس طرح ہے کہ اگر یہ جاپانی جہنم کا ایندھن چٹےکفار ہمارے اعلی عمل و اخلاق سے متاثر ہو کر مسلمان ہو گئے تو ہم مسلمانوں کو کوئی دوسرا ملک پیٹ کی پوجا کیلئے تلاش کر نا پڑے گا۔ آپ کو معلوم ہی ھے کہ اپنے ملک میں اسلام کا تو نہیں مسلمانوں کا بھول بھالا ہو نے کی وجہ سے ہم جاپان میں لکشمی دیوی کی پوجا کرنےکیلئےمجبوراًآ ئے ہیں۔

 اس لئے ہم نے ان خطرات سے بچنے کیلئے کچھ قوائد ضوابط بنائے ہیں۔ اور تمام مسلمانان جاپان سے فقیرانہ و گدا گرانہ التجاء کرتے ہیں ۔کہ اپنے مفاد کیلئے ان پر عمل کریں۔ اور کوشش کریں کہ یہ چٹے کافر ہمارے عمل اور اخلاق سے متاثر ہوکر کہیں اسلام کو نہایت اعلی اور دنیا اور آخرت میں نجات کا دین نہ سمجھ بیٹھیں۔ اور خوامخواہ میں ہمارے لئے دنیا اور آخرت میں مسائل پیدا کردیں۔

  قوائد و ضواط


 ۱۔ جب آپ مسجد آئیں تو مسجد کی پارکنگ میں گاڑی مولا جٹ تے نوری نتھ کے اسٹائل میں سر سے گھسیڑ کر پارک کریں۔ اگر پارکنگ فل ہے تو فٹ پاتھ بلاک کردیں۔فٹ پاتھ بلاک کرتے وقت خیال رکھئے گا کہ غلطی سے کوئی چٹا کافر ادھر کا رخ کر لے تو آسانی سے نہ گذر سکے۔

 ۲۔ بعد از نماز کان سے فون لگائیں ، اپنے خوبصورت ہونٹوں میں سگریٹ رکھئے ، گاڑی کو ریورس گیئر میں ڈا لنے سے پہلے تصدیق کر لیں کہ سگنل سبز ھے۔ پھر مسجد کی پار کنگ سے گاڑی ریورس کر تے ہوئے مین روڈ پر نکلئے۔ ریورس سے ڈرائیو گیئر میں ڈال کر ٹا ئیرں کی چر چڑاہٹ پیدا کر یں اور گھر کو واپس جائیں۔

۳۔ وضو کرتے وقت اطمینان سے اور اچھی طرح طہارت حاصل کریں۔ لیکن خیال رکھئے گا کہ اس دوران پانی کا نلکا فل کھلا ہو نا چاھئے اور آپ کے پاس آ پ سے گپ شپ لگانے والا بھی کوئی ہونا چاھئے۔

 ۴۔ پانی زیادہ سے زیادہ ضائع کریں تا کہ جب بل آئے گا تو مسجد کمیٹی آپ سے چندے کی بھیک مانگنے پر مجبور ہو گی۔ اگر آپ مسجد کمیٹی کے ممبر ہیں تو من حیث القوم جو آپ کی بھیک مانگنے کی عادت ھے۔اس کی تسکین کیلئے آپ چندہ مانگ سکیں گے۔

۵۔ کیونکہ اسلام میں صفائی نصف ایمان ھے۔اور سلیقے کے بارے میں ہمارے پاس کوئی آیت کریمہ یا حدیث مبارکہ نہیں ھے۔اس لئے بعد از وضو مسجد میں داخل ہوتے وقت دونوں پاوں کے سلیپر یا جوتے ایک ایک میٹر کے فاصلے پر اتاریں کہ دیکھنے والا دماغ استعمال کرکے  یہ گتھی سلجھائے کے اس مومن نے یہ جوتے اتارے کیسے؟!!۔

 ۶۔ بجلی پانی کے ضائع کرنے کا ایک فائدہ یہ ہو گا کہ مخیر حضرات اپنے جیب کا بوجھ ہلکا کریں گے۔ اور اللہ کی راہ میں دینے پر مخیر حضرات کو تو اللہ میاں ثواب دیں ہی گئے۔ ان کی جیب ہلکی کروانے کا بندوبست کرنے پر آپ کو بھی ثواب دارین حاصل ہو گا۔

 ۷۔  کیو نکہ آپ بہت مصروف اور نہایت ہی کمیاب کاروباری ہیں۔اپنے موبائل فون کے ساتھ ہیڈ فون بھی لائیں۔ جب مولوی صاحب آپ کی نماز آگے اللہ میاں کے پاس لے جا رہے ہوں۔آپ اپنا نہایت اہم فون سن سکتے ہیں۔بول نہیں سکتے تو کیا ہوا۔ آں ، اوں ، شوں ، کر کے اپنی بات سمجھ اور سمجھا سکتے ہیں۔ وقت کا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کم خرچ دوبالا نشیں۔

 ہم امید رکھتے ہیں کہ آپ ان قوائد و ضوابط ک خیال رکھیں گئے۔ اور جیسے کم بچے خوش حال گھرانہ ہو تا ھے۔ ویسے ہی کم جنتی پر سکوں جنت حاصل کرنے میں ہمارے ساتھ تعاون کریں گے۔

 منجانب مفتی جاہل اعظم جاپان والی سرکار


 مدرسہ دار العلوم الجاہلیہ مسلمانان ِ خدائی خوار

اور اب جنت بھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور اب جنت بھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ Reviewed by یاسر خوامخواہ جاپانی on 6:08 PM Rating: 5

22 تبصرے:

خاور کہا...

یه سارے اصول تو اکثریت نے اپنائے هوئے هیں
اس لیے اپ کی تکرار بے مقصد ہے

منیر عباسی کہا...

کچھ استثنائی صورتوں کے علاوہ، تقریبا تمام اصولوں پر یہاں وطن عزیز میں استقامت و دلجمعی سے عمل ہو رہا ہے. اگر یاسر جاپان کا ذکر نہ کرتے تو میں یہی سمجھتا کہ وہ پاکستان کی یادیں تازہ کر رہے ہیں.

عثمان کہا...

کم و بیش یہی قوائد ضوابط ادھر شمالی امریکہ میں بھی ہیں.
ثابت ہوا کہ ہم ایک امت ہیں. :lol:

کاشف نصیر کہا...

بہت اہم نقتہ کی طرف عشارہ کرایا ہے آپ نے، معموما بہت سے مذہبی لوگ بھی اس طرح کے معاملات کو کوئی اہمیت نہیں دیتے کہ دوسروں کیلئے ایضا رسانی کا سبب بنتے ہیں.

کراچی میں ایک بزرگ ہوتے ہیں، واصف منظور صاحب، ہر منگل بہادرآباد والی مسجد میں انکا اصلامی خطاب ہوتا ہے. وہ اکثر انتہائی باریک نقطوں پر واعظ کرتے ہیں کہ انسان دنگ رہ جاتا ہے کہ کیا یہ بھی گناہ ہے. ایک دفعہ انہوں نے صرف اس موضوع پر بیان کیا کہ اگر آپ کے گھر کے کامن روم میں کوئی اجتماعی گلاس ہو تو اسے استعمال کرکے واپس اپنی جگہ پر رکھیں تاکہ رات میں کوئی اور اٹھے تو اسے پریشانی نہ ہو اور اسی طرح اجتماعی گاڑیوں کی چابی وغیرہ بھی. گاڑی پارکنگ، اور ٹیکنگ اور بغیر لائسنس کے گاڑی چلانے کے حوالے سے بھی انکا ایک بیان میں سن چکا ہوں. رمضان کریم میں میں نے انکا بیان سنا قرض کے موضوع پر، اسکے بعد پچیسویں شب کو انہوں نے قرابت داروں کے حقوق پر بات کی.
اتنی لمبی چوڑی بات کا خلاصہ یہ ہے کہ اسلام صرف اور صرف عبادات کا نام نہیں ہے، معاملات، معاشرت اور اخلاقیات بھی اتنے ہی اہم ہیں جتنے عبادات. لیکن آخلاقیات اور معاملات میں ہمارا حال بہت بڑا ہے. وہ لوگ جو ظاہری طور پر بہت دین دار معلوم ہوتے ہیں وہ بھی عموما اخلاقیات اور معاملات کو اپنے جوتے کے نیچے رکھتے ہیں. حالنکہ اسلام سرکار دو عالم صلہ اللہ و علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ میں بہترین اخلاق کی تکلمیل کے لئے بھیجا گیا ہوں.

دراصل حقوق اللہ سے قلبی سکون ملتا ہے اور حقوق العباد سے ذہنی اطمینان حاصل ہوتا ہے.

نغمہ سحرِ کہا...

اگر آپ جاپان نہ گئے ہوتے تو پاکستان میں دو چار دارالعوم کے بانی سرپرست ضرور ہوتے

عادل بھیا کہا...

آپ کی بات سے ایک بات یاد آگئی۔ انسان کے ایمان کی تکمیل اُسکے اخلاق پر ہوتیو ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سے دین دار حضرات کے اخلاق اچھے نہیں ہوتے کہ یہ سب سے آخری درجہ ہے ایمان کی تکمیل کا۔

افتخار اجمل بھوپال کہا...

دہائی ہے دہائی ہے سرکار ۔ ميں کمزور آدمی ان اصولوں پر عمل کرنے والوں کی وجہ سے پہلے ہی بہت پريشان ہوں ۔ آپ انہيں مزيد نہ پھيلايئے ۔ ايسے لوگ زبردستی لين ميں گھسنے کيلئے دو بار ميری چھوٹی سی نئی کار کو ڈينٹ ڈال چکے ہيں ۔ تين بار ميری کار کو پارکنگ ميں بلاک کر چکے ہيں ۔ ايک طوفان ميل خاتون مجھے مُکے دکھا چکی ہے اور ايک نے غلط لين ميں ہمارے سامنے آ کر 15 منٹ مجھے اور مزيد 4 کاروں کو رُکے رہنے پر مجبور کيا ۔ بالآخر ميں نے اپنی کار سے نکل کر اپنے پيچھے رُکی ہوئی کاروں کے سواروں سے منت کی کہ بھائی آپ ہی سب کاريں ريورس کيجئے تاکہ يہ محترمہ اپنی مرضی کے مطابق چلی جائيں اور ہم اپنے گھروں کو جانے کے قابل ہو سکيں ۔
سرکار ۔ رحم کيجئے ۔ ہم مسکينوں پر

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

یہ قوائد و ضوابط مسجد کے نوٹس بورڈ پر لگانے سے ہم شہید ہونے سے بال بال بچے !!
آئیندہ اپنے مدرسے کی مشہوری کیلئے کوئی اور طریقہ سوچتے ہیں۔ :lol: :lol:

توارش کہا...

پیدائشی اور عملی مسلمانوں میں اتنا فرق تو ہونا چاہیے اور جہاں تک تعلق ہے مشہوری کا تو جناب فوٹو سٹیتی دانش مند اور انکی دانش مندی اس سلسلے میں آپ کی بھرپور مددگار ثابت ہوگی
:mrgreen:

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

توارش۔۔۔۔ہی ہی :lol: :lol: :lol:

سعد کہا...

آپ تو بڑے دور اندیش نکلے۔ بڑا خطرہ بھانپا آپ نے :mrgreen:

عطاء رفیع کہا...

اے اللہ تیرا شکر ہے کسی طور تو امت میں اتحاد ہوا۔

احمد عثمانی کہا...

نغمہ سحرِ جن پاکستان میں دو چار دارالعوم کا آپ نے مطلب لیا ہے وہاں تو سرپرست یا استاذ بننے کا ایک عمل اور قابلیت ہوتی ہے مگر کیا خیال ہے انکو ایران کے کسی مزہبی اسکول کی سرپرستی کا موقع ملنا کیسا تھا؟ مگر امید ہے ان یہ خود پسند نہ فرماتے

نغمہ سحرِ کہا...

احمد عثمانی صاحب ۔خامخواہ جاپانی صاحب کی علمی قابلیت کسی طور پر بھی کم نہیں ہے اور جتنی وافر تعداد میں ہمارے ملک مٰیں دارالعلوم ہیں ہر ایک نے اپنا ڈیڑھ ڈھائی اینٹ کا دالعلوم کھولا ہوا ہے اور ان سے جسطرح کی کوالٹی بن کر آرہی ہے اسکا ہمارے معاشرے پر اثر نمایاں ہوکر آنا شروع ہوگیا ہے ۔
نہ جانے آپ نے ایران کا حوالہ کیوں دیا وہاں مذھبی اسکول بہت کم تعداد میں ہیں اور نیا اسکول کھولنا بہت مشکل ہے حکومت ایران ان اسکولوں کی مکمل مانیٹرنگ کرتی ہے اور یہ حکومت ایران کے کنٹرول میں ہیں جبکہ ہمارے یہاں یہ ہر قسم کے ضابطوں سے آزاد ہیں اور کسی کے کنٹرول میں نہیں ہیں مکمل خودمختار

بارہ سنگھا کہا...

نغمہ سحرِ صاحبہ آپ ایران کی کافی معلومات رکھتی ہیں اسکا اندازہ آپ کے بلاگ پر 5 منٹ کے قیام سے ہی ہوگیا تھا اور آپ نے ابھی مہر ثبت کر دی

خیر ایران سے ہمکو کیا لینا دینا انکو ہم سے البتہ بہت کچھ لینا دینا ہے مگر آپ نے بات ٹھیک کی ہے مگر سبب نہیں بتایا :mrgreen:

پاکستان کے علماء دیوبند سے وابستہ مدارس باقائدہ ایک نظم اور رجسٹریشن سے قائم ہیں اور علیٰ تعلیمی میعار رکھتے ہیں کسی اور کے بارے میں ہمکہ کچھ نہیں کہنا انکی سرپرستی ایران سے لیکر انگلینڈ تک کرتے ہیں. زرا ہم کوبھی حق دیلوا دیں ہم بھی مسلمانوں کے کسی مدرسے کی )اگر کوئی باقی( ایران میں سرپرستی کر سکیں
آپ کی نفرت تو اجداد کا خونی معاملہ ہے مگر ایک حد رکھیں تو مناسب رہے گا

بارہ سنگھا کہا...

دوسرے آپ نے یاسر صاحب کو اس قابل کردیا کہ عالم دین انکے نیچے ہوگئے یہ ہے آپ کا بغض علماء اسلام کے بارے میں. اور خرافات، جھوٹی کہانیوں، گالیوں، مرثیوں ، اور قرآن کو جعلی ثابت کرنے والوں کہ آپ علم ماننے لگ گئیں اور وہاں کے مدارس کی کہانیاں سنانے لگ گئیں

یاسر صاحب کا جو بھی علم ہو وہ عالم نہیں ، اور علماء سے دین کے عملم کے محتاج ہیں اور علماء علم نبوی کے وارث اور محافظ ہیں

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

احمد عثمانی صاحب
میں کوئی عالم شالم نہیں ہوں۔نہ ہی نغمہ سحر صاحبہ نے مجھے عالم کہا ھے۔
میرے بلاگ پر شروع میں بڑا سا لکھا ہوا ھے۔
تولہ بھر کی روٹی کیا پتلی کیا موٹی۔
مسلک دیوبندی کے نظریات سے مجھے اختلاف ھے لیکن اصول اور عقائد سے نہیں۔
کچھ باتوں میں اختلاف کے علاوہ میں دیوبندیوں کو صحیح العقیدہ سمجھتا ہوں۔
دیوبند کے مدارس اچھے نظام سے منسلک ہیں۔لیکن ایسے مدارس کے بھی بہتات ہے۔
جس کی طرف نغمہ صاحبہ نے اشارہ کیا۔
ایران کے مدارس کا ہمارے مسلک سے کوئی تعلق نہیں ھے۔لیکن حقیقت حقیقت ہی ھے۔
میرے خیال میں نغمہ صاحبہ کی بات آپ نے غلط سمجھ لی۔
یہاں پر یہ بحث شروع کرنے کی کوئی تک سمجھ نہیں آئی۔
برائے مہربانی ذاتیات پر نہ آئیں۔بغیر کسی ثبوت کے کسی پر الزام تراشی مت کریں۔
شکریہ

بارہ سنگھا کہا...

یا سر صاحب

ان صاحنہ نے جو کچھ کہا وہ وہی ہے جو ان کی کمیونٹی روز کہتی ہے اور ہم نے بھی انکی اسی بات کی طرف اشارہ کیا
رہی بات آپکی کہ آپ دیوبند علماء کو کیا سمجھتے ہیں اسکے وہ آپ کے محتاج نہیں. آپ کاشف صاحب کی طرح بیچ کا گیم نہ کھیلیں. جو ہیں وہ نڈر ہو کر کہیں.آپکو ڈر کس کا ہے؟ بلاگنگ کیا، اکثر پڑھنے والے اور میڈیا، حکومت سب ساتھ ہیں

ایک طرف رافضی، غامدیان اور قادیانی آپ لوگوں کے بلاگز پر اپنا بغض نکالتے رہتے ہیں اور بلاگنگ کا مقصد پورا ہوتا رہتا ہے اور دوسری طرف آپ اور آپکے منصوری ساتھی یہ راگ الاپ رہے ہیں کہ
مسلک دیوبندی کے نظریات سے مجھے اختلاف ھے لیکن اصول اور عقائد سے نہیں۔...
شاباش!!!
بات سادہ سی ہےاصول عقائد ٹھیک ہی اسی صورت ہیں ہونگے جب ساری عمارت اپنی اصلی ھالت پر کھڑی ہوگی اور جب عقائد ٹھیک ہونگے تو غلط عقائد سے لوگوں کو آگاہ کرنے کی زمہ رادی جاننے والوں پر ہی آئے گی. عقائد کوئی زاتی معاملہ نہیں کیونکہ لین دین شادی بیاہ ، وراثت اور دورے معاملات میں عقائد کی اشد ضرورت ہے
اور یہ بات عیاں ہے کہ آپ کو کیا نا پسند ہے. اب جبکہ کھوٹا کھرا الگ کرنا آپ کو ناپسند ہے تو اپنے بلاگز پر علماء دیوبند کے علماء کا لکھا شائع کرنے کی کیا ضرورت آن پڑی؟ اس بات سے کیا ثابت کرنا مقصود ہے؟
آپ نظریات اور عقائد میں فرق واضح کردیں شکریہ
جن دو علماء کے بارے مٰن آپ نے لکھا زرا جان لیں کہ ان ہوں نے انکے بارے پیں کیا کہا اور کای عقائد رکھتے تھے؟
ہم نے آپ سے کہا تھا کہ آپ کی یہی تحاریر آپ کے خلاف چلی جائیں گی اور یہی ہوا
رہی بات ایران کی تو وہاں مسلمانوں کو الگ مسجد مدرسہ کیا ممانعت ہے اب بھلا ایسا ماحول پسندیدہ ہے؟ اگار ہے تو انکے مدارس بھی پاکستان میں بند جیئے جائیں یا کم از کم منصورہ شفٹ کیئے جائیں

الطاف حسین والا رونا نہ رویا کریں اور نہ زرداری اور نواز کا کہ ملک قوم ملک قوم.......
انصاف کا دامن پکڑیں

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

عثمانی صاحب
لگتا ھے ۔آپ کی کوئی کل ڈھیلی ھے۔

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

ویسے میری یہ تحریر آپ میرے خلاف لے جانا چاھتے ہیں تو منہ کی کھانی پڑھے۔
کہ میں نے وضاحت کردی تھی ۔کہ جو کام آسانی ہو جائے اس کے لئے مشقت کرنے کی کیا ضرورت ھے۔مجھے معلوم ہو گیا ھے کہ آپ کی اصلیت کیا ھے:lol:

بارہ سنگھا کہا...

ایک عقل رکھنے والا آدمی تو جان سکتا ہے کہ کیوں یہ تحاریر آپ کے خلاف جاتی ہیں مگر آپ....
لیکن پھر بھی بتائے دیتے ہیں کہ جن حضرات کے بارے میں آپ نے کاپی کرکے لکھا ہے انہوں نے آپ کے ساتھیوں یا پیاروں کے عقائد کو کفر قرار دیا ہے .
ہمیں تو آپ کو سامنے لانا تھا تاکہ یہ نیا وارداتی طریقہ بھی آشکار ہوسکے کہ نظریات سے مجھے اختلاف ھے لیکن اصول اور عقائد سے نہیں۔...

آپ کا علم اور قابلیت اور دلیل پسندی کی کا جو لیول ہے اس پر اتنا ہی کہ سکتے ہیں لگلے رہو!
آپ کی برادری آپ پر ڈونگے برساتی رہے گی اور خود نمائی ہی مقصد ہوتا ہے اس بلاگنگ کا

خداحافط

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

عثمانی الذہنی مریض اعظم صاحب
نفسیات کے ڈاکٹر صاحب کے پاس چلے جائیں۔
نہیں تو حکیم صاحب ہی کے پاس چکر لگا لیں۔
چار مختلف آئ پیز سے آپ کا تبصرہ ہوا۔
کس کے آلہ کار ہیں آپ؟

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.